آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک عدم اعتماد اور سپریم کورٹ کا فیصلہ: نظریہ ضرورت کیا تھا اور کیا عدالت عظمیٰ نے اسے دفن کر دیا؟
- مصنف, عابد حسین، ثنا آصف ڈار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلیاں بحال کرنے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔
اس سے پہلے تین اپریل کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر نے بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت مسترد کر دیا تھا۔
اس کے بعد صدرِ پاکستان عارف علوی نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی، جس کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس صورتحال کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب یہ سوال ہو رہے ہیں کہ کیا یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے اہم مقدمہ تھا؟
کیا اس مقدمے کا نتیجہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے اہم فیصلوں میں شامل ہے؟ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے ’نظریہ ضرورت‘ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور کیا اس فیصلے نے پاکستان میں نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا؟
اس حوالے سے ہم نے آئینی امور کے ماہر اور سپریم کورٹ کے وکیل اکرم شیخ سے بات کی، جنھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بہت ہی ’جرات مندانہ، قابل فخر اور شاندار‘ قرار دیا۔
وکیل اکرم شیخ کے مطابق اس میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لے کر صرف پانچ دن میں اتنے بڑے بحران کو حل کر دیا۔
’پاکستان کی تاریخ میں اسمبلیاں تحلیل ہوئیں، اس کے فیصلے ہوئے، بہت کچھ ہوا لیکن مہینوں اور دسیوں دن کیس چلتے رہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر سپریم کورٹ 3 اپریل کو ازخود نوٹس لیتی ہے اور 7 اپریل کو فیصلہ آ جاتا ہے۔ یہ بہت یادگار فیصلہ ہے اور ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘
سپریم کورٹ کے فیصلے پر مزید بات کرتے ہوئے اکرم شیخ نے کہا کہ ’اس فیصلے میں کسی قسم کی تشریح کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
’بعض اوقات ایسے فیصلے ہوتے ہیں کہ کوئی ابہام رہ جاتا ہے اور اس کی مزید تشریح کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ فیصلہ بہت واضح الفاظ میں لکھا گیا اور ایسا کچھ نہیں جس کی مزید وضاحت کے لیے وقت ضائع کیا جائے۔‘
تو کیا اس فیصلے نے پاکستان میں نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا؟
اکرم شیخ نے اس حوالے سے نظریہ ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’نظریہ ضرورت تو یہ ہے کہ ایک چیز قابل عمل نہیں لیکن وہ ہو جاتی ہے۔
’نظریہ ضرورت تو ہمیشہ ایسے کیسز میں لایا جاتا ہے جہاں اس کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور ہر گنجائش تو ہر مقدمے میں پیدا کی جا سکتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے ہر چیز کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی اور سپریم کورٹ کا یہ طرز عمل بھی قابل ستائش ہے کہ نظریہ ضرورت کا اطلاق نہیں کیا گیا۔‘
اکرم شیخ نے از خود نوٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس میں سنہ 2009 کے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک مقدمے کا بھی حوالہ دیا۔
’اس مقدمے میں بھی سپریم کورٹ کے 17 ججز نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ’ہم ماضی میں غلطیاں کرتے رہے ہیں اور آئندہ ہم غلطیاں نہیں کریں گے‘ تو چیف جسٹس نے جب حالیہ معاملے کا از خود نوٹس لیا تو اس مقدمے کا حوالہ دیا، جو بہت معنی خیز ہے کیونکہ اس حوالے میں بھی نظریہ ضرورت کا تذکرہ بنتا ہے کہ ہم فلاں فلاں موقعوں پر انصاف کے تقاضوں سے ہٹے اور نظریہ ضرورت کو اپنایا۔‘
’یہ پہلے دن سے ہی واضح تھا کہ سپریم کورٹ جو فیصلہ کرنے جا رہی ہے اس میں نظریہ ضرورت کی گنجائش نہیں ہو گی۔‘
اکرم شیخ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے دوران سماعت نظریہ ضرورت پر بحث ضرور کی کہ آخر تو الیکشن ہی ہونے ہیں تو الیکشن کرا لیں لیکن اصل بات انتخابات کی نہیں بلکہ قانون اور آئین کے مطابق اختیارات کا تعین ہے اور سپریم کورٹ نے یہی کیا۔‘
پاکستان کا اہم ترین مقدمہ کونسا ہے؟
جب بی بی سی نے قانونی ماہرین سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک پاکستانی تاریخ کا وہ کونسا مقدمہ ہے جس نے ملکی سیاست پر سب سے زیادہ دور رس اثرات مرتب کیے ہیں، تو دو مقدمات پر بیشتر کا اتفاق رائے نظر آیا۔
سینیئر وکیل اور پاکستانی کی آئینی تاریخ کے ماہر حامد خان نے مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس منیر کی سربراہی میں نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔
حامد خان کے مطابق یہی وہ فیصلہ تھا جس کی وجہ سے ’پاکستانی جمہوریت اپنے راستے سے ہٹ گئی۔‘
حامد خان نے تمیز الدین کیس کے علاوہ ’ڈوسو کیس‘ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1958 میں دیے گئے ایک فیصلے نے بھی کافی مضر اثرات چھوڑے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 1958 کے اس کیس کا فیصلہ بھی جسٹس منیر کے ہاتھوں آیا جس میں انھوں نے سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت درست قرار دیا۔
