آنند: راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کی وہ فلم جس کو دیکھنے کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی

امیتابھ راجیش

،تصویر کا ذریعہHARPER COLLINS

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

یکم جنوری 1971 کو ممبئی (اس وقت بمبئی) کے ایک کالج میں بہت کم طلبا آئے۔ سٹاف روم میں موجود اساتذہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے۔

اس دن کوئی قومی تعطیل تھی اور نہ ہی کوئی تہوار تو پھر تمام طلبا کہاں تھے؟

ایسے میں کینٹین بوائے جو چائے لے کر کمرے میں داخل ہوا تھا اس نے سارا راز اگل دیا۔ اس دن راجیش کھنہ کی فلم ’آنند‘ ریلیز ہوئی تھی اور تمام طلبا وہ فلم دیکھنے گئے تھے۔

لیکن یہ صرف اس کالج کی کہانی نہیں تھی۔ اس ان کئی کالجوں کے طلبا اور خصوصاً طالبات نے اپنی کلاس بنک کر کے اپنے پسندیدہ سٹار کی فلم دیکھی تھی۔

کئی لڑکے بھی اس امید پر فلم دیکھنے آئے تھے کہ شاید راجیش کھنہ کی دیوانی لڑکیوں میں سے کسی کی نظر ان پر بھی پڑ جائے۔

فلم کے ہدایتکار ہریشکیش مکھرجی نے ہنسی اور آنسوؤں کے جذبات کو اس طرح کہانی میں بُنا کہ فلم دیکھ کر ہال سے باہر آنے والے ہر شخص کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

یاسر عثمان، راجیش کھنہ کی سوانح عمری ’راجیش کھنہ-دی ان ٹولڈ سٹوری آف انڈیاز فرسٹ سپر سٹار‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راجیش کھنہ نے آنند کے کردار میں ایسے جان ڈالی کہ ناظرین اس کردار سے بہت متاثر ہوئے اور فلم کا ڈائیلاگ ’بابو موشائی، زندگی بڑی ہونی چاہیے۔۔۔ لمبی نہیں‘ بولتے ہوئے ہال سے باہر آئے۔‘

امیتابھ راجیش

،تصویر کا ذریعہHARPER COLLINS

راجیش کھنہ کی زبردست اداکاری

آنند کی کہانی ایک زندہ دل آدمی کے گرد گھومتی ہے جس میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔

وہ اپنے علاج کے لیے دلی سے بمبئی آتا ہے، جہاں اس کی ملاقات ڈاکٹر کلکرنی سے ہوتی ہے۔ کینسر کے آخری مرحلے میں ہونے کے باوجود، آنند ہمیشہ ہنستے ہیں اور موت کا ذکر کرتے ہوئے بھی اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

آنند بے بسی سے بستر پر لیٹنے کی بجائے دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور انھیں خوشی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

راجیش کھنہ نے فلم ’خاموشی‘ اور ’سفر‘ میں جو جذبات کی تصویر کشی کی تھی وہ ’آنند‘ میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

فلم کی ایک اداکارہ سیما دیو نے فلم کے ایک سین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم میں میری شادی کی سالگرہ کا ایک سین تھا، راجیش کھنہ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’میں تجھے کیا آشیرواد دوں بہو۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری عمر آپ کو لگ جائے۔‘

’راجیش کھنہ نے یہ شاٹ اتنا اچھا دیا کہ میں رونے لگی۔‘

ہرشیکیش

،تصویر کا ذریعہHarper Collins

ہریشکیش مکھرجی نے یہ فلم ممبئی اور راج کپور کو وقف کی

ہریشکیش مکھرجی نے آنند کا ایسا کردار تخلیق کیا کہ وہ ہندی سنیما سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ انھوں نے یہ فلم ممبئی شہر کے لیے وقف کی تاہم انھوں نے یہ فلم راج کپور کے اعزاز میں بنائی تھی۔

ہریشکیش مکھرجی سے ان کی گہری دوستی تھی۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہ ایک دوسرے کو نہ دیکھیں۔ انھوں نے ایک ساتھ صرف ایک فلم ’نوکری‘ میں کام کیا جو زیادہ نہ چل سکی۔

