ریکوڈک منصوبے کا باقاعدہ آغاز 14 اگست سے: ’بلوچستان کو فوائد کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم، شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز 14 اگست سے ہوگا اور یہ منصوبہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے اس خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری آرہی ہے۔
یہ بات انھوں نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ریکوڈک کو چلانے کے لیے معاہدہ کرنے والی کینیڈین کمپنی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مارک برسٹو کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔
مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ خفیہ نہیں بلکہ شفاف ہے اور یہ معاہدہ کمپنی اور پاکستان کے درمیان ففٹی ففٹی کی بنیاد پر ہے۔
نواب اسلم رئیسانی کے دور میں ٹھیتیان کاپر کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے معاہدے کی منسوخی کے بعد وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کمپنی کے دو شراکت داروں میں سے بیرک گولڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ یہ پہلی پریس کانفرنس تھی۔
اس پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں تھی وہ بے نظیر سکیورٹی کی تھی جو کہ پاکستان فوج کے ہاتھ میں تھی۔
طویل عرصے سے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایونٹس کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کی یہ رائے تھی کہ سکیورٹی اتنی زیادہ تھی جو کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں سویلین صدور اور وزرائےاعظم کے آمد کے موقع پر بھی نظر نہیں آتی رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے کیا کہا؟
وزیر اعلیٰ نے اس پریس کانفرنس میں جو نئی باتیں بتائیں ان میں سے ایک منصوبے پر کام کے آغاز کی تاریخ کے حوالے سے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 14اگست جو کہ یوم پاکستان بھی ہے پر ریکوڈک پر کام کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مارک برسٹو کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ آج ہمارے لیے ایک تاریخی دن ہے کیونکہ ایک ایسے منصوبے پر کام ہورہا ہے جس کا ہمارا تقدیر بدلنے میں ایک اہم کردار ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مارک برسٹو یہاں آئے ہیں اور ان کو باربار آنا چائیے کیونکہ ان کے آنے سے دوسرے سرمایہ کار بھی آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’بیرک گولڈ کی آمد بلوچستان سمیت ملک بھر میں سرمایہ کاری کا گیٹ وے ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں ایک غلط فہمی تھی کی ماحول خراب ہے اور یہاں کے لوگ کام نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن بیرک گولڈ کے آنے سے یہ تاثر غلط ثابت ہوگا'۔
وزیر اعلیٰ کا دعویٰ تھا کہ بلوچستان سکیورٹی کے ماحول سے نکل کر سرمایہ کاری کے ماحول میں داخل ہورہا ہے ۔
وزیراعلیٰ نے ریکوڈک کے نئے معاہدے کے کیا کیا فوائد گنوائے؟
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بیرک گولڈ ریکوڈک میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو کوئی سرمایہ کاری کے بغیر 25فیصد حصہ ملے گا جبکہ مقامی آبادی کے فلاح بہبود کے لیے بھی کام ہوگا۔
’مقامی آبادی کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے کمپنی باہر سے اپنے ماہرین کو لائے گی اور وہی ہی اس کی منصوبہ بندی کریں گے۔‘
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ منصوبے سے بلوچستان کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی جبکہ 7500 افراد کو روزگار ملے گا۔
انھوں نے کہا کہ 'یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملازمتیں مقامی لوگوں کو دی جائیں گی اور تربیت یافتہ نہ ہونے کی صورت میں مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے گی ۔کمپنی اپنی ضرورت کے مطابق یہاں کے لوگوں کو تربیت دینے کے لیے بیرونی ممالک میں اپنے دیگر پراجیکٹس میں لے جاکر تربیت دےگی'۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرک گولڈ کے آنے سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے راستے بھی کھل جائیں گے کیونکہ یہاں معدنیات کے وسائل زیادہ ہیں جن میں سرمایہ کاری سے بلوچستان اور اس کے لوگوں کو فوائد ملیں گے ۔

بیرک گولڈ کے سربراہ نے کیا کہا؟
مارک برسٹوکا کہنا تھا کہ جب ہم بلوچستان اور پاکستان کے بارے میں پڑھتے اور دیکھتے ہیں تو صحیح تصویر ہمارے سامنے نہیں آتی ہے لیکن ہمارا یہان زبردست انداز سے استقبال کیا گیا اور اسی طرح جب وہ ضلع چاغی کے علاقے ریکوڈک گئے تو وہاں بھی ان کا بھرپور انداز سے استقبال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں بلوچستان صرف بینیفشری نہیں بلکہ وہ اس میں وہ شراکت دار ہے۔
’یہ حقیقی شراکت داری کا ایک معاہدہ ہے۔ بلوچستان کے جو بھی فوائد ہوں گے وہ اسے فوری طور پر ملیں گے اور اس کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کو ماضی میں فائدہ نہیں ملا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ بلوچستان کو خدا نے یہاں کے لوگوں کو جو وسائل دیئے ہیں ان میں سرمایہ کاری کرکے ان کو یہاں کے لوگوں کے لیے فائدہ مند بنائیں'۔
مارک برسٹو نے کہا کہ ہمارا زیادہ تر کام ترقی پذیر ممالک میں ہوا ہے اور ہمیں ایسے ممالک میں کمیونیٹیز کے جو مسائل ہیں ہم ان کو بہتر انداز سے سمجھتے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں پیر کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں مارک برسٹو نے کہا کہ پاکستانی حکومت ریکوڈک کے معاملے پر نہ صرف پارلیمنٹ سے منظوری لے بلکہ اس منصوبے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل بھی دائر کریں۔
انھوں نے کہا کہ اس منصوبے پر ابتدائی طور پر سات ارب ڈالر خرچ ہوں گے جس میں آدھی رقم ان کی کمپنی جبکہ باقی رقم وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ریکوڈک پاکستان میں یہ پانچواں بڑا منصوبہ ہے جس میں اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور اس سے پچھلی حکومت کے ساتھ اس معائدے سے متعلق مذاکرات ہوئے ہیں جس میں بنیادی چیزوں کے ساتھ ساتھ لیگل فریم ورک بھی طے کیا گیا ہے جس میں بین الاقوامی مصالحت بھی شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی حکومت اور کمپنی کے درمیان بنیادی فریم ورک کے مطابق حتمی معاہدوں پر کام کررہے ہیں اور دو سالوں کے دوران کمپنی فزیبلٹی سٹڈی پر نظر ثانی مکمل کرلے گا۔۔
مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سنہ2028 سے اپنی پیداوار شروع کر دے گا جس سے سالانہ چار ہزار ٹن تانبا سونا اور دیگر دھاتیں نکلنے کی امید ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبے سے مقامی افراد کو روز گار ملے گا جس میں نہ صرف غربت میں کمی واقع ہو گی بلکہ کمپنی کی طرف سے اس علاقے میں فلاح و بہبود کے کام بھی کرے گی تاہم اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو نے فلاح و بہبود کے کاموں پر صرف کی جانے والی رقم کا حجم نہیں بتایا۔
انھوں نے کہا کہ ریکوڈک کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 40 ملین ٹن کے حساب سے دھات کی پروسسنگ ہوگی۔۔اس پراسسنگ کو پانچ سال میں دوگنا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ہمیں فنڈ ریزنگ کی ضرورت نہیں اور ان کی کمپنی کی بیلنس شیٹ بہتر ہے۔
سی ای او مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی ہر چھ ماہ کے بعد مائننگ کی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کمپنی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی ہے جو سونے کی تلاش کے لیے مائننگ کرتی ہے۔
معاہدوں میں بلوچستان اور اس کے عوام کے حقوق دینے کو یقینی بنایا جارہا ہے، معاہدے پر قانونی عمل مکمل ہوجائے گا تو ریکوڈک کے علاقے میں صحت، تعلیم اور فوڈ سیکیورٹی ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے ترقیاتی پروگرام شروع کیئے جائیںگے اور اس منصوبے کی تعمیر کے دوران چار ہزار اور بعد میں تین ہزار افراد کو ملازمت کے مواقع ملیں گے۔
اس سے قبل مارک برسٹو نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ریکوڈک کے تانبے اور سونے کے ذخائر کی کان کنی اعلیٰ ترین عالمی معیار کے مطابق کی جائے گی جس سے پاکستان اور اس کے عوام کو طویل مدتی فائدہ حاصل ہو گا۔

کیا معاہدے سے متعلق کوئی چیز خفیہ نہیں؟
بلوچستان میں بعض قوم پرست جماعتوں کو ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے نئے معاہدے پر تحفظات ہیں اور ان کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کے معاہدے کو منظر عام پر لایا جائے ۔
