آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہباز شریف کون ہیں؟: پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے ملک کی وزارتِ عظمٰی تک کا سفر
- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک بار پھر بدل چکی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان اب سابق وزیر اعظم ہیں اور سابق اپوزیشن لیڈر اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف قائد ایوان اور نئے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ شہباز شریف گذشتہ تین سال سے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تھے تاہم مرکز کی سیاست میں وہ کسی حد تک نووارد تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی پہچان صوبہ پنجاب کے حوالے سے زیادہ نمایاں رہی جہاں وہ تین ادوار میں مجموعی طور پر لگ بھگ 13 سال صوبے کے وزیرِاعلٰی رہے ہیں۔
اس دوران وہ کئی مرتبہ تقاریر میں اپنے جذباتی رویے تو کبھی اپنے کام کرنے کے انداز کی وجہ سے سیاسی مخالفین، میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز رہے۔ کبھی انھیں لانگ بوٹ پہنے سیلابی پانی میں کھڑے دیکھا گیا تو کبھی وہ سرکاری اداروں پر ’اچانک چھاپے‘ مارتے نظر آتے تھے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج: شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیرِاعظم منتخب ہو گئے
پنجاب میں شہباز شریف کے مختلف ادوار حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین اور اپوزیشن جماعتیں ان کے اس انداز پر تنقید بھی کرتے رہیں جن کے خیال میں ’وہ یہ سب دکھاوے کے لیے کرتے رہے‘ اور یہ کہ ہر ایسی جگہ پر میڈیا ان کے ساتھ کیوں موجود ہوتا تھا؟‘
تاہم شہباز شریف کو قریب سے جاننے والے سرکاری افسران اور صحافی سمجھتے ہیں کہ ان تمام بظاہر دلچسپ لمحات میں شہباز شریف وہاں ’ایک محنتی منتظم کے طور پر موجود تھے۔‘ اُن کے خیال میں بطور وزیر اعلیٰ شہباز شریف ایک اچھے منتظم تھے جو اپنے لیے جب اہداف مقرر کر لیتے تو انھیں پورا کرتے تھے۔
پنجاب میں انھوں نے یہ اہداف کئی ترقیاتی منصوبوں کی شکل میں حاصل کیے۔ صوبے کی بیوروکریسی میں انھیں ایک ’سخت ایڈمنسٹریٹر‘ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان کی یہ شہرت کیسے بنی اور وزیرِاعلٰی سے وزیرِاعظم کی کرسی تک کا طویل سفر انھوں نے کیسے طے کیا؟
بزنس مین سے سیاستدان تک کا سفر
سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے تعلیم کے بعد خاندان کا کاروبار سنبھالا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور کے سینیئر صحافی سلمان غنی ایک طویل عرصے سے شریف خاندان اور ان کی جماعت کی سرگرمیوں پر رپورٹ کرتے رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سنہ 1985 میں شہباز شریف لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بنے تھے۔
’اس دور میں مجھے یاد ہے کہ ان کے پاس ایک شیراڈ گاڑی ہوا کرتی تھی اور وہ خود اس میں سامان رکھ کر اپنی جماعت کے کارکنوں تک پہنچایا کرتے تھے۔‘
سلمان غنی کے خیال میں میاں نواز شریف اور اُن کی جماعت کی سیاست کو بڑھاوا دینے میں شہباز شریف کا مرکزی کردار رہا ہے۔
’وہ بہت محنت کرتے تھے۔ خاندان میں بھی شروع ہی سے ان کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ محنتی اور انتہائی اچھے منتظم ہیں۔‘
کاروبار کو بڑھاوا دینے کے بعد انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو پہلی بار شہباز شریف سنہ 1988 کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رُکن بنے۔ سنہ 1990 میں قومی اسمبلی اور سنہ 1993 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسی سال وہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بنے۔
شہباز شریف ’وزیرِاعظم ہوتے تو بہتر ہوتا‘
سنہ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلٰی منتخب ہوئے۔ صحافی اور سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی اس دور کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے بتایا کہ شہباز شریف ’طبعاً ایک محنت کرنے والے شخص تھے اور انھیں اپنا مقرر کیا گیا ہدف پورا کرنے کا جنون ہو جاتا تھا۔ اچھا منتظم ہونے کی وجہ سے انھوں نے پنجاب میں ایک اچھی ٹیم بنائی۔‘
شہباز شریف نے صوبے میں کئی منصوبے شروع کیے تاہم ان کی حکومت وقت سے پہلے اس وقت ختم ہو گئی جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے سنہ 1999 میں مارشل لا نافذ کر دیا اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ اس وقت جو بھی حالات بنے، ان میں شہباز شریف کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا تھا۔
’وہ بنیادی طور پر محاذ آرائی کے قائل نہیں تھے۔ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف ہوتا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘
مجیب الرحمان شامی بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر پرویز مشرف نے بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ (شہباز شریف) وزیراعظم ہوتے تو بہتر ہوتا‘۔
تاہم شریف خاندان کے دونوں بھائیوں کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور غداری کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
مشرف سے ڈیل اور جلا وطنی
سنہ 2000 میں شریف خاندان کی فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مبینہ ڈیل ہوئی جس کے بعد وہ جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ شریف فیملی اس ڈیل سے انکار کرتی ہے۔
مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت بھی نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات بنے، ان میں شہباز شریف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو پایا تھا۔
’وہ ملک سے جلا وطن نہیں ہونا چاہتے تھے اور انھوں نے بہت کوشش بھی کی کہ انھیں باہر نہ بھیجا جائے۔‘
صحافی سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف نے جیل کے اندر سے بھی اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو کئی خط لکھے۔
’ان خطوں میں وہ نواز شریف کو یہی مشورہ دیتے رہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرنا چاہیے۔‘
سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف کے چند ایسے خطوط ان کے ہاتھ بھی لگے تھے۔ سلمان غنی کے مطابق جنرل پرویز مشرف سے ڈیل کے نتیجے میں ہونے والی جلا وطنی پر ’شہباز شریف کو دکھ تھا کہ انھیں پاکستان چھوڑ کر جانا پڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کئی دفعہ سعودی عرب سے بھی واپس پاکستان آنے کی کوشش کی تھی۔
’اس کے بعد سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی کوششوں سے نواز شریف اور شہباز شریف سعودی عرب سے لندن منتقل ہو گئے تھے۔‘
وزارتِ اعلٰیٰ کی کرسی کا کھیل
سات سال بعد شریف خاندان سنہ 2007 میں پاکستان واپس آیا تو اگلے ہی برس ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ شہباز شریف ان انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔ ان کے خلاف سنہ 1998 میں لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ماورائے عدالت قتل کے ایک واقعے میں ایف آئی آر درج تھی۔
اس ایف آئی آر میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے بطور وزیرِ اعلٰی اس پولیس مقابلے کا حکم دیا تھا جس میں چند افراد پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارے گئے تھے۔ شہباز شریف کی غیر موجودگی میں سنہ 2003 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کو نوٹس جاری کیے تھے۔
سنہ 2004 میں شہباز شریف نے اس مقدمے میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی تاہم انھیں ائیرپورٹ ہی سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اسی برس عدالت میں پیش نہ ہونے کی بنا پر عدالت نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے تھے۔
سنہ 2007 میں شہباز شریف پاکستان واپس آئے تو انھیں اس مقدمے میں عدالت سے ضمانت لینا پڑی تھی تاہم عام انتخابات تک وہ اس مقدمے سے بری نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے بعد میں ضمنی انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ بھکر سے کامیاب ہو کر ایک مرتبہ پھر پنجاب کے وزیرِاعلٰی منتخب ہوئے تاہم اگلے ہی برس سپریم کورٹ نے ان کو نااہل قرار دے دیا۔
شہباز شریف نے اس فیصلے کے خلاف ایک لارجر بینچ میں درخواست دائر کی۔ دو ماہ بعد فیصلہ ان کے حق میں آیا اور وہ دوبارہ وزیرِاعلٰی کی کرسی پر بحال ہو گئے۔
'چینی ان کو پسند کرتے ہیں اور وہ چینیوں کو'
سنہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد شہباز شریف مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر تیسری بار پنجاب کے وزیرِاعلٰی منتخب ہو گئے۔ ان ہی 10 سال میں ان کے بارے میں ’سخت ایدمنسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا تھا۔
صحافی سلمان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ بطور وزیر اعلی ’شہباز شریف کی روٹین یہ ہوتی تھی کہ وہ صبح چھ بجے بیدار ہوتے تھے اور اسی وقت انھوں نے تمام متعلقہ افسران کو بھی پہنچنے کا حکم دیا ہوتا تھا۔
