اناپورنا پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے والے کوہ پیما: سرباز خان اور عبدل جوشی کو ’علی سدپارہ کے ساتھ ہونے والے حادثے سے ڈر نہیں لگا بلکہ حوصلہ ملا‘

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گلگت بلتستان میں شمشال کے سخت جان پہاڑوں میں پیدا ہونے والے عبدل جوشی کا خواب دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ’مناسلو‘ سر کرنے کا تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔

شاید قسمت لکھنے والا چاہتا تھا کہ یہ نوجوان کوہ پیما اپنے خواب کی شروعات دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی کو سر کرنے سے کریں۔

اور پھر انھیں اس خواب کی تعبیر بھی مل گئی۔ عبدل جوشی اور سرباز خان وہ پہلے پاکستانی کوہ پیما بن گئے ہیں جنھوں نے دنیا کی 10ویں بلند ترین اور آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی والی چوٹیوں میں سب سے خطرناک چوٹی ’اناپورنا‘ (8091 میٹر) کو سر کر لیا ہے۔

13 اپریل کو دونوں کوہ پیماؤں کی اناپورنا سر کرنے کی پہلی کوشش رسی نہ لگنے کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئی تھی اور اس کے بعد 14 اپریل کو بھی انھیں رسی ختم ہو جانے کے باعث کیمپ فوری لوٹنا پڑا تھا۔

اس کے بعد کھٹمنڈو سے ہیلی ڈوپنگ (ہیلی کاپٹر) کے ذریعے کیمپ فور میں 7,300 میٹر کی بلندی پر 800 میٹر رسی، آکسیجن سلنڈر، گیس اور خوراک پہنچائی گئی اور تیسری کوشش میں وہ کامیاب رہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے عبدل جوشی نے تصدیق کی کہ 16 اپریل جمعے کے دن مقامی وقت کے مطابق تقریباً دن کے ایک بجے دونوں کوہ پیماؤں کو سمٹ کی تیسری کوشش میں کامیابی ملی اور انھوں نے دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں سے ایک اناپورنا پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا ہے۔

حالیہ سمٹ کے دوران نیپالی شرپاؤں سمیت کل 67 کوہ پیماؤں نے اس چوٹی کو سر کیا ہے جسے ’ریکارڈ بریکنگ‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ اس دوران کوئی حادثہ یا اموات نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس سمٹ کی میزبانی اور انتظامات میں چنگ داوا شرپا اور منگ ما شرپا کی کمپنیوں ’سیون سمٹ ٹریک‘ اور ’ایمیجن نیپال‘ سرِفہرست تھیں اور پاکستانی کوہ پیما بھی ’ایمیجن نیپال‘ کا حصہ تھے۔

پہلی مرتبہ 8000 میٹر سے بلند کسی چوٹی کو سر کیا

اس مہم میں عبدل کے ساتھی کوہ پیما 33 سالہ سرباز خان نے اناپورنا سر کرنے سے قبل، پاکستان میں موجود تین بلند ترین چوٹیاں (کے ٹو، نانگا پربت اور بروڈ پیک) جبکہ دو نیپالی چوٹیاں (لہوٹسے اور مناسلو) بھی سر کر رکھی ہیں۔

لیکن 36 سالہ عبدل جوشی نے پہلی مرتبہ 8000 میٹر سے زیادہ بلندی والی کسی چوٹی کو سر کیا ہے اور انھوں نے آغاز بھی کیا تو دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی اناپورنا سے۔

سنہ 2015 میں جوشی نے کے ٹو سر کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن برفانی تودوں کے باعث انھیں کے ٹو سر کرنے کا خواب ادھورا چھوڑ کر کیمپ تھری سے لوٹنا پڑا تھا۔

اس کے بعد بھی وہ براڈ پیک اور گاشر برم ٹو سمیت کئی چوٹیاں سر کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن کبھی موسم کی خرابی تو کبھی برفانی تودوں کے باعث وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔

نیپال کے پوکھارا گاؤں سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبدل جوشی نے بتایا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں نے 8000 میٹر سے بلند کسی چوٹی کو کامیابی سے سر کیا ہے۔‘ ان کی خوشی ان کے لہجے سے نمایاں تھی۔

انا پورنا سر کرنے کا خیال کیسے آیا؟

میں نے جوشی سے پوچھا کہ کسی آسان چوٹی کو سر کرنے کے بجائے انھیں دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی، جس پر شرح اموات سب سے زیادہ (تقریباً 34 فیصد) ہے اور اسے سر کرنے کی کوشش کرنے والے ہر 10 میں سے تین کوہ پیماؤں کی موت ہو جاتی ہے، وہی چوٹی سر کرنے کا خیال کیوں آیا؟

جوشی بتاتے ہیں کہ دراصل ان کا ارادہ ’مناسلو‘ سر کرنے کا تھا اور چونکہ انھیں گرمیوں کے دوران پروفیشنل اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے اتنا وقت نہیں مل پاتا کہ 8000 میٹر سے زیادہ بلندی والی کسی چوٹی کو سر کرنے نکل سکیں، لہذا تقریباً ڈیڑھ مہینہ قبل انھوں نے اس بارے میں سرباز سے مشورہ کیا کہ مناسلو جانے کے لیے انھیں کوئی کمپنی تجویز کریں۔

سرباز نے جوشی کو بتایا کہ مناسلو کو خزاں کے موسم میں سر کرنا بہتر ہے اور بہار میں انھیں ’اناپورنا‘ یا ’دہولاگری‘ سر کرنے کی تجویز دی۔

یاد رہے ’مناسلو‘ دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 8156 میٹر ہے۔ یہ نیپال کے سلسلہ کوہ ہمالیہ میں گورکھا ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔ سنسکرت میں مناسلو کا مطلب ہے ’روح کا پہاڑ‘۔ جبکہ ’دہولاگری‘ دنیا کی ساتویں بلندی ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 8167 میٹر ہے اور یہ نیپال کے کوہ ہمالیہ سلسلے میں واقع ہے۔ دھولاگیری کا مطلب ہے ’سفید پہاڑ‘۔

اسی موقع پر سرباز سے جوشی سے کہا ’کیوں نہ ہم دونوں اناپورنا سر کرنے ساتھ چلیں؟‘ جس پر جوشی نے کہا ’ٹھیک ہے ساتھ چلتے ہیں‘ اور اس طرح جوشی نے اپنا مناسلو سر کرنے کا ارادہ بدل دیا۔

'علی سدپارہ کے ساتھ ہونے والے حادثے سے ہمیں ڈر نہیں لگا بلکہ بہت حوصلہ ملا'

جس وقت جوشی سرباز کے ساتھ مل کر اناپورنا سر کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، یہ وہی وقت تھا جب پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کے ٹو پر خطرناک حادثہ پیش آ چکا تھا اور پاکستان میں کوہ پیمائی سے وابستہ افراد کے دل ٹوٹ چکے تھے۔۔۔ ایسے میں دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی سر کرنے کا ادارہ کرنے والوں کو یقیناً آپ پاگلپن سے تشبیہ دیں گے۔

میں نے جوشی سے پوچھا کہ علی سد پارہ کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد کیا انھیں اتنے خطرناک پہاڑ سر کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے ڈر نہیں لگا؟

اس کے جواب میں جوشی کہتے ہیں ’ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ’جو ڈر گیا وہ مر گیا‘۔ علی بھائی ہمارے لیے ایک عظیم الشان مثال تھے اور ان کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا اس سے ہمیں ڈر نہیں لگا بلکہ بہت زیادہ حوصلہ ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انسان کو خود پر اعتماد ہونا چاہیے اور سب سے اہم یہ ہے کہ اپنی سکیورٹی کا بندوبست کر کے چلنا چاہیے۔

