ڈاکٹر تسنیم احسن: ایک کمرے سے او پی ڈی شروع کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر جنھیں امریکی لاریٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

،تصویر کا ذریعہendocrine.org
’پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر اینڈوکرینالوجی ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں پہلے ایک چھوٹے کمرے میں او پی ڈی کا آغاز کیا تھا۔ پھر تباہ حال بیرکس میں ڈیپارٹمنٹ قائم کیا۔ اس ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کی تعمیر کے لیے چندہ اکٹھا کیا گیا۔‘
یہ کہنا ہے ڈاکٹر تسنیم احسن کا جنھیں حال ہی میں امریکہ کی اینڈوکرائن سوسائٹی نے ان کی شاندار خدمات پر لاریٹ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی ہیں، جن کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔
اینڈوکرائن سوسائٹی ہر سال اس شعبے میں غیر معمولی خدمات پر یہ انعام دیتی ہے۔
پروفسیر ڈاکٹر تسنیم احسن کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے سنہ 2015 میں ریٹائر ہوئیں تو تعلیم، تحقیق اور طب کے میدان میں شاندار کارگردگی پر ادارے نے انھیں پروفیسر ایمریٹا کا خطاب دیا، یعنی وہ پروفیسر جن کی خدمات سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا۔
پہلی خاتون اینڈوکرینالوجسٹ
پروفیسر ڈاکٹر تسنیم احسن نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے طب میں گریجویشن کی اور کراچی میں ہاؤس جاب کی۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں شادی کے بعد اپنے خاوند ڈاکٹر شکیل احمد رضوی کے ہمراہ برطانیہ چلی گئی جہاں اینڈوکرینالوجی کی تربیت حاصل کی۔ کسی کام کے لیے پاکستان آنا ہوا تو مجھے سول ہسپتال کراچی میں ملازمت کا موقع ملا۔‘
’اپنے شوہر کے مشورے پر میں نے پاکستان رُکنے فیصلہ کیا۔ یہ ہمارا ہمیشہ سے فیصلہ تھا کہ تربیت باہر حاصل کرنی ہے اور خدمات اپنے ملک میں دینی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPakistan Endocrine Society
ان کے مطابق یہ ایک نیا شعبہ تھا جس میں امتحان کے بجائے تجربہ اہم تھا۔ ’ابھی اس شعبے کا آغاز ہو رہا تھا۔ اس میں ماہرین تو پہلے سے موجود تھے۔ کسی بھی شعبے کا آغاز کرنے والے گرینڈ فادر یا گرینڈ مدر کہلاتے ہیں۔ گرینڈ فادر اور مدر ہی اس کے لیے ابتدائی کام کرتے ہیں۔ وہ ابتدائی کام ہی جدید دور اور آنے والی تحقیق کے لیے کارآمد رہتا ہے۔ اینڈوکرینالوجی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔‘
اینڈوکرینالوجی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں ہارمون اور دائمی امراض کا علاج کیا جاتا ہے یعنی ایسے امراض جو ٹھیک نہیں ہو سکتے جیسے ذیابیطس۔
’ایک دفعہ اگر شوگر ہو جائے تو پھر وہ ٹھیک نہیں ہو سکتی تاہم اس کو کنٹرول رکھا جا سکتا ہے اور اس سے پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے کہ مریض اپنی زندگی میں کسی زیادہ مسائل کا شکار نہ ہو۔‘
پروفسیر ڈاکٹر تسنیم احسن کہتی ہیں کہ ’اس کے لیے ہم مریض کا ڈیٹا محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ ڈیٹا برسوں پر محیط ہوتا ہے۔ شوگر ہی کی مثال لے لیں کہ جب مریض کی شوگر سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے کسی جسم کے اور حصے کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچ رہا اور اس نقصان پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
چھوٹے سے کمرے میں پہلا او پی ڈی
انھوں نے جب جناح ہسپتال میں اس کا آغاز کیا تو وہاں پر یہ ساری سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔
پروفسیر ڈاکٹر تسنیم احسن یاد کرتی ہیں کہ ’اس زمانے میں سرکاری شعبے میں پاکستان میں اینڈوکرینالوجی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ پاکستان کے پبلک سیکٹر میں واحد اینڈوکرینالوجسٹ میں تھی۔‘
طب کے شعبے میں کام کرتے ہوئے ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح اینڈوکرینالوجی کے شعبے کا آغاز کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کے ڈائریکٹر نے مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں او پی ڈی شروع کرنے کی اجازت دی۔۔۔ ہمارے پاس ایسی کوئی سہولت ہی نہیں تھی۔ مریض خود بھی کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں رکھتے تھے جبکہ میں نے کلینک میں ریکارڈ رکھنا شروع کر دیا۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہProf. Emerita Tasnim Ahsan
’جب او پی ڈی کا سلسلہ چل نکلا اور اس کے فوائد سامنے آنے شروع ہوئے تو ہمیں ایک ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کی اجازت ملی۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو قائم کرنے کے لیے میں نے کسی بھی فنڈز وغیرہ کا مطالبہ نہیں رکھا بس اپنی کارگردگی دکھاتی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کا جناح ہسپتال درحقیقت ایک پرانا فوجی بیرک تھا اور اس کی حالت بھی شکستہ تھی۔ اپنے سٹاف کے ساتھ ان بیرکس کو ڈیپارٹمنٹ کی شکل دینا شروع کر دی۔ مشکلات ہوئیں، تنگ ہوئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا چلا گیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ڈیپارٹمنٹ کے لیے دوستوں اور رشتہ داروں سے چندہ اکٹھا کیا۔
’اس وقت طب سے وابستہ لوگ کہتے تھے کہ اینڈوکرینالوجی میں ایسا کیا ہے جو میڈیسن میں نہیں۔‘
’دوبارہ کچھ بننے کا موقع ملے تو ڈاکٹر ہی بنوں گی‘
پروفسیر ڈاکٹر تسنیم احسن بتاتی ہیں کہ وہ پاکستان میں اینڈوکرینالوجی سوسائٹی میں واحد خاتون تھیں۔
’ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی کارگردگی کو پرکھا گیا اور باقاعدہ طور پر سنہ 2010 میں اس کو سپشلسٹ شعبہ قرار دے کر امتحان کی منظوری دی گئی۔‘
پروفسیر ڈاکٹر تسنیم احسن کے تمام بہن بھائی بھی ڈاکٹر ہیں۔ ’میں یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے بچپن سے ڈاکٹر بننے اور دُکھی انسانیت کی خدمت کا شوق تھا۔ میرا خیال ہے کہ شاید گلیمر تھا، سفید لباس میں ملبوس شاندار شخصیت کی حامل خواتین کو دیکھ کر اس وقت شاید یہی لگتا تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر زندگی میں انھیں دوبارہ کچھ بننے کا موقع ملے تو وہ ڈاکٹر ہی بنیں گی۔
’میرے والد فوج میں انجینیئر تھے، والدہ بہت زیادہ پڑھی لکھی تھیں مگر انھوں نے کبھی سکول نہیں پڑھا تھا۔ وہ انڈیا کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔ وہاں پر طالبات کا سکول نہیں تھا جس وجہ سے نانا جان نے میری والدہ کو گھر ہی میں تعلیم دلائی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’والدہ ہماری تعلیم پر خصوصی توجہ دیتی تھیں۔ میں بہت کم عمر میں ڈھاکہ میں تھی، بچپن پنجاب میں گزرا تھا بعد میں پاکستان کے مختلف شہروں میں رہی۔‘













