آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ’حملوں میں اضافہ‘، حقیقت کیا ہے؟
- مصنف, عزیز اللہ خان اور عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خبیر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں 14 ستمبر کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار گشت کے لیے تیار تھے اور گاڑی میں بیٹھ کر وہ اپنے روزانہ کے مشن پر روانہ ہوئے اور گشت کے دوران علاقے میں جگہ جگہ رک کر مشکوک افراد کی تلاشی بھی لی ۔
اس روز ایسے ہی ایک گشت پر رات نو بجے کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا جس کے بعد کی جانب سے سکیورٹی حکام نے جوابی کارروائی کی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کچھ دیر تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں فوج کے سات سکیورٹی اہلکار اور پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ منگل کی رات کو جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے علاقے سپینہ میلہ میں پیش آیا۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لوگ موجود ہیں اور سکیورٹی اہلکار ان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔
اس واقعے سے ایک روز قبل یعنی پیر کو لدھا میں بدربرج (بدر پل) کے قریب ایک خود کش حملے کی اطلاع بھی موصول ہوئی تھی۔ کالعدم تنظیم کے ترجمان کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری جیکٹ کے ساتھ موٹر سائیکل کے ذریعے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کا ’حملوں میں اضافے' کا دعوی
گذشتہ سالوں میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے متعدد آپریشنز کے نیتجے میں کالعدم تنظیم کو شدید نقصان پہنچا اور اس طرح کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔
امن کی امید جاگ اٹھنے کے بعد قبائلی اضلاع میں لوگوں نے اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں تاہم گذشتہ چند ماہ، بالخصوص افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد، سے ان واقعات میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس برس افغان طالبان کی پیشقدمی کے بعد سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی ان کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تیزی بالخصوص جولائی میں نظر آنا شروع ہوئی جب افغان طالبان نے اپنی پیشقدمی کی رفتار میں اضافہ کیا اور افغانستان پر مکمل قبضے کے بعد پاکستانی طالبان کی جانب سے حملوں کے دعووں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔
اسلام آباد میں خود مختار تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کی جانب سے جمع کی گئی معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے ابتدائی چھ مہینوں میں جہاں تحریک طالبان پاکستان نے 44 حملوں کا دعویٰ کیا تھا، وہیں یکم جولائی سے 15 ستمبر تک ایسے مبینہ حملوں کی تعداد 53 ہے جن میں ٹی ٹی پی نے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پپس کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں 158 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے واضح اکثریت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے تاہم پاکستانی عسکری حکام ان دعووں کی تردید کرتے ہیں۔
اگر صرف اگست 2021 میں تحریک طالبان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو شمار کریں تو ان کے مطابق اگست میں 32 حملے کیے گئے جن میں کل 52 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کالعدم تنظیم کے مطابق ستمبر کے مہینے کی 15 تاریخ تک کم از کم 19 حملوں میں انھوں نے کم از کم 53 اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔
ادھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی ویب سائٹ پر پریس ریلیز کے سیکشن کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اگست کے مہینے میں ایسے پانچ واقعات کے بارے میں مختصراً بتایا گیا ہے جو 2، 9، 18، 22 اور 29 اگست کو پیش آئے جبکہ ستمبر کی 15 تاریخ تک صرف ایک ایسی کارروائی کی تصدیق کی گئی ہے، جس کا اس تحریر کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
'حملوں' کے دعوؤں کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بیشتر اوقات اپنے حملوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہے اور ان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان انسٹٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور انسداد دہشت گردی امور کے ماہر محمد عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد دنیا بھر میں اس طرح کی شدت پسند تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان ماضی میں مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی مگر گذشتہ کچھ عرصے میں جب سے یہ تنظیم دوبارہ متحد ہوئی ہے تب سے ان حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ تحریک طالبان کے دعوؤں کے پیچھے کیا محرکات ہیں تو عامر رانا نے کہا کہ اس میں دو عنصر ہیں۔
