جو بائیڈن: امریکی صدر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بیان کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPM Office, Pakistan
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں پاکستان شاید ’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے‘ جس کے پاس موجود جوہری ہتھیار ’غیر منظم‘ ہیں۔ اس بیان پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس تبصرے کی اس وقت ضرورت کیوں پڑی اور کیا اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ آیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ایک پیج پر ہونے کے بجائے دو مختلف صفحوں پر ہیں؟
اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں اُتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں۔ اور حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بظاہر بہتری کی طرف بھی جاتے دکھائی دیے۔
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اکتوبر کے آغاز میں واشنگٹن کے دورے پر گئے جہاں انھوں نے امریکی سیکریٹری دفاع لوئڈ آسٹن سے ملاقات کی۔ جنرل باجوہ نے یہ دورہ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل کیا اور بظاہر اس ملاقات کا مقصد پاکستان کا امریکہ کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں کی مدد کرنے پر شکریہ ادا کرنا تھا۔
اگر ان دونوں ممالک کے آپس کے تعلقات پر نظر دوڑائیں تو 1947 میں تقسیم ہند کے بعد امریکہ نے پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قبول کر لیا تھا لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ اس تعلق کی بنیاد ’دفاعی اور معاشی مدد‘ کے گرد رہی ہے۔
جبکہ سرد جنگ کے دوران پاکستان نے اپنے پڑوسی سوویت یونین کے بجائے امریکہ سے تعلقات برقرار رکھنے کو ترجیح دی مگر تاریخ دان یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ 1950 کی دہائی میں لیاقت علی خان کے دورِ حکومت میں اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے پاکستان میں سی آئی اے کے ہوائی اڈے قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کا مقصد سابق سوویت یونین پر نظر رکھنا تھا۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
اسی دہائی میں امریکہ اور پاکستان نے دفاعی معاہدہ پر بھی دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستان سے کئی فوجی سپاہی ٹریننگ کے لیے امریکہ گئے تھے۔
1956 میں ایک بار پھر صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے پاکستان سے پشاور کا ایئر سٹیشن لیز پر لینے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ سوویت یونین پر نظر رکھی جا سکے جس کی اجازت اس وقت کے پاکستانی وزیرِ اعظم سہروردی نے دے دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنہ 1960 کی دہائی میں چین نے انڈیا اور پاکستان کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا جس کے بعد سے پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ چین اور پاکستان نے کئی اہم مواقعوں پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے تعلقات پر امریکہ کو گاہے بگاہے اختلاف رہا ہے جس کا امریکہ نے کبھی برملا یا پھر خارجی بیانات کے ذریعے اظہار کیا ہے۔
بائیڈن کے پاکستان سے متعلق بیان کو چند ماہرین اور سابق وزرا اس نظریے سے دیکھ رہے ہیں کہ اب ایک بار پھر پاکستان سے ’کچھ منوانے یا سائیڈ لینے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔‘
’یہ دفاعی سے زیادہ سیاسی بیان ہے‘
جو بائیڈن کے اس بیان نے پاکستان میں سفارتی اور سیاسی ہلچل پیدا کی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میرا شک ہے کہ یہ کوئی قوم سے خطاب نہیں تھا بلکہ غیر رسمی گفتگو تھی جو سامنے آئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کے سفیر کو طلب کیا ہے اور ان کو ’اس بیان کی وضاحت دینے کا موقع دیا جائے گا۔‘
ادھر سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے موجودہ اتحادی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بائیڈن کا یہ بیان ’امپورٹڈ حکومت کی خارجہ پالیسی اور ان دعوؤں کی مکمل ناکامی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو از سر نو استوار کر رہا ہے۔‘
