الہان عمر: امریکی رکنِ کانگریس پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کیوں جا رہی ہیں اور انڈیا کو اس دورے سے کیا تشویش ہے؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

امریکہ میں ایوانِ نمائندگان کی رکن الہان عمر پاکستان کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچی ہیں۔ اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچنے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل برائے امریکہ ملک مدثر ٹیپو نے ان کا استقبال کیا۔ الہان عمر نے وزیرِاعظم شہباز شریف، صدر عارف علوی کے علاوہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور دیگر حکومتی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 20-24 اپریل کے اس دورے کے دوران الہان عمر مختلف سرکاری عہدیداران کے علاوہ سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گی اور صوبائی دارالحکومت لاہور اور پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کا بھی دورہ کریں گی۔

امریکی رکنِ کانگریس ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں جب سابق وزیِراعظم عمران خان سمیت پاکستان تحریکِ انصاف کے دیگر رہنما اور حامی امریکہ پر ان کی حکومت گرانے کی سازش کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔

امریکی ریاست منی سوٹا سے منتخب ہونے والی 39 سالہ الہان عمر امریکی ہاؤس آف ریپرزنٹیٹیوز (ایوانِ نمائندگان) کی تاریخ میں پہلی دو مسلمان خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں ایوان نمائندگان تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔

سنہ 2016 میں حجاب پہننے والی الہان عمر اس وقت صومالی امریکین قانون ساز بنیں تھیں جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے بیانات دے رہے تھے کہ ’صومالی تارکین وطن امریکہ میں انتہا پسندانہ خیالات کا پرچار کر رہے ہیں۔‘

’حجاب پہننے والی وہ لڑکی جسے خواب دیکھنے سے روکا گیا‘

حجاب پہننے والی الہان عمر نے اپنا بچپن کینیا کے تارکین وطن کے کیمپ میں گزارا تھا جہاں ان کا خاندان صومالیہ سے نقل مکانی کر کے پہنچا تھا۔ پناہ گزینوں کے اس کیمپ میں انھوں نے چار سال گزارے۔

پھر 1997 میں ایک سپانسر کی مدد سے وہ امریکی ریاست منی سوٹا پہنچیں۔

سنہ 2016 میں 36 سالہ الہان عمر پہلی صومالی امریکن قانون ساز بن گئیں۔ اپنی جیت کے بعد انھوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’یہ جیت اس آٹھ سالہ بچی کے لیے ہے جو تارکین وطن کے کیمپ میں تھی۔ یہ جیت اس لڑکی کے لیے ہے جسے زبردستی کم عمری کی شادی کرنی پڑی تھی۔ یہ جیت ہر اس شخص کے لیے ہے جسے خواب دیکھنے سے روکا گیا۔‘

گذشتہ برس الہان عمر نے امریکی کانگریس میں اسلاموفوبیا کے خلاف ایک بل بھی پیش کیا تھا جسے منظور کر لیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس بل کی حمایت کی تھی۔

وہ امریکہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نسلی تعصب اور اسلاموفوبیا سے لے کر غزہ اور انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر میں رہنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔

پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر میں صدر کے پریس سکیرٹری کمال حیدر شاہ نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ الہان عمر کل یعنی (21 اپریل) کو مظفر آباد میں صدر بیرسٹر صدر سلطان محمود چوہدری سے ملاقات کریں گی۔

کشمیر کے مقامی صحافیوں اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق وہ اس دورے میں کشمیر میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپ کا بھی دورہ کریں گی، تاہم اُن کی سرگرمیوں کی تفصیلات سرکاری طور پر ابھی تک شیئر نہیں کی گئیں ہیں۔

اگست 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد لگائے جانے والے کرفیو اور ذرائع مواصلات کی بندش کے دوران الہان نے اپنی ایک ٹویٹ میں مواصلات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق، جمہوری اصولوں اور مذہبی آزادی کا احترام، اور کشمیر میں کشیدگی میں کمی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’وہاں کیا ہو رہا ہے، بین الاقوامی تنظیموں کو اس کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘

پھر ستمبر 2019 میں الہان ​​عمر نے کانگریس کے چھ ارکان کے ساتھ مل کر انڈیا میں امریکہ کے سفیر اور پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز کو ایک خط لکھا جس میں درخواست کی گئی کہ امریکہ کشمیر میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور انسانی حقوق کے حوالے سے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کا استعمال کرے۔

ایسے اقدامات اور ٹویٹس کے باعث انھیں اکثر انڈین صارفین کی جانب سے شدید ٹرولنگ کا سامنا رہتا ہے۔

الہان عمر کا پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کا دورہ ’فیکٹ فائنڈنگ کی کوشش‘

سنہ 2019 میں انڈین فوج کی جانب سے بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کے بعد پاکستان نے تقریباً 15 غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک گروپ کو اپنے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کروایا اور انھیں انڈیا کی گولہ باری سے ہونے والے مقامات دکھائے۔ انڈیا اکثر و بیشتر سفارتی عہدیداران کو اپنے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کرواتا رہتا ہے۔

اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انڈیا یا پاکستان نے کسی سفارتکار کو اپنے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کروایا ہو تاہم الہان عمر اپنے طور پر پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کا دورہ کرنے والی کا پہلی امریکی رکنِ کانگریس ہیں۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ الہان عمر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کیوں جا رہی ہیں؟

