آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ کے مقامی جرگے نے ’ریڈیو پر خواتین کی گپ شپ‘ پر پابندی کیوں لگائی؟
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قبائلی ضلع باجوڑ کے ایک مقامی جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ خواتین کو کسی بھی ایف ایم ریڈیو سٹیشن پر ٹیلی فون کال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
باجوڑ پریس کلب سے منسلک مقامی صحافی یاسر بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ وڑ ماموند نامی تحصیل کے عمائدین نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ایک مقامی ایف ایم ریڈیو کی ایک ٹیلی فون کال لیک ہوئی جس میں آر جے ایک خاتون سے ’نازیبا بات چیت‘ کر رہا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس فون کال کے بعد مقامی لوگوں نے پیمرا سے اس ریڈیو سٹیشن کا لائسنس معطل کرنے کا مطالبہ کیا مگر جب یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا تو جمعے کے بعد مقامی عمائدین کے جرگے نے متفقہ فیصلہ کیا کہ آئندہ باجوڑ کی خواتین کسی بھی ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے کسی بھی پروگرام میں ٹیلی فون کال نہیں کریں گی۔
تاہم ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر محمد فیاض کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ خود سے کوئی حکم صادر کرے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر عمائدین نے انتظامیہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمائدین کے اس جرگے میں چار مقامی قبائل نے شرکت کی تھی۔
اس جرگے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما ملک سعید الرحمان نے جرگے کے فیصلے کا اعلان کیا جسے سب نے منظور کر لیا۔
اس جرگے میں جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما مفتی بشیر اور اس علاقے سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان کے چچا ملک محمد زمان بھی شریک تھے، جو اپنے قبیلے کے سربراہ بھی ہیں۔
’ریڈیو پر خواتین کی گپ شپ پشتون روایات کی خلاف ورزی قرار‘
جرگے میں شریک ملک سیعد الرحمان کے مطابق ’ہم نے مقامی افراد کے کلچر اور رسم و رواج کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔‘
وہ فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جس طرح ریڈیو پر خواتین سے بات چیت اور اور گپ شپ لگائی جاتی ہے، یہ بات پشتون اور اسلامی کلچر سے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔‘
ان کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ اس وجہ سے عائد کیا ہے تاکہ ’خواتین پردے میں رہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے جرگے عدالت سے باہر تنازعات حل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔‘
کوئی کسی کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا: انتظامیہ
سابقہ فاٹا کے ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر محمد فیاض نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد اب قبائلی اضلاع میں اس قسم کے جرگوں کی کوئی حیثیت نہیں اور کوئی شخص بھی کسی دوسرے شخص کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا۔
ڈی سی نے کہا کہ انتظامیہ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ خود سے کوئی حکم صادر کریں۔
انھوں نے کہا کہ وڑ ماموند عمائدین کے ساتھ اس حوالے سے بات کرنے کے لیے اے سی وہاں گئے ہیں اور ان کی ساتھ میٹنگ جاری ہے تاہم اگر عمائدین نے انتظامیہ کی بات ماننے سے انکار کردیا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
جرگے میں اور کیا فیصلے کیے گئے ہیں؟
ملک سعید الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سے انتظامیہ نے ملاقات کی ہے۔ جرگے کی تصدیق کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں متعدد فیصلے کیے گئے ہیں مگر سوشل میڈیا پر صرف خواتین کا ایف ایم ریڈیو سٹیشن پر کال کرنے والا معاملہ ہی اٹھایا گیا ہے۔
ملک سعید کے مطابق جرگے نے علاقے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے پروگرام ’صدائے امن‘ کے تحت چھوٹے بچوں کی ماں کو دو ہزار روپے دیے جانے سے متعلق بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق ان کی تحصیل میں پانچ لاکھ سے زائد آبادی ہے اور اس این جی او کے سنٹر کے باہر خواتین کا بہت رش لگ جاتا تھا۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ’ہم نے اس این جی او کو پابند کیا ہے کہ اگر وہ پیسے دینا چاہتے ہیں تو پھر مردوں کو دیں کیونکہ خواتین کا اس طرح وقار مجروح ہوتا ہے اور وہ پردے کا بھی خیال نہیں رکھ پاتی ہیں۔‘
جرگے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ لڑکی غیر مرد کے ساتھ گھر سے چلی گئی تو لڑکی کے والدین کو اختیار ہے کہ وہ لڑکے کو معاوضے کے بدلے معاف کریں یا اس لڑکے کو دشمن ٹھہرا کر علاقہ بدر کر دیں۔
فیصلے کے مطابق خاندان کے دیگر افراد کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور ان سے صلح کی جائے گی۔ ملک سعید الرحمان کے مطابق فیصلے میں قتل کی سزا میں نرمی لائی گئی ہے۔
’ایف سی آر کے پرانے قانون کے مطابق گھر مسمار نہیں کیے جائیں گے اور نہ پورے خاندان کو علاقہ بے دخل کیا جائے گا۔ صرف اس کو ہی سزا ملے گی جو جرم کرے گا۔‘