آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے فوج کو نقصان پہنچے۔ بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ن لیگ کے ایک رہنما نے میڈیا سے کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. ازخود نوٹس پر پارلیمانی بل قانون بن گیا، عمل درآمد میں عدالتی حکم حائل

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل، جس کے تحت عدالت عظمی میں ازخود نوٹس لینے اور بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے ایک کمیٹی کے حوالے کیا جانا ہے، قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ اس قانون کے خلاف عبوری حکم کے تحت عمل درآمد سے روک چکی ہے۔

    عدالتی اصلاحات کے تحت بنائے جانے والے اس قانون پر صدر مملکت عارف علوی نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد معینہ مدت پوری ہونے پر یہ بل آئین کے تحت قانون کی شکل اختیار کر گیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفکیشن کا حکم دیا۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے عدالتی اصلاحات سے متعلقہ 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023' تیس مارچ کو منظور کر لیا تھا تاہم 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس کے خلاف عبوری حکم جاری کیا جس میں اس پر عملدرآمد تاحکم ثانی روک دیا گیا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی قانون کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کو سونپا گیا، جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے اس بل کی منظوری کی ٹائمنگ پر سوالات اٹھائے گئے تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بل کا مقصد چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس حوالے سے مراحل کا تعین کرنا ہے۔

  2. حمزہ شہباز کا حلف: لاہور ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلی حمزہ شہباز کی درخواست پر پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں قائد ایوان کے انتخاب کے بعد گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ن لیگ نے عدالت سے رجوع کیا۔

    کیس کی سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔

    ان کا موقف تھا کہ قانون کے مطابق وزیر اعلی کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نتائج گورنر ہاوس بھجوا چکے ہیں۔

    حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ عدالتی حکم کی حکم عدولی کی گئی اور گورنر پنجاب آئین اور قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب گورنر پنجاب سے ہدایات لیکر پیش ہوں اور عدالت کی معاونت کریں۔

    سماعت کے دوران احسن بھون ایڈوکیٹ نے استدعا کی کہ عالت کیس کو ایک بجے سماعت کے لیے مقرر کر دے۔ انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب یہاں موجود ہیں، آپ آج ہی کیس سن لیں۔

    اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالتی سسٹم کو چلنے دیں، کل آ جائیں۔ کیس کی سماعت 22 اپریل یعنی جمعے کے دن تک ملتوی کر دی گئی۔

    اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلی عثمان بزدار کو عہدے پر بحال کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں تو پھر کیوں درخواست دائر کی۔ جس پر درخواست گزار وکیل نے جواب دیا کہ میں نے بطور قانون کے طالب علم درخواست دائر کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب متاثرہ فریق مطمئن ہے، تو آپ نے درخواست کیوں دائر کی۔ آپ لوگوں نے عدالتوں کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ کیا ذرا سا صبر نہیں ہے، کیا یہ جمہوریت ہوتی ہے۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

  3. مبینہ دھمکی آمیز مراسلے سے بات فوج مخالف ٹرینڈز تک کیسے پہنچی؟

  4. مراسلے پر جوڈیشل کمیشن بیٹھے، پھر فیصلہ کریں یہ ٹھیک ہے یا نہیں، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کراچی میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ ’پہلے تحقیقات کر لیں، ہم نے کہا کہ جو مراسلہ ہے اس پر جوڈیشل کمیشن بیٹھے، اس کے بعد فیصلہ کریں یہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے اسمبلی کو کہا کہ کمیٹی میں آ کر دیکھیں، تو ایم این ایز تو آ کر دیکھتے لیکن یہ نہیں آئے۔‘

    انھوں نے اپیل کی کہ ’سارے پاکستانی نکلیں اور کہیں کہ ہمیں الیکشن چاہیے۔‘

    عمران خان نے الزام لگایا کہ ’یہ فارن فنڈنگ کیس سے کوشش کریں گے تحریک انصاف میچ سے باہر ہو جائے۔ میں چاہتا ہوں، کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف کی فنڈنگ کا کیس اکھٹا سنا جائے۔ میں دعوی کرتا ہوں کہ صرف ایک پارٹی کی سیاسی فنڈ ریزنگ ہے پاکستان کی تاریخ میں جس کا نام تحریک انصاف ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مضبوط ادارے چاہتے ہیں۔ میرا پیغام ہے ہم نے ٹکراو کی سیاست نہیں کرنی، ہم نے پرامن رہنا ہے۔‘

  5. عدلیہ، نیب اب کیا کریں گے؟ عمران خان

    کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا کہ اب پاکستان میں انصاف کے نظام کا ٹرائل ہے۔

    ’عدلیہ، نیب سب سے پوچھتا ہوں کہ اب آپ کیا کریں گے جب یہ اپنے کیسز معاف کروائیں گے۔‘

  6. پنجاب کی وزارتِ اعلٰی پرویز الٰہی کی جھولی میں جائے گی یا حمزہ شہباز لے اڑیں گے؟

  7. پہلے بھی دل جیتے آئندہ بھی جیتیں گے: پرویز الٰہی

  8. تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس

    پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کے الیکشن سے ایک دن قبل لاہور میں تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، سپیکر پنجاب اسمبلی اور نامزد وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے علاوہ وفاقی وزیر شفقت محمود اور ارکانِ پنجاب اسمبلی شریک ہوئے۔

