تحریک عدم اعتماد: ’حکومت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس تیار کر لیا، آج سپریم کورٹ بھجوایا جائے گا‘، اسد عمر

پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ’نیوٹرل ادارے کے سربراہ یا کسی عہدیدار کے خلاف حکومت نے کوئی قدم اٹھایا تو اپوزیشن تسلیم نہیں کرے گی۔‘

اتوار کی شام پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام 'جرگہ' میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ختم ہو چکی، اس کا ہر قدم غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گا۔‘

رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ 'ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں، سٹیبلشمنٹ کا کھلا خط ہے کہ ہم مداخلت نہیں کریں گے، حکومت آئینی طریقے سے بھاگ رہی ہے مگر پاکستان یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔'

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی پارٹی کے ورکر کی حیثیت سے امور انجام دے رہے ہے۔ سپیکر نے اسمبلی اجلاس 25 مارچ کو بلا کر آئین کی خلاف ورزی کی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا ایسا کوئی مطالبہ نہیں جو نہ مانا جائے، عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں قائد ایوان شہباز شریف ہوں گے جبکہ سپیکر کا عہدہ پیپلزپارٹی کو دینے سے متعلق ابھی کچھ طے نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اپوزیشن کو بھی بلانا چاہیے تھا۔ 'ہم او آئی سی اجلاس کی وجہ سے چپ ہیں۔ اجلاس کے لیے آنے والے عمران خان کے نہیں پاکستان کے مہمان ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سپیکر قومی اسمبلی پر ’آئین شکنی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’14 روز میں اسمبلی کا اجلاس نہ بلانا آئین شکنی ہے، اس پر ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ باقی باتیں چھوڑیں آئیں اور پارلیمان میں آ کر ہم سے مقابلہ کریں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’وزیراعظم، ان کے وزرا اور سوشل میڈیا ٹیمز کوشش کر رہی ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں انھیں اشتعال دلایا جائے اور آئینی بحران پیدا کیا جائے۔‘

خیال رہے کہ ایسا ہی الزام شہباز شریف کے ترجمان ملک احمد خان کی جانب سے بھی عائد کیا گیا ہے جنھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو فوج کے ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے، جس ریاست میں فوج کی مرکزی اتھارٹی تحلیل ہو جائے اس ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جہاں تک دھرنے کا تعلق ہے ہم نے سوچا کہ یہ ضرور 21 کو سیشن بلوا لیں گے پھر او آئی سی کے تین دن ہو جاتے لیکن یہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں گبھرائے ہوئے ہیں کہ وہ سیشن آئین توڑ کر 25 کو بلا رہے ہیں۔ اور ہم یہ کیس عدالتی اور آئینی سطح پر لڑیں گے۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے نہیں کہ نہ آئین میں اس کی گنجائش ہے نہ قواعد میں اس کے لیے گنجائش ہے ہم یہ کیس اب عدالتی اور آئینی فورمز پر لڑیں گے۔ ہمارے نمبرز تو پورے ہیں ہم یہ چیلنج کرتے ہیں کہ کل ہی آپ سیشن بلائیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کے خلاف متحدہ اپوزیشن کا جو اتفاق رائے ہو گا اس پر ہی چلیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مذہب بہت پاک چیز ہے اور سیاست بہت خطرناک چیز ہے انھیں الگ الگ رکھیں تو بہتر ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کے نام پیغام میں کہا کہ ’عوام کا مطالبہ ہے کہ مدینہ کی ریاست کا نعرہ استعمال کرنا فوری طور پر بند کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت جتنی بھی کوشش کرے گی ریفرنس سے بھاگنے کی ہم سمجھتے ہیں عدالت کسی بھی صورت میں غیر آئینی کام میں سپورٹ نہیں کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ سپریم کورٹ قانونی کام کرے گی سیاسی کام نہیں کرے گی۔‘

