سیلاب متاثرین میں اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر تقسیم کرنے والی اوج فاطمہ

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

ملک میں سیلاب کے باعث مصیبت کی اس گھڑی میں لوگ مختلف انداز سے ضرورت مندوں کی مدد کر رہے ہیں مگر بعض لوگوں نے اپنے طور پر جو طریقہ اپنایا ہے وہ بالکل ہی انوکھا ہے۔ ان میں سے ایک سیدہ اوج فاطمہ رضوی بھی ہیں۔

جب اوج فاطمہ کو بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا علم ہوا تو وہ اکیلی لاہور سے کوئٹہ بھوک سے نڈھال متاثرین کو کھانا کھلانے کے لیے پہنچ گئیں۔ وہ کئی روز سے مختلف متاثرہ علاقوں میں اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر تقسیم کرتی رہیں۔

پیاز کاٹنے سے لے کر لوازمات کی خریداری تک وہ سب کام خود ہی کرتی ہیں۔

اپنے ہاتھوں پر نشانات دکھاتے ہوئے اوج فاطمہ نے کہا کہ ’جس طرح لوگ اپنے پیاروں کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتے ہیں، میں بھی یہ کھانا خود تیار کرتی ہوں تاکہ مصیبت زدہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ کھانا ان کے لیے ان کے کسی اپنے پیارے نے تیار کیا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مدد کی یہ چھوٹی سی کوشش ہے لیکن وہ اس کے ذریعے ایک مثال قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ ہر ایک اپنی بساط کے مطابق مصیبت کی گھڑی میں لوگوں کی مدد کرے۔

وہ اس کام کے لیے کسی سے مالی مدد نہیں لیتیں بلکہ انھوں نے فیس بک پر یہ پوسٹ لگائی ہے کہ کوئی بھی مالی مدد کے لیے ان سے رابطہ نہ کرے۔

’لوگوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ کھانا ان کے کسی پیارے نے بنایا ہے‘

جب اوج فاطمہ کوئٹہ پہنچیں تو اس وقت وہاں گیس تھی نہ بجلی، اس لیے کھانے کی تیاری کے لیے انھیں لکڑیوں کا استعمال کرنا پڑا۔

جب ہم ان سے ملنے نواں کلی کے محلے شام عالم میں اس گھر میں گئے جہاں وہ کھانا تیار کر رہی تھیں تو ان کا حلیہ بالکل اس طرح نہیں تھا جس طرح ہم نے انھیں ہوٹل کی لابی میں ملاقات کے دوران دیکھا تھا۔

لکڑیوں کو جلانے کے لیے وہ کاغذ کو بار بار پنکھے سے ہوا دے رہی تھیں جس کے باعث راکھ اُڑ کر ان کے چہرے اور بالوں پر پڑ رہی تھی۔ زور سے ہنستے ہوئے انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’دھوئیں اور پیاز کاٹنے کی وجہ سے آنکھوں سے آنسوﺅں کا نکلنا اور اس طرح کا حلیہ بننا ہر روز کا معمول ہے۔‘

اوج فاطمہ کوئٹہ میں جس علاقے کے سیلاب متاثرین کے لیے کھانا تیار کرتیں وہاں کسی گھر جا کر اس کی اجازت لیتیں۔ اجازت ملنے پر وہ وہاں قریبی دکانوں پر جاتیں اور لکڑی سے لے کر تمام چیزوں کی خریداری خود کرتیں۔ پیاز کاٹنے کے دوران ان کی آنکھوں میں جلن ہوتی تو لکڑی سے دھواں نکلنے کے باعث بھی وہاں کھڑا رہنا مشکل ہوتا۔

ان کی اس مشکل کو دیکھ کر ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ اتنی مشقت کیوں کر رہی ہیں، کھانا تقسیم کرنے کے لیے وہ کسی ہوٹل سے رابطہ کرسکتی ہیں یا کسی اور سے کھانا تیار کروا سکتی ہیں۔

تو ان کا جواب تھا کہ یہ سب وہ کرسکتی ہیں لیکن اس میں وہ خلوص اور محبت نہیں ہوگی جو گھروں میں ماﺅں اور بہنوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جب وہ اپنے پیاروں کے لیے کھانا تیار کرتی ہیں۔

’چھوٹی موٹی پریشانیاں میرے حوصلے پست نہیں کر سکتیں‘

کھانے کی تیاری کے بعد انھوں نے اسے پلاسٹک کے ڈبوں میں بند کیا اور تقسیم کرنے کے لیے نکل پڑیں۔ جس روز ہم نے ان کی امدادی سرگرمیوں کی کوریج کی تب انھوں نے ہنہ اوڑک کے سیلاب متاثرین کے لیے کھانا تیار کیا تھا جو کہ نواں کلی سے اندازاً دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

وہاں تک جانے کے لیے انھوں نے رکشہ منگوایا اور کھانے کے ڈبے اس میں رکھ کر روانہ ہوئیں۔ سیلاب نے شہر سے ہنہ اوڑک جانے کے لیے بائی پاس کو بُری طرح سے توڑ دیا ہے جبکہ ہنہ اوڑک کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہاں کبھی کوئی پختہ روڈ تھا ہی نہیں۔ رکشے میں ہچکولے کھانے کے بعد انھوں نے اپنے ہاتھوں سے متاثرین میں کھانا تقسیم کیا۔

