آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان کا پشاور میں قیام، وجہ سیاسی یا سکیورٹی؟
- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, صحافی
مئی کا اسلام آباد دھرنا سمیٹنے کے بعد پشاور کو پارٹی سرگرمیوں کا مرکز بنانے والے عمران خان کو جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت مل چکی ہے اور اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ گرفتاری کے امکانات کم ہونے کے بعد وہ کسی وقت پشاور سے واپس اسلام آباد چلے جائیں گے۔
عمران خان کے خلاف اسلام آباد اور ملک بھر کے مختلف حصوں میں جلسوں کے بعد درج ہونے والے مقدمات کے بعد انھوں نے اپنے گھر بنی گالہ میں رہنے کے بجائے پشاور میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کو اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ ان کے ناقدین اور مخالفین نے اس اقدام کو ان کی کمزوری اور گرفتاری کے خوف سے تعبیر کیا، تاہم سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ یہ ان کی بہتر منصوبہ بندی اور پارٹی کی افرادی قوت کو نقصان سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا اچھا اقدام تھا۔
جمعرات کو عمران خان نے پشاور ہائی کورٹ سے ان مقدمات میں ضمانت حاصل کی جو اس دوران ان کے خلاف درج کیے جا چکے تھے جس سے ان کی گرفتاری کا خطرہ ٹل چکا ہے۔
پشاور میں اپنے قیام کے دوران عمران خان نے صوبے میں جلسے بھی کیے ہیں اور جمعے کو بونیر میں ایک جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دوبارہ باہر نکلیں گے تاہم مجھے کہا گیا ہے کہ تھوڑا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ان پر غداری کا مقدمہ کر کے انھیں ’راستے سے ہٹایا جائے‘۔
عمران خان کا پشاور میں قیام، وجہ سیاسی یا سکیورٹی؟
عمران خان پر قسمت کی دیوی پشاور ہی میں مہربان ہوئی تھی، جہاں ان کی پارٹی کو دو بار صوبائی حکومت مل چکی ہے۔
تاہم ان کے پشاور میں قیام کے فیصلے کے بارے میں ان کی جماعت کی قریباً پوری قیادت نے ہونٹ سی رکھے ہیں۔ ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل سے لے کر ہر اہم اور قابل ذکر رہنما سے رابطہ کیا گیا لیکن وہ کچھ نہیں کہہ رہے۔
اپنی پارٹی کے اس ہیڈکوارٹر پشاور میں عمران خان کے قیام کے بارے میں کہیں سے بھی جواب نہ ملنا خود بہت سے سوالوں کا باعث بنا ہے کہ آخر ایسی کیا وجوہات ہو سکتی تھیں جن کی بنا پر کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما بات کرنے کو تیار نہیں، البتہ ایک پارٹی رہنما ایسا بھی ملا جو خود بھی بات کرنے سے گریزاں تھے لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے عمران خان کے پشاور میں قیام کی وجوہات کچھ یوں بیان کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو خیبرپختونخوا میں حاصل سہولیات کہیں اور دستیاب نہیں، یہ تجزیہ تو ٹھیک ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک پیج نہیں، یہاں پر مختلف پیجز ہیں۔ ایک پیج پر عمران خان ہیں، دوسرے پیج پر ان کے مخالف سیاسی حکومتی اتحاد کے لوگ ہیں، تیسرے صفحے پر اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو یہ بھی غلط ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان بھی ایک پیج پر ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیں کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں فریقین کی اپوزیشن میں ہے تو یہ بھی ٹھیک نہیں، حالات اتنے بدل گئے ہیں کہ آپ کو کہیں بھی کوئی بھی کسی معاملے پر ایک پیج پر نہیں مل رہا۔‘