الہان عمر کے دورہِ پاکستان، خاص کر پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کے دورے کی سفارتی سطح پر اہمیت اور اس سے پاکستان کو مستقبل میں کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، اس حوالے سے ہم نے سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ سے بات کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ الہان عمر ایک مسلمان رکنِ کانگریس ہیں ’جن کے لیے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانا بہت اہم ہے اور چونکہ اس حوالے سے پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے، لہٰذا میرے خیال میں وہ چاہتی ہیں کہ اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے اس حوالے سے واضح پوزیشن لی ہے اور عمران خان کی سابق حکومت میں اور آگے چل کر آنے والی حکومتوں میں بھی اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کا کردار اہم رہے گا۔‘

نجم الدین شیخ، الہان عمر کے پاکستان کے زیِر انتظام کشمیر کے دورے کو ’فیکٹ فائنڈنگ کی کوشش‘ مانتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’الہان عمر نے سن رکھا ہے انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، ڈیموگرافکس بدلے جا رہے ہیں اور میری نظر میں وہ خود لوگوں سے مل کر اندازہ لگانا چاہتی ہیں کہ نریندر مودی کی جانب سے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ان کے حقوق کا کس حد تک استحصال کیا جا رہا ہے۔‘

نجمن الدین شیخ کا کہنا ہے کشمیر کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے اور الہان اپنے دورے کے بعد جب جا کر کشمیر کی صورتحال اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے متعلق بتائیں گی، تو اس سے امریکہ کی پالیسی تو نہیں بدلے گی لیکن پبلیسٹی ضرور ایسی نوعیت کی ہو گی کہ ’الہان کشمریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو خود دیکھ کر آئی ہیں‘ جس سے یقیناً کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو بھی تقویت ملے گی۔‘

انڈیا میں الہان عمر کے دورہِ کشمیر کے متعلق تشویش کیوں؟

الہان عمر اپنے دورہِ پاکستان کے دوران پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر بھی جائیں گی، اس خبر کے آتے ہی سوشل میڈیا پر انڈین صارفین اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سیما نامی صارف نے صارف نے ٹویٹ کیا ’الہان عمر جیسے علیحدگی پسندوں کو کشمیر کے حساس علاقے میں داخل ہونے سے روکنا چاہیے۔ وہ انڈیا کے خلاف سازش کر رہی ہیں اور انھیں امریکہ کی رکنِ کانگریس رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘

کئی انڈین صارفین ان کے بینک بیلینس کی تفصیلات کی تفتیش چاہتے ہیں تو دیگر انڈیا کی جانب سے ہمیشہ کے لیے ان پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انڈیا میں اس دورے کے حوالے سے اتنی تشویش کیوں سامنے آ رہی ہے؟ اس حوالے سے نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ ’الہان جب کشمیریوں کی زبانی وہاں کی صورتحال کے بارے میں دیکھیں اور سنیں گی اور امریکہ واپس جا کر اس کا ذکر کریں گی تو ظاہر ہے انڈیا نہیں چاہتا کہ وہ کشمیر میں جو زیادتیاں کر رہا ہے ان کی پبلسٹی ہو، اس لیے انھیں اس دورے سے تکلیف تو ہو رہی ہے اور ہو گی۔‘

نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ ’الہان کے دورہ کشمیر پر انڈیا سے ابھی سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے اورمیرا خیال ہے کہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ بھی اس حوالے سے سخت بیان جاری کر سکتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

الہان عمر کا اسلاموفوبیا کے خلاف بل جس کی حمایت کانگریس نے بھی کی

گذشتہ برس دسمبر میں الہان عمر نے اسلامو فوبیا کے خلاف ایک بل پیش کیا جسے کانگریس نے منظور کیا اور وائٹ ہاؤس نے بھی اس بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی آزادی بنیادی انسانی حق ہے۔

الہان عمر کے اس بل کا نام ’بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ‘ رکھا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے امریکی محکمہ خارجہ کے علم میں لائے۔

ویسے تو یہ بل گذشتہ کئی مہینوں سے ایوانِ نمائندگان کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں موجود تھا مگر اس بل کے پیش کیے جانے سے چند دنوں کے واقعات نے بل میں نئی روح پھونک دی ہے جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا تھا۔

گذشتہ برس نومبر کے اختتام میں رپبلکن نمائندہ لورین بوبرٹ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اُنھوں نے الہان عمر کو 'جہاد سکواڈ' کا حصہ کہتے ہوئے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ کانگریس کی ایک لفٹ میں الہان عمر کے قریب اس لیے محفوظ محسوس کر رہی تھیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا بیک پیک زمین پر رکھ کر کہیں بھاگ نہیں رہی تھیں۔ اس کے کچھ دن بعد رپبلکن نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے الہان عمر کو 'جہادی' قرار دیا۔

بعدازاں الہان عمر نے ٹوئٹر پر کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے اور ایک مضبوط اشارہ ہے کہ اسلاموفوبیا کو کہیں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ 'نفرت کے خلاف کھڑے ہونے سے آپ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں مگر ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ مضبوطی سے کھڑے رہیں۔'