آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کی قدیم صنعت قانونی دائرے میں شامل کیوں نہیں ہو پا رہی؟
- مصنف, اسلام گل آفریدی
- عہدہ, صحافی
درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ محمود آفریدی اپنے گھر میں ہی قائم چھوٹے سے کارخانے میں اپنے دو بیٹوں اور بھائیوں کے ساتھ رائفل میں استعمال ہونے والی گولیوں کے میگزین بنانے کا کام کرتے ہیں۔
یہ محمود آفریدی کا آبائی ذریعہ معاش ہے۔ بچپن میں جب وہ سکول میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت بھی وہ اپنا آدھا دن اپنے والد کے ساتھ اسی کام میں مصروف رہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دسویں تک کی تعلیم بھی مکمل نہ کر پائے۔
اب اُن کے بیٹے بھی اسی پیشے سے منسلک ہیں مگر محمود چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش ڈھونڈ لیں، لیکن محمود ہی کے مطابق اگر یہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سے شمال مغرب کی طرف تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سابق قبائلی علاقہ درہ آدم خیل چھوٹے اسلحے کی صنعت کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معروف ہے۔
اس علاقے میں اسلحہ گھروں اور بازاروں میں تیار کیا جاتا ہے۔ اسلحہ سازی کا یہ کام یہاں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اب تک اس کاروبار کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی تھی۔
مئی 2018 میں قبائلی علاقوں کے انضمام سے پہلے اور بعد میں حکومت کے طرف سے اس صنعت کو قانونی دائرے میں شامل کرنے کے لیے کئی منصوبوں کے اعلان ہوئے تاہم ایک پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔
آخری بار 31 ستمبر 2019 کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے دورہِ درہ آدم خیل کے موقع پر مقامی عمائدین اور سیاسی قیادت کے مطالبے پر اعلان کیا تھا کہ حکومت پورے درہ آدم خیل کے علاقے کو اکنامک زون کا درجہ دے گی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبد الکریم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ درہ آدم خیل اکنامک زون کے لیے اخوارل کے علاقے ’آزاد میلہ‘ کے مقام پر چار سو کنال زمین کی نشاندہی کرائی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے بقول مقامی لوگوں نے اس پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اگر وہ زمین کی قیمت وصول کر لیتے ہیں تو پہلے سے موجود کوئلے کی کانوں پر اُن کے مالکانہ حقوق ختم ہو جائیں گے۔
عبدالکریم خان کا کہنا ہے کہ درہ آدم خیل کو اکنامک زون کا درجہ دینے کے لیے 11 کور،صوبائی وزارت داخلہ، ضلعی انتظامیہ اور مقامی عمائدین پر مشتمل ایک کمیٹی کام کر رہی ہے لیکن اسلحہ سازی کے عمل پر نظر رکھنا اور غیر قانونی خرید و فروخت کی روک تھام انتہائی مشکل کام ہے۔
قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اسلحہ سازی کی صنعت اور اس کی خرید و فروخت میں قانونی پیچیدگیاں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
شاہنواز آفریدی گذشتہ 30 سال سے چھوٹے اسلحے کے کاروبار کرتے ہیں تاہم موجودہ وقت میں حکومت کی طرف سے درہ آدم خیل کو اکنامک زون بنانے کے لیے جاری مشاورت کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ مقامی صنعت کاروں کو اس عمل سے الگ رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے تاجر برادری باہر سے مسلط کیے گئے فیصلے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سمال انڈسٹری ڈویلپمنٹ بوڑد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت کو انڈسٹریل سٹیٹ کا درجہ دینے کے لیے سنہ 2017 سے کام جاری ہے۔
ان کے مطابق ضلع پشاور اور ایف آر پشاور کے سنگم پر واقع رحیم آباد میں پچاس ایکڑ زمین خریدی گئی جس کی مالیت 147.26 ملین روپے تھی جبکہ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے سنہ 2017 کے اواخر میں 130 ملین جبکہ 18 ملین چند مہینے بعد پشاور ڈپٹی کمشنر پشاور کے حوالے کیے گئے۔
