آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قیام پاکستان کے 75 برس: پاکستان کے نوجوان اپنا ملک چھوڑ کر باہر کیوں جانا چاہتے ہیں؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو
’تمھاری فیملی کینیڈا میں ہے؟ تم پاکستان میں کیا کر رہی ہو؟ بھئی جلدی نکلو یہاں سے۔۔۔‘
یہ جملے میری روزمرہ زندگی کا معمول بن چکے ہیں۔ میرے دوستوں میں سے تقریباً سبھی کسی نہ کسی مغربی ملک جا کر زندگی گزار رہے اور جو یہاں رہ گئے ہیں وہ نکلنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ اب تو ایسے لگنے لگا ہے شاید آخر میں صرف میں ہی اکیلی یہاں رہ جاؤں گی۔
پاکستان کو بنے 75 سال ہو چکے ہیں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد، جنھیں کسی بھی ملک کی ترقی اور روشن مستقبل کا ضامن سمجھا جاتا ہے، اس ملک میں نہیں رہنا چاہتے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہر دوسرا دوست یا عزیز امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ یا کسی یورپی ملک میں زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
آخر کیوں ہماری نوجوان نسل اب اس ملک میں نہیں رہنا چاہتی؟ کیا انھیں اس ملک میں اپنا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے یا کوئی اور خدشات ہیں؟
ہم نے پاکستان کے مختلف شہروں میں رہنے والے چند نوجوانوں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ پاکستان چھوڑ کر باہر کیوں جانا چاہتے ہیں۔
’گھر سے مارکیٹ جاتے ہوئے بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتی‘
’میں اپنی گلی میں واک نہیں کرتی۔۔۔ یہاں ہر دوسرے روز ایک نیا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے بعد میں سوچنے لگتی ہوں کیا میں یہاں محفوظ ہوں۔‘
راولپنڈی میں رہنے والی 23 سال کی مناہل عامر پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں مگر وہ خود کو پاکستان میں محفوظ نہیں سمجھتیں اور جلد از جلد برطانیہ جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
مناہل کا سب سے بڑا خدشہ سکیورٹی ہے۔ وہ گھر سے مارکیٹ جاتے ہوئے بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ ’ہر بندہ اپ کو گھور رہا ہوتا ہے، آوازیں نکالتے ہیں، شکلیں بناتے ہیں، ہنس رہے ہوتے ہیں اور اسی وقت آپ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید میں نے خود کو صحیح طرح سے ڈھانپا نہیں۔ میرے ذہن میں بس یہی چل رہا ہوتا ہے کہ مجھے یہاں سے جلدی نکلنا ہے۔‘
’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ موسم اچھا ہو اور میں نے کہا ہو چلو آج میں واک کرنے چلی جاتی ہوں۔‘
ہمیشہ انھیں گھر سے اپنے شوہر یا کسی مرد کو ساتھ لے کر جانا پڑتا ہے تاکہ انھیں تسلی رہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی غلط حرکت کرنےکی کوشش بھی کرتا ہے تو کوئی بچانے والا موجود ہو گا۔
مناہل کہتی ہیں کہ یہاں اگر کسی عورت کے ساتھ کچھ برا واقعہ پیش آ جائے تو اس کی رپورٹنگ کا بھی قابلِ بھروسہ نظام موجود نہیں۔
ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے مناہل سمجھتی ہیں کہ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سسٹم ان کے لیے بنا ہی نہیں ہے۔
اگر ایک شہر سے دوسرے کا سفر کرنا پڑ جائے تو انھیں 100 چیزوں کا دھیان کرنا پڑتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے حال ہی میں بس میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرنا پڑا اور ٹکٹ لیتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ میرے علاوہ کوئی اور عورت بھی ہے یا باقی مسافر سب مرد ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ماحول اور ٹرانسپورٹ سسٹم ہی ایسا نہیں کہ میں اکیلے سفر کرتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھوں۔
’اپنے بچوں کو رٹہ لگانے والا نظامِ تعلیم نہیں دینا چاہتی‘
مناہل کے مطابق چونکہ پاکستان میں آج بھی ذہنی صحت کے حوالے سے دقیانوسی خیالات پائے جاتے ہیں لہذا یہاں رہتے ہوئے انھیں اپنے کیرئیر کے حوالے سے کوئی اچھی امیدیں نہیں اور یہاں ان کی پریکٹس ایسی نہیں ہو سکتی جیسی باہر کے ممالک میں ممکن ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں ان کی فیلّڈ کے حوالے سے سپیشلائزیشن کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔
مناہل کا کہنا ہے کہ وہ جس نظامِ تعلیم سے گزری ہیں انھیں لگتا ہے کہ اس نے انھیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔
وہ اپنے بچوں کو اس ملک کا رٹہ لگانے والا نظامِ تعلیم نہیں دینا چاہتیں۔
وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے ایسے ملک میں تعلیم حاصل کریں جہاں وہ پریکٹیکل چیزیں اور ایسے کھیل سیکھیں جو زندگی میں ان کے کام آئیں۔
’بیٹا باہر جاؤ گے تو تمھیں اور بھی اچھا ملے گا‘
’نوجوان نسل اس لیے پاکستان سے باہر جانا چاہتی ہے کہ شروع سے ماں باپ نے ان کے ذہن میں بنایا ہوا ہے کہ ’بیٹا باہر جاؤ گے تو تمھیں اور بھی اچھا ملے گا کیونکہ وہ ملک اور اقوام ہم سے بہت آگے ہیں۔‘
31 سالہ لمعان ملک، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ایگزیکٹو شیف ہیں اور آج کل آسٹریلیا کے ویزے کے منتظر ہیں۔
بچپن میں سکول کا ہوم ورک کرنے کے بعد انھیں دو گھنٹے کی اجازت ملتی تھی کہ گھر کے قریب بار بی کیو کی دکان میں چکن کو سیخوں پر لگانے کا عمل دیکھ سکیں۔ اس دکان پر لمعان کی تنخواہ ایک تکہ دو چپاتیاں تھی مگر وہ تو وہیں سے شیف بننے کا تہیہ کر چکے تھے۔
انھوں نے 17 سال کی عمر میں پہلی نوکری شروع کی۔ سیکھنے کے سفر میں ان کے ہاتھ بھی جلے اور مار بھی پڑی مگر ان کا شوق ختم نہیں ہوا۔
مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب معاشرے کے ڈر سے لمعان کے والد نے انھیں شیف کی نوکری سے منع کر دیا اور ان کے کیرئیر کو بریک لگ گئی کیونکہ لمعان کے والد کا خیال تھا کہ ’پاکستان میں لوگ شیف کو گھروں میں کام کرنے والا باورچی سمجھتے ہیں۔‘
والد کو سمجھانے میں انھیں کچھ وقت لگا مگر ان کی والدہ ہمیشہ سے ان کے ساتھ تھیں۔
پڑھائی کا شوق نہ ہونے کے باوجود معاشرے کی باتوں سے تنگ آ کر انھوں نے یونیورسٹی سے گریجویشن بھی کی اور ساتھ ساتھ اپنی شیف کی ڈگری کے لیے کئی کورس کیے اور آج وہ کراچی کے دو بڑے ریستوران کے ساتھ کنسلٹینسی کرتے ہیں اور 14 سال سے اس انڈسٹری میں کام کر رہے ہیں۔
’پاکستان میں رہ کر اچھا شیف نہیں بن پاؤں گا‘
میرے لیے یہ حیرت کا سبب تھا کہ کراچی جیسے شہر کے دو بڑے پوش ریستورانوں میں ایک کامیاب کنسلٹنٹ شیف ہوتے ہوئے بھی، وہ جلد از جلد پاکستان چھوڑ کر آسٹریلیا شفٹ ہونا چاہتے ہیں۔
