آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک عدم اعتماد: سندھ ہاؤس میں موجود پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان اسمبلی کون ہیں؟
- مصنف, احمد اعجاز
- عہدہ, صحافی، مصنف
یہ 16 مارچ یعنی بدھ کے دِن کی بات ہے جب وزیرِ اعظم عمران خان نے سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں نوٹوں سے ضمیر خریدے جا رہے ہیں۔‘ وزیراعظم کے اس بیان سے قبل بعض وفاقی وزرا اور مشیر ان نوعیت کے بیانات دے چکے تھے۔
وزیراعظم کے خطاب کے اگلے ہی روز یعنی 17 مارچ کو ٹی وی سکرینوں پر سندھ ہاؤس سے بعض سینیئر اینکرز نے ناراض ارکان کے انٹرویو کرنا شروع کر دیے۔ ان ارکان نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ’ضمیر کی آواز‘ پر تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دیں گے۔
یہاں سے وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے نے ایک نیا رُخ اختیار کر لیا۔
یہ ناراض ارکانِ اسمبلی کون ہیں، کِن حلقوں سے منتخب ہو کر آئے؟ 2018 کے انتخابات میں اِن کی چوائس پاکستان تحریکِ انصاف کیوں تھی؟ اور اب یہ اپنی پارٹی سے نالاں کیوں ہیں؟ آئیے اِن سوالوں کے ساتھ ساتھ ان ارکان کے سیاسی پروفائل پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
احمد حسن ڈیہڑ
احمد حسن ڈیہڑ نے سنہ 2008 میں ملتان کے حلقہ پی پی 200 سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ یہ اِن کا پہلا الیکشن تھا۔
اِن کی سیاست کا آغاز مشرف دور میں یونین کونسل کے ناظم کے طور پر ہوا تھا۔ اِنھوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جوائن کر لیا۔ یہ جس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ سید یوسف رضا گیلانی کا آبائی حلقہ ہے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے صحافی و مصنف شاکر حسین شاکر کہتے ہیں ’ملتان میں ایک جلسہ تھا، مَیں جلسہ کی نظامت کر رہا تھا۔ اُس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی وہاں موجود تھے۔‘
’وہاں احمد حسن ڈیہڑ نے اپنے حلقہ میں ترقیاتی کام نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ یوسف رضا گیلانی حیران ہوئے اور ہنستے رہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاکر حسین شاکر کے مطابق ’گذشتہ برس اکتوبر میں جب (چیئرمین پیپلز پارٹی) بلاول بھٹو زرداری نے ملتان کا دورہ کیا تو حیدر عباس گردیزی کی فاتحہ کے لیے اُن کے گھر گئے، جہاں مرحوم حیدر عباس گردیزی کی بیٹیوں نے ایک تصویر پر آٹو گراف لینا چاہا۔‘
’اس تصویر میں یوسف رضا گیلانی کے ایک طرف عامر ڈوگر تھے جبکہ دوسری طرف احمد حسن ڈیہڑ تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی سے کہا کہ آپ کے یہ دوست پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے تھے ۔یہ واپس کب آئیں گے؟ اس پر یوسف رضا گیلانی خاموش رہے۔‘
سنہ 2008 کا الیکشن پیپلز پارٹی کی سیٹ پر لڑنے والے احمد حسن ڈیہڑ نے 2013 کے الیکشن میں پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کر لی۔ چونکہ اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے پاس اچھا اُمیدوار تھا اس وجہ سے اِنھیں ٹکٹ نہ مل سکا۔ یہ وہ عرصہ تھا جب اِنھوں نے عملی سیاست سے کچھ وقت کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی اور بعد ازاں یہ پی ٹی آئی کا حصہ بن گئے۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ملتان کا حلقہ این اے 154 توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ اس حلقہ میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملک احمد حسن ڈیہڑ اور سکندر حیات خان بوسن لینا چاہتے تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے سکندر حیات بوسن کو اپنا اُمیدوار نامزد کر دیا۔ احمد حسن ڈیہڑ نے ٹکٹ کے حصول کے لیے بنی گالہ دھرنا دے دیا۔ آخرِ کار پی ٹی آئی نے سکندر حیات بوسن سے ٹکٹ واپس لے لیا۔
یوں جب 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات ہوئے تو احمد حسن ڈیہڑ کے پاس پاکستان تحریکِ انصاف کا ٹکٹ تھا۔ جبکہ سکندر حیات بوسن آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے تھے۔
سکندر حیات بوسن نے 2013 کا الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑ کر کامیابی سمیٹی تھی۔ جبکہ اُس الیکشن میں سلمان قریشی نے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جب سکندر حیات بوسن نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کیں تو مسلم لیگ ن نے سلمان قریشی کو ٹکٹ دیا۔
سید باسط سلطان بخاری
سید باسط سلطان بخاری 1997 کے انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور سنہ 2002 کے انتخابات میں وہ ق لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔
سنہ 2008 کا الیکشن بھی ق لیگ کی ٹکٹ پر لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے لیکن مئی 2010 میں ضمنی الیکشن میں یہ صوبائی سیٹ پر کامیاب ہو گئے۔
وہ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گئے اور پھر سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر سرگرم ہوئے۔ اس الیکشن میں کامیاب رہے اور پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔
اِن کی والدہ زہرا بتول، صوبائی حلقہ پی پی 272 سے پاکستان تحریک انصاف کی سیٹ پر ایم پی اے ہیں جبکہ اِن کی بیگم زہرا باسط حلقہ این اے 184 سے پاکستان تحریکِ انصاف کی ٹکٹ پر ہار گئی تھیں۔
سنہ 2018 کے انتخابات میں میاں شہباز شریف نے انتخابی مہم کا آخری جلسہ مظفر گڑھ میں کیا تھا۔ ہارون سلطان بخاری، جو باسط بخاری کے بھائی ہیں، نے ن لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی الیکشن لڑا تھا۔
اِنھوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ شہباز شریف ’باپ کی جگہ پر ہیں اور باپ تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔‘
رانا قاسم نون
ملتان سے تعلق رکھنے والے رانا قاسم نون بھی پی ٹی آئی کے ان ناراض اراکین میں سے ہیں جو گذشتہ روز سندھ ہاؤس میں دکھائی دیے تھے۔
مگر وہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کے منحرف رُکن تھے۔ اِنھوں نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا تھا۔
رانا قاسم نون پہلی بار 2002 کے انتخابات میں ملتان کے حلقہ پی پی 205 سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ ان کے خاندان کی سیاست کا آغاز قیام پاکستان کے فوری بعد ہوا تھا۔
ان کے چچا رانا گل محمد نون 1951 سے 1955 پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر رہے۔
نواب شیر وسیر
نواب شیر وسیر 2008 کے الیکشن میں اُس وقت کے حلقہ این اے 76 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ مگر 2013 کے الیکشن میں یہ مسلم لیگ ن کے اُمیدوار طلال چوہدری سے بھاری مارجن سے شکست کھا گئے۔
اس وقت بھی اِن کے پاس پیپلز پارٹی کا ٹکٹ تھا۔ یہی حلقہ جب 2018 کے الیکشن میں این اے 102 ٹھہرا تو ملک نواب شیر وسیر نے طلال چوہدری کو شکست دی۔ اِن کے پاس اس مرتبہ پاکستان تحریکِ انصاف کا ٹکٹ تھا۔
نواب شیر وسیر نے اپریل 2018 میں بنی گالہ جا کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس موقع پر اِن کا کہنا تھا ’وہ اپنے حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کو مضبوط کریں گے۔‘
حالانکہ جون 2017 میں اِنھوں نے وفد سمیت بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں بلاول کو جڑانوالہ میں جلسہ عام کی دعوت دی گئی تھی۔
ڈاکٹر رمیش کمار
سات اپریل 2018 کو ڈاکٹر رمیش کمار نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کو جوائن کر لیا تھا۔ یہ وہ دِن تھا جب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایک اور اقلیتی رُکن بھاون داس نے بھی پارٹی کو خیر باد کہہ کر اپنی وفاداری پیپلز پارٹی کو سونپ دی تھی۔
ڈاکٹر رمیش کمار کے چک شہزاد گھر میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے پریس کانفرنس کی تھی۔
اُس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ اگر اُن کی کمیونٹی پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی ’تو ہمیں محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔ میں نے پی ٹی آئی کو جوائن اس لیے کیا کہ ملک کی خدمت کر سکوں۔‘
ڈاکٹر رمیش کمار کی سیاست کا آغاز 2002 کے انتخابات سے ہوا تھا۔ یہ آزاد حیثیت میں پی ایس 61 سے محض 34 ووٹ لے سکے تھے۔ اس کے بعد وہ ق لیگ میں رہے اور پھر مسلم لیگ ن سے وابستہ ہوگئے تھے۔
جبکہ 2018 کے انتخابات سے قبل رمیش کمار پی ٹی آئی میں چلے گئے تھے۔ یوں وہ دو بار اقلیتی سیٹ پر قومی اسمبلی کے رُکن رہے۔
راجہ ریاض
راجہ ریاض سنہ 1993 میں پنجاب اسمبلی میں صوبائی ممبر رہے۔ یہ دوسری بار 2002 کے انتخابات میں ایم پی اے بنے تھے۔
سنہ 2008 کے انتخابات میں بھی وہ ایم پی اے منتخب ہوئے اور مئی 2016 تک پیپلز پارٹی کا حصہ رہے تھے۔ جبکہ 20 مئی 2016 کو پاکستان تحریک انصاف نے فیصل آباد کے مقام دھوبی گھاٹ میں جلسہ کیا جس میں راجہ ریاض نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
جلسہ کے بعد عمران خان نے علیم خان، شاہ محمود قریشی و دیگر کے ساتھ راجہ ریاض کے گھر میں کھانا کھایا تھا۔ سنہ 2018 کے الیکشن میں راجہ ریاض نے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر حلقہ این اے 110 سے کامیابی سمیٹی تھی۔
نور عالم خان
نور عالم خان سنہ 2008 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے پشاور کے حلقہ این اے تین سے ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ وہ 2018 کے الیکشن میں پشاور کے حلقہ این اے 27 سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔
اِنھوں نے مئی 2017 میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا تھا اور جہانگیر خان ترین سے ملاقات کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نور عالم کی اچھی شہرت سُنی ہے۔ اِن کو تحریکِ انصاف میں خوش آمدید کہتا ہوں۔‘
حالیہ دِنوں میں بعض حکومتی وزرا کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ’منحرف‘ اراکین کو کروڑوں روپے دیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ نور عالم خان 2008 میں جب پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے تو یہ امیر ترین رُکن اسمبلی قرار دیے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اِن کے چار ارب کے اثاثے تھے۔
نور عالم خان کی پی ٹی آئی حکومت سے تحفظات کی کہانی 2019 سے شروع ہوئی تھی۔ ایک موقع پر تحریکِ انصاف پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان اور نور عالم خان کے درمیان سخت جملوں پر مبنی مکالمہ بھی ہوا تھا۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے اِن سے کہا تھا کہ ’اس وقت آپ پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہیں جبکہ آپ پی پی پی میں جب تھے تو اُن پر تنقید نہیں کرتے تھے۔‘
جواب میں نور عالم نے کہا تھا کہ وہ ’اُس وقت بھی حکومت پر تنقید کرتے تھے۔‘
ریاض مزاری
ریاض مزاری سنہ 2018 کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے جیتے تھے۔ یہ جہانگیر خان ترین کی بدولت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ یہ الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
ریاض مزاری سابق نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کے بیٹے ہیں۔
ریاض مزار ی نے جون 2020 میں اپنی ہی حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔ یہ حکومت کی جانب سے اِن کے علاقے میں امن و امان برقرار نہ رکھ سکنے پر نالاں تھے۔
محمد عبدالغفار وٹو
محمد عبدالغفار وٹو 2018 کے الیکشن میں بہاول نگر کے حلقہ این اے 166 سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔
بعد ازاں اِنھوں نے پی ٹی آئی کو جوائن کر لیا تھا۔ یہ فیملی مختلف پارٹیوں سے مختلف ادوار میں وابستہ رہی ہے۔
غفار وٹو کے چچا پیپلز پارٹی کے میاں فدا حسین ہیں جو حلقہ پی پی 237 سے ایم پی اے ہیں۔ وہ گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرتے بھی پائے گئے۔
نزہت پٹھان
حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی نزہت پٹھان کی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہوا تھا۔ یہ ضلع حیدر آباد میں پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ کی ضلعی صدر رہیں۔
2002 کے الیکشن میں مخصوص نشست پر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی کی رُکن بنی تھیں۔ پھر یہ پی پی پی سے منحرف ہو کر ق لیگ میں شامل ہو گئیں۔
سنہ 2008 کے الیکشن میں یہ خواتین کی مخصوص نشست پر ق لیگ کی اُمیدوار کے طور پر اسمبلی کی ممبر بن گئیں۔ سنہ 2011 میں یہ ق لیگ سے الگ ہو کر ’پاکستان مسلم لیگ ہم خیال‘ کا حصہ بن گئیں۔
جبکہ اکتوبر 2016 میں انھوں نے پی ٹی آئی کو جوائن کر لیا۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں وہ سندھ سے خواتین کی مخصوص سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔
وجیہہ اکرم
وجیہہ اکرم سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی سے خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔
سال 2013 کے انتخابات میں اِنھوں نے نارووال کے حلقہ این اے 116 سے آزاد اُمیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا اور نو ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے دانیال عزیز منتخب ہوئے تھے۔
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں نارووال کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی جبکہ پانچ صوبائی حلقوں میں سے چار پر ن لیگ کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ تاہم ایک سیٹ پر آزاد امیدوار نے فتح پائی تھی اور یہ آزاد امیدوار بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگیا تھا۔
جبکہ حلقہ پی پی 47 سے کامیاب ہونے والے محمد غیاث الدین بعد ازاں ن لیگ سے منحرف ہوگئے تھے۔ حلقہ این اے 77 میں پاکستان تحریکِ انصاف نے میاں رشید کو ٹکٹ دیا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔ وجیہہ اکرم کا گھر اسی حلقہ میں ہے۔ وجیہہ اکرم کو مخصوص نشست پر ایم این اے بنانا، پی ٹی آئی کا اہم فیصلہ تھا۔
وجیہہ اکرم کے خاندان کی سیاست کی شروعات قیام پاکستان سے قبل کی ہے۔