سندھ میں طبی سہولیات کی کمی: تھر میں خاتون کا ’پیٹ میں مردہ بچے‘ کے ساتھ آپریشن کے لیے 319 کلومیٹر کا سفر

طبی سہولیات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک خاتون کو مردہ بچے کا سر پیٹ میں لے کر 319 کلومیٹر کا طویل سفر کرنا پڑا، اور تقریباً 18 گھنٹے کے بعد آپریشن کے ذریعے خاتون کے پیٹ سے بچے کا سر نکالا گیا۔

32 سالہ ملوکاں بھیل کا یہ پانچواں بچہ تھا جو دوران ڈلیوری فوت ہوا۔

ملوکاں بھیل کا تعلق تھر کے اکلیوں نامی گاؤں سے ہے، 16 جون کی شب انھیں زچگی کی تکلیف ہوئی اور اہل خانہ صبح آٹھ بجے انھیں ایک ٹیکسی میں لے کر سندھ کے شہر چھاچھرو میں ایک مشنری ہسپتال پہنچے۔

ملوکاں کے شوہر دھرموں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مشنری ہسپتال پہنچنے پر ہسپتال کا عملہ ان کی بیوی کو آپریشن تھیٹر میں لے گیا اور پھر تقریباً ایک گھنٹے کے بعد عملے کی جانب سے کہا گیا کہ بڑی ڈاکٹر نہیں موجود لہذا وہ اپنی بیوی کو مٹھی ہسپتال لے جائیں کیونکہ انھیں ایک نہیں دو بچے ہیں۔‘

دھرموں کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی اہلیہ کو ٹیکسی میں لے کر مٹھی ہسپتال کے لیے روانہ ہوئے تو ہسپتال کے عملے نے انھیں کپڑے میں لپیٹا ہوا کچھ تھما دیا۔ انھوں نے جب دیکھا تو مردہ بچے کا صرف دھڑ تھا۔ انھوں نے ہسپتال عملے سے اس بارے میں معلوم کیا کہ یہ کیا ہے تو عملے نے انھیں جلدی مٹھی ہسپتال جانے کا کہا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

مشنری ہسپتال کی انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟

مشنری ہسپتال لو اینڈ ٹرسٹ کے انچارچ انور سدھو کا کہنا ہے کہ اس مریضہ کو جمعرات کی صبح آٹھ بجے ہسپتال لایا گیا تھا اور وہ تقریباً ایک گھنٹے کے قریب یہاں زیر علاج رہیں۔ اس عرصے کے دوران ہسپتال کی نرسوں نے ان کا طبی معائنہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’خاتون کو ہسپتال لانے سے قبل وہ بچے کی پیدائش کے لیے مقامی دائی سے ٹرائل لے کر آئے تھے۔ اسی خاتون کے پانچ بچے پہلے بھی نارمل ڈلیوری کی کوشش کے دوران فوت ہوچکے ہیں۔ ایسے مریضوں کی نارمل ڈلیوری نہیں ہوتی ہے ان کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بچے کا دھڑ باہر تھا جبکہ گردن اندر پھنسی ہوئی تھی۔ نارمل ڈیلیوری کرنا ممکن نہیں تھا اس وقت ہمارے پاس گائناکالوجسٹ سرجن موجود نہیں تھی لہذا ہم آپریشن نہیں کر سکتے تھے اس لیے ہم نے مریضہ کے لواحقین کو کہا کہ مٹھی چلے جائیں مگر وہ بضد تھے کہ آپ کچھ کریں۔

’جب نرسز مریضہ کو صاف کر رہی تھیں تو مردہ بچے کا دھڑ گردن سے الگ ہوگیا کیونکہ گردن پہلے ٹوٹ چکی تھی یہ زور لگانے یا دائی کی جانب سے کھینچنے کی وجہ سے ہوا تھا۔ جلد کی ایک چھوٹی جھلی موجود تھی جو صفائی کے دوران الگ ہو گئی اور جب ڈاکٹر پہنچی تو ان کے پیٹ میں موجود مردہ بچے کا سر الگ ہو چکا تھا۔‘

مشنری ہسپتال لو اینڈ ٹرسٹ کے انچارچ انور سدھو کا دعویٰ ہے کہ ’مریضہ کو ہسپتال لانے والی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی جس کے باعث انھیں ڈیڑھ گھنٹہ راستے میں رکنا پڑا اور جب مریضہ ہسپتال پہنچیں تو وہ مٹی میں لت پت تھی۔‘ تاہم ملوکاں بھیل کی دیوارنی نے اس کی تردید کی ہے۔

دھرمو بھیل کی پہلی بیوی فوت ہو چکی ہے جبکہ دوسری بیوی کا یہ پانچواں بچہ تھا جو دوران زچگی فوت ہوا، دھرمو کسی مستقل روزگار سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ وہ لکڑیاں کاٹ کر یا کسی گھر کا پانی بھر کے کچھ پیسے کماتے ہیں۔

دھرموں کا کہنا ہے کہ ان کے پہلے بچے چوتھے پانچویں مہینے فوت ہو گئے تھے۔ اس بار انھوں نے چیلھار ہسپتال سے ایکسرے کرایا تھا جس پر ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی بیوی کا آپریشن ہو گا کیونکہ ماں کے پیٹ میں بچہ الٹا ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر نے ڈیلیوری کی تاریخ بھی بتائی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی ان کی اہلیہ کی طبیعت خراب ہوئی وہ اسے لے کر پہلے علاقے کی ایک دائی کے پاس لے گئے جس نے کہا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں جس کے بعد وہ اپنی بیوی کو لے کر ہسپتال آ گئے تھے۔