معاہدے کے نقول حاصل کرنے کے لیے ایک شہری نے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ بلوچستان حکومت کو یہ ہدایت کی جائے کہ وہ انہیں معاہدے کی نقل فراہم کرے اور اس معاہدے کو منظر عام پر لایا جایا جائے۔
اس شہری کے وکیل شاہزیب ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست دہندہ نے معاہدے کے نقل کے لیے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے رجوع کیا تھا لیکن انہیں یہ کہہ کرمعاہدے کا نقل دینے سے انکار کیا تھا کہ یہ معاہدہ خفیہ ہے اس لیے اسے منظر عام پر نہں لایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ اب انھوں نے معاہدے کے نقل کے حصول کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے اور ان کی درخواست عدالت عالیہ میں زیر التوا ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان اور مارک برسٹو نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ یہ معاہدہ خفیہ ہے۔
ایک سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’اس میں کوئی چیز خفیہ نہیں ہے‘ اور اسے نہ صرف اسمبلی کے اراکین کے سامنے رکھا گیا بلکہ وہ اس کے حوالے سے یہاں کی سیاسی قیادت کے پاس بھی گئے اور انہیں اس سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں پورے بلوچستان کی نمائندگی ہے۔
مارک برسٹو نے کہا کہ ’یہ معاہدہ شفاف اورسادہ ہے اور یہ خفیہ اور پیچیدہ نہیں ہے۔‘
'اس معاہدے میں پچاس فیصد بیرک گولڈ کا ہو گا وہ سرمایہ کاری اورایکسپرٹیز بھی لائے گا'۔
انھوں نے بتایا کہ بقیہ پچاسفیصد سے 25فیصد بلوچستان کا ہوگا اور بقیہ پچیس فیصد حصیہ پاکستان کے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کا ہوگا جوکہ بقیہ پچاس فیصد سرمایہ کاری بھی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا جو پچیس فیصد ہے اس کو اس کے حوالے سے کوئی سرمایہ کاری نہیں کرنا پڑے گا بلکہ بلوچستان کے حصے کی سرمایہ کاری دوسرے شراکت دار اور حکومت پاکستان کرے گی۔
سکیورٹی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور مارک برسٹو نے کیا کہا؟
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے بلوچستان میں بعض عسکریت پسندوں کی اس دھمکی کے حوالے سے بھی سوال کیا کہ وہ بلوچستان میں کسی کمپنی کو سرمایہ کاری نہیں کرنے نہیں دیں گے۔
اس سوال پروزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگ مہمان نواز ہیں اور وہ مہمانوں کی سکیورٹی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
بیرک گولڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور پاکستان کی حکومتیں سکیورٹی فراہم کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک اچھے مقاصد کے لیے کام کریں گےاور نتائج دیں گے تو لوگ اس منصوبے کا احترام کریں گے۔
پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ماحول کیسا تھا؟
وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی سکیورٹی کو پاکستان فوج کے اہلکاروں نے سنبھال لیا تھا۔
کینیڈین کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کی وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں آمد کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اسٹاف کے چند لوگوں کے سوا اکثریت کو چھٹی دی گئی تھی ۔
وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں فوجی اہلکاروں کی گاڑیوں اور غیر ملکی کمپنی کے لوگوں کی استعمال کی گاڑیوں کے سوا کسی اور گاڑی کے داخلے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے ان صحافیوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا جو کہ موٹر سائیکلوں پر آئے تھے۔
نہ صرف وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اندر سکیورٹی پر فوج کے اہلکار تعینات تھے بلکہ سیکریٹریٹ میں چھتوں پر بھی فوج کے اہلکار کھڑے تھے۔
اس موقعے پر کوریج کے لیے آنے والے بعض سینیئر صحافیوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں بیرک گولڈ کے عہدیداروں کے لیے جو سکیورٹی فراہم کی گئی تھی ماضی میں اس کی نظیرکم ہی ملتی ہے۔
بیرک گولڈ کمپنی کے صدر مارک برسٹوکو روایتی بلوچی ٹوپی پہنائی گئی تھی اور وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے زیادہ پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔









