ڈیوڈ میتھیوز: انیس اور اقبال کا ترجمہ کرنے والے اردو زبان کے ماہر ڈیوڈ میتھیوز وفات پا گئے

    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

لندن میں ایک انگریز نے ایشیائی لوگوں کی محفل میں اپنا ایک واقعہ سنایا کہ جب وہ مدراس گئے تو ہوٹل کے ملازم کو اردو میں چائے لانے کا کہا۔ اُس نے انگریزی میں جواب دیا 'آئی ڈونٹ سپیک ہِندی' (میں ہندی نہیں بولتا ہوں)۔ تو اس پر انگریز نے کہا 'میں تو اردو بول رہا ہوں!'

ملازم نے فوراً اردو میں جواب دیا 'اچھا اچھا، مجھے اردو غزل بہت اچھی لگتی ہے!'

یہ انگریز یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز کے لسانیات کے شعبے کے استاد اور اردو ادب پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز تھے۔ وہ رواں ماہ کے اوائل میں طویل بیماری کے بعد شمالی انگلینڈ کے شہر ڈاربی میں وفات پا گئے۔

ڈیوڈ میتھیوز 'ڈیمنشیا' کے عارضے میں مبتلا تھے اور اس کی وجہ سے طویل عرصے سے ڈاربی کے ایک اولڈ کیئر ہوم میں مقیم تھے۔ جہاں جب ان کی حالت بہتر ہوئی تھی تو وہ گھر واپس آ گئے تھے، لیکن اپنی رُوسی نژاد بیوی لُوڈمِیلا کے انتقال کے بعد حالت خراب ہونے کے بعد پھر سے کیئر ہوم منتقل کر دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی اردو کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیج جن سے ان کا ملنا جلنا رہا تھا، انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر میتھیوز نے آخری ایام دنیا سے الگ تھلگ گزارے، اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کی میت سوزی کی رسم 25 مارچ کو ڈاربی میں ادا کی جائے گی جس میں انتہائی قریبی لوگ شریک ہوں گے۔

اردو جنوبی ایشیا کی زبان ہے، انڈیا میں اب یہ ایک اقلیتی زبان ہے جہاں اس کی سرپرستی ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان ہے۔ تاہم اردو ادب کے ایک بڑے نقاد گوپی چند نارنگ کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اپنے وطن کے بعد لندن اردو کا سب سے بڑا مرکز ہے جس کے بعد ٹورونٹو کا نمبر آتا ہے۔

اور اسی لندن میں ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے 'لندن سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز' میں چالیس برس تک اردو پڑھائی ہے۔ ڈیوڈ نے کیمبرج یونیورسٹی سے لنگوئیسٹکس (لسانیات) میں تعلیم حاصل کی اور پھر سنہ 1965 میں سوآز (سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز) میں فونیٹکس پڑھانا شروع کیا، اور یہاں ان کی اردو میں دلچسپی بڑھ گئی۔

انھوں نے اردو پر عبور حاصل کیا اور ان کی گفتگو ایسی تھی جیسے کہ کوئی اہلِ زبان بول رہا ہو۔ اردو کے ساتھ ساتھ انھیں نے نیپالی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ لیکن اپنے شوق کی وجہ سے انھوں نے جنوبی ایشیا کی زبانیں بشمول نیپالی، بنگالی اور ہندی بھی سیکھی۔

ایک بار ڈیوڈ نے ایک ٹیلی ویژن چینل وینس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب میں کیمبرج یونیورسٹی میں سیرین زبانیں پڑھ رہا تھا تو اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ اگر آپ کو کئی زبانیں بیک وقت سیکھنی ہیں تو آپ اردو سیکھیں۔ اس سے آپ جنوبی ایشا کی زبانیں بھی سیکھ سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کی بھی۔‘

پروفیسر فتح ملک کی رائے

ڈیوڈ میتھیوز نے اقبال کی شاعری کے کچھ حصے کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا جس کی اردو ادب کے محقق، نقاد، پروفیسر فتح ملک کافی تعریف کرتے ہیں۔

پروفیسر فتح ملک کے مطابق یورپ میں پروفیسر رالف رسل کے بعد اردو ادب کا بڑا ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز تھے۔

رالف رسل لندن میں سوآز (سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز) میں اردو ادب کے پروفیسر رہے اور اردو ادب پر کافی مستند تحقیقی کام کیا۔