نوزائیدہ بچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دھرموں کے بھتیجے ہوتھی بھیل کا کہنا ہے کہ قریبی ہسپتال تک جانے کے لیے بھی ٹیکسی دو ہزار سے پچیس سو کا کرایہ لیتی ہے غربت کی وجہ سے وہ مقامی دائی سے ہی زچگیاں کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نومولود بچوں کی شرح اموت زیادہ ہے، بچوں کے بارے میں عالمی ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے 65 بچے مردہ ہوتے ہیں۔ تھر کا علاقہ ان خطوں میں شامل ہیں جہاں دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہ شرح زیادہ ہے۔

ضلعی ہسپتال میں علاج ممکن نہیں

ملوکاں کو ایک بار پھر گاڑی میں سوار کر کے چھاچھروسے 74 کلومیٹر دور واقع ضلعی ہسپتال مٹھی منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً ساڑھے دس بجے پہنچیں۔

مریضہ کے ایک رشتہ دار ہوتھی بھیل کے مطابق وہاں ان کے ٹیسٹ وغیرہ کیے گئے اور پھر وہاں کے عملے نے ان سے کہا گیا کہ اس کیس کو سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں، مریضہ کو حیدرآباد لے جائیں جس کے بعد وہ وہاں سے حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے اور ایمبولینس کو 24 ہزار روپے دینا پڑے۔

ملوکاں بھیل کے ساتھ موجود دیورانی ڈھیلی کا کہنا ہے کہ ’مٹھی ہسپتال والوں نے کہا کہ یہ بڑا مسئلہ ہے اس کو حیدرآباد لے جاؤ بڑا آپریشن ہو سکتا ہے اور خون کی بھی ضرورت ہو گی۔‘

محکمہ صحت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جمن کا دعویٰ ہے کہ ’مٹھی کا ضلعی ہسپتال پاکستان کے بہترین ہسپتالوں میں سے ایک ہے، اس معاملے پر انکوائری کا کہا گیا ہے اور اب یہ انکوائری میں پتا چلے گا کہ مریضہ کو حیدرآباد کیوں ریفر کیا گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خون کی عدم دستیابی

ملوکاں کی اگلی منزل حیدرآباد تھی، مٹھی سے 220 کلومیٹر دور واقع لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد کے لیے انھیں ایمبولینس میں روانہ کیا گیا جہاں وہ رات کو پہنچے، شعبہ گائنی کی انچارج ڈاکٹر راحیل سکندر کے مطابق ملوکاں دھرموں سوا نو بجے رات کو لائی گئیں اور ہوش و حواس میں تھی۔

’مریضہ کا بلڈ گروپ اے نگیٹو ہے اس کا انتظام کرنے میں وقت لگا پھر ایک دوسری ایمرجنسی آگئی اس طرح خون کا انتظام ہوتے ہوتے رات کے دو بج گئے۔‘

حاملہ مائیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہوتھی بھیل کراچی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے چچا دھرموں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ خون کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ کراچی سے پانچ افراد سمیت حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے۔

تقریبا 18 گھنٹے کے بعد آپریشن

ملوکاں بھیل کا تقریباً 18 سے 20 گھنٹے کے بعد آپریشن کیا گیا، جس دوران تین ہسپتال تبدیل ہوچکے تھے اور کلینڈر میں تاریخ بھی بدل چکی تھی، ڈاکٹر سکندر راحیل کے مطابق مزید کچھ کرنے کے بجائے انھوں نے آپریشن کا فیصلہ کیا، بچہ دانی (یوٹرس) متاثرہ تھی اگر اس کو چھوڑ دیا جاتا تو زیادہ متاثر ہو سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مردہ بچے کو الگ نہیں کیا جاتا تو ان کی بچہ دانی پر دباؤ پڑ رہا ہوتا اور یہ جان لیوا بھی ہوسکتا تھا۔ جب سر اندر چلا گیا تو درد کم ہو گیا، ایسے کیسز کبھی کبھار سامنے آتے ہیں ہیں لیکن یہ ہماری میڈیکل کی کتابوں میں موجود ہیں جس کو ڈسٹریکٹو آپریشن کہا جاتا ہے جب یہ امید ختم ہو جاتی ہے کہ بچہ چلا گیا ہے تو اب ماں کو بچانا ہے۔‘

حکومت سندھ کی تحقیقات

سندھ کے محکمہ صحت نے دوران علاج بچے کی گردن اور دھڑ الگ ہونے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے یہ کمیٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ مٹھی یا چھاچھروں کے ہسپتالوں میں گائناکالوجسٹ کیوں دستیاب نہیں تھیں۔

سندھ کے صحرائی ضلعے تھر میں گذشتہ ایک دہائی سے نومولود بچوں کی ہلاکتوں، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی خبریں میڈیا میں زیر گردش ہیں جبکہ متعدد بار معاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے لے کر اسمبلی کے ایوانوں میں بھی زیر بحث آچکا ہے۔

حالیہ واقعے میں سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے سوالات نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر جمن نے بتایا کہ تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے جس میں مشنری ہسپتال کے عملے کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