آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں طالبان کی حکومت: افغان شہریوں کو آخر پاکستانی ویزے کی اتنی ’چاہ‘ کیوں ہے؟
- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, صحافی، کابل
فہد (فرضی نام) کابل کے بڑے کاروباری مرکز گلبہار سینٹر سے نکل رہے تھے اور ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے ان سے افغان سیلولر فون کے فرنچائز کا پتہ پوچھا تو انھوں نے راستہ بتایا اور دریافت کیا کہ ’کیا آپ پاکستانی ہیں؟‘
میں نے کہا ’جی ہاں۔۔۔ کیوں؟‘ اچانک اُن کا رویہ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ ’آئیے میں آپ کے ساتھ ہی چلتا ہوں۔‘
میں اسے افغانستان اور پاکستان کی معمول کی مہمان نوازی سمجھا لیکن راستے میں جب انھوں نے پاکستان کے ویزے کی بات چھیڑی تو میں ان کا اپنے ساتھ چلنے کا مقصد فوراً سمجھ گیا۔
افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے یہ بالکل عام سی بات ہے کہ آپ افغانستان میں ہوں اور لوگوں کو معلوم ہو کہ آپ پاکستانی ہیں تو وہ آپ کے ساتھ دو طرح کے معاملات پر بات کرتے ہیں: وہ آپ سے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد پر سختی اور اپنے ہاں حکومت بدلنے پر شکوہ کرتے ہیں اور دوسرا بہت سے لوگ آپ کو ٹٹولتے ہیں کہ کیا آپ انھیں پاکستان کا ویزہ دلوا سکتے ہیں۔
گذشتہ سال 15 اگست کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اس کے بعد کابل میں جو بھی ملا، اس کی سب سے بڑی خواہش پاکستان کا ویزہ تھا۔
میرا خیال تھا کہ اب ایک برس بعد جو لوگ افغانستان سے نکلنا چاہ رہے تھے، اُن کو کچھ قرار آ چکا ہو گا اور باہر جانے کی خواہشں کچھ کم ہو گئی ہو گی، لیکن ایسا نہیں۔
گذشتہ ماہ یعنی جون کے آخر میں افغانستان کے اپنے مختصر دورے کے دوران کابل کے تھنک ٹینک ’سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ ریجنل سٹڈیز‘ اور پشاور کے ’انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز‘ کے مشترکہ سیمینار میں جب افغانستان کی چار، پانچ وزارتوں میں براجمان اہم ترین لوگوں کو سُنا تو پتہ چلا کہ ویزوں اور سرحد پار کرنے کا معاملہ لوگوں کا انفرادی نہیں بلکہ کابل میں موجود طالبان حکومت بھی ان کی مدد کے لیے میدان میں اُتری ہے۔
طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے سے بہت پہلے دوحہ مذاکرات کے دنوں سے ہی دنیا بھر میں جانے پہچانے شیر محمد عباس ستانکزے آج کل افغان حکومت میں نائب وزیر خارجہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویزوں اور مہاجرین کے معاملے پر انھوں نے ہمسایہ ممالک کو افغان شہریوں کے ساتھ نرمی کرنے کی استدعا کے ساتھ یہ بھی یاد دلایا کہ اگر آج پاکستان اور ایران محفوظ ہیں تو ان میں اُن ’افغان شہریوں کے خون‘ کا بڑا ہاتھ ہے جنھوں نے روس اور امریکہ کو افغانستان میں شکست دے کر پاکستان اور ایران کو محفوظ کیا، اس لیے افغانستان کے ان دو ہمسایہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرحد افغان شہریوں کے لیے کھول دیں۔
عباس ستانکزے کا کہنا تھا کہ اس وقت سرحدوں پر افغان شہریوں کے لیے بہت مشکلات ہیں۔
اسی تقریب میں موجود وزارت مہاجرین کے مشیر الحاج محمود شاہ بھی پاکستان سے افغان شہریوں کے لیے ویزہ شرائط ختم کرنے پر زور دیتے رہے اور اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم آپ کے بہت احسان مند ہیں لیکن ہمیں بارڈر اور ویزے میں مشکلات ہیں، دل بڑا کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران اور ترکی بھی بطور مسلمان ہمارے شہریوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔‘
پاکستان کے موجودہ سفیر منصور احمد خان سے جب افغان شہریوں اور حکام کے شکوؤں کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تاثر ٹھیک نہیں کہ ویزے مشکل سے دیے جا رہے ہیں۔‘
’ہم روزانہ کابل سے 1600 اور باقی شہروں میں قائم قونصل خانوں سے جو ویزے جاری کرتے ہیں وہ کل ملا کر 2000 یومیہ تک بنتے ہیں، جو کسی بھی ملک کی طرف سے افغان شہریوں کو جاری ہونے والے ویزوں سے زیادہ ہیں۔‘
’طالبان حکومت بننے کے بعد سے اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگ ویزہ لے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ ہیں، جو دنیا کے دیگر ممالک جانے کے لیے پاکستان کو بطور ٹرانزٹ ملک استعمال کر رہے ہیں۔‘
افغان شہریوں کو پاکستان کا ویزہ انتہائی مہنگا یعنی ایک ہزار امریکی ڈالر میں کیوں پڑتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مقررہ ویزہ فیس آٹھ امریکی ڈالر ہے لیکن اگر کوئی غیر پاکستانی ان درخواست گزاروں سے ویزے کے نام پر غیر قانونی اضافی فیس یا کمیشن لیتا ہے تو اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ کابل شہر میں ایسے بہت سے ایجنٹس موجود ہیں، جو افغان شہریوں سے ویزے کے نام پر پیسے بٹورتے ہیں اور وہ اس کی شکایت کئی بار طالبان حکومت کو بھی کر چکے ہیں۔
زیادہ تر افغان چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے لیے ویزہے کی شرط ختم کر دے، اس پر منصورعلی خان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت پسندانہ مطالبہ نہیں کیونکہ دنیا کا کوئی ملک اور افغانستان کا کوئی بھی ہمسایہ کسی کو بغیر ویزے کے کیوں آنے دے گا؟ اس لیے پاکستان سے بھی ایسا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے۔
طورخم بارڈر پر ویزے جبکہ چمن سپین بولدک پر بغیر ویزے کے صرف تذکرے (افغان شناختی دستاویزات) پر آمدورفت کیوں ممکن ہے؟ اس پر منصورعلی خان کا کہنا تھا کہ طورخم واحد کراسنگ پوائنٹ ہے جہاں پر سنہ 2016 سے ویزہ چیکنگ کا میکنزم موجود ہے جبکہ باقی کسی بھی کراسنگ پوائنٹ پر بارڈر سٹرکچر دستیاب نہیں، اس لیے وہاں پر ویزے کے ذریعے آمد و رفت ممکن نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ویزہ چیکنک کا نظام نہ ہونے کے باعث سپین بولدک پر ایک خصوصی نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قندھار اور ہلمند کے لوگوں کو افغان شناختی دستاویزات پر بھی پاکستان آنے کی اجازت ہے لیکن وہاں بھی جلد ہی طورخم کی طرز کا میکنزم کام شروع کر دے گا اور وہاں بھی پھر ویزے کے ذریعے آمد و رفت ہو گی۔
کابل میں گذشتہ سال حکومت بدلنے کے بعد بہت سے صحافی ملک چھوڑ کر چلے گئے یا کچھ نے ’خاموش‘ رہنے کو ترجیح دی ہے تاہم جنھوں نے صحافت جاری رکھی، ان میں محمد خان ذھین بھی ہیں، جو گذشتہ چھ سال سے کابل میں صحافت کر رہے ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
ان سے جب سوال کیا گیا کہ زیادہ ترافغان پاکستان کا ویزہ کیوں لینا چاہتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان پر روس کی جارحیت سے پہلے جب ابھی حالات معمول پر تھے تو پاکستان کی سرحدیں کھلی ہوتی تھیں اور افغان بغیر ویزے کے آتے جاتے رہتے تھے۔
’روس نے حملہ کیا تو سب سے زیادہ لوگ پاکستان گئے اور پھر اس کے بعد جب دیکھا کہ پاکستان میں معیشت افغانستان سے بہتر ہے تو انھوں نے وہاں کاروبار شروع کر دیے۔ اسی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب رشتے داریاں مزید بڑھیں اور لوگوں نے تعلیم، صحت اور کاروبار کے میدان میں پاکستان کا رُخ کیا۔‘
’پاکستان جانے کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ اگر کسی اور ملک میں یہاں سے لوگ جاتے ہیں تو ان کے لیے وہاں پر لوگوں سے بات چیت کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں زبان کا مسئلہ بھی نہیں۔ افغان شہری پاکستان کے ماحول، کلچر اور زبان سے واقف ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ویزوں کی ڈیمانڈ بڑھنے کی بڑی وجہ افغانستان میں کچھ پابندیوں کا لگنا بھی ہے۔
’طالبان نے آتے ہی کچھ شعبوں پر پابندیاں لگائیں۔ لوگ مجبور تھے، جس کے لیے انھیں بڑی تعداد میں پاکستان کا رُخ کرنا پڑا اور ویزہ لینا پڑا، جس کی وجہ سے ایسا لگا جیسے ویزوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھ گئی۔‘
یہ بھی پڑھیے
محمد ذھین کی بتائی ہوئی وجوہات کے علاوہ بعض افغان کہتے ہیں کہ چونکہ ان کے لیے افغانستان سے کہیں بھی جانا صرف پاکستان کے ذریعے ہی زیادہ ممکن ہے، اس لیے وہ پاکستان جانے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ انھیں پاکستان جانے کی کوئی خواہش نہیں۔
افغان شہریوں کی بغیر ویزے پاکستان میں آمد و رفت کی آوازیں صرف افغانستان سے ہی نہیں اٹھتیں بلکہ پاکستان کے اندر سے بھی بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں، جن میں ایک توانا آواز رستم شاہ مہمند بھی ہیں۔
رستم شاہ مہمند افغانستان سے متصل صوبہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کے سیکریٹری اور افغانستان میں پاکستان کے سفیر بھی رہے ہیں اور وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو ویزوں کے معاملے پر افغان شہریوں کو مزید ناراض نہیں کرنا چاہیے اور انھیں صرف تذکرے (شناختی دستاویز) پر ہی سرحد پار کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
رستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ پاکستان کی بارڈر پالیسی کی بدولت نہ صرف تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے لوگ رشتے داریاں نبھانے میں بھی بہت مشکل محسوس کر رہے ہیں۔
اُن کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو 1951 کے سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت ہر اس افغان شہری کو شہریت دے دینی چاہیے جس نے پاکستان میں کوئی جرم کیے بغیر پانچ سال گزارے ہوں۔
’اس سے وہ افغان یہاں کاروبار کر سکیں گے، اپنے بچوں کو پڑھا سکیں گے اور اچھے شہری بن کر پاکستان ہی کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چالیس سال سے یہاں رہنے والے افغان شہریوں نے ویسے بھی اب واپس نہیں جانا تو کیوں نہ افغان مہاجرین کو شہریت دے دی جائے؟ ’اس سے خود پاکستان کی مشکلات کم ہوں گی اور افغانستان میں اس کے بارے میں اچھا تاثر قائم ہو گا۔‘
پاکستان ان افغانوں کو شہریت کیوں نہیں دے دیتا؟ اس کے جواب میں افغان امور کے ماہر ڈاکٹر فضل واحد کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کا معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا بعض لوگ اسے سمجھتے ہیں۔
’افغان عام نہیں بلکہ وہ خصوصی لوگ، یعنی مہاجر ہیں اور جو مہاجر ہوتا ہے اس کے لیے پھر الگ سے قانون ہے، جس کے ساتھ پھر اقوام متحدہ کے پروٹوکول بھی ہیں، 1945 کا بھی ایک ایکٹ ہے اور 1967 کا اقوام متحدہ کا ایک پروٹوکول بھی ہے۔‘
’پاکستان ان دونوں پروٹوکولز کا سگنیٹری نہیں، اس لیے یہ اس پر لاگو نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود وہ صرف انسانیت کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں افغانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ایسے میں اگر کسی افغان شہری نے سنہ 1979 سے پہلے شہریت کے لیے کوئی درخواست دی ہوئی ہوتی تو 1951 کے قانون کے تحت اس کو شہریت مل سکتی ہے لیکن 1974 اور خصوصاً 1979 کے بعد اب یہاں پر آنے والا ہر افغان مہاجر ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے 1951 کے ایکٹ کے تحت سٹیزن شپ نہیں دی جا سکتی تاہم پاکستان نے کبھی اس بنیاد پر اس سے انکار بھی نہیں کیا۔‘
’اس لیے اگر ابھی کوئی پاکستانی حکومت یا ریاست ان افغان شہریوں کو جو چالیس سال سے زائد یہاں گزار چکے ہوں یا جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہاں تعلیم حاصل کی اور پلے بڑھے، کو شہریت دے تو اسے متعلقہ قانون کو بدلنا ہو گا۔‘
ڈاکٹر فضل واحد نے یہ بھی کہا کہ ’بات ریکارڈ پر ہے کہ 1951 کے اس ایکٹ کے بننے سے لے کر افغانستان پر روسی حملے یعنی 1979 تک کسی افغان شہری نے پاکستانی شہریت کے لیے درخواست ہی نہیں دی کیونکہ انھیں کبھی ایسی ضرورت پڑی ہی نہیں تھی جیسی اب پڑی ہے بلکہ وہ تو بغیر کسی ویزہ اور فارمیلٹی کے پاکستان آتے جاتے رہتے تھے۔‘
’دوسری بات یہ کہ 1947 کے بعد پاکستان ان تمام معاہدوں کا پابند ہے جو انڈین برٹش گورنمنٹ نے افغانستان کے ساتھ کیے تھے۔ ان میں سب سے اہم ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ تھا جس کے خلاف پاکستان بننے کے بعد افغانستان کئی بار بین الاقوامی فورمز پر گیا لیکن وہاں اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ پاکستان خود بھی چاہتا ہے کہ یہاں مقیم افغانوں کو شہریت یا اس سے ذرا کم کوئی حیثیت دے لیکن وہ چاہتا ہے کہ افغان حکومت ڈیورنڈ لائن کے معاہدے پر ایک بار پھر دستخط کر لے اور اس کی تجدید کر دے کیونکہ اس معاہدے پر 1919 کے بعد دستخط نہیں ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو شہریت دینا انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ اس کے بدلے ڈیورنڈ لائن کے معاہدے پر ایک بار دستخط ہونے چاہیے۔