آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہریوں اور مقامی علما کے احتجاج کے بعد بنوں میں خواتین کا واحد پارک ’مکمل طور پر بند‘
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خواتین کا واحد پارک منگل سے مکمل بند کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان منگل کو ضلع بنوں کے علما اور ان کے ساتھ شامل دیگر افراد نے اخباری کانفرنس میں کیا ہے۔ علما کا کہنا تھا کہ خواتین کی تفریحی مقامات اور مزارات پر جانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔
ان علما کا کہنا تھا کہ انھوں نے بنوں چھاونی میں حکام سے مزاکرات کیے ہیں جس کے بعد یہ متفقہ فیصلہ ہوا ہے کہ بنوں کا یہ لیڈیز پارک مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس پارک کے حوالے سے گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاج ہو رہا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اس پارک سے علاقے میں فحاشی پھیل رہی ہے۔
اس بارے میں بنوں کے ضلع پولیس افسر ڈاکٹر محمد اقبال سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ان کے مزاکرات ہو رہے ہیں اور یہ پارک بند نہیں کیا جائے گا۔
اچانک پارک کے خلاف احتجاج کیوں؟
مقامی لوگوں نے بتایا کہ یوم آزادی یعنی 14 اگست کے دن جب سب لوگ جشن منا رہے تھے تو اس وقت بڑی تعداد میں خواتین سفید برقعے پہن کر علاقے کے واحد لیڈیز پارک پہنچ گئی تھیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اس قدر رش تھا کہ پارک اندر سے بھر گیا اور باقی اندر جانے کی جگہ نہیں رہی اور بڑی تعداد میں خواتین پارک کے باہر جمع ہو گئی تھیں۔ اس پارک کے اندر صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہے یہاں تک کہ 10 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
خواتین جب پارک کے باہر کھڑی تھیں تو اس وقت باقی لوگ وہاں جمع ہو گئے جس سے بعض لوگوں نے اس اس پر اعتراض شروع کر دیا کہ خواتین کے باہر نکلنے سے فحاشی پھیل رہی ہے۔
لوگوں نے بتایا کہ گھریلو خواتین اپنے بچوں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ پارک آئی تھیں اس سے فحاشی کا تاثر لینا انتہائی غلط ہے۔
یہ پارک بنوں کے چھاونی کے علاقے میں واقع ہے اور اس کا دروازہ بھی چھاونی میں ہی تھا۔ کچھ عرصہ پہلے مقامی انتظامیہ کی درخواست پر شہری علاقے کی جانب بھی پارک کا ایک دروازہ کھول دیا گیا تاکہ چھاونی کے باہر کی خواتین بھی اس پارک میں جا سکیں۔
مقامی علما کا کیا موقف ہے؟
عام طور پر خواتین اس پارک میں آتی تھیں لیکن کبھی کسی کو کوئی شکایت نہیں رہی لیکن یوم آزادی کے دن جب بڑی تعداد میں خواتین پارک پہنچیں تو اس پر باتیں ہونے لگیں اور پھر احتجاج شروع کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس احتجاج میں مقامی لوگوں میں زیادہ تعداد مدارس کے طلبا اور مقامی علما کی تھی لیکن اس احتجاج کو کسی ایک سیاسی جماعت کا احتجاج نہیں کہا گیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں علما نے تقاریر میں کہا کہ ’بنوں ضلع کی اپنی روایات اور کلچر ہے اور یہاں خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا مناسب نہیں سمجھا جاتا اس لیے ان خواتین کو پارک میں آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس فحاشی پھیل سکتی ہے۔‘
اس بارے میں احتجاج میں شامل مولانا نسیم شاہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو تفریحی مقامات اور مزارات پر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا علاقے کی روایات کے خلاف ہے اور اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ان سے جب کہا گیا کہ اس علاقے میں پشاور مردان اور صوبے کے دیگر اضلاع بھی ہیں جہاں خواتین باپردہ رہتی ہیں لیکن وہاں خواتین کے پارک ہیں اور وہ وہاں جاتی ہیں وہاں کوئی پابندی نہیں ہے ، اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ٹھیک ہے وہاں یہ ہوگا لیکن وہ بنوں میں اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
لکی مروت میں کیا ہوا تھا؟
ملک بھر میں جہاں لوگ جشن آزادی کی خوشی میں بازاروں اور پارکوں میں پہنچے تھے وہاں خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے واحد پارک میں لوگ پہنچے تھے۔ اس خوشی میں کچھ خواتین جو سفید برقعے پہنے اپنے بچوں چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ آئیں اور جھولوں میں بیٹھ گئی تھیں۔
اس پارک میں موجود کچھ لوگوں کو یہ ناگوار گزرا اور اس اپنی انا، غیرت کے خلاف سمجھا۔ ان کے نزدیک خواتین کا برقعے پہن کر بھی جھولوں میں بیٹھنا بے حیائی ہے اور انھیں ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ جھولوں میں اپنے بچوں یا چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ سکیں۔
ویڈیو میں سب لوگ خواتین کے پارک آنے کے عمل پر جب تنقید کر رہے تھے اتنے میں ایک نوجوان نے کہا کہ کیا ہم کسی کا انتظار کریں گے اور وہ خود دیگر کچھ لوگوں کے ساتھ ان سیڑھیوں پر چڑھ جاتا ہے جو جھولے کی طرف جاتی ہیں۔ نوجوان ویڈیو بھی بناتا رھا اور خواتین کو برا بھلا کہتا رہا یہاں تک کہ وہ گالم گلوچ بھی کرتا رہا۔
خواتین اور ان کے ساتھ آنے والے بچے گھبرا کر نیچے اترتے ہیں اور یہ نوجوان انھیں مسلسل برا بھلا کہتا رہا۔ اس موقع پر موجود لوگ اس نوجوان کے عمل کو سراہتے رہے اور کہتے رہے کہ ’یہ کیا بے شرمی ہے کہ اب خواتین جھولوں پر آئیں گے یہ تو بے حیائی ہے اور اسے وہ کسی طور پر برداشت نہیں کریں گے۔‘
وہاں پولیس اہلکار بھی موجود تھا لیکن کسی نے اس نوجوان کو روکا نہیں کہ وہ کیوں خواتین کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور انھیں گالیاں دے رہا ہے۔
اس واقعے پر ضلع پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کیا اور اس کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ شخص اپنے کیے پر پشیمان تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔
اس گرفتاری اور ویڈیو کے بعد مقامی علما نے احتجاج کیا اور کہا کہ اس شخص نے صحیح کیا اور خواتین کو وہ کسی صورت پارکوں میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارکوں اور بازاروں میں خواتین کے آنے سے فحاشی پھیلتی ہے۔ لکی مروت میں احتجاجی مظاہرے میں بھی پارک بند کرنے اور خواتین کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت کیا کہتی ہے؟
اس بارے میں صوبائی حکومت نے اب تک کوئی اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ یا متعلقہ وزرا نے اس پر کوئی کارروائی کی ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ضلعی حکومت کا مسئلہ ہے اور وہاں ضلعی انتظامیہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ قائم ہے اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔ ان سے جب کہا گیا کہ کیا خواتین کو تفریح کی اجازت ہوگی یا خواتین کے پارک جانے پر پابندی عائد ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کیسے ہو سکتا ہے خواتین کو مکمل آزادی ہوگی اور خواتین پارکوں میں جا سکتی ہے۔‘
ضلع بنوں کے واقعہ پر جب ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر محمد اقبال سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ خواتین کے پارکوں میں جانے پر پابندی ہے یا پارک بند کر دیا گیا ہے بلکہ ان کے مزارکرات جاری ہیں اور یہ کہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔‘
مقامی لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ عام لوگ خواتین کے پارک جانے پر پابندی چاہتے ہیں بلکہ ’لوگوں کا موقف ہے کہ انتطامیہ تحفظ فراہم کرے اگر خواتین کے ساتھ کہیں کچھ برا ہوتا ہے تو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہیں یا انھیں تنگ کرتے ہیں۔‘