’جب سندھ ہاؤس پر حملہ ہوا سپریم کورٹ بیٹھی اور ویک اینڈ ہوتے ہوئے بھی سپریم کورٹ نے اتنا اچھا پیغام بھیجا کہ وہ قانون اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے پارٹیز کو موقع دیا ہے کہ ان کے وکیل بھی پیش ہوں اور پیر کو وکیل قانونی نکات اٹھائیں گے۔ بلاول نے کہا کہ ہم عدالت میں ہوں گے ایک ایریا موجود ہے جہاں ہم قانونی اور آئینی لڑائی لڑیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت اکثریت کھو چکی ہے اتحادی ہوں یا نہ ہوں، اور جہاں تک اتحادیوں سے بات ہو رہی ہے وہ تو آپ نے دیکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ او آئی سی کے بعد اپنا موقف دیں گے۔‘

عوام کا پیسہ دے کر حکومت بچانے سے بہتر ہے حکومت چلی جائے

دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے جلسے کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر جہاں اپوزیشن جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور منحرف اراکین کے خلاف بیان بازی کی، وہیں ان اراکین سے واپسی کا فیصلہ کرنے پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

عمران خان نے منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ارکان غلطی کر بیٹھے ہیں، آپ واپس آجائیں، میں آپ کو معاف کر دوں گا، آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘

تاہم اس سے قبل انھوں نے ان منحرف اراکین کو ’ضمیر فروش‘ بھی قرار دیا اور انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیشہ کے لیے آپ کے نام کے ساتھ لگ جائے گا کہ آپ ضمیر فروش ہیں، آپ کے لیے شادیوں میں جانا مشکل ہو جائے گا، لوگ آپ کے بچوں کے ساتھ شادیاں نہیں کریں گے۔‘

عمران خان نے 27 مارچ کے جلسے کی تھیم یعنی ’امربالمعروف‘ کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور کہا کہ ’اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اچھائی کے ساتھ کھڑے ہو اور برائی کے خلاف کھڑے ہو۔ اللہ نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ تم نیوٹرل رہ جاؤ نہ ادھر، نہ ادھر۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے اپنے معاشرے کو بچانا ہے، بدی کے خلاف لڑنا ہے، جہاد لڑنی ہے۔ عوام پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان سودہ کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کبھی کبھی قوموں کی زندگی میں فیصلہ کن وقت آتا ہے، جب قوم کے سامنے دو راستے آ جاتے ہیں۔

’ایک طرف پاکستان کے بڑے بڑے نامور ڈاکو اکھٹے ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنھوں نے 25 سال ان کے خلاف جنگ کی ہے۔ ملک کے سامنے فیصلہ کن وقت آ گیا ہے۔‘

انھوں نے سندھ ہاؤس میں منحرف اراکین کے جمع ہونے کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملک کی عدلیہ بھی دیکھ رہی ہے، ہمارے ملک کی الیکشن کمیشن بھی دیکھ رہی ہے، آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، اور ساری قوم کے سامنے اسے جمہوریت کہا جا رہا ہے۔‘

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈاکو ہمارے ایم این ایز کو خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ جو بات کر رہے ہیں کہ ہمارے ضمیر جاگ گئے ہیں اسے کوئی نہیں مانے گا۔

’اب پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کن لوگوں نے اپنے ضمیر کا سودا کر کے اپنا ووٹ فروخت کیا۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بھی لوگوں نے کہا آپ بھی پیسہ لگا کر ان اراکین کو واپس لے آئیں لیکن مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے، عوام کا پیسہ دے کر حکومت بچانے سے بہتر ہے حکومت چلی جائے۔‘

انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’تین غلاموں نے باہر کے لوگوں کے پاؤں پکڑ کر سازش کی، تینوں غلام میری بات سن لو تم میچ بری طرح ہارنے والے ہو۔

’1992 کا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آسٹریلیا جانے سے قبل میں کہتا تھا کہ ورلڈ کپ ہم جیتیں گے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ میچ بھی ہم جیتیں گے۔‘

قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب، اپوزیشن کا سپیکر پر آئین شکنی کا الزام

اس سے قبل، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ صبح گیارہ بجے کو طلب کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق یہ اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہوگا۔ روایت کے تحت اس اجلاس کا پہلا دن اسمبلی کے ایک وفات پانے والے رکن کی فاتحہ تک ہی محدود رہے گا۔

