ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار: قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں سازش کا لفظ استعمال ’نہیں ہوا‘

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں 'سازش' کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔

راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیاسی قیادت میں ڈیڈ لاک کی وجہ سے سابق وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر آرمی چیف قبل از وقت انتخابات کروانے کا آپشن لے کر اس وقت کی اپوزیشن کے پاس گئے تھے جس سے انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں یہ درخواست بھی کی کہ 'فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں'۔

عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے مبینہ غیر ملکی سازش اور اس حوالے سے ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کی کارروائی سے متعلق جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوج نے اس حوالے سے اپنا موقف میٹنگ میں دیا جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں واضح ہے کہ میٹنگ میں کیا کہا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’اعلامیے کے اندر بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ کیا تھا اور کیا نہیں تھا، آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا سازش کا لفظ ہے اس اعلامیے میں، میرا نہیں خیال۔‘

انھوں نے کہا کہ اس اجلاس کے مِنٹس کو حکومت ڈی کلاسیفائی کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ خفیہ ادارے دن رات سازشوں کے خلاف کام کر رہے ہیں ’اور اگر کسی نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش کرنے کی کوشش کی تو انشااللہ اس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔

یاد رہے کہ عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ میں تیار ہونے والی یہ 'سازش' قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ’بے نقاب‘ کی گئی جہاں فوجی سربراہوں کی موجودگی میں اس سازش کی تفصیل بتائی گئی۔

انھوں نے کہا تھا کہ 'نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے مِنٹس میں یہ بات لکھی گئی کہ یہ جو عدم اعتماد آئی ہے اس کی سازش باہر تیار ہوئی۔'

اس کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر غیر ملکی سازش نہیں تو دفتر خارجہ نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر دیمارش کیوں جاری کیا تھا؟

اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘دیمارش (احتجاجی مراسلے) صرف سازش پر نہیں دیے جاتے بلکہ یہ سفارتی عمل کا حصہ ہے۔‘

’فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں'

جنرل بابر نے ایک سوال کے جواب میں عوام اور سیاسی پارٹیوں سے درخواست کی کہ ’فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں‘ اور 'ہمیں اس بحث سے باہر رکھیں۔'

انھوں نے بتایا کہ دو روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں سکیورٹی چیلنجز کے بارے میں بریف کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ’آئین کی بالادستی اور رول آف لا کو یقینی بنانے پر سب نے اتفاق کیا ہے۔ اور جمہوریت میں سب اداروں کا آئین کے دائرے میں کام کرنا بھی بہترین مفاد میں ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ‘آرمی چیف جنرل باجوہ نے پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی قائدین سے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ 'میں کبھی کسی سے ملنے نہیں گیا تو مجھ سے کیوں بار بار ملنے آتے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'گلگت بلتستان سے متعلق میٹنگ کے دوران بھی یہ بات ہوئی۔ کسی نے کہا تھا آپ سیاست میں مداخلت کرتے ہیں جس پر چیف نے کہا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'کسی ضمنی انتخاب میں فوج کی طرف سے مداخلت کا الزام نہیں لگایا گیا۔ پہلے لوگ باتیں کرتے تھے کہ فون کالز آتی ہیں۔۔۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور یہ اب ایسا ہی رہے گا۔ یہ فوج کا آئینی کردار ہے اور ہم یہ کرنے کے لیے آپ کی حمایت چاہتے ہیں۔'

فوج کے خلاف مہم

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کر کے سابق افسران کے جعلی پیغام بنائے جا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'بے بنیاد کردار کشی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ملکی مفاد کے خلاف ہے۔'

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آیی اے کی جانب سے کارروائی میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد فوج پر کچھ حلقوں کی تنقید کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اور آرمی چیف کا ایک اچھا ذاتی تعلق ہے اور ان کے درمیان کوئی مسائل نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے اس حوالے سے بہت مثبت بیانات بھی دیے ہیں۔

وزیر اعظم آفس نے ’بیچ بچاؤ‘ کے لیے آرمی چیف سے رجوع کیا

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کے سامنے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی آپشنز نہیں رکھی گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ جب سیاسی ڈیڈ لاک برقرار تھا تو سابق وزیر اعظم کے آفس کی جانب سے آرمی چیف کو مدد کے لیے رجوع کیا گیا کہ ’اس میں کوئی بیچ بچاؤ‘ کی بات کریں۔

انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت ایک دوسرے سے بات کرنے پر تیار نہیں تھی‘۔

انھوں نے کہا اس لیے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم آفس گئے جہاں پر ان تین آپشنز پر بات ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ تین آپشنز یہ تھیں کہ عدم اعتماد پر کارروائی ہو، دوسرا یہ کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں اور تیسرا یہ کہ اپوزشین تحریک واپس لے لے اور وزیراعظم اسمبلی تحلیل کر کے نئے الیکشن کی طرف چلے جائیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت وزیراعطم نے کہا کہ یہ تیسری آپشن قابل قبول ہے‘ اور کہا کہ آرمی چیف جا کر اپوزیشن سے بات کریں جس کے بعد آرمی چیف اس وقت کی اپوزیشن کے پاس گئے۔

انھوں نے بتایا کہ اپوزشین نے اس سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

جنرل باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے اور نہ ہی انھوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل باجوہ مدت ملازمت میں توسیع قبول نہیں کریں گے اور رواں سال نومبر کے آخر میں ریٹائر ہوجائیں گے۔`

جب ان سے پوچھا گیا کہ نو اپریل کی رات کو عدالتوں کے کھلنے اور مارشل لا کی افواہوں کے بارے میں ان کا کیا موقف ہے تو اُنھوں نے کہا کہ یہ باتیں بے بنیاد ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں، کیا آپ کے خیال میں وہ فوج کے کنٹرول میں ہیں؟‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے اور اس کی طاقت ادارے ہیں، چاہے وہ پارلیمنٹ ہو، سپریم کورٹ ہو یا مسلح افواج ہوں۔

مارشل لا کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ `پاکستان میں کبھی مارشل لا نہیں آئے گا۔‘

میجر جنرل بابر افتخار کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف کی حلف برداری میں جنرل باجوہ کی غیر موجودگی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس دن جنرل باجوہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔

اُنھوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ اس دن اپنے دفتر بھی نہیں آئے تھے۔

‘سات لاکھ کی فوج وہیں دیکھتی ہے جہاں آرمی چیف کی نظر ہو‘

ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ فوج کے اندر جانبدار اور غیر جانبدار کے کیمپس کے حوالے سے باتیں گردش کر رہی ہیں۔

اس کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘ایسی باتیں کرنے والے فوجی اقدار سے واقف نہیں، سات لاکھ کی فوج وہیں دیکھتی ہے جہاں آرمی چیف کی نظر ہو۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ‘اس میں نہ آج تک کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ آئے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان باتوں میں کوئی سچائی موجود نہیں۔‘

امریکہ اور انڈیا کے ساتھ تعلقات

پاکستانی وزیر اعظم کے روسی کے دوسرے کے حوالے سے فوج کے ترجمان کا کہنا تھا 'فوج پوری طرح سے اس معاملے پر آن بورڈ تھی اور ادارے کا خیال تھا کہ وزیر اعظم کو جانا چاہیے لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسی دن جنگ کا آعاز ہو جائے گا جو باعث شرمندگی تھا۔'

ایک اور سوال کے جواب میں امریکہ کی جانب سے پاکستان میں فوج اڈے مانگے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے ذکر کیا کہ 'وزیر اعظم صاحب سے کسی نے کہا تھا کہ اگر آپ سے فوجی اڈے مانگے جائیں تو انھوں نے کہا تھا کہ ایبسلوٹلی ناٹ، اور اگر مانگے جاتے تو فوج کا یہی موقف ہوتا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ انھوں نے مانگے بھی نہیں۔ فوجی اڈوں کا کسی سطح پر مطالبہ نہیں کیا گیا۔ '

ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ گذشتہ ساڑھے تین برس میں امریکہ اور انڈیا کے ساتھ تعلقات بہت تناؤ کا شکار رہے ہیں جبکہ آرمی چیف نے اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں حال میں دونوں ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا اشارہ دیا ہے۔

اس پر اُنھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی سکیورٹی ڈائیلاگ میں کی گئی تقریر پر بہت تنقید ہوئی کہ یہ خارجہ پالیسی کے ڈومین میں مداخلت ہے ’مگر اُنھوں نے کوئی بات پاکستان کی واضح خارجہ پالیسی کے منافی نہیں کی۔‘

اس سوال پر کہ فوج ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کیا اِن پٹ دے گی، جنرل بابر نے کہا کہ سٹریٹجک سطح پر جب اس طرح کی بات کی جاتی ہے تو سیاسی قیادت اپنے طور پر بات کرتی ہے اور فوج بھی اپنی طرف سے موقف دیتی ہے۔

’پریس کانفرنس ٹھنڈی ہوا کا جھونکا‘

بلاول بھٹو زرداری نے اس پریس کانفرنس کے بعد کہا کہ ’ڈی جی آئی ایس پر آر کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔‘

ایک ٹویٹ میں اُنھوں نے کہا کہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کی حمایت کرنا نہ صرف ہر ادارے بلکہ ہر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر سینیٹر اعجاز چوہدری نے سوال کیا کہ ’ایک آزاد خود مختار ملک کے معاملات میں مداخلت اور سازش میں کیا فرق ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ’مداخلت‘ کی تحقیقات ہونگی سازش سامنے آجائے گی۔‘

صحافی فہد حسین نے لکھا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ واضح کر دیا کہ سفارتی کیبل کے ذریعے کوئی سازش ثابت نہیں ہوئی، امریکہ نے کوئی اڈے نہیں مانگے اور حکومت کی تبدیلی عام سیاسی مرحلے کے ذریعے ہوئی۔

اُنھوں نے لکھا کہ یہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے لیے ’بہت بڑا نقصان ہے‘۔

تاہم ماہرِ معیشت عزیر یونس نے ان کے جواب میں لکھا کہ ادارے کی جانب سے مزاحمت کے باوجود سازش کا بیانیہ کمزور نہیں ہو گا بلکہ پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان مزید پھیلے گا۔

اُنھوں نے لکھا کہ سوال بس یہ ہے کہ اس کا بیلٹ بکس پر کیا اثر ہو گا۔