آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریپ ڈرگ: کیا جی ایچ بی دوا ریپ کرنے والوں کا پسندیدہ ہتھیار ہے؟
- مصنف, ہیزل شیئرنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
رین ہارڈ سناگا جب کسی شکار کو اپنے فلیٹ میں لاتے تو وہ ان پر تشدد کرنے سے قبل انھیں دوا دے کر بے ہوش کر دیتے تھے۔
اس شخص کو برطانیہ کا سب سے بڑا ریپ کرنے والا کہا گيا ہے جسے 159 جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
انھیں قصوروار ٹھرائے جانے کے بعد برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے جی ایچ بی جیسی ادویات پر کنٹرول لگانے کی اپیل کی ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
جی ایچ بی کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہر چند کہ اسے بعض اوقات ریپ کرنے کی دوا کہا جاتا ہے لیکن جی ایچ بی (گاما-ہائیڈروکسیبوٹائریٹ) کو در حقیقت مزے کے لیے رضامندی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ دوا عموماً ہم جنس پرست مرد استعمال کرتے ہیں لیکن یہ مختلف جنسوں کے ساتھ پارٹی سیکس کے لیے بھی مقبول ہے۔
لیکن ریپ کرنے والے جی ایچ بی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے ایک سروے میں شامل ہونے والے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد نے کہا ہے کہ ان پر بے ہوشی کے دوران جنسی تشدد ہوا ہے۔
جی ایچ بی ایک علیحدہ دوا ہے لیکن یہ جی بی ایل (گاما-بوٹائرولیکٹون) کی طرح کا مادہ ہے جو قانونی طور پر صنعتی محلول کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے لیکن جب یہ جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ جی ایچ بی بن جاتا ہے۔
ایک ساتھ ان دواؤں کو ’جی‘ کے طور پر جانا جاتا ہے اور دونوں ہی صاف، بے بو، روغن کی شکل میں آتا ہے اور اسے سافٹ ڈرنکس میں ملا کر نگل لیا جاتا ہے۔
یہ کیا کام کرتی ہے؟
’جی‘ اپنے استعمال کرنے والوں کو سرمستی کا احساس دلاتی ہے اور ان کے اندر جنسی خواہشات کو بھڑکا سکتی ہے۔ لیکن اس کی خوراک میں ذرا سی بھی زیادتی یعنی ایک ملی لیٹر سے بھی کم کی زیادتی مہلک ہو سکتی ہے۔
’جی‘ کی خوراک کا زیادہ ہونا بہت آسان ہے بطور خاص جب اسے الکوحل یا دوسری دوائیوں کے ساتھ ملایا جائے یا پھر جب بوتل کی ساخت مختلف ہو۔ اس کے سبب لوگ بہک سکتے ہیں، تشنج کا شکار ہو سکتے، ہوش کھو سکتے ہیں یہاں تک کہ سانس بالکل بند ہو سکتی ہے۔
گلوبل ڈرگ سروے کے بانی اور ماہر نفسیات پروفیسر ایڈم ون سٹاک نے متنبہ کیا ہے کہ ’یہ ایک ایسی دوا ہے جس سے بہت زیادہ خطرات جڑے ہیں (خاص کر) جب لوگ اسے موج مستی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’اگر آپ ایک قطرہ بھی زیادہ لے لیتے ہیں تو 20 منٹ بعد آپ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔‘
جی ایچ بی سے کتنی اموات ہو چکی ہیں؟
برطانیہ کے قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں سنہ 2014 سے 2018 کے درمیان 120 ایسی اموات ہو چکی ہیں جس میں جی ایچ بی کی شمولیت نظر آئی ہے۔
لیکن مجموعی نمبر اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ اچانک موت واقع ہونے کے بعد کی معمول کی ٹاکسیکالوجی کے ٹیسٹ میں جی ایچ بی شامل نہیں ہے۔
پروفیسر ون سٹاک کے مطابق جسم میں اس دوا کی موجودگی کا پتا چلانا مشکل اور خرچیلا ہو سکتا ہے۔
اور جنسی تشدد؟
اسی طرح یہ بھی پتا چلانا مشکل ہے کہ کتنے جنسی تشدد کے واقعات کا تعلق جی ایچ بی کے ساتھ ہے۔
سیناگا کے قصور وار ٹھہرائے جانے سے قبل سب سے بڑا مقدمہ سیریئل قاتل سٹیفن پورٹ کا تھا جنھیں سنہ 2016 میں چار نوجوان کو دوا کی مہلک مقدار دے کر قتل کرنے کے لیے عمر قید ہوئی تھی۔
بزفیڈ نیوز اور برٹش ٹی وی چینل فور کے پروگرام ڈسپیچ نے گذشتہ سال جو سروے کرایا اس میں شامل ہونے والے جن 2700 ہم جنس پرست اور بائی سیکسوئل افراد نے ’جی‘ کے استعمال کی بات کہی۔
ان میں سے 28 فیصد افراد نے کہا کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گيا۔
