کیا وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا؟

،تصویر کا ذریعہMICHAEL STEELE/GETTY IMAGES
حکومتی اتحاد نے قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کا بل منظور کرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں (اوورسیز پاکستانیوں) کے ووٹ کے حق سے متعلق سابقہ حکومت کی ترامیم ختم کر دی ہیں۔
تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا تھا مگر اب اسے چھین لیا گیا ہے۔ تاہم حکومت وزرا نے وضاحت دی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں اور انھیں ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا گیا بلکہ انتخابات میں ان کی شمولیت کے لیے بہتر حل تلاش کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سابق حکومت نے یہ ترامیم گذشتہ سال منظور کرائی تھیں اور اپوزیشن نے اس اجلاس کا واک آؤٹ کیا تھا۔ اس وقت کی حزب مخالف کی جماعتوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بذریعہ انٹرنیٹ ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی مخالفت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ ووٹ پیرس میں ڈلے اور نتیجہ ملتان کا بدل جائے۔‘
بیرون ملک مقیم شہریوں کے لیے سوشل میڈیا کسی پلے گراؤنڈ سے کم نہیں اور یہاں وہ اکثر پاکستانی سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد میں سمندر پار پاکستانی صارفین نے موجودہ حکومت کے اقدام پر تنقید کی ہے جبکہ بعض شہریوں کا خیال ہے کہ جن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو واقعی ووٹ ڈالنا ہو وہ وطن واپس آسکتے ہیں۔
کیا حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا؟
پارلیمانی امور کے وزیر مرتضی جاوید عباسی کی جانب سے پیش کیے گئے اس بِل پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز ووٹنگ کے لیے وسائل دستیاب نہیں اور اپوزیشن کی مزاحمت کے باوجود بِل پاس کیے گئے تھے۔
جمعے کو اس اجلاس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’انتخابی اصلاحات کا مقصد صرف الیکشن کو چوری ہونے سے بچانا ہے۔۔۔ گذشتہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق فریقوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی یہ نہ سمجھیں کہ ان سے ووٹ کا حق لیا جا رہا ہے۔ ’یہ غلط بیانی ہو گی، وہ اس ملک کا حصہ ہیں اور اس میں ان کا کردار ہے۔‘ وزیر قانون کے مطابق اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جو کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق سے متعلق کام کرے گی جبکہ یہ کمیٹی ایک جامع پیکج بھی پیش کرے گی، جس میں حلقہ بندیوں اور پولنگ کے نظام کے حوالے سے معاملات سامنے لائے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم میں بہتری آئے لیکن دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ جب آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور ٹی وی سکرینیں بلیک ہوجاتی ہیں اور پھر ایک دم خبر آتی ہے کہ فلاں جماعت نے اتنے ووٹ لیے تو الیکشن کمیشن یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ الیکشن اس طریقے سے کروائے جس طرح ان کی دانست میں الیکشن شفاف اور آزاد طریقے سے ہوتا نظر آئے۔‘
ادھر اوورسیز پاکستانیوں کے امور کے وزیر ساجد حیسن طوری نے وضاحت کی ہے کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا رہا بلکہ حکومت جلد انھیں ووٹنگ کے بہتر طریقے کی تجویز کی خوشخبری دے گی۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ممالک میں خصوصی حلقے بنا کر قومی اسمبلی میں ان کے لیے نشستیں پیدا کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے نمائندے ملک کے اندر سے منتخب کر سکیں، جو حکومت میں ان کی نمائندگی کریں۔
ساجد طوری نے واضح کیا کہ براہ راست ووٹنگ کے مقابلے میں نیا منصوبہ ان کے ووٹ کو زیادہ تقویت اور اہمیت دے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نمائندے متعلقہ ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں کو جوابدہ ہوں گے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
خیال رہے کہ نئی ترامیم کے تحت الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کا پائلٹ پراجیکٹ بنا سکتا ہے اور پارلیمنٹ کے سامنے اس کی رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے۔
پرائم منسٹر سٹریٹیجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کے ووٹنگ کے حق کو کبھی منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔ ’تمام سفارتخانے اپنی ویب سائٹس پر ضروری معلومات ظاہر کریں گے۔‘
’الیکٹرانک طریقے سے پیسے بھیجے جاسکتے ہیں مگر ووٹ نہیں‘
سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو بذریعہ انٹرنیٹ یعنی ای ووٹنگ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔ جیسے لندن میں رہائش پذیر صحافی احتشام الحق لکھتے ہیں کہ ’اوورسیز پاکستانی بھی ووٹنگ کا حق چاہتے ہیں۔ وہ محض آپ کی اے ٹی ایم مشینیں نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
اس میں بھی کوئی دو رائے نے سوشل میڈیا کی حد تک بڑی تعداد میں اوورسیز پاکستانی کھلے عام وقتاً فوقتاً تحریک انصاف اور عمران خان کی حمایت کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔
جیسے ڈاکٹر فاطمہ لکھتی ہیں کہ ’نو ووٹ کا مطلب نو ترسیلات۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی فوری طور پر پاکستان کو ترسیلات زر بھیجنا بند کریں۔ ووٹ کا حق حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔‘
عینی بتاتی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی ٹیسٹنگ نہیں کی گئی لہذا انھیں الیکشن میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اور اوورسیز پاکستانیوں پر ووٹنگ میں حصہ لینے پر پابندی نہیں۔ لیکن طویل فاصلے سے ووٹنگ میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔۔۔ ملک میں مقیم شہریوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے انتخابی حلقوں میں جانا پڑتا ہے تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ترجیحی سلوک کیوں؟‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
دوسری طرف سماویہ ملک کو لگتا ہے کہ اس اقدام سے ’90 لاکھ پاکستانی اپنا ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ وہ ہر حربے سے عمران خان کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
شانزے نامی صارف کا خیال ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں ملنا چاہیے۔ کیا وہ ملک کے معاشی حالات سے باخبر ہیں؟ کیا وہ اس کی پیداوار اور سرمایہ کاری میں معاونت کر رہے ہیں؟ وہ صرف میڈیا پر چیزیں دیکھ کر ہماری سیاست کو بدلنا چاہتے ہیں جو کہ غلط ہے۔‘
دہری شہریت کے موضوع پر مشتاق سیٹھی کہتے ہیں کہ ووٹنگ کا حق نہ دینے اچھا فیصلہ ہوگا کیونکہ ’دہری شہریت کا مطلب دہری وفاداری ہوگا۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTWITTER
بعض صارفین نے نئی ترامیم پر طنزیہ ردعمل دیا ہے۔
جیسے ڈاکٹر جمیل الرحمان کہتے ہیں کہ ’ہمیں آپ کے ڈالر چاہییں، سیاسی نظام میں آپ کی شمولیت نہیں۔ بس ڈالر بھیجوں۔ سفارتخانوں اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے سامنے مظاہرے کرو۔‘
سید علی موسی گیلانی نے لکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ہمیشہ ووٹ کا حق تھا۔ انھیں بس پرواز پر واپس آنا ہے اور ووٹ ڈالنا ہے۔‘ اس کے جواب میں سہیل نامی صارف نے جواب دیا کہ ’آپ کو لگتا ہے الیکٹرانک طریقے سے پیسے بھیجے جاسکتے ہیں مگر ووٹ نہیں؟‘











