تحریکِ عدم اعتماد: صدارتی ریفرنس کے لیے لارجر بینچ تشکیل، فضل الرحمان اتحادیوں کی حمایت کے بارے میں پرامید

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے اتحادی ان کی حکومت کے ساتھ نہیں رہے اور انھیں ہمارے (اپوزیشن) ساتھ ہونے کا اعلان کرنے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان منگل کے روز کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پہنچے، جہاں انھوں نے متحدہ کی قیادت سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر گفتگو کی گئی۔

ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ میں مکمل مطمئن ہوں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین ہے۔‘

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اتحادی جماعتیں یکسو ہیں کہ عمران خان نیازی نے معیشیت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘جن اراکین کے ضمیر جاگے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔‘

منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت اور نااہلی کی مدت سے متعلق سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دے دیا

ادھر پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل صدر عارف علوی نے پارٹی سے منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لیے پیر کی صبح سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا تھا۔

یہ صدارتی ریفرنس وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اس ریفرنس کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جمال مندوخیل، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

اس سے قبل صدارتی ریفرنس پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر حکومتی اتحادیوں کو نوٹس نہیں کر رہے ہیں، تمام جماعتیں تحریری طور پر اپنا مؤقف دیں گی۔

چیف جسٹس کے مطابق 'موجودہ حالات میں حکومت کا موقف بہت بہتر نظر آ رہا ہے۔ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔'

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ان اراکین نے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے 25 مارچ کو پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس طلب کررکھا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس دن تحریک عدم اعتماد پر کارروائی ہوسکے گی یا نہیں۔

اگر 25 مارچ کو روایت کے مطابق ہلاک والے رکن اسمبلی کے لیے فاتحہ کے بعد اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے، تو پھر یہ اجلاس 28 تاریخ کو ہو سکے گا۔ تاہم ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ سپیکر اس کارروائی کو کیسے آگے بڑھائیں گے۔

اس سے قبل اپوزیشن کی طرف سے ریکوزیشن پر 14 دن کے اندر اجلاس نہ بلانے سے متعلق سپیکر نے یہ وضاحت دی تھی کہ او آئی سی کے اجلاس کی وجہ سے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے لیے کوئی جگہ دستیاب نہیں تھی۔

اپوزیشن جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ سپیکر نے آئین شکنی کی ہے۔ شہباز شریف نے منگل کو یہ کہا ہے کہ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو اس وجہ سے وہ مزید اس پر زیادہ بات نہیں کریں گے۔