دعا زہرا: سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر میڈیکل رپورٹ میں عمر کا تعین، والد مہدی کاظمی کے تحفظات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر کیے گئے میڈیکل ٹیسٹ میں کراچی سے لاپتہ ہو کر بہاولنگر سے بازیاب ہونے والی لڑکی دعا زہرا کی عمر کا تعین کر لیا گیا ہے مگر والد مہدی کاظمی کی جانب سے اس پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
سول ہسپتال کراچی کے ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے اور ان کی عمر ’17 سال کے قریب ہے۔‘
تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی نے اس میڈیکل رپورٹ پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 14 برس ہے اور کم عمری کی شادی کے لیے ان کا جعلی نکاح نامہ بنایا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ والدین کی موجودگی میں دوبارہ میڈیکل کرایا جائے اور عمر کی تصدیق کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
واضح رہے کہ دعا زہرا رواں سال اپریل میں کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد میں اُنھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے اپنی پسند سے شادی کر لی ہے۔
یہ میڈیکل رپورٹ 8 جون کو عدالت میں پیش کی جائے گی۔
دعا زہرا کو کراچی میں دارالامان بھیجنے کا حکم، عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟
سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا اور انھیں کراچی میں دارالامان بھیج دیا تھا۔
پیر کے روز سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے اس دو رکنی بینچ، جو پہلے سے ہی دعا زہرا کے مبینہ اغوا سے متعلق ان کے والدین کی آئینی درخواست کی سماعت کرتا رہا ہے، سے درخواست کی کہ وہ اس کیس کی فوری سماعت کرے، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
کیس کے سماعت کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر احمد کو لے کر کمرہ عدالت آئے۔ اس دوران دعا کے والدین نے ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تاہم دعا نے انکار کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے والد مہدی علی کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ میں اُن کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔
سوموار کے روز پنجاب پولیس نے دعا زہرا کو بازیاب کروا کر کراچی پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کے مطابق دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر نے ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں ایک رشتے دار کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گذشتہ ہفتے آئی جی سندھ کو حکم دیا تھا کہ وہ لڑکی کو بازیاب کرا کر عدالت کے روبرو پیش کریں جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اسی قسم کے احکامات جاری کیے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے استفسار کیا کہ جب کیس 10 جون کو سماعت کے لیے مقرر ہے تو پھر آج کیوں لے آئے؟ جس پر اے جی سلمان طالب نے جواب دیا کہ ’عدالت کا حکم تھا کہ جیسے ہی دعا زہرا بازیاب ہوں، انھیں عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔‘
سلمان طالب نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی دعا کو 10 جون کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم صادر کر رکھا ہے۔
اس موقع پر جسٹس امجد سہتو نے پوچھا کہ ملزم کہاں ہے؟ جس پر سلمان طالب نے بتایا کہ لڑکی اپنی مرضی سے صوبہ چھوڑ کر گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ’لڑکی نے پنجاب جا کر اپنی مرضی سے محمد ظہیر سے پسند کی شادی کی ۔ ان کے اس عمل سے یہاں (سندھ) کے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔‘
عدالت نے پوچھا کہ کیا ’یہاں لڑکی کے اغوا کا کیس درج نہیں کیا گیا؟‘ جس پر دعا کے والدین کے وکیل الطاف کھوسہ نے مداخلت کرتے ہوئے بتایا کہ دعا کی عمر 18 سال سے کم ہے اور ان کے اغوا کا مقدمہ کراچی میں درج ہے۔‘
دعا کے والدین کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دعا نابالغ ہیں اور ان کی عمر 13 سال اور کچھ ماہ ہے جبکہ ابھی کیس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عدالت نے دعا زہرا کو روسٹرم پر طلب کر کے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے، جس پر دعا نے عدالت کو بتایا کہ ’میرا نام دعا زہرا ہے اور میری عمر 16-17 برس ہے۔ میں ظہیر کے ساتھ رہتی ہوں۔‘
جج نے استفسار کیا کہ وہ ابھی کہاں رہائش پذیر ہیں، جس پر دعا نے عدالت کو بتایا کہ ’مکان نمبر معلوم نہیں۔‘
جسٹس سہتو نے پوچھا کہ آپ کے والد نے کہا ہے کہ ظہیر نے آپ کو زبردستی اغوا کیا گیا، جس پر دعا نے کہا کہ ’مجھے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ میں اپنی مرضی سے گئی تھی۔‘
