بلوچ طلبہ دودا بلوچ اور غمشاد بلوچ کی گھر واپسی: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سندھ اسمبلی کے باہر مظاہرین پر تشدد کی مذمت

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی کراچی یونیورسٹی کے مبینہ طور پر جبری لاپتہ ہونے والے طالب علم دودا بلوچ اور غمشاد بلوچ اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے احتجاج اور گرفتاریوں کے بعد گذشتہ شب چار بجے کے قریب دونوں کو چھوڑ دیا گیا اور ان کے اہلخانہ نے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ گھر پہنچ چکے ہیں۔

دودا بلوچ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تیسرے سمیسٹر جبکہ غمشاد بلوچ پانچویں سمیسٹر کے طالب علم ہیں۔

دودا بلوچ کا تعلق بلوچستان کے شہر تربت اور غمشاد بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے مند سے ہے۔ ان دونوں کو سات جون کو کراچی کے علاقے مسکن سے ان کے گھر سے ایک ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی بلوچ تنظیموں کا الزام ہے کہ اُن دونوں کو ریاستی اداروں نے تحویل میں لیا تھا جس کے خلاف اتوار کے روز سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا گیا تھا تاہم گذشتہ روز(سوموار) پولیس نے احتجاج میں شامل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر تشدد کیا اور تقریباً 28 افراد کو حراست میں بھی لیا، جنھیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پر امن مظاہرین کے خلاف پولیس کی جانب سے طاقت کے بے تحاشا استعمال کی سخت مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’اپنے پیاروں کے بارے میں جواب طلب کرنے والے خاندانوں کے خلاف پُرتشدد کریک ڈاؤن کرنا جبری گمشدگیوں کے گھناؤنے عمل کے ظلم کو مزید بڑھاتا ہے۔‘

بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری اور رہائی

پیر کے روز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس نے مبینہ طور پر لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے ان پر تشدد کیا تھا۔ یہ مظاہرہ سندھ اسمبلی کے باہر کیا جا رہا تھا۔

پولیس کارروائی کے دوران انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافی اور لاپتہ بلوچ افراد کے اہلخانہ سمیت 28 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جنھیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔

سماجی کارکن نغمہ اقتدار کے مطابق مظاہرین سے کہا گیا کہ ریڈ زون میں داخل نہ ہوں باقی پریس کلب پر احتجاج جاری رکھیں۔

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کچھ بلوچ مظاہرین کی جانب سے ریڈ زون میں احتجاج کیا گیا اور پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے چند مظاہرین کو گرفتار کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ تمام افراد کو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کر دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین سندھ اسمبلی کے اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پرامن تھا اور وہ اسمبلی کے اندر نہیں جانا چاہتے تھے۔

احتجاج کس لیے کیا جا رہا تھا؟

کراچی یونیورسٹی کے قریب واقع مسکن چورنگی میں سات جون کو ایک گھر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارا تھا جس کے نتیجے میں دودا بلوچ ولد الٰہی بخش اور غمشاد بلوچ ولد غنی بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

دودا بلوچ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تیسرے سیمسٹر جبکہ غمشاد بلوچ پانچویں سیمسٹر کے طالب علم ہیں۔

دودا بلوچ کا تعلق تربت اور غمشاد بلوچ کا ضلع کیچ کے علاقے مند سے ہے۔ بلوچ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ اُنھیں ریاستی اداروں نے تحویل میں لیا ہے جس کے خلاف گذشتہ روز یعنی اتوار کو بھی سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز کے احتجاج کے دوران بھی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں تھیں اور خواتین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مزاحمت کے بعد اُنھیں چھوڑ دیا گیا۔

’مذاکرات کا ڈرامہ رچایا گیا‘

اسی دوران سندھ میں انسداد دہشت گردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) کا ایک لیٹر بھی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ لاپتہ افراد کے نمائندوں سے پیر کی شام کو مذاکرات کیے جائیں گے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ان سے مذاکرات کا ڈرامہ رچایا گیا۔

آمنہ نے کہا کہ متعلقہ تھانے کی پولیس کا کہنا تھا کہ ان طالب علموں کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا ہے۔ چونکہ یہ محکمہ وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت ہے اس لیے ان کی کوشش تھی کہ وہ وزیرِ اعلیٰ یا ان کے کسی نمائندے بات کریں۔

یہ بھی پڑھیے

ان مظاہرین کی قیادت آمنہ بلوچ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی ڈپٹی سیکریٹری سمی بلوچ کر رہی تھیں، جبکہ مظاہرے میں انسانی حقوق کے رہنما پروفیسر ریاض احمد، نغمہ اقتدار اور صحافی فواد حسن بھی شامل تھے۔

آمنہ بلوچ سے جب بی بی سی کی بات ہوئی تو اس وقت وہ پولیس موبائل میں تھیں اور اُنھیں کلفٹن تھانے سے آرٹلری میدان تھانے منتقل کیا جا رہا تھا۔

’ہم پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ اسمبلی کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ ہم نے انکار کیا جس کے بعد پولیس افسر نے گالیاں دیں اور کہا جاؤ بیغرتو۔ پولیس نے سمی بلوچ، مہلب بلوچ، نغمہ شیخ سمیت دیگر خواتین پر بھی تشدد کیا جبکہ لڑکوں پر تو جیسے ٹوٹ پڑے۔‘

پولیس کا مقدمہ درج کرنے کا عندیہ

پولیس نے 19 مردوں اور نو خواتین کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس حکام نے کہا تھا کہ منگل کو بجٹ اجلاس ہے اور اگر یہ افراد ’نہ مانے‘ تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی کارکن اور صحافی رابعہ محمود نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ صحافی فواد حسن اور عوامی ورکرز پارٹی کے خرم علی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے تاہم اب اُن کی بھی رہائی کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے پولیس تشدد کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے بلوچ طلباء کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھا کر کسی مجاز عدالت میں پیش کرنے کے غائب کر دیا ہے، اور ان کی بازیابی کے لیے طلباء پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کو بغیر جواز مارا پیٹا گیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سات جون 2022 سے دونوں بلوچ طلبا تاحال سیکیورٹی ادارے کے پاس ہیں۔ اُنھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کراچی میں بلوچوں کو ماورائے قانون اٹھا رہے ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور کراچی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں واقع کنفیوشس سینٹر کے چینی اساتذہ پر خودکش بم حملے میں تین چینی شہریوں سمیت چار افراد کی ہلاکت کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچ طالب علموں کو تحقیقات کے نام پر تنگ کیا جارہا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے ایک استاد نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی طالب علم اس وقت امتحان بھی نہیں دے سکے کیونکہ اُنھیں خوف تھا کہ اُنھیں لاپتہ کر دیا جائے گا۔