’پہلا یہ کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پروپیگینڈا مہم ہے جو کافی تیز ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر انھوں نے اپنے پیغامات بھیجے ہیں کہ ہم نے اتنے حملے کیے اور جو دوسری طرف آئی ایس پی آر کی جانب سے جو معلومات آتی ہیں ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا تو شاید اس لیے ایسا لگتا ہے کہ فوج کی جانب سے ان کی کی گئی کارروائیوں کے بارے میں معلومات کی مقدار کم ہے۔‘
اس سوال پر کہ آیا ان کارروائیوں کی سرکاری طور پر فراہم ہونے والی معلومات میں کوئی کمی آئی ہے، عامر رانا کا کہنا تھا کہ معلومات اتنی ہی دی جا رہی ہیں جتنی پہلے تھیں اور اس میں کوئی بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
’ہاں، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کیونکہ ہمیں معلومات ملنے کے دو ہی راستے ہیں، یا تو عسکری ذرائع یا شدت پسندوں کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات، اور ان دونوں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر کسی آپریشن کے بارے میں، میں ہلاکتوں کے بارے میں، اور جو حکمت عملی استعمال ہوئی ہے، تو ہمیشہ اس میں غلطی کی گنجائش رہتی ہے۔‘
البتہ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ ایسا نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں ان حملوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور تحریک طالبان پاکستان کا کھیل اب ختم ہو رہا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک ہی کارروائی ہوئی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ تمام قبائلی علاقوں میں کارروائیاں ہو رہی ہیں اور اس میں ایک ہی قاری گروپ ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قریبی علاقوں میں ہو رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عناصر اب افغانستان میں نہیں رہ سکتے، اس لیے اب وہ آخری کوششیں کر رہے ہیں۔
’افغانستان میں اب ان شدت پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چاہے وہ تحریک طالبان کے ارکان ہوں یا کوئی اور۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے لیے افغانستان میں یا تو حمایت ہے ہی نہیں یا جن کو ماضی میں انڈیا کی جانب سے سپورٹ حاصل تھی وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے اور اب انھیں ایسا لگتا ہے کہ یہ باب ختم ہونے والا ہے۔
پاکستان کیا سوچ رہا ہے؟
صدر پاکستان عارف علوی نے چند روز پہلے ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی طالبان اگر اپنے نظریات چھوڑ کر پاکستان کے آئین اور قانون کے ساتھ چلنا چاہیں تو حکومت ان کے لیے معافی کا اعلان کر سکتی ہے۔
اسی طرح کا ایک اور بیان پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیا جب انھوں نے حال ہی میں برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت ان کو معافی دے سکتی ہے۔
تاہم محمد عامر رانا کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے لیے ایک بڑا امتحان ہے جہاں انھوں نے القاعدہ کے خلاف امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور اسی طرح پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر دباؤ ہو گا کہ پاکستانی طالبان کی حمایت چھوڑ دیں تاکہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کر سکے۔
انھوں نے کہا کہ افغان طالبان کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہوگا حالانکہ افغان طالبان اس حد تک تو نہیں جا سکتے کہ پاکستانی طالبان پر دباؤ ڈالے یا انھیں اپنے علاقے سے نکال سکیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ گو کہ ان پیغامات سے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان حکومت نے ایمنسٹی کا اعلان کیا ہے لیکن اب پاکستان طالبان ان حالات میں کیا اقدامات لیتے ہیں اب تک واضح نہیں ہے۔
عامر رانا کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں جب سے طالبان آئے ہیں تب سے تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیموں کے لیے وہ ایک ’رول ماڈل‘ کے طور پر سامنے آئے ہیں اور اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ اگر اپنی مذہبی تحریک میں قومیت کا عنصر شامل کیا جائے تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے لائحہ عمل میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دیا جس میں عالمی سطح پر تحریک کی بجائے اپنے علاقے میں، یعنی قبائلی علاقوں پر توجہ دینے کا ذکر کیا ہے اور یہ ان کے سیاسی اور مذہبی نظریے میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