توشہ خانہ اور نریندر مودی: ’یقین ہے کہ عمران خان ان کی تعریف کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ایک پرانی ویڈیو کلپ شیئر کر کے اُن کی تعریف کر رہے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے تحفوں سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
لوگ اس ویڈیو کے ذریعے سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو بظاہر مشورہ دے رہے ہیں کہ اُنھیں سرکاری تحفوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے تھا۔
پاکستانی جو ویڈیو شیئر کر رہے ہیں وہ سنہ 2018 کی ہے جب وزیرِ اعظم مودی لندن میں ایک پروگرام 'بھارت کی بات' میں انڈین شہریوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
توشہ خانے کا معاملہ کیا ہے؟
سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر الزام ہے کہ اُنھوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ملنے والے تحائف کو فروخت کر کے اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔
واضح رہے کہ توشہ خانے کے قوانین کے مطابق کسی تحفے کو اس کی قیمت کا کچھ حصہ ادا کر کے اپنے لیے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan
اسی تنقید کے جواب میں سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ 'اپنے خود کے اثاثے فروخت کرنا جرم نہیں ہے۔'
اُن کا کہنا تھا کہ جب عمران خان نے یہ تحفے خرید لیے تو پھر ان پر ان کا استحقاق ہے۔
اسی طرح عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اُنھوں نے توشہ خانے کے تحائف کی فروخت سے ملنے والی رقم سے اپنے گھر کے باہر سڑک بنوائی، نہ کہ سرکاری پیسے کا استعمال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ عمران خان توشہ خانے کے تحائف کے حوالے سے تنقید کی زد میں آنے والے واحد پاکستانی سیاستدان نہیں بلکہ تین سابق حکمرانوں بشمول نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری کو توشہ خانے سے 'اختیارات کے ناجائز استعمال' اور 'غیر قانونی' طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office, India
نریندر مودی نے کیا کہا تھا؟
انڈیا کے وزیر اعظم نے لندن میں اس پروگرام میں لوگوں کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن میں اُنھوں نے نغمہ نگار پرسون جوشی کو بتایا تھا کہ جب وہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے تو اُنھیں عوامی تقریبات میں کئی قیمتی تحائف ملا کرتے تھے۔
مودی نے کہا تھا کہ وہ ان تمام تحائف کو سرکاری خزانے میں جمع کروا دیتے اور پھر بعد میں اُنھوں نے ان کی نیلامی کرنی شروع کی۔
مودی نے کہا کہ اُنھوں نے اس سے حاصل ہونے والے تقریباً ایک ارب روپے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دیے۔
یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صحافی نائلہ عنایت نے لکھا کہ مودی عمران خان کی طرح یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ 'میرا تحفہ میری مرضی'۔ انڈین وزیرِ اعظم بتا رہے ہیں کہ کیسے اُنھوں نے توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی نیلامی کر کے حاصل ہونے والی رقم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک اور صحافی نصراللہ ملک نے بھی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عمران خان کو اُن کا ریاستِ مدینہ کا وعدہ یاد دلایا۔
عمران خان بارہا اپنی تقاریر میں ریاستِ مدینہ کو ایک مثالی نظام قرار دیتے ہوئے مثال دیتے رہے ہیں کہ وہاں پر خلیفہ وقت کا بھی ایک عام شخص احتساب کر سکتا تھا۔
نصراللہ ملک نے لکھا کہ مودی کے اس کلپ نے سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک اور صحافی وینگس نے لکھا کہ ’عمران خان کو یہ ویڈیو ضرور دیکھنی چاہیے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اُنھیں جب تحفے ملے تو وہ اپنے پاس نہیں رکھے بلکہ نیلامی کر کے پیسے کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن طارق افغان نے لکھا کہ ’نریندر مودی نے انڈیا کے توشہ خانے کے ساتھ جو کیا، مجھے یقین ہے کہ عمران خان اُن کی تعریف کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter











