تحریک عدم اعتماد: پاکستان مسلم لیگ ق کے حکومت، بلوچستان عوامی پارٹی کے اپوزیشن کا ساتھ دینے کے پیچھے وجہ کیا؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ، محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف، وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کی حمایت حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو گئی ہے لیکن دوسری طرف بلوچستان سے تحریک انصاف کی اہم اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے تحریک انصاف سے راہیں جدا کر لی ہیں۔

پیر کے روز اسلام آباد میں بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ملاقات میں پنجاب کے وزیراعلٰی عثمان بزدار سے استعفٰی مانگ لیا گیا اور وزیرِاعظم نے پرویز الٰہی کو اپنا وزارتِ اعلٰی کا امیدوار مقرر کر دیا تو ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی اے پی کے چار ایم این اے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔

صوبہ پنجاب کے حوالے سے پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پیر کی صبح متحدہ حزبِ اختلاف کی جانب سے وزیرِاعلٰی عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی تھی۔ اس سے قبل اتوار کے روز حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک وفد نے اسلام آباد میں ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے حوالے سے خبریں یہ آ رہی تھیں کہ ’ن لیگ اور ق لیگ کے معاملات طے پا گئے تھے‘ تاہم وزارتِ اعلٰی کی حکومتی پیشکش قبول کرنے کے ساتھ ہی ق لیگ کے کیمپ سے طارق بشیر چیمہ کھل کر سامنے آئے اور انھوں نے نہ صرف وفاقی کابینہ سے استعفٰی دینے کا اعلان کیا بلکہ تحریک عدم اعتماد میں وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔

ان کے اس اعلان کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ق لیگ کی قیادت میں چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے وزیرِاعظم کی پیشکش قبول کرنے پر اختلاف پایا جاتا تھا اور ’چوہدری شجاعت حسین اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے‘ تاہم ق لیگ کے ترجمان غلام مصطفٰی ملک نے ایک پیغام میں ق لیگ میں اختلافات کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جماعت میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کے اعتماد اور اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔‘

پیر کی رات تک سرکاری طور پر وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار کا استعفٰی سامنے نہیں آیا تھا۔ ان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور نے اس حوالے سے سوال کا جواب نہیں دیا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا چوہدری پرویز الٰہی صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا وہ وزیرِاعظم عمران خان کی مرکز میں تحریکِ عدم اعتماد میں خاطر خواہ مدد کر پائیں گے؟ اور کیا بلوچستان کے اراکین اسمبلی ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟

تو پہلے بات کرتے ہیں صوبہ پنجاب کی۔ یوں تو پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے پاس 183 اراکین موجود ہیں اور ق لیگ کے پاس 10 اراکین ہیں تاہم پی ٹی آئی کے اندر گروپوں کی صورت میں ’ناراض‘ اراکین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

تجزیہ نگاروں کی نظر میں چوہدری پرویز الٰہی کے لیے سب سے بڑا چیلنج انھی ناراض اراکین کو منانا ہو گا جس میں بڑا حصہ جہانگیر ترین گروپ کا ہے۔

وزارتِ اعلٰی کا انتخاب کتنا بڑا چیلنج ہو سکتا ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی نے ’اپنے اوپر ایک نہیں دو چیلنج لے لیے ہیں۔ ایک تو انھیں وزیرِاعلٰی کا انتخاب جیتنا ہو گا اور دوسرا پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کو واپس لانا ہو گا۔‘

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ وہ وزارتِ اعلٰی کا انتخاب جیت جائیں۔

ان کے خیال میں تاہم جس وقت پر حکومت نے انھیں وزارتِ اعلٰی کی پیشکش کی ’یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس وقت چوہدری پرویز الٰہی وزیرِاعظم عمران خان کی مرکز میں کتنی مدد کر پاتے ہیں۔‘

’اتنے کم وقت میں اور ایسے مرحلے پر جب تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہے تو انھیں منحرف اراکین پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور حکومت کی دوسری اتحادی جماعتوں سے بھی وزیرِاعظم کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔‘

ناراض اراکین کا جھکاؤ کس طرف ہو سکتا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین یعنی جہانگیر ترین گروپ اور حال ہی میں علیم ترین کی طرف سے بھی وزیرِاعلٰی عثمان بزادار کو عہدے سے ہٹانا سب سے بڑا مطالبہ بن کر سامنے آیا تھا۔

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق یہ اراکین عثمان بزدار کے ہٹائے جانے پر ضرور خوش ہوں گے تاہم کیا اس کے بعد وہ حکومتی جماعت کا ساتھ دیں گے، یہ تاحال واضح نہیں تھا۔

’پہلے یہ باتیں چل رہی تھیں کہ چوہدری پرویز الٰہی حزبِ اختلاف کی طرف سے وزارتِ اعلٰی کے امیدوار ہوں گے تو ہمارے علم میں یہ بات آئی تھی کہ چوہدری برادران کی طرف سے جہانگیر ترین گروپ سے حمایت کے لیے رابطہ بھی کیا گیا تھا تاہم اب صورتحال بدل گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ جب وہ حکومتی امیدوار بن کر سامنے آتے ہیں تو کیا پھر بھی جہانگیر ترین گروپ یا دوسرے ناراض اراکین ان کی حمایت کریں گے۔

جہانگیر ترین گروپ نے تاحال اس حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین جو فیصلہ کریں گے اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے اپنے اراکین کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کی طرف سے چوہدری پرویز الٰہی کو وزارتِ اعلٰی کا امیدوار مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد یہ عین ممکن ہے کہ پنجاب میں ان کی جماعت کے دیگر اراکین زیادہ خوش نہیں ہوں گے۔

’بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خود کو بھی وزارتِ اعلٰی کا امیدوار تصور کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جماعت کے اندر یہ تاثر بھی جنم لے سکتا ہے کہ کیا ان کی اپنی جماعت کے اندر کوئی عثمان بزدار کا نعمل البدل موجود نہیں تھا۔‘

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تاثر کے نتیجے میں ’یہ بھی ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ’ناراض‘ اراکین کی تعداد میں آنے والے چند دنوں میں اضافہ دیکھنے میں آئے‘ تاہم ان کے خیال میں پنجاب سے زیادہ اس وقت تمام تر نظریں مرکز پر مرکوز ہوں گی۔ مرکز میں تحریکِ عدم اعتماد کا نتیجہ پنجاب پر اثرانداز ہو گا۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کا اپوزیشن کی حمایت کا اعلان

پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی اے پی کے چار ایم این اے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے اور یہ فیصلہ انھوں نے بطور جماعت کیا ہے۔

تاہم جب نوابزادہ خالد مگسی متحدہ حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے ساتھ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کررہے تھے تو اس وقت پارٹی کے پانچ اراکین میں سے صرف چار اراکین موجود تھے اور وفاقی وزیر زبیدہ جلال پریس کانفرنس میں موجود نہیں تھیں۔

یاد رہے کہ بی اے پی پانچ اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ بلوچستان سے تحریک انصاف کی سب سے بڑی اتحادی جماعت تھی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی اے پی اراکین اسمبلی کو نہ صرف وزیر اعظم عمران خان سے شکایات تھیں بلکہ انھوں نے موجودہ صورتحال میں اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا تاکہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ ایک اچھی بارگین کر سکیں۔

اگرچہ بی اے پی اس وقت دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے لیکن دونوں گروپوں کی جانب سے تحریک انصاف اور متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات اور فیصلے کا اختیار قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی رہنما نوابزادہ خالد مگسی کو دیا گیا تھا جنھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

نوابزادہ خالد مگسی نے کیا کہا؟

نوابزادہ خالد مگسی کا کہنا تھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس وقت موقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’متحدہ اپوزیشن پچھلے تجربات کے ساتھ ایک نئے ارادے کے ساتھ آئی ہے۔ اس لیے ان کی دعوت کو قبول کیا۔ ہم چاہتے تھے کہ ایک نئے انداز میں ملک کو سنبھالا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان 72 سال سے محرومیوں کا شکار ہے اور ’ہم چاہتے ہیں اس کی جانب پوری توجہ دی جائے۔ بلوچستان کے معاملات کو لٹکایا نہیں بلکہ حل کیا جائے اور اسی بنیاد پر ہم نے یہ فیصلہ کیا۔‘

تحریک انصاف کا نام لیے بغیر نوابزادہ خالد مگسی نے کہا کہ پہلے ہم نے ان کے ساتھ ساڑھے تین سال گزارے لیکن اب یہ وقت ان سے گلے اور شکوے کا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ فیصلہ نیک نیتی کے ساتھ کیا اور توقع ہے کہ اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

اہم اتحادی ہونے کے باوجود بی اے پی نے عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد بی اے پی نے وفاق میں حکومت سازی کے لیے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ تحریک انصاف نے بلوچستان میں بی اے پی کو سپورٹ کیا۔

اس سوال پر کہ اہم اتحادی ہونے کے باوجود بی اے پی نے تحریک انصاف کا ساتھ کیوں چھوڑ دیا تو شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے اس لیے بی اے پی کے لوگوں نے موجودہ حالات میں اپنے مفاد میں اسی کو بہتر سمجھا۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا بی اے پی کا اندازہ تھا کہ تحریک انصاف کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عمران خان سے ناراض ہے جس کے باعث انھوں نے ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو دیا ہے جس کے پیش نظر انھوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ متحدہ حزب اختلاف کا ساتھ دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ شاید وہ اس فیصلے کا اعلان آگے جا کر کرتے لیکن تحریک انصاف نے ق لیگ کی حمایت کا کارڈ شو کیا تو حزب اختلاف نے بی اے پی کا کارڈ شو کیا۔

’آج جب عمران خان نے ق لیگ کو منا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دینے کا اعلان کیا تو ان کے مقابلے میں حزب اختلاف نے یہ دکھایا کہ بی اے پی کے اراکین ان کے ساتھ ہیں جبکہ انھوں نے گزشتہ روزجمہوری وطن پارٹی کا کارڈ شو کیا تھا۔‘

سینئیر تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ بی اے پی کے اراکین اسمبلی کو وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے بہت ساری شکایات تھیں ۔

’بی اے پی اراکین یہ کہتے ہیں کہ کہ نہ صرف ان کے حلقے نظرانداز رہے بلکہ عمران خان ان سے ملاقات تک نہیں کرتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ بی اے پی کے لوگ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ بی اے پی بلوچستان سے تحریک انصاف کی سب سے بڑی اتحادی جماعت تھی لیکن نہ صرف کابینہ میں پارٹی کے صرف ایک رکن کو لیا گیا بلکہ ان کو بھی ایک غیر اہم محکمہ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث وہ کہتے رہے کہ فیصلہ سازی کے اہم ادارے کابینہ میں نہ صرف بی اے پی بلکہ بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونے کی برابر تھی۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال کی عدم موجودگی نمایاں رہی

جب نوابزادہ خالد مگسی پریس کانفرنس کر رہے تھے تو اس وقت پارٹی کے چار اراکین خود نوابزادہ خالد مگسی، اسرار ترین، روبینہ عرفان اور احسان اللہ ریکی موجود تھے جبکہ وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال موجود نہیں تھیں۔

پارٹی کے اندرونی زرائع کے مطابق زبیدہ جلال پریس کانفرنس سے قبل باقی اراکین کے ساتھ تھیں لیکن سہ پہر تین بجے وہ یہ کہہ کر چلی گئیں کہ انھیں سوچنے کا موقع دیا جائے تاہم وہ واپس نہیں آئیں۔

زبیدہ جلال سے پریس کانفرنس میں عدم موجودگی کی وجوہات جاننے کے لیے فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی۔

سینئیر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں اختلافات ہیں اور شاید زبیدہ جلال کو اس فیصلے سے کوئی اختلاف ہو جس کی وجہ سے وہ پریس کانفرنس میں نہیں آئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ زبیدہ جلال کی شرائط ہوں جس میں یہ شرط بھی ہو سکتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں انھیں آئندہ کابینہ میں بھی شامل کیا جائے۔

بلوچستان سے ایک اور سینیئر تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ زبیدہ جلال اس پریس کانفرنس میں نہیں تھیں لیکن بے اے پی کے دیگر اراکین قومی اسمبلی کو یہ توقع ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل جائیں گی۔

بلوچستان سے اراکین قومی اسمبلی کی اکثریت متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ

بلوچستان سے قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 20 ہے اور اس وقت پانچ جماعتوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہے۔ ان میں سے چھ اراکین جے یو آئی (ف)، پانچ اراکین بی اے پی، چار اراکین بلوچستان نیشنل پارٹی، تین اراکین تحریک انصاف اور ایک رکن جمہوری وطن پارٹی کا ہے۔

بلوچستان سے میر محمد اسلم بھوتانی آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے۔

تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ میر اسلم بھوتانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ناراض نہیں کریں گے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ بھی متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت بلوچستان کے 20 اراکین میں سے 16 اراکین متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ ہیں۔