جوشی کا مزید کہنا تھا کہ ’علی بھائی دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کر کے ان پر پاکستان کا جھنڈا لہرانا چاہتے تھے لیکن سردیوں میں کے ٹو پر جو حادثہ ہوا اس سے ماؤٹینیئرنگ کمیونٹی اس عظیم الشان کوہ پیما سے محروم ہو گئی۔ ہم ہر لمحہ انھیں یاد کرتے ہیں۔‘

یاد رہے محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے ہمراہ سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران رواں برس فروری میں لاپتہ ہو گئے تھے اور بعد میں کئی دن کی تلاش کے بعد پاکستانی حکام نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

پاکستان کے اس قومی ہیرو محمد علی سد پارہ کو دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے آٹھ سر کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

’بیٹا بار بار پوچھتا تھا، بابا برفانی تودوں کا خطرہ تو نہیں ہے نا؟‘

علی سدپارہ کے ساتھ ہونے والے حادثے نے نہ صرف پاکستان اور دنیا بھر میں کوہ پیماؤں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی یقیناً متاثر کیا ہے۔

لہذا جب عبدل جوشی نے اپنے اہل خانہ کے سامنے انا پورنا جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو کیا اہلِ خانہ نے انھیں روکنے کی کوشش نہیں کی؟

اس کے جواب میں جوشی نے بتایا کہ عام طور پر کسی مہم پر جانے سے پہلے وہ اہلیہ اور دونوں بچوں کو تصاویر اور ویڈیوز دکھا کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’میں نے یہاں سے یہ راستہ فالو کرتے جانا ہے جہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اس مہم پر جانے سے قبل جن دنوں جوشی اناپورنا کے متعلق معلومات اور سمٹ کے دوران پیش آنے والے خطرات جاننے کے لیے ویڈیوز اور تصاویر دیکھ رہے تھے تو ان کا بیٹا بار بار ان سے یہی پوچھتا کہ ’بابا برفانی تودے کا خطرہ تو نہیں ہے نا؟‘

اس موقع پر جوشی بیٹے کو جواب دیتے ’میں نے جس ایریا سے جانا ہے وہاں کسی برفانی تودوں کا خطرہ نہیں ہے۔‘

عبدل جوشی کے مطابق وہ اسی طرح گھر والوں کو دلاسہ دیتے رہے کہ ’مجھے کچھ نہیں ہونے والا اور خدا میرے ساتھ، میرا محافظ ہے۔ اور سمٹ کے دوران بھی میں کوشش کرتا تھا کہ ہر روز اہلیہ کو فون کرکے تسلی دے سکوں۔‘

’انا پورنا پہنچ کر پتا چلا اسے دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی کیوں کہتے ہیں‘

دنیا بھر میں آٹھ ہزار میٹر سے بلندی والی 14 چوٹیوں میں سے انا پورنا کو سب سے ’ڈیڈلیئسٹ ماؤنٹین (سب سے زیادہ خطرناک، جان لیوا پہاڑ) کہا جاتا ہے۔

انا پورنا پر شرح اموات سب سے زیادہ (تقریباً 34 فیصد) ہے۔ اسے سر کر کے کی کوشش کرنے والے ہر 10 میں سے تین کوہ پیماؤں کی موت ہو جاتی ہے۔

آج تک اسے سر کرنے کی جستجو میں جانے والے 61 کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

عبدل جوشی بتاتے ہیں کہ انا پورنا پہنچ کر ’ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اسے دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی کیوں کہتے ہیں۔‘

’ہماری جو پہلی ’ایکلیماٹائزیشن روٹیشن تھی اس کے دوران جب میں اور سرباز کیمپ ون قائم کرنے جا رہے تھے اس دوران اوپر سے بہت خوفناک برفانی تودہ آیا اور بس خدا نے ہمیں بچا لیا۔‘

جوشی نے بتایا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کچھ نہ پوسٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ’علی سد پارہ کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد ہم نے دیکھا کہ ہماری پاکستانی قوم کس طرح پریشان ہو جاتی ہے۔‘

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم میں آکسیجن کی سچوریشن تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے جسم میں منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

’ایکشن گائیڈ ہائی ایلٹیٹیوڈ ایکلیماٹائزیشن اینڈ ایلنس‘ کے مصنف رک مارٹن کے مطابق ایسے اونچے پہاڑوں پر جانے سے قبل کوہ پیما کئی ہفتوں تک جسم کو ماحول سے ہم آہنگ بنانے کا عمل کرتے ہیں جسے ’ایکلیماٹائزیشن روٹیشن‘ کہتے ہیں تاکہ ان کا دماغ آکسیجن کی سپلائی کے مطابق آہستہ آہستہ ماحول کے حساب سے کام کرنے لگے۔

عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 10 برس سے کوہ پیمائی کی مہمات پر تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔

اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں ’کلائمب ہائی سلیپ لو‘ کا اصول چلتا ہے۔ انسانی جسم ایکلیماٹائز ہونے میں چھ گھنٹے کا وقت لیتا ہے لہذا اسی لیے یہ اصول بنایا گیا ہے کہ آپ دن میں جتنی مرضی چڑھائی چڑھیں لیکن رات میں آپ کو 300 میٹر نیچے آ کر سونا ہے۔ مثلاً اگر آپ 4000 میٹر سے 4600 میٹر تک جاتے ہیں تو 4300 پر آکر آپ کو سونا ہو گا۔

ان کے مطابق اکثر اوقات روٹیشن میں کوہ پیما بیس کیمپ سے اوپر کیمپ ون تک جاتے ہیں اور پھر نیچے آ کر سو جاتے ہیں۔ پھر کیمپ ٹو تک جا کر ون پر آ کر سو جاتے ہیں اور اس کے بعد واپس بیس کیمپ آ جاتے ہیں۔ پھر بیس کیمپ سے کیمپ تھری تک گئے اور رسی لگا کر واپس آگئے۔۔ اس سارے عمل کو ’ایکلیماٹائزیشن روٹیشن کہتے ہیں تاکہ کوہ پیما کا جسم زیادہ بلندی پر ڈیتھ زون میں جانے کے لیے تیار ہو جائے۔

عمران کہتے ہیں کہ اگرچہ اناپورنا کا ڈیتھ زون بہت چھوٹا (صرف 91 میٹر ) ہے لیکن اناپورنا میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔

سمٹ کے دوران کیا مشکلات پیش آئیں؟

رواں مہم کے دوران چوٹی کے آخری حصے تک رسیاں نہ لگائے جانے کے سبب، انا پورنا سمٹ کرنے کی پہلی کوشش 13 اپریل کو ناکامی سے دوچار ہوئی تھی اور اس کے بعد 14 اپریل کو بھی رسی ختم ہو جانے کے باعث کوہ پیماؤں کو کیمپ فور سے لوٹنا پڑا تھا۔

اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے جوشی کا کہنا تھا کہ ’میں، سرباز اور ایک نیپالی شرپا نے فکسنگ ٹیم کی مدد سے کیمپ فور لگایا اور ایک دن قیام کیا پھر اگلے دن ہمارے تمام گروپ ممبران بھی کیمپ فور پہنچ گئے۔‘

جوشی کے مطابق اگلے روز رات کے نو بجے فکسنگ ٹیم کے پیچھے پیچھے وہ بھی نکل پڑے لیکن تقریباً 400 میٹر اوپر جانے کے بعد رسی ختم ہو گئی اور انھیں کیمپ فور لوٹ کر رات گزارنی پڑی۔

اس کے بعد اگلے دن کھٹمنڈو سے ہیلی ڈوپنگ (ہیلی کاپٹر) کے ذریعے کیمپ فور میں 7,300 میٹر کی بلندی پر 800 میٹر رسی، آکسیجن سلنڈر، گیس اور خوراک پہنچائی گئی جس کے بعد وہ تقریباً 12:30 پر کیمپ فور سے نکلے اور اگلے دن شام کے چھ بجے کامیابی سے سمٹ کر کے کیمپ فور پہنچ گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے سردیوں میں بھی 6000 میٹر سے زیادہ والی چوٹیاں اور کئی پاسز سر کیے ہیں لیکن آج تک میں نے جس چوٹی کو سب سے مشکل اور خطرناک پایا وہ انا پورنا ہے۔ یہ کے ٹو اور نانگا پربت سے بھی مشکل چوٹی ہے۔‘

جوشی کے مطابق کیمپ فور سے اوپر جانے اور سمٹ کر کے واپس آنے میں انھیں کل 18 گھنٹے لگے۔

انھوں نے بتایا کہ انا پورنا پر سمٹ 2021 کے دوران کسی کوہ پیما کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا سوائے ایک کوہ پیما کو ’ایلٹی ٹیوڈ پرابلم‘ اور ’دوسرا فراسٹ بائٹ‘ کا شکار ہوا جنھیں کیمپ فور سے ہیلی کے ذریعے بیس کیمپ پہنچا دیا گیا۔

’ڈر تھا سمٹ نہ کر پائے تو پاکستانی عوام کہیں پھر سے مایوس نہ ہو جائیں

میں نے جوشی کو بتایا کہ میں تو شاید کبھی کسی اتنی بلند چوٹی کو سر نہیں کر پاؤں گی لہذا میں ان کے جذبات نہیں سمجھ سکتی، لیکن جوشی کے لیے بھی یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے 8000 میٹر سے بلند کسی چوٹی کو سر کیا ہو۔ تو اوپر پہنچ کر انھیں کیسا محسوس ہوا؟

اس کے جواب میں انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ’اس سے پہلے چھوٹی چوٹیاں تو سر کی تھیں لیکن 8000 میٹر کے لیے میں بہت زیادہ پُرجوش تھا اور اوپر پہنچ کر بہت جذباتی لمحات تھے جنھیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔‘

’اوپر جاتے ہوئے دل میں ڈر تھا کہ کہیں ہم سمٹ نہ کر پائے تو پاکستانی عوام کہیں پھر سے مایوس نہ ہو جائے لیکن سمٹ کے بعد یہ سوچ کر بہت خوشی ہو رہی تھی کہ ہمارے ملک کے لوگ خوش ہوں گے کہ ہم نے انا پورنا پر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔‘

البتہ یہ بتاتے ہوئے جوشی تھوڑا اداس تھے کہ سمٹ سے 50 میٹر نیچے تک سب صاف نظر آ رہا تھا لیکن اوپر پہنچ کر موسم تھوڑا خراب ہو گیا تھا اور اچھا ویو نہیں مل سکا۔ خیر یہ تو ہم بھی سجھ سکتے ہیں کہ بندہ اتنی محنت کرکے 8091 میٹر کی بلندی تک پہنچے اور وہاں ویو ہی نہ ملے۔۔ کاش یہاں ہاتھ اٹھانے والا ایموجی بنایا جا سکتا۔

انا پورنا کی چوٹی اتنی خطرناک کیوں تصور کی جاتی ہے؟

انا پورنا نامی یہ چوٹی وسطی نیپال کے انا پورنا پہاڑی سلسلے میں 8091 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور یہ دنیا کی 10 ویں بلند ترین چوٹی ہے۔

اس پہاڑ کو پہلی مرتبہ 3 جون 1950 میں دو فرانسیسی کوہ پیماؤں نے سر کیا تھا اور دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے انا پورنا کو سب سے پہلے سر کیا گیا تھا۔ اس چوٹی کو نیپال کے موسمِ بہار میں ہی سر کیا جا سکتا ہے۔

تو اس چوٹی کو دنیا بھر میں آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی والی 14 چوٹیوں میں سب سے ’ڈیڈلیئسٹ ماؤنٹین (سب سے زیادہ خطرناک، جان لیوا پہاڑ) کیوں کہا جاتا ہے؟

اس حوالے سے عمران حیدر تھہیم کہتے ہیں کہ انا پورنا کے ’’ڈیڈلیئسٹ ماؤنٹین‘ ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کا ایسکپوژر ہے جسے ٹیکنیکل زبان میں ’الپائن ایکسپوژر‘ کہتے ہیں۔‘

تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پہاڑ کے اوپر مختلف سلوپس ہوتی ہیں اور آئس اور سنو کی سلپس سب سے خطرناک ہوتی ہیں۔ دوسرا اس پہاڑ پر برفانی تودے آنے کا خطرہ بہت رہتا ہے اور کسی بھی وقت کوئی ایکٹویٹی آ سکتی ہے۔‘

عمران کے مطابق انا پورنا کے بیس کیمپ سے کیمپ تھری تک کے سارے ایریا میں آئس فیلڈ بہت زیادہ ہے جس کا ایکسپوژر بھی اتنا ہی زیادہ ہے لہذا ’اگر کسی وقت بھی کوئی ایکٹویٹی ہو تو آپ کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔‘

’آپ سمجھ لیں کے آپ برف کے بہت بڑے میدان میں ہیں لیکن وہ میدان ویسا نہیں جیسا زمین پر ہوتا ہے۔ یہ بہت بڑی آئس فیلڈ ہے جس میں برفانی تودے آنے کی صورت میں آپ کسی چٹان کے نیچے یا آگے پیچھے پناہ لے کر جان نہیں بچا سکتے۔‘

سنہ 2012 تک انا پورنا پر سمٹ کی تعداد 91 تھی اور اس میں اموات کی تعداد 61 تھی۔

عمران کہتے ہیں کہ اس کے بعد کا ڈیٹا بیس موجود نہیں تھا لیکن نیپال میں ہیمالیئن ڈیٹا بیس کے مطابق اب بتایا گیا ہے کہ 2019 تک یعنی کورونا کی وبا سے پہلے انا پورنا پر 298 سمٹ ہو چکے تھے اور اموات کی تعداد 61 ہی رہی۔

16 اپریل 2021 کو ایک دن میں 67 سمٹ ہوئے ہیں جس کے بعد انا پورنا پر سمٹ کی کل تعداد اب 365 ہے اور اموات کی تعداد 61 سے نہیں بڑھی جس کا مطلب ہے کہ اس پر اموات کی شرح 34 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے۔

عمران کا کہنا ہے کہ پہلے جب کے ٹو پر شرح اموات 23 یعنی انا پورنا سے کم تھی اسی لیے اسے دنیا کی سب سے خطرناک چوٹی کہا جاتا تھا لیکن سنہ 2021 میں اب چونکہ انا پورنا کی شرح اموات کے ٹو سے کم ہو گئی ہے لہذا اب سب سے خطرناک چوٹی کے ٹو ہے۔

یاد رہے کے ٹو پر سنہ 2021 میں 10 سمٹ کیے گئے جبکہ پانچ کوہ پیما اسے سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گئے۔

ہیلی ڈوپنگ پر تنقید: ’کیا کوہ ہیمائی کا خواب کمرشل ازم کی نظر ہوتا جا رہا ہے؟‘

پاکستان سمیت دنیا بھر سے انا پورنا سر کرنے والے ان دونوں پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم کوہ پیمائی کے ماہرین، کوہ پیما اور کھیلوں سے وابستہ صحافی اس سمٹ کے دوران نیپالی کمپنیوں کی جانب سے ٹھیک سے انتظامات نہ کرنے اور ہیلی کاپڑ کے ذریعے رسی اور دیگر اشیا منگوانے پر تنقید کرتے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’ہمالیہ میں کوہ ہیمائی کا خواب کمرشل ازم کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔‘

ناقدین نے انا پورنا مہم کے دوران ہیلی کاپٹر سے رسی، کھانا، سلنڈر اور گیس منگوانے کے عمل کو ’ہیلی ڈوپنگ‘ کا نام دیا ہے۔

سپین سے کھیلوں سے وابستہ صحافی انجیلا بینویڈس نے لکھا ’ایک وقت تھا جب ناقص منصوبہ بندی (یا اگر میں نرم الفاظ استعمال کروں تو غیر متوقع حالات) چڑھنے والی ٹیم کو نیچے جانے پر مجبور کر دیتے تھے۔ غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا مطالبہ کرنا کچھ نیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کمرشل مہمات میں لوجسٹکس (قیام اور نقل و حرکت کے بندوبست) اور طریقوں کا جائزہ لیا جائے۔‘

