پاکستان کے 75 برس: اس گاؤں کا سفر جس کے بارے میں خاندان میں کوئی بات نہ کرتا تھا

    • مصنف, کویتا پوری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

لگ بھگ 75 سال پہلے سپرش آہوجا کا خاندان ان لاکھوں خاندانوں میں سے ایک تھا جو اپنا گھر بار چھوڑ کر اُس وقت نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جب برصغیر دو نئے ممالک انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوا تھا۔

سپرش کے دادا نے اپنی زندگی میں کبھی اس جگہ کے بارے میں بات نہیں کی جہاں سے نکل کر وہ آئے تھے۔ مگر پھر ان کے پوتے (سپرش) نے انھیں ترغیب دی کہ وہ اس بارے میں بات کریں۔

یہ کہانی دو خاندانوں کی کہانی ہے جو دہائیوں قبل مذہب اور سرحد کی بنیاد پر الگ ہو گئے تھے لیکن ایک بار پھر سے جڑ رہے ہیں۔

سپرش نے اپنی ہتھیلی میں تین بھورے رنگ کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو دبا رکھا ہے۔ اُن کے لیے یہ پتھر بہت قیمتی ہیں کیونکہ یہ ان کا تعلق اس سرزمین سے بحال رکھتے ہیں جہاں کبھی ان کے آباؤ اجداد رہتے تھے۔

سپرش کا ان بھورے پتھروں کا سفر پانچ سال پہلے شروع ہوا جب وہ اپنے دادا ایشر داس اروڑا سے ملنے گئے۔ سپرش یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ ان کے ادھیڑ عمر دادا اُردو میں نوٹس لکھ رہے ہیں، لیکن اُردو تو پاکستان کی سرکاری زبان تھی۔

سپرش کو معلوم تھا کہ اُن کے دادا اس علاقے سے نقل مکانی کر کے آئے تھے جو اب پاکستان میں شامل ہے لیکن اس سے زیادہ انھیں کچھ معلوم نہیں تھا۔ سپرش کا کہنا ہے کہ خاندان میں کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔

’یہاں تک کہ ٹی وی پر، یا اگر ہم کوئی بورڈ گیم کھیل رہے ہوتے تو بھی اگر پاکستان کے بارے میں کچھ سامنے آتا تو سب چُپ ہو جاتے۔ خاندان میں اس پر بات نہیں ہوتی۔‘

سپرش متجسس تھے۔ ایک شام شطرنج کی بازی کے دوران انھوں نے اپنے دادا سے اُن کے بچپن اور اس جگہ کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جس کا کوئی نام نہیں لیتا تھا۔

سپرش کو یاد ہے کہ وہ اس کے بارے میں بات کرنے میں ’واقعی ہچکچا رہے تھے۔‘ پہلے پہل انھوں نے کہا ’یہ اہم نہیں۔ تمہیں اس کی کیوں پرواہ ہے؟‘

لیکن آہستہ آہستہ، وہ کُھلتے گئے۔ وہ خوش تھے کہ کوئی تو دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ سپرش نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی خاندانی کہانی ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ اور یوں ان کے دادا ایشر اس پر راضی ہو گئے۔

’انھوں نے میری دادی سے کہا کہ وہ اُن کا بہترین سوٹ اور ٹائی تلاش کریں اور پھر وہ کہانی بتانے کے لیے پوری طرح تیار ہو گئے۔‘

سفید قمیض پہنے، بالوں میں صفائی سے کنگھی کرنے کے بعد ایشر نے برسوں کی ’خاموشی‘ کو توڑ دیا اور اپنے خاندان کی کہانی سُنانی شروع کی۔

سپرش کی عمر 20 برس ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر اپنے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں مگر اس دن اپنے دادا کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے اُن کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

سپرش بتاتے ہیں کہ میں اُن سے مشرقی لندن کے علاقے برک لین میں واقع ان کے گھر پر ملی تھیں۔ اُن کے دادا نے انھیں بتایا کہ وہ سنہ 1940 میں پنجاب میں جنڈ کے قریب واقع ایک مسلم اکثریتی گاؤں بیلہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا کے والدین سڑک کے کنارے مونگ پھلی کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ یہ غیر منقسم برطانوی ہندوستان میں پُرامن وقت تھا۔

تقسیم کے وقت سپرش کے دادا ایشر کی عمر کوئی سات سال تھی، جب کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا اور ان کے گاؤں پر حملے ہونے لگے۔