تاہم تحریک عدم اعتماد پر کارروائی اور ووٹنگ کے لیے اجلاس کب طلب کیا جائے، اس بارے میں ابھی واضح نہیں ہے۔

حکام کے مطابق جمعے کو اجلاس ملتوی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پھر سنیچر اور اتوار یعنی 26 اور 27 کو کارروائی نہیں ہوگی اور پھر 27 مارچ کو ڈی چوک میں تحریک انصاف کے جلسے کے بعد ہی اس تحریک پر کارروائی آگے بڑھائی جا سکے گی۔ اپوزیشن نے 14 دن میں اجلاس نہ بلانے پر سپیکر کو سنگین آئین شکنی کا مرتکب قرار دیا ہے جبکہ سپیکر اسد قیصر نے وضاحت دی ہے کہ او آئی سی کے اجلاس کی وجہ سے کوئی موزوں عمارت دستیاب نہ ہونے کی وہ سے وہ 14 دن کے اندر اجلاس بلانے سے قاصر ہیں۔

قومی اسمبلی کے اعلامیے میں ’تحریک عدم اعتماد‘ سے متعلق کوئی ذکر نہیں ہے تاہم اپوزیشن نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد پر کارروائی نہ ہوئی تو پھر وہ احتجاج کریں گے۔

اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں اور اپوزیشن آمنے سامنے

اپوزیشن رہنماؤں نے سپیکر قومی اسمبلی پر آئین شکنی کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریکوزیشن کے بعد اجلاس کو 14 دن میں بلانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی ریکوزیشن کی تاریخ 21 مارچ کو مکمل ہوتی ہے مگر سپیکر نے سنگین جرم کیا ہے اور (اب وہ) آرٹیکل 6 کے تحت آئیں گے۔ شیری رحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’یہ وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ آئین کے بالکل ماورا ہے۔ سپیکر پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوتا ہے۔‘

شیری رحمان نے تجویز دی ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں 15 منٹ پہلے دعا کر لیں پھر کچھ دیر تک اجلاس ملتوی کر دیں اور پھر دوبارہ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر کارروائی آگے بڑھائیں۔

انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اجلاس میں دو گھنٹے کے اندر عدم اعتماد تحریک پیش ہو جائے تاکہ پھر سات دن تک اس پر ووٹنگ ہو سکے۔

تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس کب ہوگا کے سوال پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ’مجھے ابھی نہیں پتا کہ سپیکر کب اجلاس بلا رہے ہیں۔‘ تاہم ان کے مطابق ’سپیکر کو خاص حالات میں اجلاس ملتوی کرنے کی اجازت حاصل ہے۔‘

اپنی دلیل کا حوالہ انھوں نے خواجہ صفدر کے ساتھ اپنی ایک پرانی ملاقات کا دیا کہ انھوں نے انھیں یہ بات بتائی تھی۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اپنے مؤقف کے بارے میں آئینی دلیلیں بھی پیش کر رہی ہیں۔

اتوار کو پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کی کلاز 3 کے تحت ایک چوتھائی ارکان ریکوزیشن درخواست جمع کرائیں تو سپیکر اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔

ان کے مطابق ’آئین کے آرٹیکل 54 میں لکھا ہے کہ سپیکر صاحب 14 روز سے زائد تاخیر نہیں کرسکتے۔‘ ان کے مطابق ’رول 37 سپیکر کو پابند کرتا ہے کہ وہ اجلاس کے آغاز اور تلاوت کے فوری بعد تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کرے، اس کے علاوہ وہ کوئی اور کارروائی ایوان میں نہیں کرسکتا۔ تحریک عدم اعتماد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت کے بعد سپیکر صاحب اجلاس ملتوی نہیں کرسکتے۔‘

ان کے مطابق آئینی و قانونی شقوں سے روگردانی آئین شکنی ہے جو ملک سے غداری اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

اپوزیشن رہنما سپیکر کے کردار کے حوالے سے بارہا اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور سنیچر کو پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اس خدشے کو ایک مرتبہ پھر دہرایا تھا۔

شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپیکر بن کر اپنا کردار ادا کریں ’ورنہ تاریخ میں ان کا نام بہت ہی برے الفاظ میں لکھا جائے گا۔‘

انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ عمران خان کا آلہ کار نہ بنیں اور ’جمہوریت کو پٹڑی سے نہ اترنے دیں، ورنہ تاریخ اور عوام آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ اسد قیصر کی پی ٹی آئی کے اجلاسوں میں شرکت منصب کی توہین ہے۔‘

شہباز شریف کے جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا گیا ہے جب تحریکِ عدم اعتماد کو ’ملتوی‘ کرنے کے حوالے سے چہ مگوئیاں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اتوار کو اپنے تحریری آرڈر میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ آئین کے تحت 14 دن میں ریکوزیشن پر اجلاس طلب کرنے کے پابند تھے مگر او آئی سی کے اجلاس کی وجہ سے قومی اسمبلی کی عمارت میں اس وقت تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جبکہ اسلام آباد میں کوئی اور ایسی عمارت دستیاب نہیں تھی جہاں یہ اجلاس منعقد کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے سے اجلاس کے لیے جگہ مانگی مگر پورے اسلام آباد میں کوئی جگہ نہیں ملی۔

سپیکر کے مطابق اسمبلی نے رواں برس جنوری میں یہ قرارداد پاس کی تھی کہ قومی اسمبلی کا ہال او آئی سی اجلاس کے لیے دے دیا جائے۔ اسد قیصر کے مطابق وہ آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پہلے دستیاب دن یعنی جمعے والے دن 25 مارچ کو اپوزیشن کی ریکوزیشن پر یہ اجلاس طلب کر رہے ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان کے مطابق او آئی سی کی آڑ میں قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے او آئی سی کے اجلاس کو مدنظر رکھ کر قومی اسمبلی اجلاس کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔ ان کے مطابق 21 مارچ کو اجلاس طلب کر کے تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کا آغاز کر کے پھر اس اجلاس کو او آئی سی کے اجلاس کے بعد تک ملتوی کیا جا سکتا تھا۔

حکمراں جماعت کا ڈی چوک جلسہ

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سیاسی درجہ حرارت میں روز بروز اضافہ ہوتے دکھائی دے رہا ہے، جہاں پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔

اتوار کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ وہ 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں عوام کی اتنی بڑی تعداد دیکھنا چاہتے ہیں کہ تمام گذشتہ ریکارڈ ٹوٹ جائیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کی سیاست میں ڈی چوک کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

اس سے قبل جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو انھوں نے ڈی چوک میں پاکستان مسلم لیگ ن کی گذشتہ حکومت کے خلاف 126 دن تک کا طویل دھرنا دیا تھا۔ اب اپنی حکومت بچانے کے لیے بھی عمران خان نے ڈی چوک کا انتخاب کیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، جس سے سیاسی کارکنان میں تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن دونوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ اپنے اپنے جلسے منسوخ کر دیں۔ انھوں نے خاص طور پر تحریک انصاف کو یہ مشورہ دیا کہ حکومتیں احتجاج اور مظاہرے نہیں کرتی ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر عمران خان اپنا جلسہ ملتوی کر دیں تو پھر اپوزیشن بھی اپنا لائحہ عمل بنا سکتی ہے۔

شیخ رشید نے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس جلسے کو ’امر باالمعروف‘ کے تھیم کے تحت کر رہیں ہیں یعنی ہم حق کا پرچار کر رہے ہیں۔ اپنے ٹویٹ میں بھی انھوں نے یہ کہا ہے کہ ’ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں اور سیاسی مافیاز کی جانب سےاپنا چوری کا مال بچانے کے لیے اہلِ سیاست کے ضمیروں کی ایسی شرمناک نیلامی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل عمران خان نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے قرآن میں یہ حوالہ دیا ہے کہ جب اچھائی اور برائی ہو رہی ہو تو پھر آپ کو اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد اپوزیشن نے ان پر کڑی تنقید کی اور ان کے بیان کی وضاحت مانگی ہے۔

وزیرداخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ’عمران خان اپنا 27 تاریخ کا جلسہ کر رہا ہے۔ وہ واپس نہیں لے رہا ہے۔‘ انھوں نے اپوزیشن کو کہا کہ ’اب آپ بھی پیچھے نہیں ہٹیں، دیکھتے ہیں کس کے جلسے میں کتنی عوام ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم دونوں کے الگ جلسے کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

شیخ رشید نے کہا حکومت اور اپوزیشن ’اپنی جگہ اور رستوں کا الگ انتخاب کریں، اگر تصادم ہوا تو آپ پر کیس ہوں گے۔ ہم سارے رستوں میں آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں نے (اسلام آباد کے) ڈی سی کو کہا ہے کہ دونوں کی درخواستیں لیں۔ دونوں کو ٹیبل پر بٹھائیں اور دونوں کی جلسوں کی جگہ کا تعین کریں۔‘ ان کے مطابق اگر کوئی نقصان ہو گیا تو اور کوئی سازش ہوئی، کوئی جانی اور مالی نقصان ہوا تو میں ان سیاسی رہنماؤں کے خلاف پرچہ دوں گا، یہ ذمہ دار ہوں گے کسی حادثے کے۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ عدم اعتماد کے معاملے پر تصادم کے خطرے کو روکنے سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک آئینی درخواست پر سماعت کر رہی ہے۔

شیخ رشید کے مطابق ’وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آپ احتجاج کریں یہ آپ کا حق ہے۔ مگر دروازے توڑیں، اندر داخل ہوں تو میں بطور وزیرداخلہ اس کی مذمت کرتا ہوں۔‘ شیخ رشید کے مطابق پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس میں مظاہرین ایم این ایز کی گاڑیوں میں اندر گئے ہیں۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بہت سارے لوگ شور مچا رہے ہیں، میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ یہ اتحادی بھی سوچیں گے۔ ناراض لوگوں کا کچھ حصہ واپس آ جائے گا۔ شیخ رشید نے کہا کہ ’جو اصلی اور نسلی ہو گا وہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔‘

شیخ رشید کے مطابق ’میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں، 27 مارچ کے جلسے میں جاؤنگا اور تقریر بھی کرونگا۔‘ ان کے مطابق ’پنڈی والے دوستی اور دشمنی نبھاتے ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہا کہ ’عمران خان مائنس ہے تو پیچھے کچھ بھی نہیں ہے، صرف اندھیرا ہے، میں پلس ون کے ساتھ ہوں اس کا نام ہے عمران خان۔‘

’ذمہ داروں کا ایک فون آیا تو آپ لیٹ گئے، 90 سے زاویہ بدل لیا ہے‘

وزیر داخلہ شیخ رشید نے او آئی سی اجلاس سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے دھرنا دینے سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بلاول کے ابھی سیاست میں دودھ کے دانت نہیں نکلے ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کو بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلاتے تو پھر ایسے میں وہ اسمبلی میں دھرنا دیں گے اور پھر دیکھتے ہیں کہ کیسے او آئی سی کا اجلاس ہوتا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ جب ’ذمہ داروں کا ایک فون آیا ہے تو آپ لیٹ گئے ہیں۔ آپ نے 90 سے زاویہ بدل لیا ہے کہ جی ہم تو اس کانفرنس کے حق میں ہیں۔‘ ان کے مطابق بلاول بھٹو کے او آئی سی کے اجلاس سے متعلق بیان پر 22 سفارتکاروں نے انھیں فون کیا ہے۔

شیخ رشید کے مطابق انھوں نے بہت پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ اپوزیشن ڈی چوک میں جلسہ نہیں کرسکتی ہے، یہ صرف بیان دیتے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ ’سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے (اگر یہ تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو) پھر عمران خان سڑکوں پر جو ان کا حشر کرے گا، اس کے لیے انھیں تیار ہونا چائیے۔‘

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور سات دن کے اندر پوزیشن واضع کرنے کا کہا ہے۔ ایک ہفتے بعد ان کی نشستوں کو خالی قرار دینے کی کارروائی ہوگی اور تمام اراکین تاحیات نااہل ہوں گے، مخصوص نشستوں پر نئے ممبران نامزد کیے جارہے ہیں۔‘