روس سے ’رشئین کلائمب‘ نامی اکاؤنٹ نے لکھا ’مجھے حیرت ہے کہ انا پورنا پر ہیلی کے ذریعہ رسی، آکسیجن، کھانا اور گیس کیمپ 4 پر پہنچانے کا خیال کسے آیا؟ تاکہ کلائنٹ سمٹ پش جاری رکھیں؟‘

انھوں نے لکھا کہ ’وہ شخص جو بھی تھا اس نے کوہ پیمائی کی توہین کی ہے۔‘

عمران حیدر بھی اس مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بڑے کوہ پیماؤں کا ماننا ہے کہ آکسیجن کا استعمال بھی ڈوپنگ ہے۔ اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب کوہ پیما کوئی چوٹی سر کرنے گئے ہیں، اگر کیمپ تھری یا فور پر رسی کی کمی ہو گئی تو یہ آپ کے حساب کتاب اور انتظامات کی کمی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں ایسی صورت میں کوہ پیما واپس نیچے آ جاتے تھے اور اپنی چیزیں پوری کر کے دوبارہ اوپر جاتے تھے اور یہی کوہ پیمائی کا اصل چیلینج ہے۔‘

کمرشل مہمات پر تنقید کرتے ہوئے عمران کہتے ہیں ’اصل الپائن ازم یہ ہے کہ اگر آپ کو منصوبہ بندی سے ہٹ کر اوپر وقت گزارنا پڑ جائے تو ایسے میں آپ صحت کو لاحق اور دیگر مسائل سے کیسے نمٹتے ہیں۔ لیکن کمرشل ازم، الپائن ازم کا قتل کر رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب نیچے سے رسی، کھانا، گیس اور آکسیجن کی صورت میں کمک پہنچ گئی اور لانگ لائن سے ڈراپ کی گئی رسی لگا دی گئی تو اس پر تو پھر سبھی چڑھ سکتے ہیں۔‘

انا پورنا سر کرنے والی اس چار رکنی ٹیم میں ان دو پاکستانی کوہ پیماؤں (عبدل جوشی اور سرباز خان ) کے علاوہ کامران آن بائیک کے نام سے مشہور فوٹوگرافر کامران اور ایکسپیڈیشن مینیجر سعد منور بھی شامل ہیں اور یہ چاروں افراد گذشتہ ماہ نیپال روانہ ہوئے تھے۔

یہ مہم پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی کوہ پیماؤں اور پورٹروں کو ان کی پہچان اور نام دلانے کے لیے شروع کی گئی تھی اور اس مقصد کے حصول کے لیے آن لائن عطیات کا ایک صفحہ بھی بنایا گیا تھا جہاں اس ٹیم کو عطیات کی مد میں تقریباً 15 لاکھ (7501 پاؤنڈ) کی فنڈنگ ملنے کے علاوہ چند پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے سپانسر بھی کیا گیا ہے۔

عبدل جوشی کے مطابق اس سمٹ کے تمام تر اخراجات اسی فنڈنگ کے ذریعے ادا کیے گئے ہیں۔

مستقبل میں عبدل جوشی 8000 میٹر والی دیگر چوٹیوں کے علاوہ سردیوں میں خصوصاً ان چوٹیوں کو بھی سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جنھیں آج تک کوئی سر نہیں کر سکا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں سیاحت کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔

جوشی کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ والے حادثے کے بعد ان کے اناپورنا سر کرنے کی خبر سے بہت سے کوہ پیماؤں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور انھیں امید ہے کہ کوہ پیمائی کا جنون رکھنے والے نوجوان آگے آئیں گے اور 8000 میٹر سے بلندی والی دیگر چوٹیوں پر بھی پاکستان کا پرچم لہرائیں گے۔