تحریک طالبان پاکستان کا حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کی تصدیق کے بعد جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کا اعلان

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کی سربراہ کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

شدت پسند تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مذاکرات میں فریقین کی نمائندگی کون کر رہا ہے۔

طالبان کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ان مذاکرات کے سلسلے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی کابل میں موجود ہیں تاہم اس بارے میں پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری وفد کے علاوہ محسود قبیلے اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف قبائل کی نمائندہ کمیٹیوں نے بھی حکومت پاکستان کے مطالبے پر تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی سے 13 اور 14 مئی کو ملاقاتیں کیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ جب تک مذاکراتی کمیٹیاں بات کر رہی ہیں فریقین کو فائر بندی کرنی چاہیے۔

ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ اس مطالبے پر فریقین نے اتفاق کرتے ہوئے 30 مئی تک فائربندی کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے عید الفطر کے لیے کی گئی جنگ بندی میں پانچ روز کی توسیع کرتے ہوئے اس کی مدت 15 مئی تک بڑھائی تھی۔

اس حوالے سے بیان میں تنظیم کے تمام کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ اس جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور کہیں بھی کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چنانچہ اس عرصے کے دوران ملک کے کسی علاقے سے بھی ٹی ٹی پی سے منسلک تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

تاہم اس جنگ بندی کے بارے میں نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی وجہ بتائی گئی تھی کہ یہ کس معاہدے کے تحت کی گئی۔

خیال رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے تو جنگ بندی کے تحت پاکستانی فوج کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن تین دن قبل ہی شمالی وزیرستان میں عیدک کے علاقے میں پاکستانی فوجیوں کے قافلے پر ایک خودکش حملہ بھی ہوا ہے میں تین فوجی اور تین بچے مارے گئے ہیں۔

حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ فروری 2021 سے شروع ہوا تھا اور اس میں اہم کردار افغان طالبان ہی ادا کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ اس کا آغاز بنیادی طور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے کچھ اہم قبائلی رہنماؤں نے کیا تھا اور پھر افغان طالبان کو اس میں شامل کیا گیا تھا۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 25 اکتوبر کو طالبان اور حکومتی حمایت یافتہ عہدیداروں کی اہم ملاقات ہوئی تھی جس میں طالبان نے 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جن میں پانچ قیدی انتہائی اہم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے کچھ قیدی رہا بھی کیے تھے لیکن ان میں سے تین قیدیوں کو پاکستان نے پشاور میں رکھنے کا کہا لیکن طالبان قیدیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

قبائلی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ علاقے میں امن قائم ہو اور اس لیے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے اُن اہم رہنماؤں نے کوششیں شروع کی ہیں جو ٹی ٹی پی کے قائدین اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں بنیادی مطالبہ قیدیوں کی رہائی کا تھا اور ان میں طالبان کے اہم رہنما مسلم خان اور محمود خان شامل تھے۔ مذاکرات کے سابق دور میں بھی ان قیدیوں کی رہائی بنیادی مسئلہ بنا رہا۔ اب ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلم خان اور محمود خان سمیت دو درجن سے زیادہ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ٹی ٹی پی کے قائدین کا مطالبہ رہا ہے کہ انھیں افغانستان میں ان کے حوالے کر دیا جائے لیکن حکومت انھیں رہا کر کے یہاں اپنی تحویل میں رکھنا چاہتی ہے۔

اس بارے میں سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک اطلاع یہ ہے کہ مسلم خان اور محمود خان کو افغان طالبان کے حوالے کیا گیا ہے جو پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ دونوں قیدی تاحال ادھر حکومت پاکستان کی تحویل میں ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد انھیں افغان طالبان کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے کوئی 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کی رہائی کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ جنوبی وزیرستان سے ایک قبائلی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے بیشتر قیدی رہا کر دیے گئے تھے۔

طالبان کی جانب سے صرف قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر ہی نہیں بلکہ دیگر مطالبات پر بھی سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔

وزیرستان سے ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے جو مطالبات کیے جا رہے ہیں ان میں ایک تو قبائلی علاقوں کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ ہے۔

برطانوی دور کے نظام کے تحت قبائلی علاقے صوبائی دائرہ کار میں آنے کے بجائے براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام ہوتے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ دورِ حکومت میں آئین میں 25 ویں ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں کو اضلاع کا درجہ دے کر انھیں صوبہ خیبر پختونخوا کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔ مگر اب مبینہ طور پر طالبان چاہتے ہیں کہ ان اضلاع کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ختم کر کے انھیں ایک مرتبہ پھر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا درجہ دیا جائے۔