ایشر اور ان کے خاندان کو، جو ہندو تھے، گاؤں کے سردار کے گھر لے جایا گیا، جو ایک مسلمان شخص تھا جس نے انھیں تحفظ فراہم کیا۔ جب ایک بندوق بردار ہجوم ہندوؤں کو ڈھونڈتا ہوا آیا تو گاؤں کے سربراہ نے انھیں اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ایشر کو بس اتنا یاد ہے کہ ان سب پر خوف طاری تھا۔ انھیں اس کے بعد کی بات یاد نہیں کہ ان سب کی دلی منتقلی کیسے ممکن ہوئی تھی، جہاں وہ آج بھی رہتے ہیں۔

ان کہانی کو پوری طرح سُن کر کہ کس طرح ان کے ہندو دادا کو ایک مسلمان شخص نے بچایا سپرش کی سوچ میں کچھ بدلاؤ آیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ پہلی بار تھا جب انھوں نے اپنے دادا کو اچھی طرح جانا تھا۔

لیکن اس نے انھیں ایک مشن پر بھی لگا دیا۔ ’مجھے فوراً احساس ہوا کہ مجھے اس گاؤں واپس جانا ہے۔ مجھے ایسا نہیں لگتا تھا کہ ہماری خاندانی کہانی اس وقت تک مکمل ہو سکتی ہے جب تک ہم میں سے کوئی واپس نہ جائے اور اس جگہ کو دوبارہ نہ دیکھے۔‘

اس کے بعد سپرش نے اپنے دادا سے کہا کہ وہ بیلہ جانا چاہتے ہیں۔ ایشر نے جواب دیا کہ ’نہیں، یہ محفوظ نہیں۔ بس یہیں رہو، وہاں کیا بچا ہے؟‘

لیکن سپرش نے اپنا ارادہ ترک نہیں کیا کیونکہ ایشر اگر چہ واضح طور پر اپنے پوتے کی واپسی کے متعلق غیر مطمئن تھے لیکن سپرش نے یہ محسوس کیا کہ ان کے دادا اب بھی بیلا کو ’گھر‘ کہتے ہیں۔

سپرش نے پاکستان جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں میرا ایک حصہ تھا کیونکہ میں بہت سے مختلف ممالک میں پلا بڑھا ہوں، انڈیا میں پیدا ہوا، آسٹریلیا میں پلا بڑھا اور یونیورسٹی کی تعلیم پوری کی اور برطانیہ میں کام کر رہا ہوں، مجھے واقعی ایسا نہیں لگتا کہ کوئی ایک جگہ ہے جسے میں کہہ سکتا ہوں کہ ’یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میں ہوں۔‘

’تو میں نے محسوس کیا کہ اس پہیلی کا صرف ایک گمشدہ ٹکڑا ہے جسے مجھے دیکھنے کی ضرورت تھی۔‘

بہرحال مارچ 2021 میں سپرش پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تھے۔ 100 کلومیٹر (60 میل) سے زیادہ دور اپنے خاندانی گھر کے سفر کی ابتدا کے لیے صبح وہ جلدی اٹھ گئے۔ انھوں نے روایتی نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنی اور سفید پگڑی ایک خاص انداز میں باندھی۔

انھوں نے اپنے پردادا اور ایشر کے والد کی ایک تصویر دیکھی تھی اور وہ انھی کی طرح اپنے گاؤں واپس جانا چاہتا تھا۔ وہ دو دوستوں کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھے اور روانہ ہو گئے۔ پچھلی سیٹ پر سپرش اپنے دادا کا دیا ہوا نقشہ لیے بیٹھے تھے، جو انھوں نے پرانی یادوں کی مدد سے تیار کیا تھا۔

سپرش یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے دادا نے ایک مسجد، ایک دریا اور ایک پہاڑی بنائی تھی جسے وہ ’گونجتی پہاڑی‘ کہتے تھے۔ وہ وہاں جا کر اپنا نام پکارتے تھے اور ظاہر ہے کہ پہاڑی سے ٹکرا کر ان کی آواز بازگشت کرتی واپس گونج اٹھتی تھی۔

سپرش اس لمبے سفر پر خاموش اور اپنے خیالوں میں گم تھے۔ ’میں جس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ تھا وہ یہ تھا کہ اگر وہاں کچھ بھی نہیں ہوا تو میں واقعی تباہ ہو جاؤں گا۔‘

رفتہ رفتہ زمین کا حصہ پہاڑیوں میں بدلتا گیا، سڑکیں ناہموار ہوتی گئیں، زمین سرخ مٹی میں بدلتی گئی، جیسا کہ ایشر نے بیان کیا تھا اور پھر، کھڑکی سے باہر، انھوں نے سڑک کے کنارے لوگوں کو مونگ پھلی بیچتے دیکھا، جیسا کہ ان کے پردادا کبھی بیچا کرتے تھے۔ انھیں لگا جیسے وہ قریب ہی ہوں گے۔

