آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش کی زاہدہ: ’سمگل‘ ہو کر پاکستان پہنچنے والی خاتون 40 برس بعد اپنے خاندان سے کیسے ملیں؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’مجھے نشہ دیا گیا تھا۔۔۔ کچھ پتہ نہیں کہ کس طرح یہاں تک لایا گیا اور پورا راستہ کیسے طے ہوا۔ میری آنکھ اُس وقت کُھلی جب ہم پاکستان پہنچ چکے تھے۔ میں نے اپنے نزدیک لوگوں سے پوچھا کہ مجھے کدھر لائے ہو؟ اس سوال کے جواب میں مجھے بتایا گیا کہ تمہیں فروخت کر دیا گیا ہے۔‘
زاہدہ خاتون نے اپنی کہانی کی ابتدا کچھ اِس طرح کی۔
زاہدہ کو آج سے تقریباً 40 برس قبل بنگلہ دیش سے مبینہ طور پر سمگل کر کے صوبائی دارالحکومت کراچی لایا گیا تھا تاہم اب لگ بھگ 40 برس بعد فیس بُک کی ایک پوسٹ کے ذریعے زاہدہ کا بنگلہ دیش میں اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے ناصرف رابطہ بلکہ ملاقات بھی ہوئی ہے اور اس کا وسیلہ کراچی کے ایک نوجوان خطیب ولی اللہ معروف بنے ہیں۔
ولی اللہ معروف کراچی میں رہنے والی ایسی بنگلہ دیشی اور انڈین خواتین کو سوشل میڈیا کی وساطت سے اُن کے خاندانوں سے ملوانے میں کوشاں رہتے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر برسوں قبل پاکستان پہنچ گئی تھیں۔ گذشتہ دنوں وہ انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایسی ہی ایک خاتون حمیدہ بیگم کو ان کے اہلخانہ سے ملوانے میں کامیاب رہے تھے جنھیں 20 برس قبل ’دھوکے‘ سے پاکستان لایا گیا تھا۔
چند روز قبل بی بی سی کی زاہدہ خاتون سے ملاقات منگھو پیر میں اُن کے دو کمروں کے گھر میں ہوئی۔ وہ اُردو، سندھی اور بنگالی زبان کو ملا کر ہم سے بات کر رہی تھیں۔
زاہدہ کے مطابق وہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب رہتی تھیں۔ ایک روز اُن کے پڑوس کی ایک خاتون نے انھیں کہا کہ ’چلو تمہیں شہر گھوما کر لاتی ہوں۔‘
زاہدہ بتاتی ہیں کہ انھیں ’کچھ نشہ آور چیز کھلائی گئی جس کے بعد وہ اپنا ہوش کھو بیٹھیں۔ جب ہوش آیا تو پاکستان کے شہر کراچی پہنچ چکی تھیں۔‘ ابتدا میں انھیں کراچی ہی میں ایک گھر میں بند رکھا گیا جہاں ان کی آہ و زاری کو دیکھ وہاں موجود ایک باریش نوجوان نے انھیں بتایا کہ انھیں فروخت کیا گیا ہے۔
زاہدہ کے مطابق اس نوجوان نے انھیں یہ بھی بتایا کہ درحقیقت اس نے انھیں خرید لیا ہے اور اب وہ اُن (زاہدہ) کی شادی اپنے ماموں سے کرائیں گے اور یہ کہ آئندہ پانچ روز میں نکاح ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ شادی ہوئی اور اس کے بعد زاہدہ اپنے شوہر کے ہمراہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں رہیں اور اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔
زاہدہ کو اپنے خاندان سے ملوانے والے ولی اللہ معروف کراچی کے علاقے منگھو پیر میں رہتے ہیں اور اُن کے خاندان کا تعلق مذہبی درس و تدریس سے ہے۔ وہ خود بنوری ٹاؤن سے فارغ التحصیل ہیں اور ان دنوں سائیٹ ایریا کی ایک مسجد میں خطیب ہیں۔
ولی اللہ بتاتے ہیں کہ وہ موبائل پر فیس بک اور دیگر سماجی رابطے کی ایپس استعمال کرتے تھے تو ایک روز اُن کی والدہ نے انھیں کہا کہ کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو، کیوں اس موبائل کا مثبت استعمال نہیں کرتے؟
ولی اللہ کا والدہ سے سوال یہی تھا کہ اس کا مثبت استعمال کیا ہے؟ تو اُن کی والدہ نے انھیں مشورہ دیا کہ پڑوس میں جو بنگالی خاتون رہتی ہیں وہ بہت پریشان ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا اپنے رشتے داروں سے رابطہ ہو جائے۔
سوشل میڈیا کیسے کام آیا؟
ولی اللہ معروف کے مطابق والدہ کی درخواست کے بعد انھوں نے زاہدہ کو اپنے گھر بُلایا اور اُن کا ایڈریس معلوم کر کے اسے گوگل سے سرچ کیا اور اس علاقے کا نقشہ لے کر زاہدہ کی تصویر کے ساتھ تمام تفصیلات لکھ لیں اور فیس بک پر اس کو شیئر کر دیا۔ یہ پوسٹ شیئر ہوتے ہی وائرل ہو گئی۔
