آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں سٹارٹ اپس: عالمی معاشی بحران یا غیر ضروری اخراجات، پاکستانی سٹارٹ اپس اچانک ملازمین کو نوکریوں سے کیوں نکالنے لگے ہیں؟
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
’ہم جب اپنے لائن مینیجرز سے پوچھتے تھے کہ ہمیں بتائیں کہ کیا ہم بھی نوکری سے نکالے جا سکتے ہیں تو وہ ہمیں یہی جواب دیتے تھے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔‘
لیکن پھر ایک دن پاکستانی سٹارٹ اپ کمپنی ایئرلفٹ، جو اشیائے خوردونوش کی ڈیلیوری کا کام کرتی ہے، میں بطور ریکروٹمنٹ سپیشلسٹ کام کرنے والی اسریٰ امانی کو ان کے لائن مینیجر نے ہی کال کر کے بتایا کہ انھیں نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔
ظاہر ہے نوکری سے نکالے جانا کسی کے لیے بھی ایک جھٹکے سے کم نہیں ہوتا لیکن اسریٰ کے لیے یہ صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی تھا۔
اسریٰ کے لیے یہ حیرت انگیز اس لیے بھی تھا کیونکہ کمپنی میں ان کا کام ہی انجینیئرنگ سے منسلک بھرتیاں کرنا تھا اور ان کے مطابق ایئرلفٹ کی جانب سے بھرتیاں روکنے کا فیصلہ لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کے صرف دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسریٰ بتاتی ہیں کہ ’جب ہم کمپنی میں تھے تو ہمارے خیالات مختلف تھے اور ہم یہی سوچتے تھے کہ ہم بطور کمپنی ایک مثال قائم کر رہے ہیں۔‘
وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’اب جب ہم کمپنی میں موجود لوگوں سے پوچھتے ہیں تو وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کمپنی کا برن ریٹ 70 فیصد کے قریب تھا۔ تو اگر اس بات کو سامنے رکھا جائے تو شاید ہم نے بہت غیر ضروری خرچے کیے۔‘
برن ریٹ وہ شرح ہوتی ہے جس پر کاروبار نئی آمدنی پیدا کیے بغیر اپنے پاس موجود سرمائے کو خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔
پاکستانی سٹارٹ اپس میں نوکریوں سے اچانک فارغ کر دینے کی کہانی صرف ایئرلفٹ کی نہیں اور نہ ہی ایسا صرف پاکستان میں ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مئی کے آخری ہفتے میں متعدد سٹارٹ اپس جن میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ’سوئیول‘ اور ٹریکنگ ایپ ’ٹرک اٹ ان‘ شامل ہیں، متعدد ملازمین کو نوکریوں سے نکال چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ’کریم ‘کی جانب سے اپنی فوڈ ڈیلیوری سروسز کو ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ان تمام کمپنیوں نے اس کی واحد وجہ ممکنہ عالمی معاشی بحران بتائی ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں نے ابھی سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے تاہم نوکری سے نکالے جانے والے ملازمین کے علاوہ مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے افراد بھی ان کمپنیوں کے اس فیصلے کی ایک وجہ ’برن ریٹ‘ یعنی خرچوں میں بے پناہ اضافہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے بھی بتاتے ہیں لیکن اکثر تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ تجزیہ حقیقت کے قریب نہیں۔
اس تحریر میں ہم جہاں یہ اور اس جیسے دیگر سوالات کا جواب تلاش کریں گے، وہیں ساتھ ساتھ ایسی مشکل اصطلاحات کی بھی تشریح کریں گے جو عام طور پر اس شعبے سے منسلک افراد استعمال کرتے ہیں۔
’ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ اسے نہ نکال دیا جائے‘
یوں تو ایئر لفٹ کی جانب سے اپنے عالمی سطح پر اپنے 31 فیصد ملازمین کو برخواست کرنے کا اعلان 25 مئی کو کیا گیا لیکن اس سے متاثر ہونے والی ایک ملازم جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، بتاتی ہیں کہ مارچ سے ہی اس بارے میں چہ مگوئیاں تو چل رہی تھیں کہ اب ہم اپنے خرچے کم کریں گے لیکن ساتھ ہی لوگوں کی تنخواہیں بھی بڑھائی جا چکی تھیں اور بہت غیر ضروری خرچے کیے جا رہے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جس دن ہمیں نوکریوں سے نکالا جانا تھا تو کمپنی میں ایک عجیب سا خوف تھا، ہر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں اسے نہ نکال دیا جائے۔‘
دوسری جانب اسریٰ نے دعویٰ کیا کہ 'جنھوں نے حکمتِ عملی بنائی وہ اب بھی کمپنی میں موجود ہیں لیکن جنھوں نے اس حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنایا انھیں نکال دیا گیا۔‘
ایئرلفٹ سے جب ان دعوؤں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے بذریعہ ای میل اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔
خرچوں میں اضافے اور برن ریٹ سے متعلق دعوے کے جواب میں ایئر لفٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی کے پاکستان میں آپریشن پر آنے والا خرچہ اس کی آمدن کا 28 اعشاریہ پانچ فیصد ہے اور یہ کہ یہ کمپنی دنیا کی دیگر کیو کامرس کمپنیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ’کاسٹ افیکٹو‘ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے سے دو ہفتے قبل بھرتیاں روکنے کے دعوے پر ایئرلفٹ نے کہا ہے کہ ’یہ دنیا کی دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے کوائن بیس، ٹیسلا اور نیٹ فلکس وغیرہ کو بھی کرنا پڑا۔‘
کمپنی کی جانب سے دیے گئے جوابات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کمپنی نے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کے حوالے سے امتیازی سلوک نہیں برتا اور اس ضمن میں تمام فیصلے سینیارٹی لیول کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کیے گئے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ایئرلفٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اگلے دو برس کے دوران ہمارے مالی منصوبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں مزید ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی توقع نہیں۔‘
اچانک خرچے کم کرنے کی وجہ؟
یہ سوال اس وقت نہ صرف سوشل میڈیا پر پوچھا جا رہا ہے بلکہ اس بارے میں اکثر افراد کے ذہنوں میں الزامات بھی ہیں۔ اس جیسے سوالات کو لے کر ہم نے دو سٹارٹ اپ مالکان اور ایک سرمایہ کار سے بات کی ہے۔
شہریار حیدری ایک سرمایہ کار ہونے کے ساتھ ’دیوسائی وینچرز‘ میں پارٹنر بھی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا۔
شہریار نے بتایا کہ ایئرلفٹ کیونکہ اس وقت پاکستان کے تمام سٹارٹ اپس میں سرِفہرست سمجھا جانے والا سٹارٹ اپ ہے اس لیے جب ان کی جانب سے لوگوں کو ملازمتوں سے برخواست کیا گیا تو ’ایک دھچکہ ضرور لگا اور مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی سٹارٹ اپس کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’جب ان کمپنیوں نے سرمایہ کاری حاصل کی تو گذشتہ برس یا اس برس کے شروع میں یہ نہیں پتا تھا کہ عالمی معاشی بحران کب آئے گا۔‘
’جب آپ نے ترقی کرنی ہوتی ہے، اپنا کاروبار پھیلانا ہوتا ہے تو آپ یہ سوچ کر فیصلے نہیں کرتے کہ آئندہ چھ مہینے میں عالمی معاشی بحران آنے والا ہے کیونکہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ بہت سے مواقع کھو دیتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران آپ بھرتیاں کرتے رہتے ہیں اور ہائپر سکیل سٹارٹ اپس (تیزی سے ترقی کرنے والے سٹارٹ اپس) یہ نہیں کر سکتے کہ بھرتیاں اس لیے روک دیں کہ انھیں صرف خدشہ ہو کہ اگلے چند ماہ بعد عالمی معاشی بحران آئے گا۔