    اس اجلاس میں چھینہ گروپ کے ارکان بھی شریک ہوئے اور انھوں نے اس الیکشن میں پرویز الٰہی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    اس موقع پر پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ انھیں جس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے اسے پوری خلوص نیت کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں گا اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

    مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ پرویز الٰہی ان سے بہتر پنجاب کی خدمت کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ضمیر مطمئن ہے اور ان کے خلاف کرپشن کا ایک بھی سیکنڈل نہیں

  9. بلاول اور شہباز کی ملاقات، پنجاب کی سیاسی صورتحال ہر بات

    پی پی پی کے چیٸرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے جمعے کی شب ملاقات کی ہے جس میں دونوں رہنماٶں نے مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماٶں نے متحدہ اپوزیشن کو اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی مل جل کر کامیاب کرانے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

  10. تحریکِ انصاف عدم اعتماد کے موقع پر ریڈ زون میں حامی جمع کرنے سے گریز کرے: سعد رفیق

    مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے تحریکِ انصاف کی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اتوار کو قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے عمل کے دوران اسمبلی کے قریب ریڈ زون میں اپنے حامیوں کو جمع ہونے سے روکے۔

    سعد رفیق نے جمعے کی شب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی ہے کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ایسا ہی ہو گا تاہم اب تحریکِ انصاف کے رہنما اپنے حامیوں کو اتوار کو پارلیمان کے باہر جمع ہونے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

  11. حمزہ شہباز کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

    پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور لاہور ایک مرتبہ پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے

  12. پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے: ن لیگی رہنما

    ن لیگی رہنما نے خواجہ عمران نذیر ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار حمزہ شہباز ہوں گے۔

    خواجہ عمران نذیر جمعے کی شام لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں رانا مشہود کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز ہوں گے۔

    فلور کراسنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فلور کراسنگ والی کوئی بات نہیں ہے، لوگوں نے اپنے حلقوں میں بھی واپس جانا ہے۔‘

  13. خیبر پختونخوا: بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی زبردست کامیابی

  14. عمران خان نے ساڑھے تین سال میں کیا تبدیل کیا؟

  15. عمران خان: اکثریت نہ ہو تو بلیک میل ہونا پڑتا ہے، سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک ایک شخص کو بھاری اکثریت نہیں ملتی، تب تک اس سسٹم کے اندر کبھی کہیں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی کہیں سے بلیک میل ہوتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ اُنھوں نے بڑی مشکل سے ساڑھے تین برس تک ملک چلایا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ جب دوبارہ انتخابات ہوں گے تو وہ عوام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اُنھیں اکثریت دی جائے۔

  16. جنرل فیض کی تقرری پر تنازعہ کیوں ہوا؟

    اینکر پرسن ارشد شریف نے جب اُن سے نومبر دسمبر 2021 میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی پر ہونے والے تنازعے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو اُنھوں نے اس حوالے سے کھل کر بات کی۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے جنرل فیض کے ساتھ کئی سال کام کیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ سردیوں کا وقت ہمارے ملک کے لیے مشکل ہے۔ ایک ملک کی معیشت کو یقینی کیفیت چاہیے ہوتی ہے، میں کہہ رہا تھا کہ اس لیے ہمیں انھیں رکھنا چاہیے۔ ڈر افغانستان میں خانہ جنگی کا بھی تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’اس لیے کہہ رہا تھا کہ سکیورٹی کے حوالے سے تجربہ کار شخص کو (آئی ایس آئی) کا سربراہ رہنا چاہیے۔‘

    اُنھوں نے جنرل باجوہ کا نام لیے بغیر کہا کہ اُن کا اس حوالے سے ایک مختلف نظریہ تھا، جبکہ وہ خود ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر سوچ رہے ہیں۔

    جنرل باجوہ کو ہٹانے کے مبینہ منصوبے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی پھیلائی گئی گمراہ کُن معلومات ہیں۔

    آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں مبینہ توسیع کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اتنی دور تک کا نہیں سوچا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اُن کے اپنے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں تو اُنھوں نے کہا کہ ’ٹھیک ہیں۔‘

  17. کیا اپوزیشن کے سیاستدان غیر ملکی سفارتکاروں سے نہیں مل سکتے؟

  18. بریکنگ, اسٹیبلشمینٹ نے تین آفرز دیں، عمران خان کا دعویٰ

    عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ نے اُنھیں اپوزیشن کی طرف سے تین آفرز دیں، عدم اعتماد کا سامنا کریں، استعفیٰ دیں یا پھر انتخابات کروائیں۔

    اپنے سامنے موجود آپشنز کے حوالے سے کہا کہ (قبل از وقت) انتخابات سب سے بہترین طریقہ ہے اور وہ آخری لمحے تک تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ کبھی نہیں دیں گے۔

  19. بریکنگ, ’عدم اعتماد کا ووٹ جیتنے کی صورت میں قبل از وقت انتخابات کروانا اچھا آئیڈیا ہے‘

    وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وہ عدم اعتماد کا یہ ووٹ جیتتے ہیں تو قبل از وقت انتخابات کروا دینا ایک اچھا خیال ہو گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ ہم الیکشن کروا دیں۔