سپریم کورٹ: آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح، ’تاحیات نااہلی‘ سے ‘کالا قانون‘ تک

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل ووڈا کی الیکشن کمیشن کی طرف سے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا قانون ایک ’کالا قانون‘ ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت چھپانے پر فیصل ووڈا کو آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ سب سے پہلے اس معاملے کو دیکھتے ہیں کہ یہ قانون ہے کیا جو کہ کسی بھی رکن پارلیمان کو تاحیات نااہل قرار دیتا ہے۔

آئین کی شق 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کے خواہش مند شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کیخلاف نہ آیا ہو۔

آئین کی یہ شق کسی شخص کے ’صادق اور امین‘ ہونے کے بارے میں ہے اور چونکہ اس قانون کے تحت ملنے والی سزا کا تعین ہی نہیں کیا گیا تو یہی تصور کیا گیا کہ نااہلی تاحیات ہی ہو گی۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف فیصل واوڈا کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے آئین کی شق 62 ون ایف کو ’کالا قانون‘ قرار دینے کے برعکس آج سے چار سال پہلے 2018 میں جسٹس عمر عطا بندیال اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے اسی قانون کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ قرار دیا تھا کہ اس قانون کے تحت نااہل ہونے والہ شخص تاحیات نا اہل تصور ہو گا اور وہ کسی الیکشن میں حصہ لینے اور عوامی عہدہ رکھنے کا اہل نہیں ہو گا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم ہونے والے پانچ رکنی بینچ نے اس قانون کے تحت رکن پارلیمان کی نااہلی تاحیات قرار دینے کا جب متفقہ فیصلہ دیا تو وہ فیصلہ بھی جسٹس عمر عطا بندیال نے ہی تحریر کیا تھا اور یہ فیصلہ بھی انھوں نے ہی کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنایا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے فیصلہ سنانے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستانی عوام کو اچھے کردار کے حامل رہنماؤں کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے 26 جولائی 2022 کے فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا تھا کہ اگر کوئی جج 'نادانستہ' طور پر قانون کی غلط تشریح کرے تو اس کے پاس بعد میں دانستہ طور پر صحیح تشریح کرنے کی آزادی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چییرمین عابد ساقی نے چیف جسٹس عمر عطا ببدیال کی طرف سے فیصل واوڈا کی درخواست کی سماعت کے دوران 62 ون ایف کو ’کالا قانون‘ قرار دینے کے ریمارکس کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ ابھی بھی چیف جسٹس کے اختیار میں ہے کہ وہ فل کورٹ یا سات رکنی لارجر بینچ بنا کر اس قانون کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس قانون کے تحت نااہلی سے متعلق دیے گئے فیصلوں کا جائزہ لے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی اس قانون میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن موجودہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے اس لیے فی الوقت پارلیمنٹ اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب سینیٹ میں 62 ون ایف میں ترمیم کے لیے ایک بل پیش کیا گیا ہے اور یہ بل حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹر پلوشہ خان کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔

مجوزہ ترمیم میں شق 62 سے صادق اور امین کی عبارت کو راست گو اور وفا شعار میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت صادق اور امین دنیا میں صرف پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ سینٹ کے چیئرمین نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