توشہ خانہ: دوست ممالک سے ملنے والے تحائف کی نیلامی کی تفصیلات ’قومی مفاد‘ کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟

تحائف

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم پاکستان اور صدر مملکت سمیت وفاقی وزیروں کو دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے تحائف کی نیلامی کی تفصیلات کو 'قومی مفاد' سے متعلق حساس معلومات قرار دے کر کے یہ معلومات جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر وزرا کو ملنے والے 170 سے زائد تحائف کو بولی کے تحت نیلام کیا گیا تھا اور ان تحائف میں رولیکس گھڑیاں، سونے کے زیورات، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین نے حصہ لیا۔

جب ایک عام شہری نے کچھ عرصہ قبل پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کو تحریک انصاف کی حکومت میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات عام کرنے سے متعلق درخواست کی تو کمیشن نے یہ درخواست منظور کر لی۔

تاہم تحریک انصاف کی حکومت نے ان قیمتی تحائف کی نیلامی کی تفصیلات جاری نہ کرنے کی استدعا کی اور کمیشن کے سامنے یہ موقف اپنایا کہ یہ معلومات 'حساس' اور 'قومی مفاد' سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق یہ تحائف سربراہان ممالک کو ذاتی حیثیت میں دیے گئے اور میڈیا غیر ضروری طور پر اس بات کا بتنگڑ بنا سکتا ہے جس سے پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

قیمتی تحائف

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN

بی بی سی کی جانب سے ان تحائف کے نگہبانی کرنے والے ادارے کابینہ ڈویژن سے رابطہ کرنے پر کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری احمد نواز سکھیرا نے حکومت کی پالیسی کو وجہ بتا کر اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مگر وزیر اعظم کے معاون شہباز گل نے ٹوئٹر پر پہلے ایسے صارفین کی خبر لی جو اس متعلق معلومات تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور پھر یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ اگر کسی کو یہ تحفہ اپنے گھر بھی رکھنا ہوتا ہے تو پھر اس کی آدھی قیمت ادا کر کے وہ اسے لے جا سکتا ہے۔

تاہم جب بی بی سی نے شہاز گل سے ایسے کسی ثبوت اور پالیسی سے متعلق پوچھا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

خیال رہے کہ حکومت کے کابینہ ڈویژن نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں عمران خان کو وصول ہونے والے تحائف کی تفصیلات مانگی گئی تھیں اور حکومتی اپیل پر اب اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ کرے گا۔

سربراہان مملکت کو دوست ممالک یا ریاستوں کے دوروں کے دوران تحائف ملنا معمول کی بات ہے جس کا مقصد دوست ممالک کے درمیان جذبہ خیر سگالی اور تعلقات میں گرمجوشی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

ان تحائف کو سنبھال کر رکھنے کا ہر ملک میں اپنا نظام اور طریقۂ کار موجود ہے۔ پاکستان میں کابینہ ڈویژن وہ ادارہ ہے جو پاکستانی سربراہان کو دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے تحائف کا حساب کتاب رکھتا ہے اور یہ تحائف جہاں رکھے جاتے ہیں اس جگہ کو 'توشہ خانہ' کہا جاتا ہے۔

ماضی میں پاکستان کے بعض سربراہان کو اس وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ دوست ممالک سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کو 'کوڑیوں کے دام' خرید کر اپنی ملکیت میں لے آئے۔

بلکہ پاکستان کے تین سابق حکمرانوں بشمول نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری کو توشہ خانے سے 'اختیارات کے ناجائز استعمال' اور 'غیر قانونی' طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا بھی سامنا ہے اور نیب میں ان کے خلاف اس حوالے سے کیس زیر التوا ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان جب حزب اختلاف میں تھے تو وہ حکمرانوں کی جانب سے کم قیمت پر توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کو ہدف تنقید بنایا کرتے تھے۔

مگر گذشتہ برس تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہونے والی نیلامی میں کیا ہوا اور وہ کون خوش قسمت ہیں جو ان تحائف کے حقدار قرار پائے، یہ راز ابھی صرف ان سرکاری فائلوں میں ہی ہے جنھیں حکومت کھولنے سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاملہ 'قومی مفاد' سے منسلک ہے۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ماضی میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ایسی معلومات عام کرنے کے احکامات دیے تھے جن پر باقاعدہ عمل بھی ہوا اور مقامی میڈیا پر یہ تفصیلات بھی شائع اور نشر ہوئیں۔

اسلام آباد کے تحقیقاتی صحافی وسیم عباسی اُن صحافیوں میں شامل ہیں جنھوں نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت تحائف سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

وسیم عباسی کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے گذشتہ دور حکومت میں انھیں دو بار ایسی معلومات کے لیے درخواست دینی پڑی اور وہ دونوں بار ہی کمیشن سے اپنے حق میں فیصلہ اور پھر متعلقہ حکومتی اداروں سے معلومات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

تحائف

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN

ان تحائف کی نیلامی کا طریقۂ کار کیا ہے؟

حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے تحائف حکومت کے بنائے ہوئے قواعد کے تحت ہی فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی سربراہ مملکت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا میں ایسے تحائف کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونا والا پیسہ ریاست کے خزانے میں جاتا ہے۔

کابینہ ڈویژن کے حکام کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن کیونکہ ایک برس کے دوران سربراہان مملکت اور وزرا کے دوروں کے دوران اتنے تحائف اکھٹے نہیں ہو پاتے کہ ہر برس نیلامی کا انعقاد کیا جا سکے۔

سربراہان مملکت اور وزرا کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کا طریقہ کار بتاتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرون ملک کے دورے کے دوران وزرات خارجہ کے اہلکار اس تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جس کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کروایا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق اگر ان تحائف کی مالیت 30 ہزار روپے سے کم ہو تو وزیر اعظم، صدر یا وزیر جنھیں یہ تحفہ ملا ہوتا ہے انھیں توشہ خانہ قوانین کے مطابق یہ مفت لینے کی پیشکش کی جاتی ہے، تاہم اگر تحفے کی مالیت 30 ہزار سے زیادہ ہو تو اس تحفے کی مالیت کا کچھ فیصد حصہ ادا کر کے اسے رکھا جا سکتا ہے۔

حکام کے مطابق اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان تحائف کی فہرستیں تیار کر کے انھیں توشہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کو نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہو ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کی تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔

توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس کا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتے تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کے لیے نیلامی کی جاتی ہے۔ اگر اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں تو انھیں عام عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔

جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم یہ بیش قیمتی اشیا کو خریدتے ہیں انھیں اپنی ذرائع آمدن ڈیکلیر کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تحائف

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

کمیشن سے منسلک کچھ حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ حکومت میں پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے کمیشن کے ایسے فیصلوں پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا مگر انھوں نے معلومات کی رسائی سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد بھی کرایا۔

حکومت کی طرف سے ابھی تک کسی وزیر یا ترجمان نے اس پر تبصرہ نہیں کیا کہ آخر تحائف کی نیلامی کی تفصیلات فراہم کرنے سے کون سے مفادات پر ضرب لگ سکتی ہے۔

معلومات تک رسائی سے متعلق قوانین پرگہری نظر رکھنے والے آفتاب عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ تحائف سے متعلق درست خبر نہ دے کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اصل ایشوز سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق ایک طرف فیک نیوز سے متعلق قانون سازی پر بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف حکومت درست اور مصدقہ معلومات کے دروازے خود بند کر رہی ہے۔

ان کے خیال میں یہ عمومی نوعیت کی معلومات تھیں جنھیں قومی مفاد اور خارجہ پالیسی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ آفتاب عالم کے مطابق ماضی میں وزیر اعظم عمران خان خود ٹرانسپرنسی کے نہ صرف حامی تھے بلکہ انھوں نے معلومات تک رسائی سے متعلق قانون سازی میں اہم کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق اب وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان بھی شفافیت کو یقینی بنانے پر آمادہ نظر نہیں آرہے ہیں۔

توشہ خانے سے تحائف لینے پر کون سے سابق حکمران مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں؟

سابق حکمران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے تین سابق حکمرانوں کو اس وقت توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر تحائف حاصل کرنے پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری شامل ہی

توشہ خانے سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری نیب کو وہ خاص ریفرنس بن گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عائد کرتے ہوئے انھیں ایک ہی ریفرنس میں ملزم نامزد کر دیا ہے۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے قوانین میں نرمی پیدا کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانے سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطور صدر متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو 750 'Li' 2005، لیکس جیپ 2007 اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو 760 Li 2008 توشہ خانہ سے خریدی ہیں۔

نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی ہے۔ ریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طور پر آصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔ ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