انھوں نے مزید کہا ’ایک افراتفری کا عالم ہے، ایسے میں عمران خان اگر پنجاب میں رہنے کو ترجیح دیتے تو وہ وہاں پر رہ کر کوئی جلسہ نہیں کر سکتے تھے، انھیں گرفتار بھی کیا جا سکتا تھا اور نظر بند بھی ہو سکتے تھے۔ ایسے میں ہماری اطلاعات تھیں کہ عمران خان کو کئی مقدمات میں گرفتار کر کے انھیں پھنسا دیا جاتا۔ عمران خان کی سلامتی کے حوالے سے بھی بعض خدشات درپیش تھے اور خود اسٹیبلشمنٹ بھی اس حوالے سے کسی حد تک پریشان نظر آرہی تھی اس لیے کچھ خیرخواہوں کے ذریعے عمران خان کو پشاور میں رہنے کے پیغامات مل رہے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق ’ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ سمیت سب تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں، مزید نقصان سے بچنا ہی ضروری تھا۔ اسی لیے مزید کسی نقصان سے بچنے کے لیے عمران خان کو پشاور میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ ان کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان سب کا نقصان ہوتا۔‘
بی بی سی نے اس معاملے پر صوبے میں موجود سیاسی ماہرین سے بات کی تو پشاور میں انگریزی اخبار ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اسماعیل خان نے کہا کہ عمران خان خیبرپختونخوا اس لیے آئے تھے کہ یہاں لوگوں کو متحرک کرنا تھا اور یہ ان کو حاصل سپورٹ کا بیس بھی تھا، یہاں سے اسلام آباد بھی قریب ہے اور یہاں حکومت بھی اپنی تھی جہاں سے لاجسٹک سپورٹ بھی مل رہی تھی اور اسلام آباد جاتے ہوئے رکاوٹیں بھی نہیں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا میں عمران خان کی گرفتاری کا بھی امکان کم تھا۔ آزادی مارچ کے حوالے سے ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تو ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جس سے بچنے کے لیے انھیں یہاں پر رہنا پڑا تاکہ نئی حکمت عملی بھی بنا سکیں۔ جمعے کو یعنی آج ان کا صوبے میں آخری جلسہ ہے جس کے بعد انھوں نے ضمنی انتخابات کے لیے پنجاب بھی جانا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ان کے رہنے کی اور کوئی بڑی وجوہات نہیں ہیں۔‘
عمران خان جب پشاور آئے تو اس دوران ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ وہ صوبے میں اپنی پارٹی کے ان رہنماؤں سے ناراض تھے، جنھوں نے دھرنے کے دوران ان کا ساتھ نہیں دیا، تاہم پارٹی کے معاملات پر قریبی نظر رکھنے والے سیاسی مبصر نجیع اللہ خٹک کہتے ہیں کہ ’اس تاثر میں کوئی صداقت نہیں کہ خیبرپختونخوا سے پارٹی نے عمران خان کا ساتھ نہیں دیا تھا بلکہ اس حوالے سے اب تک جو بات چیت سامنے آئی ہے اس میں تو اگر ایسی کوئی کارروائی ہو گی تو وہ پنجاب کے کچھ لوگوں کے خلاف ہو گی جہاں سے عمران خان کا ساتھ نہ دینے کے کچھ ثبوت ملے ہیں۔‘
عمران خان کے پشاور میں رہنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 25 مئی کو اسلام آباد اور ملک کے مختلف حصوں میں جو گرما گرمی تھی اور جو دھمکیاں مل رہی تھیں ان کے بعد عمران خان کو ’جس ذہنی سکون اور جگہ کی ضرورت تھی وہ ضرورت صرف پشاور میں پوری ہو سکتی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے یہاں پر بیٹھ کر مستقبل کے لیے ایک بار پھر اپنی منصوبہ بندی کی، لوگوں سے بات چیت کی کیونکہ یہاں پر اپنی حکومت ہے، پارٹی کے لوگ زیادہ قریب اور سرگرم ہیں، گرفتاریوں سمیت سکیورٹی کی صورتحال بھی دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔‘
نجیع اللہ خٹک کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو دھرنے کے دوران ساتھ نہ دینے کے معاملے پر پارٹی سے نکالے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ان میں ’حقیقت کم ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر لوگ دھرنے میں موجود تھے اور یا کسی خاص مجبوری کی وجہ سے نہیں آئے تھے۔‘
دوسری جانب پارٹی کے بعض قائدین اور سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد عمران خان اب تین ہفتوں کے لیے آزاد ہیں اور وہ کہیں بھی جاسکتے ہیں، اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ وہ واپس بنی گالہ کو اپنا ہیڈکوارٹر بنائیں گے اور ضمنی انتخابات کے لیے پنجاب کے دورے بھی کریں گے۔