آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ریپ جوکس‘: ریپ جیسے موضوع پر طنز و مزاح معاشرے کی کیا عکاسی کرتا ہے؟
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سوشل میڈیا پر پیر سے ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں صحافی اور اینکر عمران ریاض خان، سمیع ابراہیم اور جمیل فاروقی ایک اور صحافی پر یہ کہتے ہوئے جملے کستے، اسے تضحیک کا نشانہ بناتے اور قہقہے مارتے ہیں کہ اس کا تو مبینہ طور پر ریپ ہوا تھا۔ اس ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آیا اور مذکورہ صحافی کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا گیا۔
یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ 'ریپ جوکس' یا ریپ سے متعلق لطائف روزمرہ زندگی میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں اور ایک طبقے کے لیے قابل قبول بھی۔ ہم نے یہی جاننے کے لیے مختلف افراد سے رابطہ کیا تاکہ جان سکیں کہ ریپ جوکس کس حد تک معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں۔
'شکل دیکھی ہے اس کی؟ اس کا تو کوئی ریپ بھی نہ کرے'۔ اور پھر اس جملے پر وہاں بیٹھے سب دوست خوب ہنسے۔
اسلام آبادکے رہائشی ایک دوست نے یہ جملہ اس وقت سنایا جب میں نے ان سے نجی محفلوں میں ریپ سے متعلق 'جوکس' کا پوچھا۔ وہ ایک ایسی محفل کا ذکر کر رہے تھے جہاں ان کے مطابق وہ پہلی اور آخری بار گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'یہ جملہ ایک خاتون کی تضحیک کے لیے بولا گیا اور اس سے زیادہ دکھ کی بات وہاں بیٹھے افراد کا اس 'مذاق' کو انجوائے کرنا تھا۔' ان کے مطابق یہ ایک عام سی بات تھی جو کچھ لمحوں بعد سب بھول گئے۔
'وہیں بیٹھے ایک اور لڑکے نے کہا، یہ بتاؤ گینگ ریپ میں سب سے مشکل کام کیا ہے؟ سب نے اپنے اپنے جواب دیے۔ پھر اس نےکہا، 'نہیں، سب سے مشکل کام اپنی باری کا انتظار ہے' پھر ایک اور قہقہہ گونجا اور یوں یہ مذاق چلتا رہا۔'
یہ اور اس جیسے کئی جملے، ایک مہذب معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ دوست نے بتایا کہ 'افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تعلیم یافتہ اور بظاہر مہذب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی محفل تھی'۔
ریپ سے متعلق 'لطائف' کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ مغرب میں ’می ٹو‘ مہم کے بعد اس موضوع پر خاص طور پر بات کی گئی جہاں ریپ کو سٹینڈ اپ کامیڈیز میں ’پنچ لائن‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً سٹینڈ اپ کامیڈین جمی کار نے ایک شو کے دوران کہا، 'دس میں سے نو لوگ کیا انجوائے کرتے ہیں؟ گینگ ریپ!'
یہاں یعنی جنوبی ایشیا میں، ریپ، متاثرہ شخص کے لیے گالی بھی ہے اور عمر بھر ان کی تذلیل اور تضحیک کا ایک ذریعہ بھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کی پرنما شل تیرہ برس کی تھیں جب ان کا گینگ ریپ کیا گیا۔ درجنوں افراد گرفتار ہوئے اور گیارہ کو سزا ہوئی۔ واقعے کے پندرہ برس بعد پرنما شل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان تجربات کا ذکر کیا کہ کس طرح لوگ کئی سال گزرنے کے بعد بھی انہیں طعنوں، بدگوئی کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کو مزاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ 'جنسی حملے کا نشانہ بننے والے افراد بے توقیر ہوتے ہیں'۔
'میں گلی میں نہیں نکل سکتی تھی کیونکہ لوگ میری جانب اشارہ کر کے کہتے تھے، یہ تو وہی لڑکی ہے۔'
یہ دنیا کے کئی ممالک میں ریپ کا شکار عورت یا مرد کے خلاف ایک عمومی رویہ ہے۔ ریپ سے متعلق لطائف سنائے جاتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ریپ ایک جرم ہے اور اس کا نشانہ بننے والے شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف سے گزرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں سوشل میڈیا پر پیر سے یہی بحث جاری ہے اور اس کی بنیاد وہی ویڈیو ہے جس کا ذکر اس تحریر کے آغاز میں کیا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان جملوں کا نشانہ بننے والا صحافی نہایت ’ان کمفرٹیبل‘ ہے اور انہیں بار بار تنبییہ کر رہا ہے کہ وہ الزام دہرا رہے ہیں جو انہیں ثابت کرنا ہوگا اور یہ کہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ تاہم ان تینوں صحافیوں پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ مسلسل مبینہ ریپ وِکٹم کا مذاق اڑاتے ہیں۔
صحافی عمران ریاض خان، مذکورہ صحافی سے متعلق کہتے ہیں کہ ان کا الزام ہے کہ ان کا فوجی بیرک میں ریپ ہوا۔ اس پر مزید جملے کسے جاتے ہیں اور وہاں موجود دیگر لوگ ہنستے ہیں۔
سمیع ابراہیم کو ویڈیو میں ہنستے ہوئے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'میں تو اس سے کہتا ہوں چادر اور چار دیواری کے تقدس پر بات کرو کیونکہ تم وکٹم ہو اس کے۔ مگر یہ نہیں مانتا'۔ اس جملے پر وہاں موجود سب لوگ ایک بار پھر ہنس پڑتے ہیں۔ انہیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'میں نے تمہاری فوٹو دیکھی ہے، تم بچپن میں بہت کیوٹ تھے۔'
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو عمران ریاض خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ صحافی پر 'الزام سمیع ابراہیم نے لگایا اور میں نے اسے ایسے ہی دہرایا جیسے (وہ صحافی) لوگوں کے ساتھ کرتا ہے'۔
تاہم سمیع ابراہیم کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ ایسا الزام لگایا اور نہ ہی ریپ کا لفظ استعمال کیا، بلکہ یہ الزام عمران ریاض خان نے لگایا۔
نامہ نگار تابندہ کوکب نے جب ان سے سوال کیا کہ ان کے جملے ریپ سے متعلق غیرحساس قرار دیے جا رہے ہیں، کیا ریپ ایسا موضوع ہے جس پر ہنسی مزاح ہو سکے؟ تو انہوں نے کہا کہ 'اس پر ہنسی مزاح کی بات نہیں ہے۔ ریپ سے بڑا جرم کوئی نہیں۔ اس وقت (وہ صحافی) غصے میں تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ آپ اپنے باپ کے نہیں، ہمیں 'پش' کر رہے تھے تو اس کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے گفتگو ہلکے پھلکے انداز میں کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس کا ریپ جیسے جرم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر یہ تاثر گیا ہے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ ریپ، انسانی حقوق، بچوں پر تشدد جیسے معاشرتی مسائل پر کوئی شخص ان کو ہلکا نہیں لے سکتا'۔
اینکر پرسنز کی جانب سے جن صحافی کو نشانہ بنایا گیا انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے ساتھ کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر ریپ کو کسی کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کرنے پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
بلاگر عمائمہ احمد نے لکھا کہ یہ ویڈیو خوفناک ہے اور ان کی دعا ہے کہ کسی کو بھی ایسے رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور 'کاش خواتین کے حصے میں بھی اتنی ہی سپورٹ آتی'۔
اینکر ابصا کومل نے ٹویٹ کی کہ 'جواب دینے کی بجائے ذومعنی الزامات، دونوں نام نہاد اینکر ہنس رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادتی جیسا حساس موضوع ان کے لیے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ '
شمع جونیجو نے بھی اس پر بات کی اور کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر انہیں دھچکا لگا ہے کہ کیسے لفظ ریپ ایک انسان کی تحقیر کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ ’کسی کو اس کے تلخ تجربے یا ٹراما کی یاددہانی کرانا ایک مذاق ہے؟‘
صارف ماہین غنی نے لکھا کہ مردوں کو ریپ سے متعلق لطیفے گھڑتے دیکھنے سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی نہیں ہے۔ 'یہ اندر اور باہر کی غلاظت ہے۔'
اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ویڈیو سب کے سامنے ہے اور اس پر بعدازاں سامنے آنے والا موقف اور صارفین کا ردعمل بھی۔ مگر اس ویڈیو نے یہ حقیقت بھی کھول دی ہے کہ کیسے معاشرے میں ریپ کا شکار افراد کو طنز و مزاح کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان رویوں سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو بچپن میں ریپ کا نشانہ بنے یا وہ جو پہلے ہی اس بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