سوات میں سیلاب: عمودی چٹانیں، کمر پر 20 کلو خوراک کا تھیلا اور 35 کلومیٹر کا خطرناک سفر

    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن

ذرا سوچیں کہ آپ ایک کوہ پیما ہیں اور آپ کو 15 یا 20 کلو وزن کمر پر اٹھا کر 35 کلومیٹر طویل سفر طے کرنا ہے۔ اور فقط یہی نہیں بلکہ اگر راستے میں ایسی عمودی چٹانیں بھی ہوں جنھیں عبور کیے بغیر چارہ نہ ہو، تو آپ کیا کریں گے؟

شاید آپ اپنا ارادہ یہ سوچ کر بدل لیں کہ ایسا کرنا تو خودکشی کے مترادف ہو گا۔ لیکن اگر آپ کو پتہ ہو کہ ایسا نہ کرنا کی صورت میں بھی موت ہی ہے تو مسئلہ شاید گھمبیر ہو جائے۔

لیکن سوات میں پہاڑوں پر رہنے والے سینکڑوں افراد ایسا ہر روز کر رہے ہیں۔ انھوں نے کوئی پہاڑ سر کر کے کسی قسم کی کوئی تاریخ رقم نہیں کرنی، کوئی ایوارڈ یا تمغہ بھی اپنے سینے پر نہیں سجانا بلکہ دور دراز دیہات میں بے رحم بارشوں اور طغیانی کا شکار ندی نالوں سے سہمے ہوئے اپنے بال بچوں کے لیے کچھ دن کی خوراک کا بندوبست کرنا ہے۔

ایک ہلکی سی چُوک، چھوٹی سی غلطی، ایک غلط قدم انھیں موت کے منھ میں دھکیل سکتا ہے۔ اُن کے شاید قدم لڑکھڑا بھی گئے ہوں لیکن اُن کا عزم بالکل نہیں لڑکھڑایا اور جتنی زیادہ مرتبہ ان تصاویر کو دیکھیں اتنا ہی ان کا عزم غیر متزلزل دکھائی دیتا ہے۔

اور یہ عزم گھر میں بیٹھے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو کم از کم دو وقت کی روٹی اور ضروری اشیا پہنچانے کا ہے۔

محمد اکمل خان ایک ڈاکیومنٹری میکر اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے سوات آتے جاتے رہے ہیں۔ بقول اُن کے انھیں سوات کے پہاڑوں اور وادیوں سے پیار ہے۔ اس سال انھوں نے یہاں کے چھوٹے چھوٹے دیہات میں ٹریکنگ کی تھی، اس لیے وہ علاقے کے چپے چپے سے واقف ہیں۔

وہ کہتے ہیں مانکیال، ٹھرائی، جبہ تو میں ابھی اگست میں ہی آیا تھا۔ ’بہت خوبصورت جگہیں ہے لیکن اب جب ہم وہاں کی تصاویر دیکھتے ہیں تو بہت خوف آتا ہے۔ کتنی خوبصورت جگہ تھی، کتنے خوبصورت لوگ تھے اور اب یہ خوبصورت علاقے سیلاب کی نذر ہو گئے۔‘

’ایک غلط قدم موت کے منھ میں دھکیل سکتا ہے‘

اکمل اب سیلاب زدہ سوات کے دور دور دراز علاقوں میں خوراک اور ادویات کی سپلائی کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام آباد سے اشیا اکٹھی کرتے ہیں اور پھر سوات میں نیٹ ورک کے ذریعے، جو کہ اب کافی بڑا ہے، یہ اشیا ضرورت مندوں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن انھوں نے بھی کبھی ایسے منظر کے متعلق سوچا بھی نہیں تھا جو انھوں نے خوراک کی سپلائی کے دوران دیکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کالام اور بحرین کے درمیان راستہ تقریباً 35 کلومیٹر کا ہے۔ اس راستے میں مانکیال سے لائی کوٹ تک مختلف جگہوں پر سے سڑک ٹوٹ گئی ہے اور عمودی دیواروں کی طرح دریا نے اسے کاٹ دیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مجبوراً دشوار گزار راستوں اور پہاڑوں سے آنا پڑ رہا ہے۔‘

’پہلے 35 کلومیٹر پیدل چل کر بحرین اس جگہ پہنچنا جہاں امدادی سامان دیا جا رہا ہے اور پھر تقریباً 20 یا 30 کلوگرام وزن اٹھا کر اتنا ہی پیدل واپسی کا سفر اور پہاڑوں کی بلندیاں۔ جب وہ پہاڑوں پر چل رہے ہوتے ہیں تو اس دوران اُن کا ایک غلط قدم انھیں موت کے منھ میں دھکیل سکتا ہے۔‘

’یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کرتب کرنے والے رسی پر چلتے ہیں اور کوئی حفاظتی بیلٹ نہیں ہوتی۔ بس گرے اور مرے۔ کالام مٹلتان سے آنے والوں کو کم از کم چار کلومیٹر کے ایک ایسے راستے سے اُترنا اور پھر خوراک کے تھیلے اٹھا کر چڑھنا ہوتا ہے جو کہ بالکل ایک عمودی دیوار کی طرح ہے۔ وہ جب خوراک اٹھا کر واپس جا رہے ہوتے ہیں تو انھیں نہیں پتہ ہوتا کہ زندہ سلامت واپس پہنچیں گے بھی کہ نہیں۔‘

’لیکن جو سامان ان کے کاندھوں اور پیٹھ پر ہوتا ہے وہ دراصل ان کے بچوں کی زندگی ہے اور اس کے لیے وہ مرد حضرات اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کرتے۔‘ اکمل جذباتی انداز میں بنا رُکے بولتے جاتے ہیں۔

وہ اگست کی 25 تاریخ سے سوات میں متاثرین کے لیے امداد کا کام دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سوات میں ایک میڈیکل کیمپ لگایا ہے اور اس کے لیے دوائیاں اور دیگر سامان لے کر وہاں پہنچے ہیں۔ کچھ مخیر حضرات نے ان کے سامان کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا بھی بھیجی ہیں۔ وہ راستے میں مختلف جگہوں پر رکتے ہوئے ضرورت مند افراد میں بھی سامان تقسیم کرتے ہوئے جاتے ہیں۔ اکثر ان کی ٹیمیں پہلے ہی شناخت کر لیتی ہیں کہ کہاں کس چیز کی کتنی ضرورت ہے۔

’اس وقت ہم ضلع سوات کی تحصیل بحرین کے ان علاقوں میں سامان پہنچانے جا رہے ہیں جن کا رابطہ اہم سڑکوں سے منقطع ہو چکا ہے۔ ان دور دراز علاقوں میں سات سے آٹھ گھنٹے پیدل ٹریکنگ کا سفر کر کے جانا پڑتا ہے۔‘

سوات کے سیلاب میں بنیادی طور پر دو تحصیلیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں ایک تحصیل مٹہ اور دوسری تحصیل بحرین ہے۔ تحصیل مٹہ کے جو دیہات ہیں ان میں سے وہی رستہ جوپیچار کو بھی جاتا ہے۔ اگر ہم اسلام آباد سے یا منگورا سے سفر کریں تو یہ دریا کے بائیں طرف 20 کلومیٹر بعد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور اس کے راستے بہت دشوار گزار ہیں۔ چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں۔ تحصیل مٹہ اور بحرین دونوں تحصیلوں کی کل آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔

’لوگ نیچے آئے تو انھیں تباہی کا اندازہ ہوا‘

سیلاب کی وجہ سے ان علاقوں میں رابطہ سڑکیں بالکل تباہ ہو گئیں ہیں اور اس وجہ سے یہ علاقے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹ گئے ہیں۔

اکمل کہتے ہیں کہ ’شروع شروع میں لوگ وہاں اس لیے اپنے گھروں سے نہیں نکل پائے کیونکہ ان علاقوں کے ندی نالوں میں بہت طغیانی تھی اور پُل ٹوٹ چکے تھے۔ بعد میں جب یہ لوگ نیچے آئے تو انھیں تباہی کا اندازہ ہوا۔ یہ تباہی کالام شہر میں ایک ہوٹل کا گرنا نہیں تھا بلکہ یہ تباہی پورے سوات کی بیشتر بلکہ سبھی تحصیلوں میں بھی بہت ہوئی ہے۔‘

پُلوں کی تباہی اور سڑکوں کے راستے منقطع ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے اپنے علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ رضاکاروں کے مطابق یہاں خوراک اور ادویات کی بڑی کمی ہو گئی ہے۔

جب سیلاب آیا تو میڈیا میں شروع میں سوات پر اس طرح سے خبریں نہ آئیں جیسا بلوچستان، نوشہرہ، چار سدہ وغیرہ کے متعلق آئی تھیں، جہاں پر یقیناً بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ کیونکہ اِدھر توجہ زیادہ نہیں تھی اس لیے امدادی کام بھی اس طرح نہیں ہوا جس طرح کی ضرورت تھی۔ اکمل کہتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی مثال مٹلتان ہے۔

’اگر مٹلتان والے نے امدادی سامان حاصل کرنا ہے تو اسے بحرین بازار تک آنا پڑے گا۔ یہ فاصلہ کم و بیش 55 کلومیٹر ہے جس میں کچھ جگہوں پر بحرین کالام سڑک کے ایک ایک کلومیٹر کے حصے بُری طرح تباہ ہو گئے ہیں۔ تو سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ سے انھیں پہاڑوں کے اُوپر سے رسیوں کی مدد سے چڑھ کے اسی طرح اوپر نیچے آنا جانا پڑتا ہے جس طرح آپ پہاڑوں پر کوہ پیمائی کرتے ہیں۔‘

’فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ماؤنٹین گیئر کے بجائے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے 30 کلو تک وزنی خوراک کا سامان جس میں آٹے کا تھیلا، دالیں یا جو بھی مدد ملتی ہے اسے پیٹھ پر اٹھا کر چلنا پڑتا ہے اور کوئی حفاظتی گیئر بھی ساتھ نہیں ہے۔ وہ یہ چیزیں لے کر کالام یا مٹلتان کے علاقے کی طرف جاتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’یہ میں صرف سڑک کے اوپر یعنی ہائی وے کے ساتھ والے علاقوں کی بات کر رہا ہوں۔ ہمارے لوگ مانکیال یونین کونسل میں میڈیکل کیمپ کر رہے ہیں، یہاں دو دیہات سرئی اور جبہ مانکیال کی مرکزی ہائی وے سے 12 کلومیٹر دور ہیں اور بحرین سے ان کا فاصلہ تقریباً 35 کلومیٹر کے قریب بنتا ہے۔‘

’ان علاقوں تک رسائی اس وقت ذیلی سڑکوں کے ذریعے تو ممکن نہیں۔ وہاں پہنچنے کے لیے ہمیں ایسے رضاکاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو پیدل ٹریک کر کے وہاں پہنچ سکیں۔ ہماری ٹیم وہاں پہنچ رہی ہے۔ وہاں پر تو پانی کے چینل بھی حالیہ سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اور پینے کے پانی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘

اکمل کے بقول ان علاقوں میں جو لوگ بیمار تھے یا جو گھروں کے گرنے یا کسی اور وجہ سے زخمی ہوئے وہ بالکل بے یارو مددگار پڑے ہوئے ہیں۔ ’رضاکار ٹیموں نے جان ہتھیلی پر رکھ کے ان علاقوں کی پہلے نشاندہی کی اور پھر وہاں خوراک اور ادویات لے کر پہنچے۔

تاہم ان کے مسائل ایک یا دو تین میڈیکل کیمپوں سے حل نہیں ہوں گے۔ ہیضہ کا مرض ہے، گندا پانی پینے کی وجہ بچے اور بڑے بیمار ہو رہے ہیں، گھر تباہ ہیں اور بارش اور ٹھنڈ کی وجہ سے بخار پھیل رہا ہے۔ رضاکار انھیں بنیادی ادویات تو فراہم کر رہے ہیں لیکن وہ شاید ہر علاقے تک یہ ادویات نہ پہنچا سکیں۔‘

’جو لوگ زیادہ بیمار ہوتے ہیں انھیں ہسپتال بھی لے جانا ہے جو ایک ان حالات میں ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ مقامی لوگ انھیں مل جل کے بحرین لے آتے ہیں اور وہاں سے آگے کیونکہ سڑکیں اب ذرا بہتر حالت میں ہیں جہاں سے انھیں بڑے شہروں میں لے جایا جا سکتا ہے۔‘

’سوات کے لوگ ہنگامی حالات میں اکٹھے ہو جاتے ہیں‘

اکمل کہتے ہیں کہ حالیہ قدرتی آفت کے دوران یہاں کے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں نے، بہت کام کیا ہے اور روزانہ 30 سے 35 کلومیٹر کا سفر کر کے بھی لوگوں کی مدد کی ہے۔

’سوات کے لوگوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہ ہنگامی حالات میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سنہ 2010 کے سیلاب میں بھی ہم نے یہی دیکھا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم انھیں 15 دن کے لیے سپورٹ کر دیں تو یہ نسبتاً دوسری جگہوں کے زیادہ تیزی سے نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔‘

’جب خوراک یا ضرورت کی چیزیں اُن تک پہنچ جائیں گی تو مرد حضرات یہ اپنے بیوی بچوں کے پاس چھوڑیں گے اور خود محنت مزدوری کے لیے منگورہ، پشاور، اسلام آباد یا دوسرے شہروں کی طرف نکل جائیں گے۔ یہی ان کا طریقہ ہے حالات سے مقابلہ کرنے کا۔‘

’ان کے لیے چیلنج 10-15 دنوں تک کا نہیں ہے بلکہ یہ اگلے سال اس وقت تک ہے جب تک فصلیں دوبارہ تیار نہیں ہو جاتیں، کیونکہ ان کی کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ بحران تو ہے لیکن اس خطے کے لوگوں کا ماضی بتاتا ہے کہ ان میں اس سے زیادہ ریزیلیئنس یا دوبارہ ابھرنے کی طاقت ہے۔‘

بحرین دو دریاؤں، سوات اور درال، کے سنگم کی زمین ہے اور دراصل بحرین نام کا مطلب بھی یہی ہے۔ اور اسی سنگم کی خوبصورتی کو دیکھنے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ اس سال یہ دو دریا ایسے بپھرے کے بحرین کے مشہور بازار کو ہی تیسرا دریا بنا دیا، سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا۔ تاہم اکمل کو یقین ہے کہ یہاں کے خوش مزاج لوگوں میں ہر چیز کو برداشت کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی قدرتی صلاحیت ہے۔