لمعان کہتے ہیں کہ مجھے میرا ملک بہت پسند ہے، اس ملک نے مجھے پہچان دی مگر مجھے لگتا ہے کہ اگر میں مزید کچھ عرصہ یہاں رہا تو میرے لیے سیکھنے اور کیرئیر میں آگے بڑھنے کے مواقع ختم ہو جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں ’اگر میں پاکستان میں رہتا ہوں اور بہت اچھا بھی کر لوں تو ریستوران کا مالک بن جاؤں گا مگر اچھا شیف نہیں بن پاؤں گا۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ انھیں کیوں لگتا ہے کہ باہر جا کر وہ ایک اچھے شیف بن پائیں گے مگر پاکستان میں رہتے ہوئے یہ ممکن نہیں؟
اس کے جواب میں وہ بتاتے ہیں کہ ’باہر جا کر مجھے جو مواقع ملیں گے وہ یہاں نہیں مل سکتے۔ ہمارے ملک میں کچن کی وہ گائیڈ لائنز ہی نہیں، جو باہر کے ملکوں میں فالو کی جاتی ہیں اور میرے پروفیشن میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کو بہترین شیف بننا ہے تو بہترین شیف کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔‘
بطورِ شیف پاکستان میں پیش آنے والے مسائل کی مثال دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اگر یہاں انھیں کوئی ایک نئی ڈش تخلیق کرنی پڑے تو اس کے اجزا کو باہر سے منگوانے کا عمل ہی اتنا مشکل اور مہنگا ہے کہ اس پر دس گنا زیادہ لاگت آتی ہے
وہ اپنے لیے بہتر مواقع چاہتے ہیں اور کیرئیر میں وقفہ آنے سے پہلے یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں اور آگے بڑھنے کی بات آئے تو اس کے لیے لمعان کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں پھر چاہے خاندان، دوست، ملک سب چھوڑ چھاڑ کر باہر شفٹ ہونا پڑے۔
’رات کو گھر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کوئی پیچھا نہ کر رہا ہو‘
لمعان کے لیے سکیورٹی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ریستوران کے بند ہونے، شکایات دیکھنے کے بعد گھر کے لیے نکلتے انھیں رات کے دو تین بج جاتے ہیں ’اور اس وقت گھر جاتے ہوئے مجھے ڈر لگتا ہے، کہیں رکتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کوئی پیچھا نہ کر رہا ہو۔ سگنل پر رکتے ڈر لگتا ہے کہ میرا موبائل نہ چھن جائے اور اگر پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو اے ٹی ایم پر رکنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ گیٹ لاک بھی کر لوں تب بھی ڈر لگتا ہے۔‘
تین سال قبل گھر جاتے ہوئے لمعان کی گاڑی کے شیشے نیچے تھے اور ان کے سر پر پستول تان کر ان سے موبائل چھین لیا گیا اور کہا گیا، جو ہے سب دے دو۔۔ اس وقت انھیں لگا تھا کسی فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے۔
’موبائل چھنے تین سال سے اوپر ہو گئے ہیں مگر میرے دماغ میں ایسا ڈر بیٹھ چکا ہے کہ چاہے کچھ ہو جائے میں گاڑی کے شیشے نیچے نہیں کرتا۔ وہ ٹراما میری زندگی سے آج تک نہیں گیا۔‘
وہ پوچھتے ہیں کہ ایک انسان ساری زندگی اتنی پریشانی اور ڈر میں کیسے جی سکتا ہے؟
’آج تک عزت نہیں ملی کیونکہ لوگوں کو شیف کا مطلب ہی سمجھ نہیں آیا‘
لمعان کے نزدیک پاکستان سے جانے کی تیسری وجہ سوسائٹی ہے جہاں شیف کے پیشے سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک بہت کم تنخواہ والی نوکری ہے۔
’لوگ سمجھتے ہیں ہمارے پاس تعلیم نہیں۔ ہم بغیر قابلیت والے لوگ ہیں جنھوں نے زندگی میں کچھ نہیں کیا اسی لیے شیف بن گئے۔ یہاں لوگوں کو شیف کا مطلب ہی سمجھ نہیں آتا۔ شیف کھانا پکاتا نہیں بلکہ ڈش تخلیق کرتا ہے جو ایک آرٹ ہے۔‘
لمعان بتاتے ہیں کہ ان کے اپنے خاندان کو بھی شیف کا مطلب بہت وقت کے بعد جا کر سمجھ آیا۔
’جب تک میں ٹی وی پر شوز کرتا اور اچھے پیسے بناتا نظر نہیں آیا تب تک میں خاندان کی نظر میں ایک باورچی تھا۔‘
’ایک غیر شادی شدہ عورت کے لیے یہاں رہنا بالکل بھی آسان نہیں‘
’میں اب اس ملک میں نہیں رہ سکتی کیونکہ ایک غیر شادی شدہ عورت کے لیے یہاں رہنا بالکل بھی آسان نہیں۔ اب بھی عوامی مقامات پر عورتوں کو بہت عجیب اور شک بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے کردار پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر ڈھابوں اور ریستوران تک مردوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔‘
یہ خیالات 27 سال کی سلویٰ رعنا کے ہیں، وہ اسلام آباد میں بطور لیگل ریسرچر اور کنسلٹنٹ کام کرتی ہیں اور پاکستان میں پیش آنے والی مشکلات سے تنگ آ کر جلد از جلد یورپ شفٹ ہونا چاہتی ہیں۔
انھیں امید ہے کہ اُس معاشرے میں ایک غیر شادی شدہ عورت کے طور پر انھیں قبول کیا جائے گا۔
سلویٰ کو یہ بھی امید ہے کہ وہ یورپی ممالک میں ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گی۔
وہ چاہتی ہیں کہ جب وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی ہوں، یا باہر سڑک پر چلتے ہوئے گھر جا رہی ہوں تو اس وقت انھیں تنگ نہ کیا جائے اور انھیں گھورا نہ جائے۔
سلویٰ بتاتی ہیں کہ جب اسلام آباد میں انھوں نے اپنے لیے گھر ڈھونڈنا شروع کیا تو مالک مکان انھیں یہ کہتے ہوئے گھر دینے سے انکار کر دیتے تھے کہ ’ہم غیر شادی شدہ عورتوں کو گھر نہیں دیتے۔‘
سلویٰ کے مطابق ’وہ سمجھتے ہیں کہ غیر شادی شدہ عورتوں نے کوئی غلط کام کرنا ہوتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
کیا باہر کے ممالک میں مسائل نہیں ہوں گے؟
اس حوالے سے سلویٰ رعنا کہتی ہیں کہ ’یورپ جا کر عوامی مقامات پر گھومتے پھرتے ہوئے اگر خدانخواستہ میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے تو مجھے اتنا یقین ہے کہ عورت ہونے کے ناطے مجھے ہی موردِالزام نہیں ٹھہرایا جائے گا، میری بات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، میری شکایت پر قانونی کارروائی ہو گی۔‘
لمعان ملک کے مطابق ان کے آسٹریلیا شفٹ ہونے کا بنیادی مقصد ان کا کیرئیر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں میرے پیشے کی عزت ہے، باہر آپ کسی گاہک سے بات چیت کرتے ہیں تو وہ کھانے سے زیادہ خوش ہو جاتا ہے کہ شیف مجھ سے ملنے آیا ہے، وہاں سیکھنے کے مواقع ہیں اور جہاں تک جرائم کی بات ہے تو وہ تو ساری دنیا میں ہیں مگر مجھے اتنا تو یقین ہے کہ وہاں مجھے انصاف ملے گا۔
لمعان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ کہ ’وہاں کیرئیر آگے بڑھانے کے مواقع مل رہے ہوں گے اسی لیے شاید میں موبائل یا پیسے چھننا برداشت کر جاؤں۔‘
جبکہ مناہل کا ماننا ہے کہ کم از کم وہاں اتنی تو آزادی ہو گی کہ وہ گھر سے چل کر مارکیٹ جا سکیں گی، اکیلے واک کرنے پارک جا سکیں گی ’وہاں ہر دوسرے کونے پر کوئی مرد کھڑا مجھے دیکھ نہیں رہا ہو گا کہ یہ اکیلی کدھر جا رہی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ وہاں میرے اکیلے سفر کرنے کو ایک ’انوکھا کام‘ نہیں سمجھا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ مشکلات تو وہاں بھی ہوں گی، تنگ کرنے والے لوگ بھی ہوں گے مگر وہاں کم از کم آپ اس بندے کی رپورٹ کر سکتے ہیں اور آپ کو ڈر نہیں ہوتا کہ یہ الٹا میرے ساتھ کچھ برا کرے گا۔
اس کے علاوہ انگلینڈ میں ان کے پیشے کے حوالے سے آگاہی بہت ہے اور وہاں کے صحت کے نظام این ایچ ایس میں سائیکالوجی کی فیلڈ میں آگے بڑھنے اور نوکری کے بہت سے مواقع ہیں اور یہی امید ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہے۔
کیا ملک چھوڑ کر ایک نئی جگہ زندگی دوبارہ شروع کرنا آسان ہو گا؟
میری ملاقات لمعان سے جس ریستوران میں ہوئی وہاں میں نے انھیں اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے دیکھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ان دوستوں سے روزانہ ملتے ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انھیں وہاں ان سب کی یاد نہیں آئے گی؟
اس کے جواب میں لمعان کہتے ہیں ’یہاں میرا خاندان، میرے دوست، سب ہیں۔ ایک تسلی ہے کہ کوئی مسئلہ ہو گیا تو اسے سننے اور حل کرنے میں مدد والے بہت لوگ ہیں۔ باہر جا کر یہ سب ختم ہو جائے گا‘ مگر اس سب کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہیں۔
لمعان سمجھتے ہیں کہ ایک شیف کے طور پر انھیں اپنے جذبات چھپانے اور پریشر کنٹرول کرنے کے طریقے بہت اچھی طرح آتے ہیں اور یہی چیز ان کی مدد کرے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ انھیں دکھ ہے دوستوں اور فیملی کو چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے مگر اس کے بدلے میں کیرئیر بن رہا ہے جو ’وِن وِن ڈیل‘ ہے۔
مناہل کہتی ہیں کہ پاکستان سے جانے کا دکھ بہت ہو گا۔ مجھے اور میرے شوہر کو بہت سی قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ ساتھ اچھی نوکریاں چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے۔ میں بہت سی تقریبات میں موجود نہیں ہوں گی لیکن کچھ بڑا حاصل کرنے کے لیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔
یہ نوجوان زندگی کے کسی موڑ پر واپس پاکستان آنا چاہیں گے؟
مناہل کہتی ہیں کہ شاید زندگی کے کسی موڑ پر وہ واپس آنا چاہیں مگر فی الحال وہ آزادی سے رہنا چاہتی ہیں اور اپنی فیلڈ میں آگے جانا چاہتی ہیں۔
سلویٰ رعنا زندگی میں کبھی بھی واپس پاکستان آ کر نہیں رہنا چاہیں گی۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر ایک بار آپ ایک ایسی سوسائٹی میں رہیں، جہاں غیر شادی شدہ عورتوں کا اکیلے رہنا معمول کی بات ہے، آپ کو ان سہولیات کی عادت پڑ جائے جو یہاں سے بہت بہتر ہیں، تو واپس پاکستان آ کر رہنا بہت مشکل ہو گا۔
اییسے ہی خیالات لمعان کے بھی ہیں۔ انھیں نہیں لگتا کہ ایک بار زندگی میں آگے جا کر وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے، ہاں اگر کبھی آنا پڑا تو اس کی وجہ ان کے والدین ہوں گے جن سے ملنے وہ آتے رہیں گے مگر یہاں واپس سیٹل ہونے کا کوئی چانس نہیں۔
لمعان کہتے ہیں کہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ خوب سے خوب تر کی طرف جائے اور میں خوب سے خوب تر کی تلاش ساری زندگی جاری رکھوں گا۔