آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرویز الٰہی: شریف خاندان کے ساتھ دیرینہ اختلافات سے دوسری بار وزارت اعلیٰ تک کا سفر‘
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’گجرات کے چوہدری‘ ایک مرتبہ پھر صوبہ پنجاب کے حکمران بن گئے ہیں۔
منگل کی شب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں چوہدری پرویز الٰہی دوسری مرتبہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیرِاعلٰی مقرر ہو ئے ہیں، تاہم اس مرتبہ وہ اپنی جماعت کے نہیں بلکہ اتحادی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار تھے۔
پہلی مرتبہ سنہ 2002 میں جب وہ پنجاب کے وزیرِاعلٰی بنے تو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ق کے نام سے قائم کردہ اُن کی سیاسی جماعت نے پنجاب میں 200 سے زائد صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی تھیں۔
16 برس بعد سنہ 2018 کے عام انتخابات میں اُن کی جماعت پنجاب اسمبلی میں صرف دس نشستیں جیت پائی۔ اس کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں سپیکر کا عہدہ لینے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ اُن کی دس نشستوں کی حمایت کے بغیر تحریکِ انصاف پنجاب میں حکومت نہ بنا پاتی۔
تاہم محض چار سال کے اندر سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی تحریکِ انصاف کے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار بن گئے مگر اس سے قبل گذشتہ چند ماہ کے دوران پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تھا۔
اس سیاسی بحران کے پس منظر میں بھی چوہدری پرویز الٰہی مرکزی حیثیت میں نظر آئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گجرات کے بااثر چوہدری خاندان سے تعلق رکھنے والے چوہدری پرویز الٰہی یوں تو صرف دو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں تاہم ان کی اس وزارت کو حاصل کرنے کی خواہش لگ بھگ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اُن کی صوبائی یا قومی سیاست میں آمد پرانی ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی نے پہلی مرتبہ کب پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کے لیے کوششیں کیں اور اس کے بعد ان کی سیاست نے کیا رُخ اختیار کیا؟ یہ جاننے کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کے سیاسی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہ بلدیاتی نظام کی پیداوار ہیں‘
چوہدری پرویز الٰہی نے عملی سیاست میں سفر کا آغاز بلدیاتی سطح سے کیا۔ صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ 'پرویز الٰہی بنیادی طور پر ملک کے بلدیاتی نظام کی پیداوار ہیں۔' ان کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ پرویز الٰہی آج بھی بلدیاتی نظام کی سیاست پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
وہ سنہ 1983 میں گجرات کی ضلع کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دو ہی برس بعد انھوں نے پنجاب کی صوبائی سیاست میں قدم رکھا۔ یہ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کا دورِ حکومت تھا۔
جب سنہ 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے تو پرویز الٰہی اُن کی کابینہ کا حصہ بنے۔ انھیں بلدیات اور دیہی ترقی کی وزارت سونپی گئی۔
سلمان غنی بتاتے ہیں کہ کچھ ہی عرصہ بعد پرویز الٰہی کے اس وقت کے وزیرِاعلٰی نواز شریف کے ساتھ اختلافات ہو گئے۔ ’اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چوہدری پرویز الٰہی خود کو پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کا امیدوار تصور کرتے تھے۔‘
وزیرِاعلٰی پنجاب نواز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد
صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سنہ 1977 کی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بن کر کیا تھا۔ پھر وہ بلدیاتی سیاست میں آئے۔ اس کے بعد صوبائی وزیر بنے اور ایک ہی برس بعد ان کے وزیرِاعلٰی نواز شریف سے اختلافات ہو گئے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق سنہ 1986 میں چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں نواز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی بھی کوشش کی جو ناکام ہوئی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق اپنے حمایت یافتہ وزیرِاعلٰی پنجاب کی مدد کو پہنچے تھے اور انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’نواز شریف کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہو گی۔‘
تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخی کافی بڑھ گئی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے ایک کتابچہ بھی چھاپہ تھا جس میں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
’پرویز الٰہی صاحب اس وقت جونیجو (سابق وزیرِاعظم محمد خان جونیجو) گروپ کا حصہ تھے اور انھیں وزیرِاعظم کی حمایت حاصل تھی۔ اس وقت کے وفاقی وزیر یوسف رضا گیلانی خاص طور پر لاہور آئے تھے اور پرویز الٰہی سے ملے تھے۔‘
نواز شریف اور مسلم لیگ کے ساتھ طویل سفر کا آغاز
ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق نے سنہ 1988 میں مرکز میں محمد خان جونیجو کی حکومت ختم کر دی۔ تاہم پنجاب میں نواز شریف کو برقرار رکھا۔ جنرل ضیاالحق کی طیارے کے حادثے میں موت کے بعد سنہ 1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے۔
اس میں ایک مرتبہ پھر نواز شریف پنجاب کے وزیرِاعلٰی بن کر واپس آ گئے۔ چوہدری پرویز الٰہی بھی اس اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ وہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ اور ان کے ساتھ دیگر جماعتوں کے سیاسی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
سلمان غنی کے مطابق جنرل ضیاالحق کی مدد سے نواز شریف اور چوہدری پرویز الٰہی میں معاملات طے پا گئے اور اُس کے بعد پرویز الٰہی نواز شریف کے ساتھ چلتے رہے۔ وہ سنہ 1990 اور چوتھی مرتبہ سنہ 1993 میں صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 1993 کے دورِ حکومت میں انھیں جیل بھی جانا پڑا اور وہ اسمبلی کے اندر شہباز شریف کی غیر موجودگی میں قائم مقام قائدِ حزبِ اختلاف کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
’لیکن سنہ 1986 والی دراڑ کبھی بھر نہیں پائی‘
سہیل وڑائچ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی اور شریف خاندان کے درمیان معاملات طے تو پا گئے ’لیکن کبھی بھی ان کے درمیان سنہ 1986 میں آنے والی وہ دراڑ نہیں بھر پائی جو اس وقت بنی تھی جب چوہدری پرویز الٰہی کے نواز شریف کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔‘
سہیل وڑائچ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو مسلم لیگ کی جانب سے اس نظریے کے تحت سنہ 1996 میں اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست دی گئی تھی کہ آئندہ ان کو قائدِ ایوان بھی بنایا جا سکتا ہے۔
نواز شریف نے انھیں پنجاب کا وزیرِاعلٰی بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا تاہم جب سنہ 1997 میں پاکستان مسلم لیگ انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو اس وعدے کے برعکس شہباز شریف کو پنجاب کا وزیراعلٰی بنا دیا گیا۔
تاہم پرویز الٰہی شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ نہیں بنے۔ انھیں پنجاب اسمبلی کا سپیکر بنایا گیا۔ چند ہی برس بعد پرویز الٰہی کو پہلی مرتبہ پنجاب کا وزیرِاعلٰی بننے کا موقع اس وقت ملا جب سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں انھوں نے اپنی علیحدہ جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) قائم کی۔
’دونوں نے ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دیا‘
سلمان غنی کے مطابق جب سنہ 1999 کے مارشل لا کے نتیجے میں نواز شریف کی حکومت چلی گئی اور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں شریف خاندان ملک چھوڑ کر چلا گیا تو چوہدری پرویز الٰہی کو پہلی مرتبہ پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کا موقع ملا۔
ابتدائی طور پر انھیں بھی جیل میں ڈالا گیا اور ان کے خلاف بھی مقدمات قائم کیے گئے تاہم بعد ازاں پرویز مشرف کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں چوہدری برادران نے علیحدہ جماعت بنانے کی بنیاد رکھی۔
اس جماعت میں سابق پاکستان مسلم لیگ کے چند رہنماؤں کے علاوہ دوسری جماعتوں سے آنے والے کئی سیاستدان بھی شامل ہو گئے۔ ق لیگ نے سنہ 2002 کے انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم کی۔
’یوں پنجاب میں کامیابی کے بعد پرویز الٰہی ایک واضح برتری کے ساتھ پنجاب کے وزیرِاعلٰی منتخب ہو گئے۔ اور پھر اگلے پانچ برس وہ انتہائی مضبوط وزیرِاعلٰی ثابت ہوئے۔‘
تاہم شریف برادران اور چوہدری برادران اس پر ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ’دونوں نے ہی ایک دوسرے کو دھوکہ دیا۔‘
اُن کے خیال میں شریف برادران جماعت کو چھوڑ کر چلے گئے اور جانے کے فیصلے پر چوہدری برادران کو اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔ اور دوسری طرف چوہدری برادران نے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر جماعت کو توڑنے کی کوشش کی اور نئی جماعت بنا لی۔
