آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے استعفے: اب صورتحال کیا ہے؟
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ تاہم یہ استعفے فی الحال الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بھیجے گئے ہیں جہاں سے استعفوں کی تصدیق کے بعد مستعفی ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی نشستوں کو خالی قرار دیتے ہوئے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت کے رہنما بھی اِن استعفوں کو ماننے سے انکار کر رہی ہے اور ان کا موقف ہے کہ تمام اراکین سے اُن کی مرضی سے استعفے نہیں لیے گئے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں منتخب اراکین کی کُل تعداد 155 تھی، جن میں سے 122 ارکان براہ راست منتخب ہوئے تھے جبکہ 28 مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنے تھے جبکہ پانچ نشستیں اقلیتی نمائندوں کی تھیں۔
کتنے اراکین نے استعفے دیے؟
گذشتہ روز ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے کُل 123 اراکین کے استعفے منظور کیے ہیں جو کہ اراکین نے اپنی ‘رضامندی‘ سے دیے تھے۔ وہ اراکین جن کے استعفے منظور ہوئے ہیں ان میں 94 منتخب نمائندے تھے، 25 مخصوص نشتسوں پر جبکہ چار اقلیتی سیٹوں پر تھے۔
تحریک انصاف کے جن ارکان نے استعفے نہیں دیے؟
پاکستان تحریک انصاف کے جن 32 اراکین نے استعفے نہیں دیے اُن میں منتخب اراکین کی تعداد 28 ہے جبکہ تین ریزرو سیٹوں پر آئے ہیں اور ایک اقلیتی نمائندہ ہیں۔ استعفے نہ دینے والے اراکین کی صوبوں سے نمائندگی کچھ اس طرح سے ہے: قومی اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے والے اراکین میں چوہدری فرخ الطاف، عامر سلطان چیمہ، افضل ڈھانڈلہ، غلام محمد لالی، عاصم نذیر، نواب شیر وسیر، راجہ ریاض، ریاض فتیانہ، غلام بی بی بھروانہ، رائے مرتضی اقبال، احمد حسن ڈیہڑ، قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مخدوم مبین، باسط سلطان بخاری، عامر طلال گوپانگ، امجد فاروق کھوسہ، سردار جعفر لغاری، سردار ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر اور وجہیہ اکرم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پرنس نواز خان الائی، صالح محمد، نور عالم خان، جواد حسین، محمد میاں سومرو، نزہت پٹھان، رمیش کمار وانکوانی، قاسم سوری اور محمد خان جمالی نے بھی استعفے نہیں دے۔
نظام کو پٹری سے اتارنے کی کوشش نہ کریں: آصف زرادی
اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف زرداری نے پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں استعفوں کے بارے میں میں جیو ٹی وی کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ان کو سمجھانا چاہیے کہ واپس آ جائیں نظام کو پٹری سے اتارنے کی کوشش نہ کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان اور جمہوریت کے احاطے میں رہ کر جتنی اپوزیشن کرنی ہے کریں۔‘
بدھ کو سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے بھی کہا تھا کہ اگر تحریک انصاف والوں کے استعفے منظور ہو گئے تو پھر وہ بھی اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے اور وہ بھی مستعفی ہو جائیں گے۔ تاہم اب تک انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے یہ استعفے منظور کر لیے تھے۔
استعفوں پر جماعت میں اختلاف
تحریک انصاف میں استعفوں سے متعلق اختلافات کی خبروں کے بعد عمران خان نے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ سنایا تو اراکین کی بڑی تعداد نے اپنے استعفے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر کو جمع کرا دیے تھے۔
تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضابطے کے تحت انھیں استعفے جمع کرائے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے یہ استعفے ایوان کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو جمع کرا دیے تھے جنھیں ان کے مطابق ڈپٹی سپیکر نے منظور کر لیا ہے۔
اس سے پہلے تحریک انصاف کے سینئیر رہنما فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز کے استعفے ڈپٹی سپیکر منظور کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اب تک اس عہدے سے مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’سپیکر پر لازم ہے کہ وہ تصدیق کے بعد انھیں منظور یا رد کرے‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر سردار ایاز صادق کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے متعدد اراکین نے انھیں بتایا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونا چاہتے تھے مگر زبردستی ان سے دستخط کروا لیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی کی مرضی کے اس سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔
سردار ایاز صادق اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ استعفے اس طرح منظور ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سپیکر پر لازم ہے کہ وہ ان استعفوں کی تصدیق کے بعد انھیں منظور یا رد کرے۔
ان کے مطابق جس وقت کوئی رکن سپیکر کو آ کر کسی سیکریٹری یا ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں گواہی نہ دے کہ اس نے اپنے مرضی سے استعفیٰ دیا ہے تو اس وقت تک استعفیٰ منظور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اس وقت اپنے عہدے پر موجود ہیں اور انھیں تصدیق کا یہ عمل شروع کرنا چاہیے۔
ایاز صادق نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زبردستی استعفے لے کر قاسم سوری کے پاس جمع کرائے، ’اس طرح استعفے نہیں ہوتے یہ استعفیٰ نہ دینے والی بات ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی سیکرٹیریٹ کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ بغیر کسی نوٹنگ اور شرائط پوری کیے استعفے لیے جائیں۔
سردار ایاز صادق نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے عملے کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کریں۔ ان کے مطابق انھوں نے پارلیمانی عملے کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائیں جس کے باعث پھر انھیں اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش ہونا پڑے۔
عامر کیانی نے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ وہ کسی کو مجبور نہیں کر رہے ہیں اور جو قانونی عمل ہے اس کے مطابق اپنے استعفے اپنے ڈپٹی سپیکر کو جمع کرائے تھے، جنھوں نے آگے اس پر عمل کر دیا ہے۔
عامر کیانی کے مطابق اس کا کوئی بھی طویل اور تھکا دینے والا طریقہ نہیں ہے۔ ان کے خیال میں جب کوئی رکن استعفیٰ دیتا ہے تو قانون میں یہ لکھا ہے کہ سپیکر اس کو قبول کرے گا، کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ انکار بھی کر سکتا ہے۔
اسمبلی قواعد کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے چیف وہپ ممبران کے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کرواتے ہیں جو ان کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ انھیں منظور کرنا ہے یا نہیں۔
سپیکر کی طرف سے استعفے منظور ہونے کے بعد ہی پی ٹی آئی کے اراکین کو مستعفی تصور کیا جائے گا۔
ایاز صادق اور پی ٹی آئی کے 2014 میں استعفوں کا معاملہ
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا یہ پہلا معاملہ نہیں۔ اس سے پہلے سنہ 2014 میں بھی تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے۔ اس وقت کے سپیکر ایاز صادق نے ان استعفوں کو منظور نہیں کیا تھا اور مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی کو تاکید کی تھی کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنے اپنے استعفے کی تصدیق کریں۔
سپیکر کی جانب سے بتائے گئے طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا اور آخرکار مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف پارلیمان کا حصہ رہی اور سنہ 2018 کے عام انتخابات تک اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔
اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟
قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان سے 123 اراکین مستعفی ہو جانے کے بعد اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے سربراہ اور پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اسمبلی بالکل قانونی طور پر کام کرتی رہے گی۔ اس کی حیثیت بالکل قانونی ہو گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اگر مستعفی ہو نے کے بعد سے لے کر ضمنی انتخابات ہونے تک قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہیں ہو گی اور ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو گا۔
احمد بلال محبوب کے مطابق ’اس سے قبل بلوچستان کی ایک اسمبلی ایسی بھی رہی ہے جس میں ایک کو چھوڑ کر تمام اراکین کابینہ کے ممبر تھے۔ اور وہ اسمبلی چلتی رہی تھی۔ اس میں نہ تو کوئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھی اور نہ ہی دیگر کوئی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔‘