آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرویز مشرف کی پاکستان واپسی: وہ کون سی دوائی ہے جو سابق صدر کو پاکستان میں نہیں مل سکتی؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان میں یہ رائے عام ہے کہ سیاستدانوں سے لے کر جرنیل، جج اور بیوروکریٹس ملک سے باہر علاج کو ترجیح دیتے ہیں اور اکثر اس حوالے سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ یہی حکمران اور جرنیل اپنے دورِ اقتدار میں ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان میں ٹی وی سکرینوں سے لے کر سوشل میڈیا پر سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کی خبریں گرم ہیں۔ پرویز مشرف کو وطن واپس آنا چاہیے یا نہیں۔۔۔ اس حوالے سے پاکستانی فوج سے لے کر سیاستدانوں تک کے بیانات کے بعد ان کے خاندان کا موقف سامنے آیا ہے۔
پرویز مشرف کے خاندان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وطن واپسی کے حوالے سے خاندان کو اہم طبی، قانونی اور حفاظتی چیلنجز پر غور کرنا ہو گا اور سابق صدر کی متعلقہ دوا کی بلا تعطل فراہمی اور علاج سے متعلق انتظامات کی بھی ضرورت ہے جو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔
یاد رہے سابق صدر کی وطن واپسی کے حوالے سے گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ دبئی میں پرویز مشرف کی صحت کافی خراب ہے اور فوج کا موقف ہے کہ انھیں واپس پاکستان آ جانا چاہیے جس کے لیے خاندان سے رابطہ کیا گیا ہے۔
اس بیان کے بعد سابق وزیر اعظم اور موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے بانی نواز شریف (جو خود اس وقت علاج کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں) نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ پرویز مشرف سے ان کا کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں ہے اور اگر وہ پاکستان واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔
سینیٹ کے اجلاس میں بھی پرویز مشرف کی واپسی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا اور انھیں واپس لانے کے لیے ایئر ایمبولینس تیار کرنے کی خبریں بھی سامنے آئیں تھیں۔
تاہم پرویز مشرف کے خاندان کی جانب سے جاری بیان کے بعد بظاہر ان کی واپسی کے حوالے سے ہونے والی بحث دم توڑتی نظر آتی ہے مگر اب ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر یہ کون سی دوائی ہے جو پرویز مشرف کو پاکستان میں نہیں مل سکتی؟
پرویز مشرف کو کیا بیماری ہے؟
پرویز مشرف دبئی میں زیر علاج ہیں اور رواں مہینے سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی افواہیں گردش کرنے لگیں تھیں جن کی تردید کرتے ہوئے ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف ایک پیچیدہ بیماری امائلائڈوسس (Amyloidosis) سے متاثرہ ہیں اور ان کی صحتیابی ممکن نہیں کیونکہ اس بیماری میں اعضا ناکارہ ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کے محکمہ صحت (این ایچ ایس) کے مطابق ’امائلائڈوسس (Amyloidosis)‘ ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم میں پروٹین کی ایک قسم ’امیلائڈ (amyloid)‘ کے بڑھنے کے سبب ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پروٹین کی اضافی مقدار انسانی جسم کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے اور اعضا اپنا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ اس بیماری کا شکار مریضوں کا علاج کیموتھراپی یا دوسرے طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حالیہ بیان میں پرویز مشرف کے خاندان نے بتایا ہے کہ انھیں دی جانے والی دوا ’ڈاراٹمومب (Daratumumab)‘ کی بلا تعطل فراہمی ان کے علاج کے لیے ضروری ہے۔ ہم نے یہاں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ دوا کون سی ہے اور پاکستان میں کیوں دستیاب نہیں ہے۔
’ڈاراٹمومب Daratumumab‘ کیا ہے اور کس طرح استعمال کی جاتی ہے؟
ڈاراٹمومب جسے ڈرژیلکس Darzalex کے نام سے بھی فروخت کیا جاتا ہے، خون کے کینسر کی ایک قسم کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے ملٹیپل مائیلوما کہا جاتا ہے۔ ڈرژیلکس کیموتھراپی نہیں ہے، یہ ایک ٹارگٹڈ مونوکلونل اینٹی باڈی ہے جو کئی طریقوں سے ایک سے زیادہ مائیلوما کے بڑھنے کو سست یا روکنے میں مدد کرتی ہے۔
ایک طریقہ کار کے مطابق ڈرژیلکس مریض کے جسم کے متعدد مائیلوما خلیوں سے خود کو جوڑ لیتی ہے۔ دراصل ڈرژیلکس ایک قسم کی پروٹین سے جڑ جاتا ہے جو کہ ایک سے زیادہ مائیلوما سیلز کی سطح پر بہت زیادہ تعداد میں موجود ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ دیگر قسم کے خلیات، جیسے کہ سرخ خون کے خلیوں سے بھی جڑ سکتی ہے۔
اس طرح ڈرژیلکس متعدد مائیلوما خلیات کو براہ راست مار ڈالتی ہے یا مریض کے مدافعتی نظام کو انھیں تباہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ چونکہ ڈرژیلکس، پروٹین کو نشانہ بناتی ہے، اسی لیے اس دوران یہ سطح پر موجود پروٹین کے ساتھ دوسرے خلیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
یہ دوا پاکستان میں کیوں دستیاب نہیں؟
ابتدائی طور پر اس دوا کو ڈنمارک کی بائیو ٹیک کمپنی جینمیب (Genmab) نے بنانا شروع کیا مگر اب جینمیب اور جانسن اینڈ جانسن کی ذیلی کمپنی جانسن بائیو ٹیک مل کر اسے تیار کر رہی ہیں۔ اس کمپنی نے جینمیب سے اس دوائی کے عالمی سطح پر تجارتی حقوق حاصل کیے ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی ادوایات جو پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں (یا ایسی ادوایات جن کے پیٹنٹ کے کوئی مسائل ہوں یا جنھیں ادوایات کی کمپنیوں نے ابھی پاکستان میں لانچ نہ کیا ہو) یا جن کی قلت ہے یا جو ایسی بیماریوں کے لیے ہیں جو دنیا میں بہت کم مریضوں میں پائی جاتی ہیں، انھیں مریض خود بھی باہر سے منگوا سکتا ہے اور ہسپتال بھی درآمد کر سکتے ہیں اور اس کام کے لیے ڈریپ بہت کم وقت کے اندر اندر این او سی فراہم کرتا ہے۔
مریض یا ان کے خاندان کی جانب سے ڈریپ کی ویب سائٹ پر این او سی کے لیے اپلائی کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر اجازت نامہ جاری ہو جاتا ہے۔ اختر عباس نے بتایا کہ کچھ کیسز میں تو دفتر میں بیٹھے بیٹھے ہی انھیں این او سی مل جاتا ہے۔
نایاب بیماریاں یا ایسی بیماریاں جو دنیا میں اتنی عام نہیں، ان کے علاج میں استعمال ہونے والی ادوایات کو درآمد کرنا ڈسٹری بیوٹرز کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا نہیں اور اور کچھ ایسی ادوایات بھی ہیں جن کے لیے مخصوص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، یا جن کی مدتِ استعمال یا شیلف لائف بہت کم ہو، ان سب ادوایات کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر اندر این او سی کی سہولت موجود ہے۔
’پاکستان میں اس بیماری کا شکار غریب آدمی کیا کرے گا؟‘
سوشل میڈیا پر جہاں بیشتر افراد پرویز مشرف کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اکثر افراد یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ جب وہ پاکستان پر حکومت کر رہے تھے تو انھوں نے پاکستان میں غریبوں کے لیے ایسی سہولیات بنانے پر غور کیوں نہیں کیا؟ اور پاکستان میں اس بیماری کا شکار غریب آدمی کیا کرے گا؟
وہاب نے جب یہی سوال کیا تو سعد ملک نے انھیں جواب دیا کہ کیونکہ امائلائڈوسس ایک نایاب بیماری ہے اور ڈاکٹر ابھی تک اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