اوج فاطمہ کا کہنا ہے کہ ’اکثر جن راستوں سے گزرتی ہوں وہ بہت ٹوٹے پھوٹے ہیں اور سات بجے کے بعد ان علاقوں میں اندھیرا بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے۔‘

'راستوں اور علاقوں سے پریشانی کے باعث کبھی ذہن میں یہ خیال آتا کہ چھوڑ کر چلی جاﺅں لیکن پھر دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین زیادہ مدد کے مستحق ہیں، چونکہ میں ایک نیک مقصد کے لیے کام کر رہی ہوں اس لیے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میری حفاظت کرے گا۔ اس لیے چھوٹی موٹی پریشانیاں میرے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے کیونکہ ’میں اکیلی لڑکی ہوں۔‘

’وہاں سے فون آتے ہیں کہ اب بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں اس لیے واپس آجاؤ لیکن میری خواہش اور کوشش رہی کہ میں کوئٹہ میں لوگوں کی خدمت کے لیے زیادہ سے زیادہ دن گزاروں۔‘

وہ کسی سے مالی امداد کیوں نہیں مانگتیں؟

اوج فاطمہ نے بتایا کہ کورونا کے باعث جو لوگ بیمار ہوئے اور پھر لاک ڈاﺅن کے دوران ان کا گھروں سے نکلنا مشکل ہوا تو بہت سارے لوگوں کو کھانے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنے گھر میں کھانا بنا کر ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ ’چونکہ لاہور میں میرا گھر تھا اور وہاں سہولیات بہت زیادہ تھیں اس لیے وہاں لوگوں کے لیے کھانے کی تیاری میں مشکلات پیش نہیں آتی تھیں۔‘

'میں جہاں خود لوگوں میں کھانا تقسیم کرتی تھی وہاں کورونا کی وجہ سے جو لوگ بے روزگار ہوئے تھے ان میں سے بعض کو معاوضہ دے کر ان سے کھانا تقسیم کرنے کا کام لیتی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کورونا کے وقت ٹرانسپورٹ کی بندش سے مجھے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ مجھے قصور تک بھی جانا پڑتا تھا۔‘

’ہسپتالوں سے بھی فون آتے تھے کہ بعض لوگوں کو ان کے بچوں نے ہسپتال میں چھوڑا ہے اور وہ ان کو کھانا دینے نہیں آتے ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے یخنی اور انڈے تیار کر کے ان کو دے آتی تھیں تاکہ ان کو مناسب غذا مل سکے۔

یہ بھی پڑھیے

اوج فاطمہ مشکل کی گھڑی میں لوگوں کو کھانا کھلانے کا جو کام سرانجام دیتی ہیں وہ مالی وسائل کے بغیر ممکن نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس کے لیے وسائل کہاں سے لاتی ہیں تو انھوں نے اس کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ’مرحوم نانا جان نے اچھی خاصی رقم رکھی تھی تاکہ زندگی میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے یہ سوچا کہ جب اگلے لمحے کسی کو یہ پتا نہیں ہوتا وہ زندہ رہے گا یا نہیں تو پھر بہت زیادہ پیسے یا وسائل جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

اس کے علاوہ وہ خود اپنی نوکری سے اچھی آمدن بھی کماتی ہیں اور اسے امدادی کاموں پر خرچ کرتی ہیں۔ انھیں ان کے خاندان کے دیگر افراد کی بھی حمایت حاصل ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ روزانہ وہ جو کھانا تیار کرتی ہیں اس پر پانچ سے چھ ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔ ’میں اس سے زیادہ اخراجات نہیں کرتی ہوں تاکہ میرا جو بجٹ ہے اس کا توازن خراب نہ ہو۔‘

’لوگ مالی مدد کے لیے رابطہ کرتے ہیں تو میں ان کو کہتی ہوں کہ آپ لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں تو خود سے کریں یا پھر ان این جی اوز کو پیسے دیں جو کہ پہلے سے یہ کام کر رہے ہیں۔‘

ان کے لیے یہ امدادی کام ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ لوگ جن سنگین مشکلات سے دوچار ہیں اس میں یہ ان کے مسائل کا مکمل حل تو نہیں مگر اس چھوٹی سی کوشش کے ذریعے وہ ایک مثال قائم کرنا چاہتی ہیں۔

’شیلٹر اور خوراک ایسی دو چیزیں ہیں جو لوگوں کی بنیادی ضرورت ہیں۔ مصیبت کی گھڑی میں اگر ہر ایک ضرورت مندوں کے لیے اپنے گھروں میں کچھ نہ کچھ کھانا تیار کرے تو اس سے لوگوں کی بہت بڑی مدد ہوگی اور یہ کام مشکل بھی نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ لوگوں میں کھانا تقسیم کرتی ہیں تو ’ان کے چہروں پر جو خوشی ہوتی ہے اس سے دلی تسکین ملتی ہے۔‘