وزیر اعظم عمران خان کا تقریر میں امریکہ کا نام لینا، ’غلطی‘ یا ’شرارت‘؟

    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے تناظر میں جمعرات کی شام قوم سے تقریباً 50 منٹ طویل خطاب کیا جس میں انھوں نے اپنے خلاف مبینہ طور پر بیرون ملک تیار ہونے والی سازشوں کا ذکر کیا اور اس دوران وہ 'غلطی' سے امریکہ کا نام لے بیٹھے۔

اس سے پہلے باضابطہ طور پر کسی حکومتی عہدے دار نے واضح طور پر امریکہ کا نام نہیں لیا تھا۔ وزیر اعظم کی بظاہر اس غلطی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا اور صارفین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کر دیا جہاں ان کے حامیوں نے عمران خان کی تعریف میں پُل باندھ دیے تو ان کا ناقدین نے انھیں تیاری کر کے خطاب کرنے کا مشورہ دیا۔

لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث سے قبل پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنے براہ راست کیے جانے والے خطاب میں کیا کہا اور اس خط کے بارے میں پس منظر کیا ہے۔

'یہ پیغام ہماری قوم کے خلاف ہے'

اپنی تقریر میں اس موقع پر پہنچنے سے پہلے انھوں نے لمبی سانس لی اور پھر بات کرتے ہوئے کہا: 'میں آج جو آپ کے پاس ساری بات کرنے اس لیے آیا ہوں، ابھی ہمیں آٹھ مارچ، سات مارچ کو ہمیں امریکہ نے، امریکہ نے (پھر جھینپتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ لہرایا) ایک باہر کے ملک نے، میں نام۔۔۔، مطلب میرا باہر کسی اور ملک سے ہمیں پیغام آتا ہے اور میں اس لیے آپ کے سامنے اس پیغام کی بات کرنا چاہتا ہوں اور میں اسی لیے لائیو کر رہا ہوں، کہ یہ کسی آزاد ملک کے لیے ہمیں جس طرح کا پیغام آیا ہے، یہ ہے تو وزیر اعظم کے خلاف صرف، لیکن یہ ہماری قوم کے خلاف ہے۔'

واضح رہے کہ سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی' تاہم انھوں نے کہا کہ قومی مفاد میں وہ اس خط پر مزید بات نہیں کریں گے تاہم کوئی اگر دیکھنا چاہے تو وہ انھیں آف دا ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔

بعد ازاں وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اسد عمر نے بھی اس خط کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خط میں عمران خان کے خلاف بات کی گئی ہے اور یہ کہ ابھی حکومت یہ نہیں بتا سکتی کہ خط کہاں سے آیا ہے کیوں کہ 'اس خط کو صرف اعلیٰ ترین سول ملٹری قیادت تک محدود رکھا گیا ہے اور کابینہ کے بھی دو یا تین اراکین کو معلوم ہے کہ مراسلے میں کیا لکھا ہوا ہے۔'

اس کے بعد بدھ کو وزیر اعظم نے پہلے کہا کہ وہ چند صحافیوں کو مدعو کر رہے ہیں تاکہ انھیں خط دکھایا جائے تاہم بعد میں انھوں نے خط تو نہیں دکھایا تاہم انھیں اس کے مندرجات اور متن سے آگاہ کیا۔

یاد رہے کہ اس اثنا میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سیاسی پہیہ وزیر اعظم کے خلاف گھوم رہا تھا اور جہاں ایک جانب عمران خان کے اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن میں شمولیت اختیار کر رہے تھے، وہیں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا بیانیہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا کہ یہ سب ان کی حکومت کو گرانے کے لیے 'بیرون ملک سے برآمد کی گئی' ایک گھناؤنی سازش ہے۔

جمعرات یعنی 31 مارچ (خط موصول ہونے کے تین ہفتے بعد) کو ہی وزیر اعظم کے خطاب سے کچھ گھنٹے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا جہاں وزیر اعظم، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اہم حکومتی عہدے دار موجود تھے اور اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں بھی 'دھمکی آمیز مراسلہ' بھیجنے والے ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا۔

تاہم اس اعلامیے میں بھی نہ 'دھمکی' کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی کسی 'سازش' کا اور کہا گیا کہ پاکستان سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس پر اپنا احتجاج درج کرائے گا، تاہم اس کے علاوہ اعلامیہ میں کسی غیر ملکی فنڈنگ یا ملک میں عدم استحکام کرنے کے منصوبے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر کیا ہوا؟

لیکن جب عمران خان نے اپنی تقریر میں امریکہ کا ذکر کیا اور بظاہر اپنی غلطی کو چھپاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر ملک کی بات کر رہے ہیں تو جیسے ٹائم لائن پر کوئی بھونچال سا آ گیا۔

صحافی احتشام الحق لکھتے ہیں کہ یہ 'سلپ آف ٹنگ' یعنی یہ غلطی ہی ان کی ساری تقریر تھی اور وہ کہنا ہی یہی چاہتے تھے۔

ایک اور صارف 'وارس آن برنک' نے بھی اسی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی یہ غلطی ہی ان کی پوری تقریر تھی کیونکہ باقی سب تو وہ تھا جو وہ ہمیشہ دہراتے آئے ہیں۔ 'وہ صرف یہی کہنے کے لیے آئے تھے، بغیر کہے، اور انھوں نے یہ کر دکھایا۔'

ایک اور صارف عدیل لکھتے ہیں کہ عمران خان نے امریکہ کا نام لیا اور پھر درستگی کر لی لیکن لیکن کیا یہ انھوں نے انجانے میں کہا تھا یا جان کر۔

صحافی بینظیر شاہ نے بھی اس موقع پر ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم نے اس ملک کا غلطی سے نام لے لیا ہے، تو جواب میں صحافی عنبر رحیم شمسی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ غلطی نہیں تھی، یا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔

گلوکار ہارون شاہد نے بھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسی تقاریر کی نشریات میں کچھ سیکنڈز کا وقفہ ہوتا ہے اور یہ ایڈٹ ہو سکتا تھا لیکن کیونکہ ایسا نہیں ہوا۔ 'بہت شرارتی خان صاحب، بہت شرارتی۔'

ایک اور صارف مہرین لکھتی ہیں کہ وزیر اعظم نے امریکہ کا نام لے لیا۔ 'جو لوگ امریکی ذہنیت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے ملک پر حملہ نہیں کرے گا جو اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ امریکی سفارتکار شاید عمران خان کا امتحان لینا چاہتے تھے تاکہ ان کا رد عمل دیکھ سکیں۔ یہ نہ بھولیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے خلاف ٹویٹ کی تھی لیکن عمران خان نے ڈٹ کر جواب دیا اور پھر انھی ٹرمپ نے عمران خان کو وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا۔'

ایک اور صارف طحہٰ نے عمران خان کی مسکراہٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ معنی خیز مسکراہٹ۔۔۔ اور پھر لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان سیاست کرنا نہیں جانتے۔'

دوسری جانب، ماہر معیشت شاہ رخ ونی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'عمران خان، براہ مہربانی اگلی بار تقریر سے پہلے اسے لکھ لیں، ریکارڈ کر لیں اور پھر ایڈٹ کر لیں۔'

صارف اویس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'آسان اردو میں اسے ڈیڑھ ہوشیار کہتے ہیں' جبکہ صحافی شہریار مرزا نے وزیر اعظم کی اس تقریر پر سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لیے پاکستان کی سفارتکاری کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟

'اسے سن کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ کوئی ایسا شخص ہے جسے اپنے ملک کے مفاد کی پروا ہو۔'

ماضی میں عمران خان کے متنازع بیانات اور حکومتی وضاحتیں

جہاں اس تقریر پر کیے گئے تبصروں میں یہ سوال اٹھتا رہا کہ یا واقعتاً غلطی تھی یا انھوں نے جان بوجھ کر امریکہ کا نام لیا تھا، ماضی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جب عمران خان نے اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں ایسی باتیں کی جس کے بعد حکومتی عہدے داران کی جانب سے وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم کو تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا۔

اپریل 2019 میں عمران خان نے اپنے ایک بیان میں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت کے فوائد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان نے اپنے تعلقات تجارت کے ذریعے بہتر بنائے کیونکہ وہ مشترکہ طور پر صنعتیں قائم کر سکے تھے۔

بعد ازاں اس بارے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم غالباً جرمنی اور فرانس کا ذکر کرنا چاہتے تھے لیکن جاپان کہہ بیٹھے جس پر دوسری جنگ عظیم میں ایٹمی بم گرایا گیا تھا۔

'اسامہ بن لادن کو مار دیا، شہید کر دیا'

دو برس قبل جون 2020 میں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کو 'کامیاب ترین' قرار دیا وہیں انھوں نے امریکہ کے ساتھ ان کی اور ماضی کی حکومتوں کے تعلقات پر بات کی۔

اس دوران انھوں نے کہا کہ 'ایک واقعہ ہے جس سے پاکستانیوں کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ انھوں نے ایبٹ آباد میں آ کر اسامہ بن لادن کو مار دیا، شہید کر دیا۔ اس کے بعد ساری دنیا نے ہمیں گالیاں دیں۔ ہمیں برا بھلا کہا۔ یعنی ہمارا اتحادی ہمارے ملک میں آ کر کارروائی کر رہا ہے اور ہمیں نہیں بتا رہا۔'

یاد رہے کہ مئی 2011 میں امریکہ نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا اور اس کے بارے میں پاکستان کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

ان کے اس بیان کے بعد عمران خان پر شدید تنقید کی گئی تھی تاہم چند روز بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض 'سلپ آف ٹنگ' تھا اور حکومت کی اسامہ بن لادن پر پوزیشن واضح ہے۔

’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے'

اپریل 2021 میں وزیرِاعظم عمران خان نے ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں پوچھے گئے سوال پر ملک میں ریپ کے واقعات کی ایک وجہ 'فحاشی' کو قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔'

اس بیان کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا جس کے چار دن بعد بدھ کو اُن کے دفتر سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا تو اُس میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ جنسی جرائم کو روکنے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے بلکہ پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہوگا جس میں 'بہکا وں سے بچنا بھی شامل ہے۔'

تاہم کچھ ہی دیر بعد اس وضاحتی بیان میں ترمیم کر دی گئی اور جاری کردہ نئے بیان میں 'بہکاووں سے بچنے' کے الفاظ حذف کر دیے گئے اور جملہ صرف 'پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہوگا' پر ختم کر دیا گیا۔