عہدیدار کے مطابق مذکورہ منصوبہ حکومت نے اس وجہ سے ختم کر دیا کہ درہ آدم خیل میں اسلحے کے کاروبار سے وابستہ افراد نے اپنے علاقے سے باہر جانے سے انکار کیا اور موقف اپنایا کہ وہ نئی مشینری اور پلاٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے جبکہ بڑی تعداد میں گھروں کے اندر خواتین اور بچے بھی اسی روزگار سے منسلک ہیں۔
رحیم آباد میں زمین کی قیمت بروقت ادا نہ کرنے اور انڈسٹری کے تعمیر میں تاخیر پر زمین مالکان نے پشاور ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا جس پر عدالت نے حکومت کو انڈسٹریل سٹیٹ درہ آدم خیل میں تعمیر کرنے کا حکم جاری کیا۔
سرکاری سطح پر درہ آدم خیل میں دو مزید مقامات کی نشاندہی کرائی گئی لیکن اُس پر بھی مختلف مسائل کی وجہ سے منصوبے شروع نہ ہو سکے۔
موجودہ منصوبے کے بارے میں اُنھوں نے بتایا کہ آگر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے تو ادارے کے طرف سے صنعت کاروں یا کاروباری افراد کو کسی قسم کے مراعات دینا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ درہ آدم خیل کے تقریباً پندرہ مربع کلومیٹر کے علاقے میں اسلحے سازی کی صنعت قائم ہے تو کیسے بجلی، گیس اور سڑکوں کی سہولت مہیا کریں گے۔
یاد رہے کہ قبائلی اضلاع میں اب تک گھریلو استعمال کے لیے مکمل طور پر بلوں کا نظام موجود نہیں تاہم بعض مقامات پر کمرشل استعمال کے لیے بلوں کا نظام رائج کیا گیا ہے۔
درہ آدم خیل میں کس قسم کا اسلحہ تیار کیا جاتا ہے؟
درہ آدم خیل میں کئی اقسام کا چھوٹا اسلحہ جن میں 30 بور، 32 بور، آٹھ ایم ایم، سات ایم ایم، کلاشنکوف اور شکار میں استعمال ہونے والا اسلحہ بنایا جاتا ہے۔ اس جدید دور میں بھی کاریگر اسلحہ سازی کا زیادہ تر کام ہاتھ ہی سے کرتے ہیں۔
اویس میر کلاشنکوف کے کاریگر ہے۔ اُنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ نو سال سے مارکیٹ کی بجلی کاٹ دی گئی ہے جس کی وجہ سے کام کرنے میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اُن کے بقول بعض لوگوں نے جنریٹر اور سولرسسٹم کا بندوبست کیا ہوا ہے لیکن یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ یہاں کے کاریگر ہر وہ اسلحہ بناتے ہیں جس کی قانونی اجازات یا لائسنس حکومت جاری کرتی ہے جن میں 9 ایم ایم، 30 بور پستول، کلاشنکوف، رپیٹرر، ایم 16 اور شکار میں استعمال ہونے والا اسلحہ شامل ہے۔
اس علاقے میں کتنے لوگ اسلحہ سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں؟
ملک فیصل آفریدی کو 22 سال پہلے اسلحے کا کاروبار وارثت میں ملا تھا۔ موجودہ وقت میں سرکاری سطح پر اسلحہ سازی کی صنعت کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے وہ اپنی تاجر برادری اور بحیثیت سیاسی رہنما نمائندگی کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق درہ آدم خیل میں اسلحے کی صنعت 70 ہزار افراد کے لیے کمائی کا ذریعہ ہے جبکہ اس سے منسلک دو سو کے قریب مارکیٹیں ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ علاقے میں 250 سے زیادہ چھوٹے بڑے کارخانے کام کر رہے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بعض کارخانے بند پڑے ہیں۔ اُن کے بقول دکان کے کرائے اور دیگر اخراجات کی وجہ سے اسی فیصد لوگ گھروں میں ہی کام کرتے ہیں۔
مقامی آفریدی قبائل کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس صنعت سے منسلک ہیں۔
’دہشت گردی کی لہر سے صنعت کو کافی نقصان پہنچا‘
اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی قیصر جمال آفریدی کا کہنا ہے کہ علاقے میں بدامنی اور انتہا پسندی کی وجہ سے سنہ 2008 سے سنہ 2016 تک مکمل طور پر کاروبار بند رہا تھا جس کی وجہ سے اسلحہ سازوں کو بڑا نقصان ہوا۔
اُن کے بقول مقامی لوگ دوسرے شہروں کو نقل مکانی کر گئے تاہم نقل مکانی کرنے والے افراد وہاں پر دوسرے کاروبار شروع نہ کر سکے اور واپس اسلحہ سازی کے کاروبار کی طرف لوٹ آئے۔
70 سالہ شاہ گل روایتی اور مغل دور کے ہتھیار بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق افغان روس جنگ میں یہاں پر اسلحے کے کاروبار بہت اچھا تھا لیکن 2008 سے پہلے علاقے میں بدامنی کی لہر میں لوگوں کے دوکانیں لُوٹ لی گئیں۔
ان کے مطابق تاجر برادری سب کچھ چھوڑ کر چلی گئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ انتہائی مشکل سے لوگوں نے دوبارہ کاروبار شروع کیا لیکن ساتھ بازار کے مختلف اطراف میں سکیورٹی چیک پوسٹوں کی وجہ سے گھروں میں تیار کیے گئے اسلحے کے پرزہ جات کو بازار تک لانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کیا درہ آدم خیل کے صنعت کار دیگر مارکیٹوں میں اسلحہ بیچ سکتے ہیں؟
علاقے کے ایک مشہور صنعت کار حاجی بازگل آفریدی نہ صرف درہ آدم خیل بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں اسلحے کا کاروبار کرتے ہیں۔
حاجی گل باز جو اسلحہ فروخت کرتے ہیں اُس کا ریکارڈ اپنے پاس رکھتے ہیں کہ کتنی مقدار میں بنایا گیا اور کس کو بیچا گیا تاہم یہ تفصیل حکومت کے پاس جمع کرنے کا کوئی نظام موجودہ نہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہاں کے مقامی تاجروں کو اب تک حکومت کے طرف سے اسلحے کے کاروبار کے لیے قانونی اجازت نامہ یا لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پشاور میں لائسنس رکھنے والے تاجروں کو اسلحہ بھیج دیا جاتا ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کر کے نہ صرف ملک کے مختلف بڑے شہروں تک پہنچاتے ہیں بلکہ بیرونی ممالک کو برآمد بھی کر لیتے ہیں۔
شاہنواز درہ آدم خیل کے پہلے تاجر تھے جنھوں نے 2012 میں صوبائی وزارت داخلہ سے ملک میں اسلحہ بھیجنے کا لائسنس حاصل کر لیا تھا اور پشاور ریلوے سٹیشن سے ایک بیلٹی فیصل آباد بھیجی تھی تاہم بعد میں متعلقہ ادارے نے اس وجہ سے ان کا لائسنس منسوح کر دیا کہ یہ قبائلی علاقے انتظامی طور پر وفاق کا حصہ ہیں۔
اسلحہ سازی کی صنعت کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے مخالفت کیوں؟
مقامی لوگوں سے بات چیت میں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اکنامک زون کے فیصلے کے حوالے سے زیادہ تر لوگ لاعلم تھے اور انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے صرف اخبارات یا میڈیا میں خبریں سُنتے ہیں، باقی علاقے میں اس حوالے سے کوئی مشاورتی عمل نظر نہیں آتا۔
عبدالکریم خان نے بتایا کہ درہ آدم خیل کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں قائم چھوٹی اور گھریلو صنعت کو اکنامک زون کا درجہ دینے کے لیے صوبائی سطح کام جاری ہے جن میں چارسدہ کی چپل کی صنعت، سوات میں سلام پور کے کپڑے کی صنعت وغیرہ شامل ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ درہ اکنامک زون کے حوالے سے مقامی افراد کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ اس منصوبے سے ان کو کیا فائدہ حاصل ہو گا۔
اُن کے بقول اگر مذکورہ منصوبے پر کام کیا جاتا ہے تو اس سے لوگوں کو بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے، اسلحہ کے معیار کو عالمی سطح پر لانے، اندرونِ ملک اور بیرونی منڈیوں تک رسائی میں مدد فراہم کرنا ہو گی۔
صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کو قانونی حیثیت دینے کا کام جاری ہے تاکہ اس حوالے سے ملک میں موجود قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
شاہ فیصل آفریدی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اسلحہ لائسنس پر بنانے اور بیچنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ لوگوں کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں کہ وہ اس کاروبار کے لیے یہ سب کچھ کر سکیں۔
عالمی اعداد شمار کے مطابق چھوٹے اسلحہ بنانے میں پاکستان 15ویں نمبر پر ہے۔
پاکستان ہنٹنگ و سپورٹنگ آرمز ڈویلپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر آپریشن طاہر خٹک کا کہنا ہے کہ ملک میں چھوٹے اسلحہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صنعت کاروں کے لیے جدید مشینری کی ضرورت ہے۔
اُن کا کہنا ہے اب تک پاکستان کی بنی ہوئی بہتر معیار کی بنیاد پر آٹھ مختلف مصنوعات کی امریکہ سے تصدیق ہو چکی ہیں۔