گوتم چنتامنی اپنی کتاب ’راجیش کھنہ - ڈارک سٹار‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راج کپور اور ہریشکیش مکھرجی کی بہت پرانی دوستی تھی۔ ایک بیمار آدمی جو اپنی زندگی پوری طرح گزارتا ہے، فلم کا یہ مرکزی خیال ہریشکیش کے ذہن میں تب آیا جب راج کپور شدید بیمار ہوئے اور اس وقت ہریشکیش کو یقین تھا کہ شاید راج کپور زندہ نہیں بچیں گے۔‘

تاہم وہ آنند کے کردار کے بالکل برعکس موت کے خلاف جنگ جیتنے میں کامیاب رہے۔

آنند

،تصویر کا ذریعہHarper Collins

ہریشکیش پہلے کشور کمار کو ہیرو بنانا چاہتے تھے

کہانی لکھنے کے بعد بھی ہریشکیش مکھرجی کافی عرصے تک اس پر فلم نہیں بنا سکے۔ وجہ یہ تھی کہ کہانی میں رومانس نہیں تھا، اس لیے ڈسٹری بیوٹرز فلم کو لے کر زیادہ پرجوش نہیں تھے۔

پہلے یہ طے پایا تھا کہ آنند کا کردار کشور کمار ادا کریں گے لیکن بات نہ بنی۔ افواہ تھی کہ کشور کمار کے ساتھ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس کردار کے لیے ششی کپور پر غور کیا گیا لیکن ان کے پاس تاریخیں نہیں تھیں۔

ہریشکیش مکھرجی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میں خاموش بیٹھا تھا، ایک دن راجیش کھنہ آئے، انھوں نے آ کر کہا کہ رشی دا سنا ہے آپ ایک مضبوط کہانی پر فلم بنا رہے ہیں، میں صرف سننا چاہتا ہوں۔‘

میں نے راجیش سے کہا ’میں کہانی کسی کو نہیں بتاتا لیکن میں آپ کو ایک شرط پر بتا سکتا ہوں، آپ کو اپنی تمام تاریخیں ایک ساتھ دینی ہوں گی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’راجیش نے کہا کہ اگر مجھے کہانی پسند آئی تو میں کوئی بھی شرط مانوں گا۔ میں نے راجیش کو کہانی سنائی تو وہ فوراً راضی ہو گئے۔‘

راجیش کھنہ نے بمبئی میں ’آنند‘ کی فروخت کے جملہ حقوق اس فلم کے لیے اپنی فیس کے طور پر لیے۔ نتیجے کے طور پر، انھیں اس سے اپنی فیس سے زیادہ رقم ملی۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں دھرمیندر نے کہا کہ وہ ہریشکیش مکھرجی سے بہت ناراض ہوئے جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ کردار انھیں نہیں دیا گیا اور راجیش کھنہ کو دیا گیا۔

بعد میں ہریشکیش مکھرجی نے ’گڈی‘ اور ’چپکے چپکے‘ میں دھرمیندر کو کردار دے کر اس کی تلافی کی۔

راجیش

،تصویر کا ذریعہPenguin

بابو موشائی کے کردار کے لیے امیتابھ بچن کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

اب ڈاکٹر کے کردار کے لیے موزوں فنکار کی تلاش تھی۔

امیتابھ بچن کی سوانح عمری لکھنے والی سومیا بندیوپادھیائے نے ایک بار ہریشکیش مکھرجی سے پوچھا ’کیا آپ نے امیتابھ بچن کو پہلی بار میں ہی اس کردار کے لیے پسند کیا؟‘

ہریشکیش مکھرجی نے جواب دیا کہ ’ایسا نہیں تھا لیکن میں نے سوچا کہ وہ اس کردار کے لیے موزوں ہوں گے۔ میں نے منھ سے تو کچھ نہیں کہا لیکن انھیں بعد میں آنے کو کہا۔‘

