کاغان کی وادی مانور میں سیلاب سے تباہی: 'راشن چاہیے اور راستہ بھی'، متاثرینِ سیلاب کی خط کے ذریعے مدد کی اپیل

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو کاغان، خیبرپختونخوا

’راشن بھی چاہیے اور راستہ بھی۔۔۔‘ عبدالرشید جب اپنے گاؤں کے بارے میں بتا رہے تھے تو ان کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔ وہ بار بار کہتے کہ ان کی گاڑی بہہ گئی ہے اور ان کا گھر بڑے نالے کے دوسری طرف ہے، جہاں سے جمعے کے روز ایک بڑا سیلابی ریلا آیا تھا۔

اسی دوران دوسرے کنارے پر کھڑے لوگوں نے نیلے رنگ کا ایک شاپر ہماری طرف پھینکا۔

میں کاغان کی دور دراز وادی مانور میں موجود تھی، جہاں میرے سامنے ٹوٹا ہوا پُل تھا، دھاڑیں مارتے دو نالے جو چند فٹ کے فاصلے پر ایک ہو رہے تھے اور دوسری طرف کچے گھروں کے باہر پتھروں پر بیٹھے درجنوں دیہاتی جو کسی معجزے کے منتظر تھے۔

میرے پاؤں کے نیچے مٹی اتنی نرم تھی کہ کسی بھی وقت کنارہ ٹوٹ سکتا تھا، جبکہ پہاڑ کی جانب لینڈ سلائیڈنگ کا خوف تھا۔ ہم نے وہ شاپر کھول کر دیکھا تو اس میں پتھر تھے اور ساتھ ایک خط بھی تھا۔

جب میں اس وادی میں پہنچی تو سیلاب اور اس کی تباہی کو دو دن گزر چکے تھے۔ یہاں ٹوٹنے والے پُل نے مانور اور اس کے ارد گرد موجود دیگر دیہات کا رابطہ منقطع کر دیا تھا۔

یہاں موبائل نیٹ ورکس کام نہیں کرتے اور سڑک مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔ ان سیلاب متاثرین تک ابھی تک میڈیا پہنچا تھا اور نہ ہی دوسری جانب پھنسے افراد تک کوئی حکومتی نمائندے کی رسائی ممکن ہو سکی تھی۔

جب میں نے ان کی طرف سے پھینکا گیا خط کھولا تو اس میں یہاں سیلابی ریلے سے ہونے والی تباہی کا ذکر تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے اپنے مالی اور جانی نقصان کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس وقت ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہی تھا کہ ان کے لیے اس پُل کو جلد از جلد تعمیر کیا جائے یا کسی عارضی راستے کا انتظام کیا جائے۔

خط کے متن کے مطابق 'لوگ گھروں میں پڑے ہیں۔ ہمارا رابطہ مانسہرہ اور بالاکوٹ سے کٹ گیا ہے۔ یہاں راشن کی شدید قلت ہو چکی ہے۔ حکومت جلد از جلد کوئی نظام (انتظام) کرے اور متاثرین کی بحالی کرے۔'

خط میں متاثرین نے لکھا کہ 'ہمارا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ برائے مہربانی ہماری آواز آگے پہنچائیں۔ یہ مرکزی پل ہے اس کا راستہ بحال ہونا چاہیے۔ اعلیٰ حکام تک ہماری آواز پہنچائیں۔ ہسپتال (تک رسائی) نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں لوگ مریض ہو گئے ہیں۔'

مانور وادی میں ٹوٹے ہوئے بڑے پل سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا عارضی پل بنایا گیا ہے۔ لکڑی کے تختوں سے بنا یہ پل نیچے گزرتے پانی سے چند فٹ ہی اونچا ہے اور کسی بھی وقت بہہ جانے کا خطرہ بھی۔

یہاں ایک خاتون اپنا سامان رکھ کر بیٹھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ 'میرا گھر اور بچے پل کے دوسری طرف ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ 'میں دو دن سے یہاں بیٹھی انتظار کر رہی ہوں کہ شاید ابھی کوئی حکومت والا آ جائے اور اس پل کو ٹھیک کر دے۔ مگر حکومت والے ہمیں کہتے ہیں کہ دوسری طرف سے پیدل اوپر جاو۔ پہاڑ کی دوسری طرف سے اوپر جانے میں آٹھ دس گھنٹے لگتے ہیں۔ میں بوڑھی عورت ہوں، میں اتنا کیسے چل سکتی ہوں؟ '

ان خاتون نے مزید کچھ لمحے وہاں انتظار کیا مگر بارش شروع ہو گئی۔

بارش سے لکڑی کے عارضی پل کے نیچے پانی کی سطح بلند اور رفتار تیز ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اب ہمیں بھی اس مقام سے جلد از جلد نکلنا تھا۔ وہ خاتون بھی سامان اٹھا کر وہاں سے محفوظ مقام کی طرف چلی گئیں۔

حکام کہتے ہیں کہ یہ 'کلاوڈ برسٹ' تھا اور یہ نالہ جہاں سے گزرا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز بہا کر لے گیا۔ اس میں کم از کم پندرہ انسان بھی شامل ہیں۔ راستے میں بنے ہوٹل اور دکانیں، پل اور کچے گھر بھی۔

خیال رہے کہ کاغان اور بالاکوٹ میں آنے والے سیلاب سے پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں۔ درجنوں مکانات، دکانیں اور پل بھی پانی اپنے ساتھ بہا لے گیا، جس کے بعد کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

مانور وادی میں نالے کے پار چند دکانیں اور ہوٹل پانی کی نذر ہوئے تھے تو کاغان روڈ پر موجود مہانڈری نامی علاقے میں بھی درجنوں دکانیں اور ہوٹل تباہ ہو چکے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کمشنر مانسہرہ عدنان بھٹانی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقوں میں دس سے پندرہ ہزار افراد آباد ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سیلاب کے فوری بعد یہاں ریلیف اور ریسکیو کا بڑا آپریشن کیا گیا 'کئی چھوٹے پل ہیں جو ٹوٹے ہیں جبکہ بعض مقامات پر بڑے پل ٹوٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے رابطے ختم ہوئے ہیں۔

مانور وادی میں ٹوٹنے والے پل کی تعمیر نو کے لیے ڈیزائن وغیرہ پر کام شروع کر دیا گیاہے مگر پل کی تعمیر پر وقت لگے گا۔'

جب ان سے پوچھا کہ وہاں موجود لوگ جو پھنس گئے ہیں ان کا کیا جائے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس ضمن میں ان کی امداد کی جائے گی تاہم ان کے مطابق یہاں ان کی ٹیموں نے آبادیوں سے معلومات حاصل کی ہیں جن کے مطابق فی الحال انھیں کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر ایسا ہوا تو انھیں راشن اور مطلوبہ سامان مہیا کیا جائے گا۔

انھوں نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ یہاں کے لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں اور دریائے کنہار کے قریب رہنے والے لوگ اونچے مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔'

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے مطابق دریا کے کنارے موجود ہوٹل خالی کروا دیے گئے ہیں جبکہ سیاحوں کو پہلے ہی یہاں سے منتقل کیا گیا ہے اور مزید سیاحوں کو آگے آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خیال رہے کہ یہاں دریائے کنہار میں ابھی بھی فلڈ وارننگ موجود ہے۔