ولادیسلا تورووچ: پاکستان فضائیہ کے وہ پولش افسر جنھیں پولینڈ اپنا جاسوس نہ بنا سکا

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter@SierraDeltaPk

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی و محقق، لاہور

سنہ 1947 میں آزادی ملی تو برطانوی رائل ایئرفورس سے انڈیا کو 338 طیارے ملے۔

پاکستان کی فضائیہ کو 32 ڈکوٹا طیارے ملنا تھے، لیکن صرف چار ملے۔ 35 ٹیمپسٹ کا وعدہ تھا سولہ ملے۔ سولہ ٹائیگر موتھ کی بجائے سات ملے۔ حصے کے انتیس ہاروڈ اور دس آسٹر میں سے ایک بھی نہ دیا گیا۔

رسالپور میں رائل پاکستان ایئرفورس (تب پاکستان ایئرفورس کا یہی نام تھا) کالج کے افتتاح کے موقع پر پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح نے کہا: ’...ایک مضبوط فضائیہ کے بغیر ملک کسی بھی جارح کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی فضائیہ کو جلد از جلد تیار کرنا چاہیے۔ اسے ایک مؤثر فضائیہ ہونا چاہیے، کسی سے پیچھے نہیں۔‘

طیاروں کی تعداد تو آہستہ آہستہ بڑھنے لگی لیکن انھیں اڑانے اور دیکھ بھال سے متعلق عملے کی شدید کمی تھی۔

اے گلوگوسکی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 'ہوا بازی اور تکنیکی عملے کی شدید کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ضرورت تھی، خاص طور پر انڈیا کے ساتھ تنازع کی شدت کو دیکھتے ہوئے۔

'برطانوی افسران کے ساتھ ان کا تجربہ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں قائم ہونے والی پاکستانی ریاست کے لیے رائل ایئر فورس کے افسروں اور سپاہیوں کی دیکھ بھال پر بہت اخراجات اٹھ رہے تھے۔ روایتی طور پر، برطانوی افسروں کو مقامی باشندوں سے بہتر تنخواہ ملتی تھی اس لیے انھیں پاکستان میں رہنے کی ترغیب کے لیے وہی تنخواہیں دینا پڑیں جو وہ پہلے لیتے تھے۔'

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter@SierraDeltaPk

پولش افسران کی بھرتی کا عمل

پاکستان نے لندن میں اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے پائلٹس کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا۔ ایئروائس مارشل محمد اختر کے مطابق دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کی جانب سے درخواست دینے کی توقع تھی۔

پولش فضائیہ کے اہل کاروں کو ان کی کامیابیوں کی وجہ سے جانا اور مانا جاتا تھا۔ یہ اہلکار برطانیہ میں تھے۔ ایئرکموڈور کمال احمد اس دو رکنی ٹیم کا حصہ تھے جس نے انتخاب درخواستوں کی جانچ کے بعد حتمی انتخاب کرنا تھا۔

پینتالیس (بعض روایات کے مطابق تیس) پولش افسران اور جوانوں نے رائل پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ (1956 میں جب پاکستان جمہوریہ بنا تو 'رائل' کا لفظ ہٹا دیا گیا)

پاکستان نے جن پائلٹوں کا انتخاب کیا وہ جہاز کے ذریعے کراچی آئے اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ان کا استقبال کیا۔

ایس ایم حالی نے لکھا ہے کہ پاکستان نے انھیں زیادہ تنخواہ کے ساتھ 'تین سال کے معاہدے کی پیشکش کی۔'

گلوگوسکی کے مطابق رائل پاکستان ایئرفورس میں تنخواہ برطانوی پاؤنڈز میں دی جاتی تھی۔ سنہ 1948 میں ایک پاؤنڈ سٹرلنگ 13.33 پاکستانی روپے کا تھا۔ ہینرک فرانکزاک، جو امریکہ میں مستقل طور پر آباد ہو گئے تھے، نے تنخواہ کو 'فیاضانہ' بتایا۔

پولش اہلکاروں میں سے کچھ نے رائل پاکستان ایئرفورس میں بہت ذمہ دارانہ عہدے حاصل کیے۔

ان میں سے زیادہ تر افسروں نے اپنے تین سالہ معاہدوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ دیا اور امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ چلے گئے۔

اس دوران کراچی میں پرواز کے حادثات میں دو پائلٹ جاں بحق ہوئے۔ کچھ اورینٹ ایئرویز میں شامل ہوئے (جو بعد میں پی آئی اے بن گئی)۔