’میں نے ’سات ہندوستانی‘ بھی دیکھی تھی لیکن مجھے ان میں ایسا کچھ خاص نظر نہیں آیا تھا۔ کم از کم میں نے محسوس نہیں کیا تھا لیکن آہستہ آہستہ میں انھیں پسند کرنے لگا۔ مجھے لگنے لگا کہ وہ بابو موشائی کے خاموش طبع کردار کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ لفظ بابو موشائی حقیقی زندگی سے لیا گیا ہے۔ راج کپور اکثر اپنے دوست ہریشکیش مکھرجی کو اس نام سے پکارتے تھے۔

امیتابھ

،تصویر کا ذریعہFILM HERITAGE FOUNDATION

’آنند نہیں مرے۔۔۔ آنند نہیں مرے‘

یہ وہ وقت تھا جب راجیش کھنہ اپنے ساتھ سکرین پر آنے والے ہر شخص پر حاوی تھے لیکن صرف دو فلموں پرانے امیتابھ بچن نے بھی سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

انھوں نے بھاسکر بنرجی کا کردار نبھایا، جسے آنند بیمار ہو کر پیار سے ’بابو موشائی‘ کہا کرتے تھے۔

’آنند‘ کا کلائمکس راجیش کھنہ کی زندگی کا سب سے بڑا لمحہ تھا۔ اس دوران آنند اپنی زندگی کے آخری لمحات گن رہے تھے۔

ایسے میں ڈاکٹر بنرجی کچھ ہومیوپیتھک دوائیں خریدنے باہر آتے ہیں اور جب وہ دوا لے کر واپس آئے تو آنند اس دنیا سے جا چکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب لاش کو چیختے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھ سے بات کرو۔‘

تبھی ٹیپ ریکارڈر پر آنند کی آواز ’بابو موشائی، زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اس کی کٹھ پتلی ہیں‘ گونجتی ہے۔

جیسے ہی یہ منظر ختم ہوتا ہے، سکرین پر موشائی اور ہال میں موجود سامعین کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔

امیتابھ بچن اپنی مخصوص آواز میں کہتے ہیں کہ ’آنند نہیں مرے۔۔۔ آنند نہیں مرے۔‘

اس سین کی شوٹنگ کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے کہا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخری سین کیسے کروں؟ میں نے محمود بھائی سے مدد مانگی جن کے گھر میں ان دنوں رہ رہا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ ’بس سمجھ لو کہ راجیش کھنہ واقعی مر چکے ہیں۔‘

آنند

،تصویر کا ذریعہHarper Collins

راجیش کھنہ کی موت پر امیتابھ کا غصہ

سومیا بندیوپادھیائے امیتابھ بچن کی سوانح عمری میں لکھتی ہیں کہ ’جس دن راجیش کھنہ کی موت کا شوٹ ہونا تھا، اس سے چند دن پہلے امیتابھ نے ہریشکیش سے اپنے مکالموں پر زور دینا شروع کر دیا۔

ہریشکیش انھیں سمجھاتے کہ ’تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو؟ لیکن امیتابھ پھر بھی ڈٹے رہے۔

آخر کار رشی دا کو کہنا پڑا کہ ’اگر فنکار زیادہ تیار ہو کر آتا ہے تو ہدایت کار کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر آپ غلطی کرتے ہیں، تو اسے ٹھیک کرنا زیادہ مشکل ہو گا تاہم سین سے پہلے امیتابھ نے ریہرسل کی لیکن رشی دا کو یہ پسند نہیں آیا۔‘

انھوں نے امیتابھ سے کہا کہ ’میں یہ نہیں چاہتا۔ مرے ہوئے راجیش کے ساتھ رونے سے کام نہیں چلے گا۔ تم غصے میں آ جاؤ۔ غصے میں جو کچھ کہنا چاہو، کہہ دو۔‘

اور پھر ہدایت کار کے کہنے پر امیتابھ نے اس سین میں کافی غصے کا اظہار کیا۔

आनंद फ़िल्म का पोस्टर

،تصویر کا ذریعہNN Sippi

راجیش کھنہ کولمبو‘ کے ساتھ کام نہ کرنے کا مشورہ

جب ’آنند‘ ریلیز ہوئی تو راجیش کھنہ اس فلم کو لے کر بہت پرجوش تھے۔ وہ یہ فلم پورے میڈیا کو دکھانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وکٹوریہ ٹرمینس کے قریب ایکسلیئر تھیٹر میں فلم کا خصوصی شو منعقد کیا گیا۔

جیسے ہی فلم ختم ہوئی مشہور صحافی دیویانی چوبل، سدھیر گڈگل کے پاس آئیں اور انھیں کھانا چھوڑ کر باہر کھڑی کار کے قریب آنے کو کہا۔

سدھیر جب نیچے پہنچے تو دیکھا کہ راجیش کھنہ کی گاڑی وہاں کھڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد دیویانی راجیش کھنہ کے ساتھ وہاں آئیں۔

یاسر عثمان لکھتے ہیں کہ ’جیسے ہی وہ گاڑی کے اندر گئے، راجیش کھنہ نے دیویانی سے پوچھا کیا آپ کو فلم پسند آئی؟ دیویانی نے چند لمحے ان کی طرف دیکھا اور کہا ’اس لمبو کے ساتھ دوبارہ کبھی کام نہ کرنا، وہ آپ کی چھٹی کروا دے گا۔‘

واضح تھا کہ لمبو سے ان کی مراد امیتابھ بچن تھے۔ یہ سن کر راجیش کھنہ قدرے حیران ہوئے، پھر انھوں نے دیویانی سے پوچھا کہ کیا ہوا، اس لمبو میں ایسا کیا ہے؟ دیویانی نے اس پر کہا کہ ’آپ نے اس کی آنکھیں دیکھی ہیں؟ میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ اس کے ساتھ کبھی کام نہ کرنا۔‘

راجیش ہنسے اور ظاہر ہے انھوں نے دیویانی کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ویسے بھی آنند سے پہلے راجیش کی نظر میں امیتابھ بچن کی اہمیت اتنی کم تھی کہ انھوں نے ہدایت کار مکھرجی سے ان کا نام پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

राजेश खन्ना

،تصویر کا ذریعہHarper Collins

فلم فیئر کے علاوہ ’آنند‘ کو نیشنل ایوارڈ بھی ملا

فلم آنند کا ہر گانا کلاسک سمجھا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس فلم میں کشور کمار نے کوئی گانا نہیں گایا۔

اس وقت تک راجیش کھنہ کے تقریباً تمام گانے کشور کمار نے گائے تھے۔ میوزک کمپوزر سالل چودھری کا خیال تھا کہ آنند کے کردار کو دیکھتے ہوئے مکیش کی آواز ان کے لیے زیادہ موزوں ہو گی۔

ان کا اندازہ درست ثابت ہوا اور مکیش نے ’کہیں دور جب دن ڈھل جائے‘ گا کر ان بولوں میں جان ڈال دی۔

’آنند‘ کو اس سال فلم فیئر میں زیادہ تر ایوارڈ ملے۔ راجیش کھنہ کو بہترین اداکار اور امیتابھ بچن کو بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ’آنند‘ کے ہی حصے میں آیا۔

ہرشیکیش مکھرجی کو بہترین کہانی اور ایڈیٹنگ کا ایوارڈ ملا۔ اسی سال ’آنند‘ کو بہترین ہندی فلم کا نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔

’مڈل سنیما‘ کی نمائندگی

فلم 'آنند' کی شوٹنگ صرف ایک ماہ میں ہوئی، وہ بھی بہت کم بجٹ میں لیکن یہ فلم اس میں کام کرنے والے ہر فرد کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔

یہ سال کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی۔

ستر کی دہائی میں ہندی سنیما میں ایک تحریک چلی جس کا نام ’مڈل سینما‘ رکھا گیا۔ یہ مرکزی دھارے اور متوازی سنیما کے درمیان ایک سنیما تھا۔

ہریشکیش مکھرجی ایسی فلموں کے سب سے بڑے حامی تھے، جن میں تفریح کے ساتھ ساتھ اس وقت کے سماجی مسائل کو بھی پیش کیا جاتا تھا۔

آنند ایسی فلموں کی نمائندگی کرنے والی فلم تھی۔ آنند کی سب سے بڑی کہانی اس فلم کے ایک ڈائیلاگ سے دی جا سکتی ہے ’غم اپنے لیے رکھو، خوشی سب کے لیے۔‘