’پرویز الٰہی ایک عوامی، مقبول لیڈر نہیں بن پائے‘
سلمان غنی کے مطابق پرویز الٰہی نے وزارتِ اعلٰی کے پانچ برسوں میں صوبے پر اپنی گرفت بہت مضبوط رکھی۔ انھوں نے صوبے میں ترقیاتی کام بھی کروائے اور اپنے اثر و رسوخ کو بھی بڑھایا۔
تاہم تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور اثر و رسوخ بڑھانے کے باوجود ’چوہدری پرویز الٰہی ایک عوامی یا مقبول لیڈر نہیں بن پائے۔‘
سہیل وڑائچ کے خیال میں پرویز الٰہی اپنی جماعت ق لیگ کو ایک قومی جماعت بھی نہیں بنا پائے اور نہ ہی اس کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ ’اس کی بنیادی وجہ یہ تھی اس جماعت میں شامل ہونے والے لوگوں کی اکثریت دوسری جماعتوں سے تھی۔‘
یہی وجہ تھی کہ جب سنہ 2007 میں سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو، سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی واپسی ہوئی اور سابق آرمی چیف جنرل مشرف کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تو ق لیگ میں شامل لوگوں کی واپسی کا آغاز ہو گیا۔
سنہ 2008 میں آئندہ برس عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی مرکز میں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔
’وہ ایک مضبوط وزیرِاعلیٰ ہوں گے‘
سنہ 2008 میں قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے بعد کچھ عرصہ تک چوہدری پرویز الٰہی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہے تاہم بعد ازاں انھوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ سنہ 2011 میں پی پی پی کی حکومت میں اُن کے لیے ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔
اس سے قبل وہ وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کے ممبر بھی رہے۔ وہ آئندہ انتخابات میں بھی قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تاہم اس وقت مرکز میں حکومت ن لیگ کی قائم ہو گئی۔
حالیہ عام انتخابات میں سنہ 2018 میں چوہدری پرویز الٰہی قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی کامیاب ہوئے۔ انھوں صوبائی اسمبلی کے لیے قومی اسمبلی میں جیتی ہوئی نشستیں چھوڑ دیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی اس وقت بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ اتحاد میں پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے خواہشمند تھے تاہم سابق وزیرِاعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیرِ اعلیٰ مقرر کر دیا۔
چوہدری پرویز الٰہی کو سپیکر کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑا۔ لگ بھگ چار برس لگے تاہم وہ ایک مرتبہ پھر وزیرِاعلیٰ بننے کی اپنی خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
سلمان غنی کے مطابق ’وہ ایک مضبوط وزیرِاعلیٰ ثابت ہوں گے اور ایک مرتبہ پھر پنجاب پر اپنی سیاسی گرفت کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
کیا پرویز الٰہی پی ٹی آئی کو فائدہ یا ن لیگ کو سیاسی نقصان پہنچائیں گے؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ق لیگ کے ساتھ حالیہ سیاسی اتحاد سے قبل چوہدری برادران اور خاص طور پر چوہدری پرویز الٰہی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
تاہم اب وہ پی ٹی آئی کے وزیرِاعلیٰ ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ ان کی اپنی جماعت موجود ہے اور وہ پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ کے طور پر پرویز الٰہی اپنی اور اپنی جماعت کی پوزیشن کو بہتر بنائیں گے۔
سلمان غنی کے مطابق ’وزیر اعلیٰ پنجاب کافی طاقتور عہدہ ہے۔ اس کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی انھی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کریں گے۔ آئندہ انتخابات میں اپنی نشستیں بڑھانے کی کوشش کریں گے۔‘
اُن کے خیال میں اس سے پاکستان تحریکِ انصاف کو پنجاب میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ تاہم سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ پرویز الٰہی مرکز میں وزیراعظم شہباز شریف سے اختلافات نہیں چاہیں گے۔
’وہ اپنی سیاست اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ اور سیاست میں دشمنیاں پالنے کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے وہ ن لیگ کے ساتھ بھی بگاڑ کر چلنا نہیں چاہیں گے۔‘
سہیل وڑائچ کے خیال میں چوہدری پرویز الٰہی کے پاس وزیرِاعلیٰ کے طور پر وقت ہی بہت محدود ہو گا جس میں وہ ن لیگ کو کوئی زیادہ سیاسی نقصان یا پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچا پائیں۔