’مجھے یاد ہے کہ جن دنوں لاہور میں ڈینگی کے خلاف آپریشن چل رہا تھا تو انھوں نے صبح چھ بجے ڈاکٹروں اور دیگر ٹیموں کو بلایا ہوتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ کوئی لیٹ یا غیر حاضر ہو اور پھر شہباز شریف رات گئے تک کام کرتے رہتے تھے۔‘
صحافی مجیب الرحمان شامی کے مطابق شہباز شریف نے پہلے پانچ سال میں اپنے لیے ہدف مقرر کیا تھا کہ انھوں نے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنا ہے اور اس کے بعد انھوں نے چین کے تعاون سے پاور پلانٹس لگانے کا کام شروع کیا جسے ریکارڈ مدت میں ختم کیا گیا۔
اس زمانے میں اسی وجہ سے ’پنجاب سپیڈ‘ کی اصطلاح بھی مشہور ہوئی تھی۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’خاص طور پر چینی ان سے بہت خوش تھے کہ وہ وقت سے پہلے منصوبے مکمل کر لیتے تھے۔‘
صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’یہ شہباز شریف ہی کی محنت تھی جس کی وجہ سے ملک بجلی کے بحران سے باہر آیا تھا اور سنہ 2013 کے الیکشن میں نواز شریف اور ان کی جماعت کی جیت میں اس کا بہت بڑا کردار تھا۔‘
سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف چین کے لوگوں کے کام کے طریقے سے بہت متاثر تھے۔ اسی لیے وہ چین کے بارہا دورے کر چکے ہیں۔
’چینی ان کو پسند کرتے ہیں اور وہ چینیوں کو۔ چینی ان کے کام کرنے کی رفتار سے بہت متاثر تھے اور اس کی تعریف کرتے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین
شہباز شریف نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی کئی منصوبے مکمل کیے تاہم ان کے دور کے دو بڑے منصوبے ابتدائی طور پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنے۔
انھوں نے لاہور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شہر میں میٹرو بس چلانے کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت عمران خان حزبِ اختلاف میں تھے اور انھوں نے اس کو ’جنگلہ بس‘ کا نام دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔
صحافی سلمان غنی کے مطابق شہباز شریف نے ’تمام تر تنقید اور مخالفت کے باوجود میٹرو بس کا منصوبہ مکمل کیا۔ اور وہ کامیاب ہوا۔‘
اس کے بعد یہی منصوبہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ ملتان میں بھی شروع کیا گیا۔ خود عمران خان کی حکومت والے صوبے خیبرپختونخواہ میں بھی ایسا ہی پراجیکٹ شروع کیا گیا۔
اورنج لائن ٹرین چلانے کے منصوبے پر بھی شہباز شریف کو حزبِ اختلاف کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بارے میں اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ یہ پراجیکٹ اتنا مہنگا تھا کہ حکومت کے لیے اس کو سبسڈی پر چلانا مشکل تھا تاہم بعد میں یہ پراجیکٹ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں چلنا شروع ہوا اور ابھی تک چل رہا ہے۔
صوبے سے مرکز کا سفر
شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے سامنے سیاست میں ہمیشہ ثانوی کردار ادا کرتے رہے۔ جب بھی نواز شریف وزیرِاعظم بنے تو وزیراعلٰی شہباز شریف بنے۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ ’شہباز شریف پبلک لیڈر نہیں، وہ اچھے منتظم ہیں۔ وہ غیر ضروری جھگڑوں میں پڑنے کے قائل نہیں اور دفاعی اداروں کے ساتھ بھی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔‘
تاہم سنہ 2017 میں حالات اس وقت بدلے جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ پارٹی کی صدارت تو شہباز شریف کے پاس آ گئی لیکن وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی کے حصے میں گئی۔
ادھر عدالت سے سزا کے بعد کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد نواز شریف علاج کی اجازت لے کر لندن چلے گئے اور تاحال واپس نہیں آئے ہیں۔
سنہ 2018 کے انتخابات میں شہباز شریف نے پنجاب چھوڑ کر مرکز میں آنے کا فیصلہ کیا۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور دوسری بڑی جماعت کے لیڈر ہونے کی وجہ سے قائدِ حزبِ اختلاف بھی منتخب ہو گئے۔
ان کے خلاف بھی مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم ہوئے تاہم تاحال انھیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی ہے۔
حال ہی میں شہباز شریف نے حزبِ اختلاف کی باقی جماعتوں کے ساتھ مل کر سابق وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف تحریک چلائی جس کے دوران ان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی۔
صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ پنجاب کے برعکس مرکز میں سیاست کا مزاج مختلف ہے اور شہباز شریف کو وزیرِاعظم کے طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔
’یہ آسان نہیں ہو گا لیکن شہباز شریف ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