شہریار کے مطابق ’تمام کمپنیوں کو نظر آ رہا ہے کہ اگلے دو سال میں ان کے لیے اگلے راؤنڈ میں سرمایہ کاری لانا خاصا مشکل ہو جائے گا، اس لیے اب انھیں اپنے خرچوں میں فوری کمی کرنی پڑی ہے کیونکہ انھیں اگلے 12 سے 18 مہینے اپنے بینک میں موجود پیسوں پر زندہ رہنا ہے۔‘
دوسری جانب پھلوں اور سبزیوں اور پھلوں کی بزنس ٹو بزنس ڈیلیوری کرنے والی سٹارٹ اپ کمپنی ’تازہ‘ کے شریک بانی ابرارالحق کہتے ہیں کہ ’کچھ سٹارٹ اپس نے واقعی غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیسے خرچ کیے لیکن ناقدین اور الزام لگانے والوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بڑے سٹارٹ اپس میں برن ریٹ زیادہ ہوتا ہے۔‘
'ایک نئی کمپنی کو اگر برسوں سے قائم کسی روایتی کمپنی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، جس کا مارکیٹ شیئر زیادہ ہے تو اس کو برن ریٹ زیادہ کرنا ہوتا ہے، اس کے بغیر تیزی سے ترقی نہیں کی جا سکتی۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’ہائپر سکیل سٹارٹ اپس ایسے ہی کام کرتے ہیں اور اگر آپ اس طرح آپریٹ نہ کریں تو آپ کی ترقی کرنے کی شرح ماند پڑ جاتی ہے اور آپ کو سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
کچھ سٹارٹ اپس ہی کیوں ملازمین کو نوکریوں سے برخواست کر رہے ہیں؟
ایسا نہیں ہے کہ تمام سٹارٹ اپ کمپنیاں ملازمین کو نوکری سے نکال رہی ہیں مارکیٹ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جن میں کمپنیوں سے ملازمین کو تاحال نہیں نکالا گیا۔
تاہم یہاں یہ بات جاننا بھی اہم ہے کہ عالمی معاشی بحران یا کساد بازاری عام طور دو سال تک اپنے اثرات چھوڑتی ہے جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں ملازمتوں سے مزید افراد کے نکالے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
شہریار حیدری کے نزدیک اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ جن سٹارٹ اپس نے ملازمین فارغ کیے ہیں انھوں نے ترقی (گروتھ) کو منافع بخش ہونے پر ترجیح دی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’گروتھ ماڈل میں آپ کی سرمایہ کاری کرنے والے آپ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ فی الحال منافع کو بھول جائیں اور مارکیٹ شیئر حاصل کرنے پر توجہ دیں۔‘
’تو جن کمپنیوں نے سب سے پہلے لوگوں کو ملازمتوں سے نکالا وہ کمپنیاں دراصل سب سے زیادہ کیش برن کرنے اور جارحانہ گروتھ کے ماڈل پر چل رہی تھیں۔‘
شہریار کے مطابق جو کمپنیاں لوگوں کو نہیں نکال رہیں ان میں دو طرح کی چھوٹی کمپنیاں شامل ہیں، ایک وہ جنھوں نے آغاز ہی سے اپنا بزنس ماڈل منافع بخش بنا لیا تھا اور اب آئندہ انھیں لوگ نکالنے کی ضرورت نہیں ہو گی جبکہ دوسری وہ جن کا بزنس ماڈل تو منافع بخش نہیں لیکن وہ ابھی سخت فیصلے نہیں لے رہے اور اس کا خمیازہ انھیں آنے والے چھ مہینوں میں بھگتنا پڑے گا۔
فیصل ستی ’ایزی فریش‘ کے شریک بانی ہیں اور تاحال ان کے مطابق ان کی کمپنی میں لوگوں کو کمپنی کو درکار وسائل میں کمی کی وجہ سے نہیں نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے کاروبار میں آغاز سے ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایک پائیدار اور طویل دورانیے کے لیے کاروبار کریں گے اور اس کے لیے ہم ’یونٹ اکنامکس پازیٹو‘ رکھیں گے۔
یونٹ اکنامک مثبت ہونے سے مراد یہ ہے کہ کیا ایک سٹارٹ اپ ایک یونٹ پر منافع کما رہا ہے یا نہیں۔ جیسے اگر آپ کلو سبزی یا پھل بیچ رہے ہیں تو کیا آپ کو اس پر منافع ہو رہا ہے یا نہیں۔
کریم یا اوبر کی مثال لیں تو ان کے لیے ایک یونٹ کا مطلب ایک ٹرپ ہوتا ہے، کیا وہ ایک رائیڈ پر منافع بنا رہے ہیں یا نہیں۔
