محرم: روہڑی کے تاریخی جلوس میں گھٹن اور بھگدڑ سے چھ عزادار ہلاک، کم از کم 40 زخمی

،تصویر کا ذریعہAPP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں شمالی سندھ کے قدیم شہر روہڑی میں ماتمی جلوس کے دوران گرمی، گھٹن اور بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں کم از کم چھ عزادار ہلاک جبکہ 40 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں شیعہ زائرین نے ضریح اقدس کو بوسہ دینے کی کوشش کی اور تنگ راستے کی وجہ سے گھٹن کا ماحول پیدا ہوا اور بھگڈر مچی۔
مقامی پولیس اور ایدھی رضاکاروں نے اب تک چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ شیعہ علما کاؤنسل کے مطابق ہلاک ہونے والے عزاداروں میں تین کا تعلق گھوٹکی، دو کا نوشہرو فیروز جبکہ ایک عزادار کا تعلق سکھر سے ہے۔
روہڑی شہر دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے اور سکھر کا معروف ریلوے سٹیشن بھی شہر کے اسی حصے میں موجود ہے۔ آٹھ محرم کو یہاں شمع گل کا ماتم ہوتا ہے۔
روہڑی پولیس کے مطابق ضریح اقدس کے جلوس کے دوران سانس رکنےسے کئی عزادار بےہوش ہو گئے، جن میں سے چھ کے قریب افراد بعدازاں ہلاک ہوئے۔ تمام متاثرین کو روہڑی اور سکھر کے ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔
صحافی اور مصنف ممتاز بخاری، جو روہڑی کے رہائشی ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ روہڑی سے بڑا ماتمی جلوس آٹھ محرم کو امام بارگاہ کربلا معلی سے برآمد ہوتا ہے اور شب عاشور کربلا میں جس طرح امام حسین نے شمع گل کی تھی، اس طرح شمع گل کرکے ماتم کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ لگ بھگ 345 سال سے جاری ہے۔
ممتاز بخاری کے بقول روہڑی شہر پہاڑی پر بنا ہوا ہے اس لیے اس کی گلیاں چھوٹی اور تنگ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے آٹھ محرم سے ہی چند عزاداروں کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات آ رہی تھیں تاہم نو محرم کو عزاداروں کی تعداد بڑھنے کے باعث اس میں شدت آ گئی۔

مقامی صحافی جان محمد مہر نے بتایا کہ اندھیرے اور حبس میں جب لوگ بڑی تعداد میں بے ہوش ہوئے تو ایک خوف کی فضا پھیلی جس کی وجہ سے جلسوس میں کچھ دیر کے لیے بھگدڑ مچ گئی لیکن انتظامیہ نے اس کو جلد ہی کنٹرول کر لیا۔ جان محمد مہر کے مطابق جلوس میں بڑی تعداد میں عزاداروں کی موجودگی کی وجہ سے ایمبولینس پہنچنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ شمالی سندھ میں سب سے بڑا ماتمی اجتماع روہڑی میں ہوتا ہے جس میں نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب سے بھی لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس جلوس میں شرکت کے لیے لوگ ٹرینوں کی چھتوں پر سوار ہو کر بھی پہنچتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتحال کنٹرول میں ہے۔