ولی اللہ کے مطابق ’بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ زاہدہ کی ویڈیو بنا کر شیئر کریں، تاکہ وہ اپنا پتہ اپنی زبان میں درست تلفظ کے ساتھ بتا سکیں۔‘ ولی اللہ نے مشورے پر عمل کرتے ہوئے زاہدہ کی ویڈیو بنائی جس میں انھوں نے اپنے پتے کے ساتھ ساتھ اپنے رشتے داروں کے نام بتائے۔
ولی اللہ بتاتے ہیں کہ اُن کا حسیب اللہ نامی ایک دوست چین کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا جہاں کچھ بنگالی طلبہ بھی پڑھتے ہیں۔ سیف اللہ نے یہ پوسٹ اپنے بنگلہ دیشی ساتھیوں کو دکھائی جنھوں نے ڈھاکہ میں موجود مولانا منظور نامی شخص سے رابطہ کیا۔ مولانا منظور یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ انھوں نے بھاگ دوڑ کی اور بلآخر وہ مطلوبہ پتے پر پہنچ گئے۔
ولی اللہ کے مطابق مولانا منظور کو اس پتے پر ایک ضعیف شخص ملا جس نے تصدیق کی کہ 35، 40 سال قبل اُن کے سامنے والے گھر سے ایک خاتون لاپتہ ہوئی تھیں اور ویڈیو میں موجود عورت رشتہ داروں کے جو نام بتا رہی ہے وہ اسی لاپتہ خاتون کے بھائیوں اور چاچا اور ماموں کے نام ہیں۔ اس ضعیف شخص نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس لاپتہ خاتون کی والدہ اب بھی حیات ہیں اور یوں جلد ہی اُن سے رابطہ ہوگیا اور پھر ٹیلیفون پر دونوں کا رابطہ کروایا گیا۔
40 سال بعد ماں اور بیٹی کی ملاقات
زاہدہ خاتون اور اُن کی والدہ کی بنگلہ دیش میں ہونے والی ملاقات کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ آپس میں گلے مل رہی ہیں اور اس موقع پر موجود خواتین زاہدہ سے پوچھ رہی ہیں ’تم کہاں چلی گئی تھیں۔‘ زاہدہ بنگلہ دیش میں تین ماہ اپنی والدہ اور اُن بیٹوں کے پاس رہیں جو بچپن میں اُن سے بچھڑے تھے اور اب جوان ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ جب زاہدہ کو اغوا کیا گیا تو وہ شادی شدہ تھیں اور اُس وقت اُن کا ایک بیٹا گود میں تھا جبکہ ایک سات، آٹھ برس کا تھا۔
ملاقات کیسے ممکن ہو پائی؟
ولی اللہ معروف اس ملاقات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ زاہدہ خاتون کے گھر والے جب مل گئے تو انھوں نے سوچا اب ملاقات کیسے ممکن ہو پائے گی۔ ان کے مطابق انھوں نے تقریباً دو سال ویزے کے لیے کوششیں کیں اور اس عرصے میں ایک مرتبہ درخواست مسترد بھی ہوئی۔
’بنگلہ دیش سفارتخانے کی ایک چھوٹی سے کھڑکی ایک دو گھنٹے کے لیے کھلتی ہے۔ یہاں پہلے آئیں پہلے پائیں والی کہانی ہے۔ ایک تصویر بھی اگر فارم پر لگانی ہے تو اتنا بھی وقت نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ بس وقت ختم ہوگیا دوبارہ آنا۔ وہ کوئی تعاون نہیں کرتے، باہر دھوپ میں ضعیف خواتین بیٹھی ہوتی ہیں مگر کوئی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی مشکل سے زاہدہ کو ویزہ ملا اور پھر میں نے دوستوں کی مدد سے ٹکٹ کا بندوست کیا۔‘
پاکستان میں سمگل ہونے والی بنگالی خواتین
زاہدہ خاتون جب اپنے رشتے داروں سے ملاقات کر کے واپس پاکستان پہنچیں تو اُن کی اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں۔ ولی اللہ کے مطابق ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد دیگر بنگالی خواتین نے بھی ان سے رابطہ کیا۔
ولی اللہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سے رابطہ کرنے والی خواتین کی تعداد لگ بھگ 40 کے قریب ہے جو نہ صرف سندھ کے شہروں بلکہ پنجاب میں بھی موجود ہیں۔
ولی اللہ کے مطابق انھوں نے بنگلہ دیش میں موجود مولانا منظور کی توسط سے چند خواتین کے رشتہ داروں کا پتہ لگایا اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کا رابطہ کرانے میں کامیاب ہوئے۔
ولی اللہ کے مطابق ان میں سے بیشتر خواتین سمگلنگ کے ذریعے پاکستان لائی گئیں تھیں اور یہاں ان کی بولیاں لگا کر انھیں نیلام کیا گیا اور بعد میں ان کی شادی کروا دی گئیں۔
’نیشنل انیشٹیو اگینسٹ آرگنائزڈ کرائم‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں موصول ہونے والی ایک شہادت کے مطابق تقریباً 150 خواتین اور بچے ہر سال پاکستان سمگل کیے جاتے ہیں، اور خواتین اور لڑکیوں کو نیلام کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