فیصل بتاتے ہیں کہ ’اس لیے ہم نے آغاز سے برن ریٹ کنٹرول کرنے پر توجہ دی اور یہ ہم گذشتہ چند ماہ سے کر رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اب کسی کو نوکری سے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
نئے سٹارٹ اپس کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک طرف صورتحال یہ ہے تو دوسری جانب کچھ ہی روز قبل فارم دار نامی زرعی شعبے کے سٹارٹ اپ نے سیڈ راؤنڈ میں 13 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری حاصل کی جبکہ گذشتہ روز ہی پاکستانی فن ٹیک کمپنی دستگیر کو سیریز اے راؤنڈ میں پاکستان میں اب تک کی سب سے بڑی ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی فنڈنگ ملی ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے سٹارٹ اپس کو کیا کرنا چاہیے۔
فیصل ستی کے مطابق ’نئے سٹارٹ اپس کے لیے یہی مشورہ ہے کہ سٹارٹ اپ کے حوالے سے بنیادی باتوں کو سمجھیں جیسے ’لین سٹارٹ اپس‘ ہیں۔ یہ وہ سٹارٹ اپس ہوتے ہیں جنھیں کم سے کم پیسہ لگا کر شروع کیا جاتا ہے، تجربات کیے جاتے ہیں اور پھر پھیلایا جاتا ہے۔‘
فیصل اس حکمتِ عملی کا مشورہ تمام نئے سٹارٹ اپس کو دیتے ہیں۔ دوسرا وہ ’پراڈکٹ مارکیٹ فٹ‘ کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ایسا پراڈکٹ بنائیں جس کی مارکیٹ میں مانگ بھی ہو۔
تیسری چیز ان کے نزدیک اس پراڈکٹ کو خریدنے والے کو اصل مسئلے کو سمجھنا ہے، جس کا حل آپ انھیں دینے والے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو طویل دورانیے میں اچھے سٹارٹ اپس اور ایسے سٹارٹ اپس جن کو مسائل پیش آتے ہیں ان کو ہوتے ہیں۔
شہریار حیدری کے مطابق یہ پاکستان کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی بدقسمتی ہے کہ جو سال ہمارے لیے بہترین اور تاریخی سال رہا، یعنی 2021، اس سے اگلے سال ہی دنیا معاشی بحران کا شکار ہو گئی۔
’جو بھی اب سٹارٹ اپس بنیں گے ان کے یونٹ اکنامکس درست ہونے چاہیے اور ان کی بنیادی بزنس ماڈل بھی مضبوط ہونے چاہیے اور جب دو سال بعد اگلا راؤنڈ آئے گا تو یہی سٹارٹ اپ سب سے مضبوط پوزیشن میں ہوں گے اور سرمائے کے بڑے راؤنڈ حاصل کر سکیں گے۔‘
نئے گریجویٹس کو سٹارٹ اپ کمپنیوں میں نوکری کرنے سے گھبرانا چاہیے؟
پاکستان میں سٹارٹ اپس کی اُٹھان نے نوجوانوں کے لیے کارپوریٹ کمپنیوں سے ہٹ کر ایک نمایاں موقع فراہم کیا، جہاں تنخواہیں بھی کارپوریٹ کمپنیوں کے مساوی دی جاتی ہیں اور کم عمر میں سیکھنے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
تاہم کمپنیوں کی جانب سے لوگوں کو نوکری سے نکالنے کے بعد سے عنقریب گریجویٹ ہونے والے نوجوان بھی ہچکچاہٹ کے شکار ہیں۔
اسریٰ اس سوال کو دو پہلوؤں سے دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ظاہر ہے جس طرح کی صورتحال گذشتہ چند ہفتوں میں سامنے آئی ہے نئے گریجویٹس میں اس حوالے سے ہچکچاہٹ تو ضرور ہو گی لیکن ’جب آپ 30 سال سے کم عمر ہوں تو آپ خطرات مول لے سکتے ہیں، اور اگر نوکری کے دوران آپ کے پاس سیکھنے کی مواقع زیادہ ہیں تو نوجوان سٹارٹ اپس میں نوکریاں کرنا چاہیں گے۔‘
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والی ایئرلفٹ کی سابقہ ملازم کہتی ہیں کہ ’ایئرلفٹ جیسا بھی تھا لیکن ایئرلفٹ کریئیٹو ضرور تھا، مطلب ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ اگر ہم نے کوئی آئیڈیا دیا ہے تو اس پر عمل ضرور ہو گا۔‘
’نوجوان سٹارٹ اپس کی جانب سے اس لیے راغب ہوتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کے لیے گروتھ کا چانس بہت زیادہ ہے یعنی اگر ملٹی نیشنل کارپوریشنز (ایم این سیز) میں ایک ہی کام بار بار کرنے کے بعد آپ ترقی کرتے ہیں، یہاں آپ بہت جلدی ترقی بھی کرتے ہیں اور سیکھتے بھی ہیں۔‘