سابق گورنر سندھ معین الدین حیدر نے کہا کہ یہ ’پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمارا ریکارڈ اچھا ہے اور ہر مرحلے پر ہم نے امریکہ سے تعاون کیا ہے۔ اس وقت لگتا یہی ہے کہ امریکہ یہی مطالبہ کرنا چاہتا ہے یا پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ روس اور چین سے کنارہ کشی اختیار کرلے جو آج کل کی عالمی سیاست میں ممکن نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ روس سے جہاں پاکستان کو سستا تیل مل سکتا ہے وہیں چین کے ساتھ کیے گئے معاہدے پاکستان کی معاشی طور پر مدد کر سکتے ہیں۔ 'ہمیں اس بات کی آزادی ہونی چاہیے کہ ہم کس ملک سے تعلقات بڑھانا چاہیں اور اس کے لیے ہمیں ہمت کر کے قدم اٹھانا پڑے گا۔‘
اسلام آباد کی خارجہ پالیسی سے متعلق کتابوں کے مصنف شجاع نواز نے کہا کہ ’صدر بائیڈن پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ ان کی پاکستان کے امرا سے تعلقات کی تاریخ بہت لمبی ہے۔ ان کو پاکستان میں موجود عدم توازن کا پتا ہے۔ تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے بلکہ ان کی پریشانی کی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ وہ (صدر بائیڈن) پاکستان کے لیے فکر مند ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
تاہم انھوں نے کہا کہ ’غیر معمولی بات یہ ہے کہ انھوں نے پاکستان کے لیے ان جذبات کا اظہار برملا انداز میں کیا ہے جس میں انھوں نے دیگر ممالک کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اور ان کا یہ بیان غیر رسمی نہیں بلکہ آفیشل ٹرانسکرپٹ کا حصہ ہیں۔ عموماً ایسے بیانات نجی طرز کی گفتگو کے دوران دیے جاتے ہیں۔‘
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا خیال ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو غیر منظم کہنا ’غلط ہے اور حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ خود امریکہ نے کئی مواقعوں پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے منظم ہونے کی تائید کی ہے۔‘
اعزاز چوہدری 2013 سے 2017 تک پاکستان کے سیکریٹری خارجہ رہے ہیں اور ماضی میں وہ خود ’جوہری دفاعی نظام کی روک تھام پر ہونے والے مذاکرات کا حصہ‘ رہے ہیں ’جن میں پاکستان نے تمام تر خدشات کا سامنا کیا ہے اور انھیں حل کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ 'پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بے شک اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اور اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ امریکی صدر نے اس وقت یہ بات کیوں کی ہے۔‘
جبکہ دفاعی تجزیہ کار اور ماہر سید محمد علی نے کہا کہ یہ بائیڈن کا ایک سیاسی بیان ہے۔ ’رواں سال مارچ کی بات ہے کہ انڈیا نے، بقول ان کے 'غلطی' سے، پاکستان کی سرحد میں میزائل چھوڑ دیا تھا جس سے معجزاتی طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس بات پر امریکہ نے کسی قسم کے خدشات کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن یہی غلطی اگر پاکستان سے سرزد ہوئی ہوتی تو اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلوا لیا جاتا۔‘
انھوں نے کہا کہ نومبر میں امریکہ میں مِڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں جس کے لیے ’امریکہ ایسے لوگوں کی توجہ اور حمایت چاہتا ہے جہاں سے انھیں ووٹ ملیں۔‘
انھوں نے کہاں کہ جہاں تک پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے غیر منظم ہونے کی بات ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ’اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ کے تعاون سے پاکستان میں ایک ادارہ بھی قائم ہے جس کو پاکستان سینٹر آف ایکسیلنس فور نیوکلئیر سکیورٹی کہا جاتا ہے۔
’اس ادارے میں عالمی ممالک کے ماہرین شامل ہیں، وہ نیوکلئیر سکیورٹی کو دیکھتے ہیں اور اپنی رپورٹ بھی پیش کرتے ہیں۔ اور پاکستان کا اب تک کا ریکارڈ بالکل صحیح ہے۔ یہ ایک سیاسی بیان ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘
امریکہ کے وِلسن سینٹر تھنک ٹینک میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے ٹوئٹر پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک عجیب طرز کا بیان ہے جو عام طور پر امریکی حکام عوامی سطح کی ملاقاتوں کے دوران نہیں دیتے۔
صدر بائیڈن ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کے خواہاں ہیں: وائٹ ہاؤس
بعد ازاں صدر بائیڈن کے پاکستان سے متعلق بیان پر وضاحت دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کرین ژان پیئر نے کہا ’ریڈ آؤٹ (بیان کے ریکارڈ) میں کوئی مطالبہ نہیں رکھا گیا۔‘
’(امریکی) صدر ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں جو امریکی مفادات کے لیے اہم ہے۔ آپ نے جو ان سے گذشتہ شب سنا وہ کوئی نئی بات نہیں۔‘