وہ بہتے دریا کے ساتھ ایک دلکش سبز وادی میں پہنچے جہاں پھلوں کے درخت تھے، گائیں گھوم رہی تھیں اور مٹی کی جھونپڑیاں تھیں۔ ایک سائن بورڈ پر ’بیلا‘ لکھا تھا۔

سپرش گاڑی سے اُترے اور اپنی بہترین پنجابی میں ایک بزرگ خاتون سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وہاں کیوں ہیں۔

’ان خاتون نے کہا کہ وہ تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی لیکن گاؤں کا مکھیا شاید آپ کی رہنمائی کر سکتا ہے۔‘

جب وہ گاؤں میں داخل ہوئے تو مزید مقامی لوگ نظر آنے لگے۔ وہ سب سپرش کو گھور رہے تھے۔

’یہ گاؤں تین حصوں میں تقسیم تھا۔ جب میں تیسرے حصے میں پہنچا اس سے پہلے ہی سب کو معلوم ہو گیا تھا کہ کوئی آدمی ادھر آ رہا ہے۔ لوگ بس ایک دوسرے کو پکار رہے تھے۔‘

سپرش نے گاؤں کے سربراہ کو تلاش کر لیا اور اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ بیلہ کے ایک شخص نے تقریباً 75 سال پہلے ان کے دادا کی جان بچائی تھی۔

کیا وہ اس آدمی کو جانتے ہیں؟

سپرش نے بتایا کہ ’وہ (گاؤں کا سربراہ) خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے کہا شاید آپ میرے والد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

گاؤں کے سربراہ نے سپرش کو بتایا کہ اسے ان کے دادا اور ان کا خاندان یاد ہے۔ جذبات پر قابو پاتے ہوئے، سپرش نے ان سے کہا کہ ’اگر آپ کے والد نہ ہوتے تو میں یہاں نہ ہوتا۔‘

گاؤں کے سربراہ، سپرش کو اپنے بیٹے اور پوتے سے ملانے کے لیے اپنے گھر لے گئے۔ انھوں نے ایک ساتھ چائے پی۔ سپرش نے ایک جانی پہچانی کہانی سُنی کہ کس طرح اس کے خاندان کی حفاظت کی گئی تھی لیکن ایک اور نقطہ نظر سے جنھوں نے انھیں بچایا تھا۔

پھر گاؤں کے سربراہ نے کہا کہ ان کے پاس سپرش کو دکھانے کے لیے کچھ ہے۔

ایشر کو بچانے والے شخص کے پوتے اور پڑپوتے نے سپرش کا ہاتھ پکڑا اور اسے گاؤں میں لے گئے۔

وہ ایک صحن میں پہنچے۔ اس کے کنارے پر ایک عمارت کھڑی تھی۔ پھر پوتے نے سپرش سے کہا کہ ’یہ وہی مسجد تھی جس کے پاس تمہارے دادا رہتے تھے۔‘

اس کے بعد اس نے کچے اینٹوں کے مکان کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ یہ وہ پلاٹ تھا جہاں ایشر رہتا تھا۔ سپرش صحن کے بیچ کی طرف چل پڑے اور بے ساختہ گھٹنوں کے بل گر کر اپنا سر اور دونوں ہتھیلیاں خاک آلود زمین پر رکھ دیں۔ بالآخر جب وہ کھڑے ہوئے تو دونوں پوتے، ایک ہندو، ایک مسلمان، گلے مل رہے تھے۔

اس لمحے کو یاد کرتے ہی سپرش کی آواز بھر جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے واقعی جذباتی لمحہ تھا اور وہ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں۔

’میں نے محسوس کیا کہ یہ صرف اس لمحے کا بوجھ تھا جس نے مجھے آخر کار وہاں پہنچا دیا۔ دونوں ممالک کے رشتے کو دیکھتے ہوئے یہ ایسی چیز نہیں تھی جس کی میں نے کبھی توقع کی ہو کہ یہ میری اپنی زندگی میں ممکن ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ بیلہ جانے سے پہلے انھیں کچھ کھو جانے پر غصہ آتا تھا لیکن ایک بار جب انھوں نے اپنی آبائی سر زمین کو دیکھا تو اس دن کے بعد سے ان کے اندر کی آگ کا بہت سا حصہ بجھ گیا۔

سپرش کا کہنا ہے کہ وہ ’انٹرجنریشنل ٹراما‘ کو تھوڑا سا کم کرنے کے قابل ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ بڑے ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے ہم آئے ہیں اور ہم کبھی واپس نہیں جا سکے، یہ وہ کہانی نہیں ہے جو میں اپنے بچوں کو سناؤں گا۔ اب یہ ہو گا: 'ہم نے یہ زمین کھو دی، لیکن پھر ہم واپس گئے۔' ایسا لگتا ہے کہ وہ سرا اب مل گیا ہے۔'

گاؤں چھوڑنے سے پہلے سپرش نے کچھ بھورے رنگ کے کنکر اٹھا لیے جہاں کبھی اس کے آباؤ اجداد رہتے تھے اور انھیں اپنی جیب میں ڈال لیا۔

اس رات اسلام آباد واپس آ کر سپرش نے اپنے دادا کو واٹس ایپ کیا۔ ایشر نے جواب دیا: ’مجھے تم پر فخر ہے۔ تم نے میری مادر وطن کو چھوا ہے جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘

تقسیم کی اس دردناک کہانی کو دوبارہ لکھنے میں تین نسلیں لگ گئیں۔

دونوں خاندان اب واٹس ایپ پر جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اپنے تہواروں پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، جیسا کہ ان کے آباؤ اجداد گاؤں میں ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔

لیکن کوئی اچھا اختتام نہیں ہے۔

سپرش کہتے ہیں کہ جب حالات سیاسی طور پر کشیدہ ہو جاتے ہیں تو ان کے دادا واٹس ایپ پر رابطہ ختم کر دیتے ہیں۔ 'وہ کہتے ہیں، 'میں اب انھیں پیغام بھیجنا نہیں چاہتا کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں۔‘

اور دونوں طرف سخت رویوں کے حامل لوگ ہیں۔ پچھلے سال سپرش نے بیلہ گاؤں کے سربراہ کے ایک رشتہ دار کی سوشل میڈیا پوسٹ دیکھی جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کا قبضہ اسلام کی فتح ہے۔ سپرش نے اسے لکھا: ’آپ جانتے ہیں، بھائی، آپ کی پوسٹ دیکھ کر، مجھے بہت دکھ ہوا، اسی قسم کی انتہا پسندی سے بچنے کے لیے میرے دادا کو پہلے گاؤں سے بھاگنا پڑا تھا۔‘

مزید پڑھیے

پاکستان کے گاؤں کے سربراہ کے ایک رکن نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ سپرش کہتے ہیں کہ ’یہ پیچیدہ ہے۔ بہت پیچیدہ، کیونکہ سپرش کے خاندان کے کچھ لوگ مسلم مخالف رویہ رکھتے ہیں اور حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کرتے ہیں۔

لیکن کم از کم بات چیت ہوتی ہے۔

اپنے دادا کے ساتھ تجربے نے سپرش اور یونیورسٹی کے کچھ دوستوں کو ایک قدم آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے پراجیکٹ داستان شروع کیا جو انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر تارکین وطن کے خاندانوں کی مدد کے لیے ورچوئل ریئلٹی (وی آر) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انھیں تاریخ کے صفحات میں گم ان کے اُن کھوئے ہوئے مقامات پر دوبارہ لے جاتا ہے۔

حال ہی میں سپرش نے اپنے دادا ایشر کو ایک ہیڈ سیٹ پہنایا اور انھیں ان کے گاؤں بیلہ کا ورچوئل ٹور کروایا اور اس کے ذریعے انھیں ان کے پرانے گھر کے قریب مسجد، وہ زمین جہاں کبھی ان کا گھر کھڑا تھا اور گونجتی ہوئی پہاڑی دکھائی۔

اب ایشر 82 سال ہو چکے ہیں لیکن اس عمر میں بھی وہ ذاتی طور پر بیلہ واپس جانے کا سوچ رہے ہیں۔ لیکن ایک انڈین پاسپورٹ ہولڈر کے طور پر سرحد پار کر کے پاکستان جانا مشکل ہے۔

سپرش نے بیلا کے قیمتی کنکروں میں سے ایک اپنے دادا کو دیا جسے وہ اپنے پلنگ کی میز کے پاس رکھتے ہیں۔ باقی دو ہار بنانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، ایک ایشر کے لیے، دوسرا سپرش کے لیے جسے وہ اپنا حصہ سمجھ کر ہر روز پہنتے ہیں۔

سپرش اپنا ہار اپنے بچوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں گاؤں کا تھوڑا سا حصہ ان کے پاس رہے۔

انھوں نے کہا: ’ایک جنوبی ایشیائی ہونے کے طور پر، آپ کی سرزمین، آپ کے وطن کا تصور یہ ہے کہ آپ کہاں سے ہیں۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے آپ خود کو الگ کر سکیں۔ وہ کنکریاں میرے آباؤ اجداد ہیں۔ میں اپنے ماضی کا کچھ حصہ اپنے پاس رکھ سکتا ہوں۔‘

’میں اپنے خاندان کی تاریخوں اور آرکائیوز کو تلاش نہیں کر سکتا، اس لیے انھیں ابھی اکٹھا کر رہا ہوں۔ اور اسی لیے میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ آنے والی نسل، کم از کم میرے خاندان میں، ایسا ہو۔‘