آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہروز کاشف: براڈ بوائے کے نام سے معروف پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیما نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ’مکالو‘ بھی سر کر لی
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
13 سالہ وہ بچہ جسے شمشال میں ’منگلک سر‘ سر کرنے والے مہم جو ’بہت چھوٹا‘ سمجھ کر ساتھ لے جانے پر تیار نہ تھے۔۔۔ اس نوجوان کا پہاڑوں سے عشق بڑھتا ہی جا رہا ہے اور آج 20 سال کی عمر میں اسی شہروز کاشف نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ مکالو (8463 میٹر) بھی سر کر لی ہے۔
شہروز کاشف کے والد کاشف سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح 6:56 بجے شہروز کاشف نے نیپال اور تبت کے بارڈر پر واقع مکالو کو سر کر لیا ہے۔ شہروز اس وقت سیف زون میں ہیں اور بیس کیمپ کی جانب ان کا سفر جاری ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں، دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے ہیں۔ شہروز 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے سات کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی سات چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔
23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز
وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور آج پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔
اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔
پروجیکٹ 345: ’سوچتا تھا ایک ہی چوٹی سر کرکے لوگوں کی حالت خراب ہو جاتی ہے، یکے بعد دیگرے تین چوٹیاں کیسے سر کرے گا‘
شہروز کاشف چھنگ داوا شرپا کی کمپنی سیون سمٹ ٹریکس (ایس ایس ٹی) کی ٹیم کا حصہ تھے اور ان کے والد کے مطابق وہ باقی چوٹیاں بھی اسی ٹیم کے ساتھ رہتے ہوئے سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہروز کے والد بتاتے ہیں کہ جب ان کے بیٹے نے اس پروجیکٹ کا بتایا تو میں سوچتا رہتا تھا ’ایک ہی چوٹی سر کرنے کے بعد لوگوں کی حالت خراب ہو جاتی ہے، یہ یکے بعد دیگرے تین چوٹیاں کیسے سر کرے گا؟ مگر شہروز کہتا تھا ’پاپا کر لوں گا‘ اور آج مجھے بہت فخر ہے کہ شہروز نے ’پروجیکٹ 345‘ بھی کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
’پاپا، امی آپ لوگ تو ایسے ہی گھبرا جاتے ہیں یہ چہرے کے نشان کوہ پیماؤں کے لیے انعام ہوتے ہیں‘
کاشف سلمان کے مطابق جب 5 مئی کو شہروز کنچن جنگا (8586 میٹر) سر کرکے واپس آیا اور 22 گھنٹے بعد اس نے جو تصویر بھیجی اس میں اس کے چہرے کی حالت اور نشان دیکھ کر وہ اور شہروز کی والدہ رونے لگے۔
انھوں نے اسے سمجھایا کہ بس کرو، کچھ وقت آرام کر لو مگر اس نے کہا ’پاپا، امی آپ لوگ تو ایسے ہی گھبرا جاتے ہیں یہ نشان کوہ پیماؤں کے لیے انعام ہوتے ہیں۔‘
مکالو کے اس سمٹ سے قبل شہروز کاشف کا ایک اور خواب بھی پورا ہوا جب وہ وہاں اپنے آئیڈئل اطالوی ماؤنٹینر رین ہولڈ میسنرسے ملے اور گھر فون کرکے بتایا کہ ’آج زندگی کا آدھا مقصد پورا ہو گیا ہے۔‘
اگلے ڈیڑھ سال میں شہروز نیپال کے چھنگ داوا شرپا کا ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے
شہروز نے اب تک دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے سات کو سر کر لیا ہے، تو پروجیکٹ 345 کے بعد کس چوٹی کو سر کرے کا ارادہ ہے؟
ان کے والد کاشف سلمان کے کہتے ہیں کہ نیپال کے چھنگ داوا شرپا نے 30 سال کی عمر میں ساری چوٹیاں سر کی لی ہیں اس لیے شہروز چاہتا ہے کہ اگلے ڈیڑھ سال میں ساری چوٹیاں سر کر لے۔ لیکن کیا ڈیڑھ سال میں سات چوٹیاں سر کرنا ممکن ہے؟
کاشف سلمان کہتے ہیں کہ اگر وہ 23 دنوں میں تین چوٹیاں سر کر لیتا ہے تو باقی سات ڈیڑھ سال میں سر کرنا مشکل نہیں ہے لیکن اس کے لیے ’سپورٹ‘ چاہیے اور اب تک شہروز کو حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ اگر مالی مدد نہیں ملتی تو شاید اس میں کچھ وقت اور لگ سکتا ہے اور ڈیڑھ سال سے چھ مہینے سال زیادہ لگ بھی جائے تب بھی وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا کم عمر ترین کوہ پیما ہو گا۔
وہ بتاتے ہیں کہ صرف دو نجی کمپنیاں شہروز کو سپانسر کر رہی ہیں باقی سارا خرچہ کاشف سلمان خود اٹھا رہے ہیں۔
شہروز کا ارادہ اسی سال نانگا پربت سر کرنے کا ہے اور وہ جانے سے پہلے اس بارے میں بھی بات چیت کرکے گئے ہیں۔
کاشف سلمان بتاتے ہیں کہ جیسے سال اچانک ایک دن صبح اٹھ کر اس نے کہا تھا کہ ’مجھے خواب آیا ہے سب لوگ کے ٹو پر میرا انتظار کر رہے ہیں‘ اور وہ دو سے تین دن میں بغیر انتظامات اور پورٹر کے کے ٹو کی جانب چل پڑا تھا، اسے جو پورٹر ملا اس نے اسے ہائر کر لیا، بے شک وہ بعد میں چلا ہی نہیں۔۔۔ میں ڈرتا ہی رہا کہ اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا لیکن شہروز 'سُپر مین ہے۔۔۔ اسی طرح شاید اب واپس آ کر نانگا پربت سر کرنے نکل پڑے گا۔‘