بزفیڈ نیوز میں ایل جی بی ٹی کے مدیر پیٹرک سٹرڈوک اور چینل فور کے ڈاکومینٹری ’سیکس، ڈرگز اینڈ مرڈر‘ کے میزبان نے کہا سنہ 2020 میں ’جی‘ ریپ کرنے والوں کے پسند کا ہتھیار ہو گا۔
انھوں نے کہا: ’کیونکہ اسے کسی کے مشروب میں ان کے علم کے بغیر ملایا جا سکتا ہے اور یہ بہت آسانی سے بے ہوش کر سکتا ہے اس لیے یہ شکاریوں کے بہت تیار چیز ہے۔‘
پروفیسر ون سٹاک نے کہا کہ کس پیمانے پر یہ استعمال کیا جا رہا اس کا جاننا اس لیے بھی مشکل ہے کہ اس کا شکار ہونے والے عام طور پر پولیس میں شکایت نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا: ’لوگ اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں کہ کیا ہوا، کیا واقعی کوئی جرم ہوا، اس کے علاوہ شرمندکی، ندامت اور خوف سب چیز مل کر اس کے انکشاف میں مانع ہوتے ہیں۔'
بعض اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ ان کی جانچ ڈرگز کے سلسلے میں بھی نہ ہونے لگے۔
کیا اس کی لت لگتی ہے؟
جی پر انحصار بہت جلدی ہو جاتا ہے اور پروفیسر ون سٹاک کا کہنا ہے کہ جس نے بھی اسے روزانہ لینا شروع کر دیا ہے وہ بغیر طبی مشورے کے اسے نہ چھوڑے
ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ اس پر جسمانی طور پر منحصر ہو سکتے ہیں اور اس کا چھوڑنا مہلک ہو سکتا ہے۔‘
جی کو مستقل طور سے زیادہ عرصے تک لینے کے اثرات کا ابھی علم نہیں ہے۔
یہ کس قدر عام ہے؟
دوسری کئی غیر قانونی ادویہ کے مقابلے میں ’جی‘ کے پھیلاؤ کا پتہ چلانا مشکل ہے کیونکہ یہ برطانیہ کے ڈرگز کے استعمال کے سروے میں شامل نہیں ہے۔
لیکن سٹرڈوک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جی کا ملنا بہت آسان ہے اگر آپ کو پتا ہے کہ اس کہاں تلاش کرنا ہے کیونکہ ’قانونی کمیوں‘ کے سبب جی بی ایل دوسری چیزوں کے ساتھ صنعتی استعمال کے لیے فروخت کیا جاتا جس سے پینٹ وغیرہ چھرایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کمپنیاں اسے برطانیہ پہنچا رہی ہیں اور اس کے آن لائن اشتہار ہیں، ایک بار بڑی مقدار میں فروخت ہو جائے تو اسے پھر تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ڈیلرز انھیں گرنڈر جیسی ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے تھوڑی تھوڑی مقدار میں فروخت کر سکتے ہیں۔‘
یہ کہاں سے آتا ہے؟
جی ایچ بی کو سنہ 1960 کی دہائی میں اینستھیزیا کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن اس کے منفی اثرات کے سبب اسے ترک کر دیا گيا تھا۔
سنہ 1980 کی دہائی میں اسے نیند میں مدد کے طور پر اور جسم کو مضبوط بنانے کے لیے دیا جانے لگا۔
کیا یہ غیر قانونی ہے؟
جب سے اسے دوا کے غلط استعمال کے زمرے میں شامل کیا گيا ہے برطانیہ میں جی ایچ بی کو سی درجے کی دوا میں سنہ 2003 سے رکھا گیا ہے۔
ہر چند کہ صنعت میں جی بی ایل کو قانونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسے بھی سنہ 2009 کے بعد سی درجے میں رکھا گیا ہے اور جو کوئی بھی اسے یہ سمجھ کر فراہم کرتا ہے یا رکھتا ہے کہ اسے کھایا جا سکتا ہے تو یہ قانون توڑنا ہے۔
اس دوا کا رکھنا دو سال کی جیل اور غیر محدود جرمانے کا باعث ہو سکتا ہے جبکہ اس کی فراہمی پر 14 سال کی جیل جرمانے یا بغیر جرمانے کے ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر ون سٹاک کا کہنا ہے کہ اس کا درجہ بڑھانے سے اس کے استعمال پر ’کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ اور یہ لوگوں کو مدد طلب کرنے میں مانع ہو گا۔
اس کی جگہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت لوگوں کو اس کے متعلق معلومات فراہم کرے تاکہ اس کا محفوظ استعمال ہو سکے اور ایمانداری سے اس کے متعلق بات کو فروغ دیا جائے۔
ایرک مچیل کی فیملی جو کہ سنہ 2018 میں جی ایچ بی کی زیادہ خوراک سے ہلاک ہو گئی وہ اس کے بعد سے یہ مہم چلا رہے ہیں کہ اسے اے درجے میں پھر سے شامل کیا جائے۔
یہ درجہ برطانیہ میں دواؤں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔
ان کے بیٹے سیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعتاً بہت خطرناک دوا ہے جس نے بہت سے لوگوں کو ان کے والد سمیت ہلاک کر دیا ہے۔