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter@SierraDeltaPk

تورووچ جن کی خدمات صرف پاکستان فضائیہ تک ہی محدود نہ رہیں

پاکستان میں سب سے مشہور پولش افسر ولادیسلا تورووچ تھے۔ وہ 23 اپریل 1908 کو روس میں پیدا ہوئے ۔ تب پولینڈ ابھی تک زارِ روس، آسٹرو ہنگری اور جرمنی کے درمیان تقسیم تھا۔ ان کے والد ٹرانس سائبیرین ریلوے کی تعمیر میں شامل تھے جو یورپ کو بحر الکاہل سے جوڑتی تھی۔

جب ان کاخاندان سوویت روس سے فرار ہو کر پولینڈ گیا تو وہ نوعمر تھے۔ وہ پرواز کے بارے میں پرجوش تھے۔ انھوں نے وارسا پولی ٹیکنک میں ایروناٹیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

وہ فلائنگ کلب میں تھے کہ ان کی ملاقات گلائیڈنگ کی شوقین زوفیا سزکیسکا سے ہوئی۔ ان دونوں کی شادی 11 نومبر 1939 کو ہوئی۔

ایس ایم حالی کے مطابق 1948 میں پاکستان آنے کے بعد، تورووچ نے کراچی میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا اور پاکستان ایئر فورس اکیڈمی میں پڑھایا۔

سنہ 1952 میں انھیں ونگ کمانڈر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ سنہ 1959 میں گروپ کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوئے جبکہ 1960 میں پی اے ایف کی مینٹیننس برانچ کے انچارج ایئر کموڈور اور اسسٹنٹ چیف آف ایئر سٹاف بنے۔

انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران امریکہ سے سپیئر پارٹس کی سپلائی بند کر دی گئی تھی۔ ایسے میں تورووچ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ طیاروں کی تیاری جاری رہے اور مقامی اشیا کو استعمال کیا جائے۔

وہ پی اے ایف میں کالج آف ایروناٹکس کے سرخیل ہیں۔ ان کی خدمات کی یاد میں ایروناٹیکل انجینیئرنگ میں ایک ٹرافی ان کے نام کی گئی۔

تورووچ پاکستان میں بہت پرسکون محسوس کرتے تھے۔ انھوں نے یہاں بہت سے دوست بنائے اور سنہ 1961 میں پاکستانی شہریت حاصل کی۔

ان کے چاروں بچوں نے ملک کے مختلف سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SierraDeltaPk

پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے کا حصہ

ریٹائرمنٹ پر حکومت پاکستان نے انھیں پاکستان کی قومی خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر بنا دیا۔

انھوں نے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ مل کر کامیابی سے صدر ایوب خان کو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے خلائی پروگرام کی اہمیت کے بارے میں قائل کیا۔

دونوں نے امریکی حکومت کو راکٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور پاکستان کے سائنس دانوں کی تربیت پر بھی آمادہ کیا۔

تورووچ نے سونمیانی سیٹلائٹ لانچ سینٹر کو اپ گریڈ کیا، فلائٹ ٹیسٹ کنٹرول کمانڈ، لانچ پیڈ کنٹرول سسٹم اور سسٹم انجینیئرنگ ڈویژن نصب کیا۔

انھوں نے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ڈیزائن کیے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ترقی میں بھی حصہ لیا۔

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SierraDeltaPk

جس دور میں انھوں نے اپنی خدمات سرانجام دیں وہ پی اے ایف کے لیے بہت مشکل دور تھا۔ ایئر وائس مارشل محمد اختر، ایئر کموڈور کمال احمد اور سکواڈرن لیڈر احمد رفیع انھیں مہربان، شریف اور نرم گفتار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ایئر وائس مارشل محمد اختر کے مطابق ’وہ غیر ملکی نہیں، ایک بڑے بھائی کی طرح تھے۔ پہلی چیز جس نے مجھے متاثر کیا اور جو مجھے بہت پیاری لگی وہ یہ تھی کہ تورووچ ایک سینیئر افسر کی حیثیت سے اپنے کمرے میں کھانا کھا سکتے تھے لیکن وہ ہمیشہ جونیئر پائلٹوں کے ساتھ کینٹین میں کھانا کھانے آتے تھے۔‘

تورووچ نہ صرف پاکستانی ہوابازی کے علم بردار تھے بلکہ خلائی تحقیق کے بھی۔ تاہم انھیں وہ دن دیکھنا نصیب نہ ہو سکا جب سنہ 1990 میں پہلا مصنوعی پاکستانی سیٹلائٹ لانچ کیا گیا۔

زوفیا سزکیسکا

،تصویر کا ذریعہTwitter@SierraDeltaPk

زوفیا سزکیسکا جو گلائیڈنگ انسٹرکٹر بننے کے بعد ٹیچر لگ گئیں

ان کی تمام کوششوں میں، ان کی اہلیہ زوفیا نے بھرپور تعاون کیا۔ گلائیڈنگ انسٹرکٹر کے طور پر پاکستان میں انھوں نے کراچی اور راولپنڈی میں تربیت دی۔

ہوا بازی میں کیریئر ختم ہونے کے بعد وہ کراچی امریکن سکول میں ریاضی اور کیمسٹری پڑھانے میں مصروف ہو گئیں۔ زوفیا تورووچ کی وفات سنہ 2012 میں ہوئی۔ انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

تورووچ ریٹائرمنٹ کی سال پرانی چوٹ کے درد اور معذوری میں گزار کر آٹھ جنوری 1980 کو وہ ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ انھیں فوجی اعزاز کے ساتھ کراچی میں سپرد خاک کیا گیا۔

حکومت پاکستان نے ان کے اہلِ خانہ کے نام ایک تعزیتی خط جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تورووچ نہ صرف فضائیہ کے ایک بہترین افسر تھے بلکہ ایک سائنس دان بھی تھے اور انھوں نے ملک کے خلائی پروگرام میں خدمات انجام دیں۔

زوفیا سزکیسکا

،تصویر کا ذریعہTwitter@SierraDeltaPk

ایئر کموڈور ولادیسلاو تورووچ کو ان کی شاندار خدمات پر ستارہ پاکستان، تمغہ پاکستان، ستارہ خدمت، ستارہ قائداعظم، ستارہ امتیاز، ایروناٹیکل انجینئرنگ میں عبدالسلام ایوارڈ اور خلائی طبیعیات میں آئی سی ٹی پی ایوارڈ دیے گئے۔

پاک فضائیہ نے پی اے ایف میوزیم میں ایئر کموڈور تورووچ کے اعزاز میں یادگاری تختی رکھی جبکہ سپارکو نے لاہور میں ولادیسلا تورووچ سپیس کمپلیکس تعمیر کیا۔

پولینڈ کی تورووچ کو جاسوس بنانے کی کوششیں

سنہ 2016 میں تب جکارتہ میں مقیم پولینڈ کی ایک صحافی نتالیا لاسکوسکا نے پاکستانی اخبار ڈان کے لیے ایک تحقیقاتی مضمون لکھا۔

ڈی کلاسیفائی یا افشا کی گئی خفیہ دستاویزات پر مبنی اپنے مضمون میں انھوں نے بتایا کہ کیسے پولینڈ کی خفیہ ایجنسی، جسے مختصر طور پر 'ایس بی' کہا جاتا تھا، نے کئی بار تورووچ کو اپنا جاسوس بنانے کی کوششیں کیں۔

تورووچ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SierraDeltaPk

خاص طور پر تب جب وہ پاکستان کے خلائی اور جوہری پروگرام کے ساتھ منسلک ہوئے۔ تاہم نتالیا کے مطابق 1956 سے 1989 میں عوامی جمہوریہ کے خاتمے تک کمیونسٹ پولینڈ کی اس اہم انٹیلی جنس تنظیم کے دستاویزات سے پتا چلا کہ یہ تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔

نتالیا کا کہنا ہے کہ تورووچ کی فائل کا اختتام سینیئر افسروں کے دستخطوں، ڈاک ٹکٹوں اور ایک نوٹ کے ساتھ ہوتا ہے کہ 'آپریشن روک دیا گیا تھا کیونکہ تورووچ کو بھرتی کرنے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہو گئیں۔'

کراچی میں ایئر کموڈور تورووچ کی قبر کی تختی پر ایڈم مکیوز کی نظم کا ایک ٹکڑا کندہ ہے۔ جس کا مفہوم ہے:

روشنی کی کرن سورج سے نکلتی

سمندر کی گہرائیوں کے شور و غل پر کھیلتی

ڈوب نہیں جائے گی بلکہ قوس قزح میں بکھر کر

اور اپنے اصل، آسمان کی جانب بھاگ جائے گی