خیال رہے کہ بعد ازاں جسٹس منیر نے اپنی سوانح عمری ’ہائے ویز اینڈ بائی ویز آف لائف‘ میں اعتراف کیا کہ ’ان کے فیصلے ملک کی بدقسمتی کے آغاز کا سبب بنے۔‘
تجزیہ نگار رضا رومی نے بھی تمیز الدین کیس اور ڈوسو کیس کو اہم ترین مقدمات قرار دیا لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے عاصمہ جیلانی کی جانب سے یحییٰ خان پر دائر کیے گئے کیس کا ذکر بھی کیا، جس کے فیصلے میں عدالت نے سابق فوجی سربراہ کو ’غاصب‘ قرار دیا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کہا جاتا ہے کہ مشرف کیس پہلا موقع ہے جب کسی فوجی آمر پر کیس چل رہا ہے لیکن حقیقت میں یحییٰ خان کے ساتھ عدالت فیصلہ کر چکی تھی۔ البتہ وہ فیصلہ اس وقت آیا جب سابق فوجی حکمراں طاقت میں نہیں تھے۔
دیگرمقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے رضا رومی نے کہا کہ ان فیصلوں نے پاکستانی تاریخ کی راہ متعین کر دی۔
’یہ جو تمام مقدمات تھے اور ان کے جو فیصلے تھے، انھوں نے پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کی سمت متعین کر دی۔ آج کا پاکستان ابھی تک انھی مقدمات اور فیصلوں سے منسلک ہے اور انھی کے چنگل میں جکڑا ہے۔‘
ادھر منیر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے نزدیک، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور ملک کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کے الزام میں چلنے والا مقدمہ پاکستان کا اہم ترین کیس تھا جس کے اثرات پاکستانی سیاست پر ابھی تک حاوی ہیں۔
’ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی سزائے موت پر کی گئی اپیل، جس کا فیصلہ چار، تین سے ان کے خلاف آیا تھا، میرے خیال میں پاکستان کا سب سے اہم کیس ہے۔ تاریخ میں اس کو ابھی بھی ’عدالتی قتل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان میں عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں جب جب بات ہوتی ہے تو اس مقدمے کا ذکر لازماً ہوتا ہے۔‘
لیکن منیر ملک کے مطابق عدالتوں نے ماضی میں ایسے کئی معروف فیصلے بھی دیے ہیں جن کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انھوں نے سنہ 2009 کے اس فیصلے کی مثال دی جس کے تحت صدر مشرف کی جانب سے سنہ 2007 مارچ میں عدلیہ کے ججوں کی معزولی کے فیصلے کو خارج کرنا تھا جس کے بعد افتخار چوہدری ایک بار پھر پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے۔
’ایک اور اہم کیس اصغر خان کیس ہے جس میں عدالت نے ریاستی معاملات میں ایک مخصوص قومی ادارے کی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بالخصوص انتخابات کے معاملے پر ان کے مینڈیٹ پر سوال اٹھایا۔‘
مزید پڑھیے
وکیل اسد رحیم نے مولوی تمیز الدین کیس اور ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کو اہم ترین کیس قرار دیا لیکن ساتھ میں مزید کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس سنہ 1988 میں بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست، کیس نمبر PLD 1988 SC 561 ہے۔
’یہ وہ مقدمہ ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے آئین کی شق 184(3) کی جو تشریح کی، اس نے مستقبل میں از خود نوٹس مقدمات اور عوامی فلاح کے لیے اٹھائے گئے عدالتی اقدامات کے لیے راستہ ہموار کیا جس کے اثرات دہائیوں بعد سامنے آئے۔‘
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین اور ناقدین کہتے ہیں کہ 1955 اور 1958 میں دیے جانے والے فیصلوں نے پاکستانی آئین کو زبردست نقصان پہنچایا اور جس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کبھی بھی صحیح معنوں میں پنپ نہیں سکی۔
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اپنے ایک اکثریتی فیصلے میں انھیں سزائے موت سنائی تھی۔
پاکستانی آئین کی شق چھ ’ہائی ٹریزن‘ یعنی سنگین غداری کے مطابق کوئی بھی شخص جس نے آئین کو معطل کیا ہو یا اسے منسوخ کیا ہو، غداری کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور اس قدم کی سزا موت یا عمر قید ہے۔
سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف پانچ سال جاری رہنے والا مقدمہ وہ پہلا موقع تھا جب پاکستان کے کسی فوجی حکمران پر آئین شکنی کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلا ہو۔
معروف قانون دان اور پاکستان کی عدالتی اور آئینی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے وکیل حامد خان نے اس مقدمے کے بارے میں کہا کہ شاید مشرف غداری مقدمے کو ملک کا اہم ترین کیس نہیں کہہ سکتے تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ایک سابق فوجی حکمران کو اس طرح غداری کا مرتکب قرار دینا ایک نئی مثال ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہر اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس سے منسلک وکیل ریما عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں قطعی طور پر دو رائے نہیں کہ مشرف غداری مقدمہ عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک ہے۔
’ایک سابق فوجی سربراہ پر غداری اور آئین شکنی کا مقدمہ چلانا ہی کوئی چھوٹی بات نہیں لیکن اس کی اہمیت شاید اس لیے ماند پڑ جائے کہ یہ مشرف کی جانب سے سنہ 1999 میں کی گئی فوجی بغاوت کے خلاف نہیں بلکہ نومبر 2007 میں لگائی گئی ایمرجنسی کے خلاف ہے اور وہ تو کئی سال سے ملک میں موجود ہی نہیں ہیں۔‘
(یہ تحریر پہلی بار 27 نومبر 2019 کو شائع کی گئی تھی اور اب اسے اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے)