برطانیہ کے ’سب سے خطرناک ریپ کے مجرم‘ کی شناخت ظاہر کر دی گئی

برطانیہ میں 159 جنسی حملوں کے مجرم کی ایک تازہ مقدمے کے اختتام پر شناخت ظاہر کر دی گئی ہے۔

ان 159 حملوں میں 136 ریپ تھے۔

اِس مقدمے میں رین ہارڈ سناگا نامی شخص پر یہ الزام ثابت ہوا ہے کہ اس میں 48 مرد ایسے تھے جنھیں وہ ’بہلا پھسلا کر اپنے فلیٹ‘ لے گیا تھا۔

پولیس کے مطابق شہادتیں موجود ہیں کہ سناگا نے اب تک کم از کم 190 افراد کو نشانہ بنایا۔

36 سالہ رین ہارڈ سناگا پہلے ہی دو مقدمات میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے جس میں اسے کم از کم 20 سال جیل میں گزارنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں رہائش پزیر انڈونیشیا کے شہری رین ہارڈ سناگا کو چار مختلف مقدمات میں 136 ریپ، آٹھ اقدامِ ریپ اور 14 جنسی حملوں کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سناگا کو کم از کم 30 سال جیل میں رہنا ہو گا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اِس مقدمے کی ذرائع ابلاغ میں رپورٹنگ پر پابندی بھی اٹھا لی ہے جس کے بعد سناگا کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے جج سوزین گوڈرڈ نے کہا کہ سناگا ’ایک شیطان صفت جنسی شکاری ہے جسے کبھی بھی رہا کرنا خطرناک ہوگا‘۔

'تم نے یہ جرائم کس پیمانے پر کیے شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے۔'

سناگا کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ وہ نائٹ کلبوں اور شراب خانوں سے باہر نکلنے والے مردوں کا انتظار کرتا تھا اور پھر انھیں اپنے فلیٹ میں لے جاتا تھا۔ وہ اپنے شکار کو شراب یا ان کے لیے ٹیکسی منگوانے کی پیشکش کرتا تھا۔

وہ متاثرہ افراد پر جنسی حملہ کرنے سے پہلے اُنھیں بے ہوشی کی دوا دے دیتا تھا۔ جاگنے کے بعد متاثرہ افراد میں سے اکثر کو یاد نہیں ہوتا تھا کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

ایک دوسرے مقدمے میں جج نے کہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ سناگا نے اِس کام کے لیے جی ایچ بی جیسی کوئی 'ڈیٹ ریپ ڈرگ' استعمال کی ہوگی۔

مقدمے کے دوران سناگا کے متاثرین کے بیانات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ ایک متاثرہ شخص نے اپنے بیان میں کہا کہ سناگا نے اُن کی زندگی کا ایک حصہ تباہ کر دیا۔ جبکہ ایک دوسرے شخص نے امید ظاہر کی کہ ’وہ کبھی جیل سے باہر نہ آئے اور جہنم میں سڑتا رہے‘۔

کئی متاثرین نے کہا کہ اُن کی ذہنی صحت پر انتہائی برے اثرات پڑے ہیں جبکہ کچھ نے کہا کہ اُن کے ذہنوں میں خودکشی کی خواہش بھی پیدا ہوئی۔

مقدمے کے فیصلے کے بعد کراؤن پروسیکیوشن سروس سے وابسطہ این رشٹن نے کہا کہ ’سناگا برطانیہ کی تاریخ میں سب سے خطرناک ریپسٹ ہے اور ممکنہ طور پر پوری دنیا میں بھی سب سے خطرناک ہو سکتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’سناگا کو ایسے مردوں کو نشانہ بنانے میں ایک خاص طرح کا مزا آتا تھا جو عورتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔'

سناگا گرفتاری سے پہلے یونیورسٹی آف لیڈز سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ اُس نے یہ جنسی حملے کئی برسوں کے دوران کیے۔

سناگا کو جون 2017 میں گرفتار کیا گیا جب اس کا شکار بننے والا ایک شخص حملے کے دوران ہوش میں آ گیا اور اُس نے مزاحمت کی اور پولیس کو بلا لیا۔

جب پولیس نے سناگا کا موبائل فون اپنے قبصے میں لیا تو انھیں سینکڑوں گھنٹوں کی فوٹیج ملی جو سناگا نے اپنے جنسی حملوں کے دوران بنائی تھی اور یہی برطانیہ کی تاریخ میں ریپ کی سب سے بڑی تحقیقات کی وجہ بنی۔

اسسٹنٹ پولیس کانسٹیبل مابس حسین کا کہنا ہے کہ سناگا کے جرائم کی صحیح تعداد اور نوعیت شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے۔

'ہمیں شبہ ہے کہ وہ یہ کام دس سال سے زیادہ عرصے سے کر رہا تھا۔ ہم جس معلومات اور شواہد کا اِس وقت جائزہ لے رہے ہیں وہ زیادہ تر شکار ہونے والے افراد کے سامان کی ہے جو سناگا نے جمع کر رکھا تھا۔'

تفتیش کاروں نے سناگا کے فون سے ملنے والی ویڈیوز اور اُس کے فلیٹ سے ملنے والی اشیاء مثلاً چوری کیے گئے فون، آئی ڈی کارڈز اور گھڑیوں کی مدد سے درجنوں متاثرہ افراد کا سراغ لگایا۔

سناگا کا مقدمہ مانچسٹر کراؤن کورٹ میں تقریباً 18 مہینے چلا جن میں تمام الزامات پر سناگا کو ججوں نے متفقہ طور پر مجرم قرار دیا۔

تفتیش کاروں کے مطابق وہ 70 افراد کی شناخت نہیں کر پائے ہیں اور ایسے افراد سے سامنے آنے کے لیے اپیل کر رہے ہیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ شاید وہ بھی سناگا کا شکار ہوئے تھے۔