اس کے بعد جسٹس سہوتو نے دعا سے پوچھا کہ اب آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ تو دعا نے کہا کہ وہ اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔
اس موقع پر اے جی طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دعا زہرا اپنی مرضی سے گئیں لیکن ان کی کم عمری کی شادی کا کیس چائلڈ میرج پروٹیکشن ایکٹ کے تحت دائر کروایا گیا۔
اے جی سندھ نے کہا کہ ’پنجاب میں چائلڈ میرج پروٹیکشن رول نہیں۔ بچی نے وہاں جا کر شادی کی۔ یہ اغوا کا کیس نہیں بلکہ بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی۔‘
دعا زہرا کے والدین کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت عمر کے تعین کے لیے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا حکم دے اور شوہر کے ساتھ جانے کے بجائے انھیں دارالامان بھجوا دیا جائے۔
عدالت نے دعا زہرا کو کراچی میں دارالامان بھجواتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ آٹھ جون کو انھیں دوبارہ پیش کیا جائے اور عدالت میں میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرا کی بہاولنگر سے شوہر سمیت بازیابی
اس سے قبل اتوار کے روز پنجاب پولیس نے تصدیق کی تھی کہ اُنھوں نے کراچی کی رہائشی کمسن لڑکی دعا زہرا کو بازیاب کروا کر کراچی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کے مطابق دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر کو لاہور پولیس نے ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے بازیاب کروایا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے لاہور پولیس کو حکم دیا تھا کہ دعا زہرا کو 10 جون تک بازیاب کروائیں اور انھیں ٹریس کرنے کے لیے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں سی آئی اے لاہور نے مختلف ٹیمیں تشکیل دے رکھی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر نے اپنے بھائی کے ایک سسرالی رشتے دار کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔
یاد رہے کہ پنجاب اور سندھ کے قوانین کے مطابق لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر بالترتیب 16 اور 18 برس مقرر ہے جبکہ اُن کے والد کا دعویٰ ہے کہ دعا اس سے کم عمر ہیں۔
دعا کے والدین کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 14 برس ہے اور ان کا جعلی نکاح نامہ بنایا گیا ہے۔
دعا کے والد مہدی کاظمی کا کہنا تھا کہ ان کی شادی سات مئی 2005 کو ہوئی تھی اور اس حساب سے دعا کی عمر ہرگز 18 برس نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا جعلی نکاح نامہ تیار کروایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY ZAFAR ABBAS
دعا کے والد نے درخواست کی تھی کہ ان کی بیٹی کو واپس کراچی لایا جائے اور یہاں بیشک انھیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے۔ انھوں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اس سے پہلے پنجاب پولیس نے کہا تھا کہ اُنھوں نے اوکاڑہ سے دعا کو بازیاب کروا لیا ہے اور اُنھیں عدالت میں پیشی کے بعد کراچی منتقل کیا جائے گا تاہم لاہور کی ایک عدالت نے پولیس کی جانب سے اُنھیں دارالامان بھیجنے کی درخواست مسترد کر کے اُنھیں اپنی مرضی سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
دعا نے مجسٹریٹ کے سامنے کہا تھا کہ وہ خودمختار اور بالغ ہیں اور انھوں نے 17 اپریل کو ظہیر احمد سے اسلامی قوانین کے مطابق شادی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اغوا نہیں کیا گیا اور انھوں نے اپنے والدین کا گھر اپنی مرضی سے چھوڑا تھا۔
اس بیان میں دعا نے الزام لگایا تھا کہ 17 اپریل کو ان کے والد اور کزن زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انھیں مارا پیٹا اور محلے داروں نے ان کی جان بچائی۔
تاہم سندھ ہائی کورٹ نے سندھ پولیس کو دعا زہرا کو بازیاب کروانے کا حکم دے رکھا تھا اور اس سلسلے میں سابق قائم مقام پولیس سربراہ ڈاکٹر کامران فضل سمیت اعلیٰ پولیس حکام کی سرزنش بھی کی گئی۔
یہاں تک کہ سندھ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آئی جی سندھ پولیس کامران فضل اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر راضی نظر نہیں آتے اور کہا تھا کہ آئی جی سندھ کا چارج کسی مؤثر کارکردگی والے افسر کو دیا جانا چاہیے۔
اگلی سماعت پر سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کی سرحدوں سے انسانی نقل و حمل پر کنٹرول کے ذمہ دار ادارے ایف آئی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ یقینی بنائیں کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر نہ لے جایا جا سکے۔
عدالت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور نادرا کو بھی حکم دیا تھا کہ اس کیس میں شامل افراد کے بینک اکاؤنٹس اور قومی شناختی کارڈ بلاک کیے جائیں۔









