آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نظریہ ضرورت کے نقاد جسٹس اجمل میاں کا انتقال
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ اجمل میاں انتقال کر گئے ہیں، ان کی عمر 83 برس تھی۔ اجمل میاں کی تدفین پیر کی شام میوہ شاہ قبرستان میں کی جائیگی۔
جسٹس ریٹائرڈ اجمل کی پیدائش 1934 میں ایک کاروباری گھرانے میں ہوئی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا جہاں اجمل میاں نے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔
اپنی کتاب 'جج سپیکس آؤٹ' میں اجمل میاں لکھتے ہیں کہ ایک فقیر نے دعا کی تھی کہ وہ بیرسٹر بنیں گے۔
برطانیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اجمل میاں نے نامور قانون دان شریف الدین پیرزادہ کے چیمبر میں وکالت شروع کی۔
جسٹس اجمل میاں 1973 میں ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے اور بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔
جسٹس اجمل میاں اس وقت پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے جب پاکستانی عدلیہ اپنی تاریخ کے سب بڑے بحران سے گزر رہی تھی اور حکومت وقت کے حامیوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔
جسٹس اجمل میاں سپریم کورٹ کے اس بینچ بھی حصہ تھے جس نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تعینات ہونے والے ججوں کی تقرری کا جائزہ لیا اور اس فیصلے کی وجہ کئی ججوں کو عدلیہ سے نکال دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی سپریم کورٹ کے جس 10 رکنی بینچ نے جسٹس سجاد علی شاہ کی تعیناتی کو آئین کے منافی قرار دیا تو جسٹس اجمل میاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کی بنا پر چیف جسٹس مقرر ہوئے۔
جسٹس اجمل میاں نے نواز شریف کی حکومت میں دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے بنائی جانے والی فوجی عدالتوں کے قانون کو کالعدم قرار دیا۔
انھوں نے ایک فیصلے میں نظریہ ضرورت کو 'دفنانے' کا بھی ذکر کیا لیکن کچھ عرصہ بعد ہی چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے نہ صرف نظریہ ضرورت کو زندہ کیا بلکہ جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کا بھی اختیار دے دیا۔
جسٹس اجمل میاں نے اپنی کتاب 'جج سپیکس آؤٹ' میں نظریہ ضرورت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں اگر جسٹس کانسٹنٹائن کا فیصلہ اکثریتی رائے ہوتا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ بالکل مختلف ہوسکتی تھی۔
اجمل میاں کا کہنا تھا کہ ایک ایسا ملک جہاں جمہوری عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہو اور مسلسل فوجی حکومتوں اور سیاسی بحرانوں میں عدلیہ کے لیے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ’ان دنوں میں ججوں کی تعیناتی کی معیاد جو عدلیہ کی آزادی کے لیے اہم ہوتی ہے وہ بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہے اور ججوں کی اکثریت پی سی او کے تحت صوابدیدی اختیار کے تحت ریٹائر ہوجاتی ہے۔'
انہوں نے سیاست دانوں سے بھی شکوہ کیا تھا کہ سیاسی حکومتوں کا عدالتوں کے ساتھ رویہ قابل مذمت ہے۔"وہ نہیں چاہتے کہ عدلیہ آزاد ہو۔'