سفیر اردو: انڈیا اور پاکستان دونوں کے اعلیٰ اعزاز حاصل کرنے والے دانشور گوپی چند نارنگ چل بسے

اردو کے ممتاز دانشور گوپی چند نارنگ بدھ کو امریکہ میں وفات پا گئے۔ ان کی عمر 91 برس تھی اور وہ شمالی کیرولائنا میں مقیم تھے۔

وہ اردو ادب کے منعقد کردہ اجلاسوں اور مباحثوں میں شرکت کے لیے پوری دنیا کا سفر کیا کرتے تھے اور انہیں اردو کا سفیر کہا جاتا تھا۔

وہ قیامِ پاکستان سے قبل پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر دُکی میں پیدا ہوئے۔ پروفیسر نارنگ کو اردو ادب سے محبت اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ انھوں نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز سینٹ سٹیفن کالج سے کیا۔ پروفیسر نارنگ نے دہلی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف وسکونسن، یونیورسٹی آف مینیسوٹا اور اوسلو یونیورسٹی میں پڑھایا۔

وہ اردو کے پہلے اسکالر تھے جنھیں ان کے خدمات کے اعتراف میں انڈیا کا اعلیٰ اعزاز پدم بھوشن اور پاکستان کا اعلیٰ سرکاری اعزاز ستارہ امتیاز دیا گیا۔

چند ماہ قبل تک وہ ساہتیہ اکادمی کے صدر تھے جو انڈیا کی 24 زبانوں میں ہندوستانی ادب کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

علمی و ادبی خدمات

اپنے علمی تجزیوں اور نظریات سے انھوں نے اردو ادب میں ادبی تنقید کو علم کی ایک مکمل شاخ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انھوں نے اردو کی 400 سالہ فکری اور تہذیبی تاریخ کو اپنی تحقیق اور تنقید کا موضوع بنایا۔

انھوں نے تقریباً 60 کتابیں تصنیف کیں۔ پروفیسرنارنگ کی بنیادی تصنیف ’اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب‘ کو اردو غزل کی ابتدا کا سراغ لگانے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔

ان کی تخلیقات ’ہندوستانی قصوں سے ماخوز اردو مثنویاں‘ اور ’ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری‘ نے نہ صرف اردو نثر اور شاعری کی باریکیوں کو بلکہ سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کو بھی سمجھنے میں ایک نئی راہ دکھائی۔ پروفیسر نارنگ نے اپنی پوری زندگی اردو کو راسخ العقیدہ اور فرقہ واریت کی قید سے نکالنے کے لیے وقف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ’زبان ایڈجسٹ کر لے گی اور زندہ رہے گی، دریا کی طرح جو اپنے کنارے بدلتا رہتا ہے۔‘

پروفیسر نارنگ نے تو اردو ادب پر کتابیں لکھیں ہی خود ان پر اور ان کی ادبی خدمات پر بھی کئی ادیبوں نے کتابیں تصنیف کی ہیں۔