ان کی وفات سنہ 2008 میں ہوئی تھی۔ نظریاتی طور پر وہ کمیونسٹ تھے۔ وہ جنوبی ایشیا کے لوگوں اور زبان و ثقافت سے بہت محبت کرتے تھے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز اُنہی کے دور میں لیکچرار بھرتی ہوئے تھے۔

پروفیسر ملک کے مطابق ڈیوڈ میتھیوز کی موت اردو ادب اور انگریزی میں اردو زبان کو فروغ دینے والے حلقوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ 'انھوں نے اردو کی جدید شاعری اور کلاسیکل شاعری کے منتخب شاعروں کے کلام کے انگریزی میں ترجمے کیے۔'

افتخار عارف کی رائے

ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کے بارے میں اردو کے معروف شاعر اور نقاد افتخار عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کرسٹوفر شیکل اور شاہ رخ حسین کے ہمراہ اردو زبان اور ادب کی انگریزی زبان میں شریک مصنف کے طور پر تاریخ لکھی تھی جسے لندن میں اردو کے فروغ کے لیے بنائی گئی تنظیم 'اردو مرکز نے شائع کرایا تھا۔

افتخار عارف کے مطابق، اگرچہ ڈیوڈ کی گہرائی اور گیرائی والی تحقیق کم ہے لیکن انھوں نے اردو کے چند ادب پاروں کے انگریزی میں ترجمے کیے۔ جن میں اقبال کا کلام بھی شامل ہے۔

’وہ یورپی ہونے کے باوجود اردو گفتاری کے ماہر تھے، یعنی بول چال میں کوئی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہ انگریز ہیں۔‘

’ڈیوڈ کراچی یونیورسٹی کے اردو ادب کے شعبے کے سربراہ جمیل اختر خان کے پاس اکثر جایا کرتے تھے۔ کراچی میں وہ اردو اُتنی ہی روانی سے بولتے جتنی کہ کوئی بھی اہلِ زبان بول سکتا تھا۔

’کراچی میں وہ جب شلوار قمیض پہنتے اور اردو میں گفتگو کرتے تو کئی لوگ انھیں پٹھان سمجھتے۔‘

رضا علی عابدی کی رائے

بی بی سی اردو سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہنے والے معروف براڈکاسٹر رضا علی عابدی ڈیوڈ میتھیوز کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

ڈیوڈ میتھیوز نے رضا علی عابدی کی کتاب 'جہاز بھائی' کا انگریزی میں ترجمہ 'شِپ میٹ' (Ship Mate) کے نام سے کیا، جو تاحال شائع نہیں ہوا ہے۔

'ڈیوڈ نے جہاں شعرا اردو کے کئی منتخب اشعار کا اردو میں ترجمہ کیا وہیں انھیں نے چند ایک اردو نثروں کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔

جن میں ایک ترجمہ ابنِ انشاء کے لطیفوں کا بھی تھا۔ عابدی کہتے ہیں کہ 'اول تو غزلوں کا ترجمہ بھی بہت مشکل ہے، لیکن لطیفوں کا تو اُس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے وہ کمزور تھا۔'

یہ بھی پڑھیے

رضا علی بتاتے ہیں کہ ڈیوڈ میتھیوز کا اکثر پاکستان اور انڈیا جانا ہوتا رہتا تھا۔ 'ایک بار وہ دہلی میں کھانا کھا رہے تھے ملازم نے کہا آپ کی ہندی بہت سندر ہے۔ ڈیوڈ زبانوں کو انسانوں میں محبت بڑھانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ سمجھتے تھے۔'

ایک بار ان کی ایک نیپالی لڑکی سے دوستی ہو گئی۔ اُس کو مرعوب کرنے کے لیے انھوں نے نیپالی زبان نہ صرف سیکھی، اُس کا دل بھی جیتا، بلکہ نیپالی زبان سیکھنے کی کتاب بھی لکھ ڈالی جو آج بھی انگریزی بولنے والوں کے لیے نیپالی زبان سیکھنے کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔

ڈیوڈ میتھیوز نے لُوڈمِیلا سے شادی کی جو آخری وقت تک برقرار رہی کی۔ لُوڈمِیلا اصل میں یوکرین سے تھیں جو اُس زمانے میں سوویت یونین کا حصہ تھا۔

عابدی بتاتے ہیں کہ لُوڈمِیلا نے ڈیوڈ کے ساتھ رہتے ہوئے اتنی اردو سیکھ لی تھی کہ وہ ایک گانا گنگناتی تھیں: 'ہم تو اِک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے۔'

یاور عباس کی رائے

لندن میں مقیم انڈین نژاد اردو کے معروف براڈ کاسٹر اور دستاویزیی فلمیں بنانے والے یاور عباس کہتے ہیں کہ ڈیوڈ میتھیوز نہ صرف اردو، ہندی زبان کے ماہر تھے بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور کئی یورپی زبانیں بھی جانتے تھے۔ 'اور وہ یہ زبانیں بامحاورہ اور درست تلفظ کے ساتھ بول سکتے تھے۔'

یاور عباس کے مطابق ڈیوڈ میتھیوز نے اردو کے معروف شاعر میر انیس کے ایک مرثیے کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا جسے انھوں نے بہت اہتمام اور روایتی مشرقی ڈیزائین میں تیار کروا کر شائع کروایا تھا جس کے بہت کم نسخے تھے جو انھوں نے اپنے چند دوستوں میں تقسیم کیے تھے۔

عباس کے مطابق میر انیس کے اس طویل مرثیےِ کا آغاز اس مسدس سے ہوتا ہے:

جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

جلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نے

دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے

مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے

آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو

اٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو

The sun had run his journey o'er the night

Unveiled, the Dawn revealed her glorious face

The King who rides the heavens saw her light

And called his brave companions to their place

'The time has come at last; to God give praise

Arise! In fitting prayer your voices raise

یاور عباس کے مطابق ڈیوڈ اگرچہ میر انیس کی تمثیلات، منظر کشی اور تشبیہیں و استعارے انگریزی میں ترجمہ کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن میتھیوز نے انگریزی ترجمے میں ردیف قافیوں کا وہی میعار اور انداز برقرار رکھا جو کہ میر انیس کے اصل مرثیوں کا حُسن ہے۔

ڈیوڈ میتھیوز کی حسِ لطافت کے بارے میں یاور عباس کہتے ہیں کہ ڈیوڈ نے کیمبرج یونیورسٹی میں اپنے زمانہِ طالبِ علمی کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک پاکستانی طالبِ علم نے جو ان کا دوست تھا، اُس نے کہا کہ "He was living in Sin"۔ ڈیوڈ سمجھا کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں ہم جنس پرستوں کے بارے میں بات کر رہا ہے۔

ان دونوں کی بحث طول پکڑ گئی اور گفتگو کرتے ہوئے یہ دونوں پاکستانی دوست کے کمرے میں چلے گئے۔

'اگرچہ یہ سب کچھ بے ضرر تھا، لیکن وہ طالبِ علم ڈیوڈ کو اصل میں یہ بتانا چا رہا تھا کہ اس کا تعلق پاکستان کے صوبے سندھ سے تھا، نہ کے یہ کہ وہ 'سِن' یعنی گناہ کے درمیان رہ رہا ہے، اور وہ یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ آیا اُس زمانے میں ہم جنس پرستوں کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کیا کیمبرج یونیورسٹی کے بارے میں تھی!

ورلڈ کیٹ ویب سائیٹ کے مطابق، ڈیوڈ میتھیوز نے چار زبانوں میں محتلف نوعیت کی 70 تصنیفات چھوڑی ہیں جن میں چند کتابیں بھی ہیں۔

• 'اردو' یہ انگریزوں کے لیے اردو سیکھنے کی ابتدائی کتاب ہے۔

• 'اے کورس اِن نیپالی' نیپالی سیکھنے کے لیے۔

• 'این انتھالوجی آف کلاسیکل اردو لو پوئیٹری' (اردو شاعری میں محبت پر شاعری کا مجموعہ)۔

• 'اردو لِٹریچر' (اردو زبان اور ادب کی تاریخ جس میں ان کے ساتھ کرسٹوفر شیکل اور شاہ رخ حسین ان کے شریک مصنف تھے)۔

• 'این انتھولوجی آف اردو ورسز اِن انگلش، وِد دی اوریجنل پوئمز اِن دیوناگری' (ہندی زمبان میں لکھے اردو اشعار کے انتخاب کا انگریزی میں ترجمہ)۔

• 'ہسٹوریکل انتھولوجی آف کازن تاتار ورس: وائیس آف ایٹرنیٹی' (تاتاری شاعری کی تاریخ)۔

• 'اقبال کے منتخب اشعار'۔

• 'امراؤ جان ادا' کا انگریزی میں ترجمہ۔