لنڈی کوتل: والد جو نو دن بعد بھی دریا میں ڈوبنے والے بیٹے کو ڈھونڈ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
اس خبر کے کچھ حصے اور منظر قارئین کے لیے تکلیف کے باعث ہو سکتے ہیں۔

بیٹے کی تلاش میں وہ خود دریا میں کود پڑے۔ جب تک کوئی مدد کو پہنچتا مزمل نے اپنے طور پر کوششیں شروع کر دی تھی تاکہ دریا میں ڈوبنے والے اپنے بیٹے کو بچا سکیں لیکن اُنھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
اب معاویہ کو ڈوبے ہوئے نو دن ہو گئے ہیں لیکن مزمل آج بھی تیراکی میں استعمال ہونے والی ٹیوب کے سہارے اپنے بیٹے کو تلاش کر رہے ہیں۔ ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے ان کے ساتھ ہمدردی شروع کر دی۔
اس ویڈیو میں مزمل کالے رنگ کی ٹیوب پر الٹے لیٹے دریا کے کنارے جھاڑیاں ہٹا رہے ہیں اور تیرتے ہوئے دریا کے اندر تک ہاتھ لے جاتے ہیں تاکہ کہیں اُنھیں اپنا بیٹا نظر آ جائے یا کہیں معاویہ ہو کہ ان کا ہاتھ اسے چھو جائے۔
اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگوں نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دے دی تھی لیکن دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے ان اہلکاروں کو وہاں پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تھی۔ تب تک مزمل نے خود اپنے طور پر بیٹے کی تلاش شروع کر دی تھی۔
معاویہ کیسے دریا میں گرے؟
مزمل کے چچا زاد بھائی بادشاہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں سب لوگ پریشان ہیں۔ انھوں نے مزمل کے بارے میں بتایا کہ ان کے چار بچے ہیں جن میں سے معاویہ ڈوب گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل کے دور دراز علاقے لوئے شلمان میں گذشتہ ہفتے منگل کی صبح بچے علاقے میں کھیل رہے تھے۔ معاویہ اور ان کے دوستوں، جن کی عمریں آٹھ اور نو سال تک بتائی گئی ہیں، نے فیصلہ کیا کہ دریا کے کنارے انجیر کے درخت سے پھل توڑنے جاتے ہیں۔
سب دوست دریا کی جانب روانہ ہوئے جہاں دریا کے کنارے معاویہ کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں گر گئے۔ اس وقت دوست چلائے لیکن وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو ان کی مدد کر سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بچے روتے ہوئے واپس اپنے علاقے میں پہنچے۔ بادشاہ خان نے بتایا کہ جب بچے مزمل کے پاس پہنچے اور ان کی حالت دیکھی تو پریشان ہو گئے اور جب اُنھیں معلوم ہوا کہ اُن کا بیٹا دریا میں گر گیا ہے تو وہ فوری طور پر دریا کی طرف بھاگے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
بچے کی تلاش میں سرگرداں باپ
مزمل جب دریا کی تیز لہروں میں اترے تو اُنھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا دریا میں کہاں ہو گا۔ اُنھوں نے صرف اندازے لگائے کہ دریا کی لہریں معاویہ کو کہاں سے کہاں تک لے گئی ہوں گی یا شاید اس مقام پر کہیں معاویہ موجود ہوں۔
گھر کے تمام افراد کو امید ہے کہ معاویہ ہو سکتا ہے زندہ ہوں، کہیں دور جا کر کسی نے اُنھیں دریا سے نکال لیا ہو لیکن اب تو نو دن گزر چکے ہیں اور اب یہ امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
دریا میں ایک شخص کے اس طرح بے چینی کے عالم میں بچے کی تلاش کی ویڈیو نے سب لوگوں کو غمگین کر دیا ہے اور سب نے مزمل سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اگر مگر لیکن؟ یہ سوال ضرور ہیں
مزمل کا کہنا ہے کہ اگر ان کے علاقے میں سہولیات ہوتیں تو شاید ان کا بیٹا بچ سکتا تھا یا اسے فوری طور پر تلاش کیا جا سکتا تھا۔ یہ علاقہ خیبر کا پسماندہ علاقہ ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ مزمل نے حکومت سے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’جو واقعہ ہوا ہے مطلب ہمارے بیٹے کا وہ تو ویسے بھی اس جہاں سے چلا گیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے اور ریسکیو اہلکاروں کو بر وقت اطلاع دی جا سکے۔ اس کے لیے یہاں موبائل فون کا نیٹ ورک مناسب ہونا چاہیے یعنی جتنی موبائل فون کمپنیز ہیں، ان سب کا نیٹ ورک یہاں ہونا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ریسکیو 1122 کی سروس یہاں اس علاقے کی اپنی سروس ہو جو ہر وقت موجود ہو اور اس علاقے کے لوگوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار ہو تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی مدد کی جا سکے اور اُن کے بیٹے کی طرح کسی اور کا بیٹا نہ ڈوب جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موبائل فون کا نیٹ ورک ہوتا تو وہ فوری طور پر مدد کے لیے کسی کو بلا سکتے تھے اور اگر ریسکیو کا دفتر ہوتا تو وہ بھی فوری طور آ سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔ ۔
مزمل کے چچا زاد بھائی بادشاہ خان نے بتایا کہ وہ اس تلاش کی سرگرمیوں کی تمام ویڈیوز بنا کر شام کو پہاڑ کی چوٹی پر جاتے ہیں جہاں کچھ سگنل آ جاتے ہیں، جس وجہ سے وہ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے علاقے کی خبر تو دنیا میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سوشل میڈیا کی وجہ سے امدادی ادارے اور دیگر میڈیا کے اہلکار یہاں تک پہنچے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید اُن کی مدد کو کوئی بھی نہ آ سکتا۔

،تصویر کا ذریعہGulab Khan
امدادی سرگرمیاں
اس واقعے کے بعد ریسکیو اہلکار بھی پہنچ گئے اور مقامی ملیشیا کے اہلکاروں نے بھی بچے کی تلاش شروع کر دی۔ مزمل کے ساتھ علاقے کے لوگ بھی موجود ہیں اور وہ ہر طرح سے مزمل کی مدد بھی کر رہے ہیں۔
علاقے کے قبرستان میں ایک قبر تیار کر لی گئی ہے۔ مزمل کے چچا زاد بھائی بادشاہ خان نے اس قبر کے قریب ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’یہ معاویہ کی قبر ہے جو دریائے کابل میں ڈوب گیا ہے۔ معاویہ کے والد مزمل آج بھی اپنے بیٹے کے انتظار میں ہیں کہ وہ کب آئے گا۔ صبح آتا ہے شام آتا ہے اس قبر کو دیکھتا ہے کہ یہ میرے بیٹے کی قبر ہے۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ بیٹا اگر مر گیا ہے تو اس قبر میں دفن کر دیا جائے۔‘
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ انھیں جیسے ہی اطلاع موصول ہوئی تو ان کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے اور وہ اس بچے کی تلاش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ایک ہفتے میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے ڈوبنے کے 18 واقعات پیش آئے ہیں اور ان کے اہلکار صوبے کے ان تمام علاقوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
بادشاہ خان نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اُنھیں بتایا ہے کہ ان کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور بچے کی تلاش نہیں ہو سکی۔









