آسٹریلیا کا دورہ پاکستان: مارنس لبوشین کا نام پاکستانیوں کے لیے پہیلی، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے اور میمز

آسٹریلیا کے بلے باز مارنس لبوشین کا نام اور اس کا تلفظ راولپنڈی سٹیڈیم میں میچ کے دوران پلے کارڈز کی زینت بنا تو منگل کی صبح انھوں نے خود بھی پاکستانی شائقین کرکٹ کا اس پر شکریہ ادا کیا۔

24 سال بعد آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان حقیقت بنا تو یہ کرکٹ دیکھنے والوں کے لیے ایک یادگار موقع تھا۔ خصوصاً نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کی منسوخی کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم کی آمد نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی صحیح معنوں میں واپسی کا اعلان کیا۔

راولپنڈی سٹیڈیم میں کسی نے آسٹریلیا کی ٹیم کو اپنے انداز میں خوش آمدید کہا تو بہت سوں نے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی تصویر اٹھائیں۔ لیکن سب سے زیادہ توجہ آسٹریلیا کے ایک ایسے کھلاڑی کو ملی جن کا نام شائقین کرکٹ کے لیے بظاہر ایک پہیلی کی طرح مشکل نظر آیا۔

یہ عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون بلے باز مارنس لبوشین ہیں۔ راولپنڈی سٹیڈیم میں ایک خاتون نے پلے کارڈ پر لکھا کہ ’مارنس، آپ کا نام کیسے ادا کرتے ہیں، کرکٹ آسٹریلیا کی ویڈیو دیکھ کر بھی سمجھ نہیں آ رہی۔‘

مارنس کے نام کی درست ادائیگی خود آسٹریلوی کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن جاتی ہے کیوںکہ مارنس لبوشین دراصل جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے تھے۔

اسی وجہ سے کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کر رکھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مارنس لبوشین کا نام کیسے درست طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔

اسی نام کی پہیلی کو راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران شائقین نے توجہ کا مرکز بنا دیا۔

اس پلے کارڈ نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا جس میں دیگر شائقین سمیت سوشل میڈیا پر کئی افراد نے حصہ لیا۔

سٹیڈیم میں ہی موجود ایک اور شخص نے بعد میں ایک اور پلے کارڈ کے ذریعے مارنس لبوشین کے نام کے درست تلفظ اور ادائیگی سمجھانے کی بھی کوشش کی۔

مارنس کے حوالے سے ایک اور پلے کارڈ جو توجہ کا مرکز بنا اس پر درج تھا کہ مارنس لبوشین سے ہوشیار رہیں، وہ سارا دن ’نو رن‘ کہتے رہیں گے اور دن کے خر تک سو رن کر جائیں گے۔

اس پلے کارڈ پر خود مارنس لبوشین نے بھی کہا کہ یہ بہت اچھا ہے۔

اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی۔ پاکستان کی جانب سے چار وکٹوں کے نقصان پر 476 رنز کا بڑا ہدف بنانے کے بعد اننگز ڈیکلیئر کی گئی تو مارنس لبوشین نے تیسرے دن کے اختتام پر ناقابل شکست 69 رن بنا لیے تھے اور لگ رہا تھا کہ وہ سنچری کیے بنا پولین واپس نہیں لوٹیں گے۔

لیکن پھر چوتھے دن نوّے کے سکور پر مارنس لبوشین شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے اور ان کا سنچری کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔

اس کے باوجود یہ میچ ان کے لیے یقیناً یادگار رہے گا۔ اس کا اظہار مارنس نے خود بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کیا جہاں انھوں نے لکھا کہ انھوں نے راولپنڈی سٹیڈیم میں موجود وہ تمام پلے کارڈ دیکھے جو ان کے نام سے یا ان سے متعلق تھے اور ان کو بہت اچھا لگا۔

انھوں نے اپنے چاہنے والوں کے نام پیغام دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کی محبت اور گرم جوشی کا شکریہ ادا کر سکیں اس لیے لوگ ان کی پوسٹ پر سارے پلے کارڈز شیئر کریں۔

’وکٹ لینے سے آسان لبوشین کا نام لینا ہے‘

راولپنڈی سٹیڈیم میں بینو قادر ٹرافی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں جہاں ایک جانب ’رنز سے بھری پچ ‘تبصروں کا مرکز رہی جس پر پہلے پاکستان اور پھر آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے دل کھول کر بیٹنگ کی تو دوسری طرف سٹیڈیم میں موجود شائقین نے بھی ان لمحات کو بھرپور انداز میں یادگار بنایا۔

گراؤنڈ میں موجود ایک شخص نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ لبوشین کے نام کی ادائیگی اس پچ پر وکٹ لینے سے زیادہ آسان ہے۔

چونکہ راولپنڈی سٹیڈیم کی پچ کافی ہموار اور خشک تھی اس لیے یہاں بلے بازوں کو بے انتہا آسانی ہوئی۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں اب بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ایک مسئلہ ہیں، وہاں ایک تماشائی کو پچ دیکھ کر اپنے گھر کے پاس موجود سڑک کی یاد آ گئی۔

اُنھوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا کہ وہ پچ بنانے والے شخص کو اپنے گھر کے قریب والی سڑک بنانے کے لیے بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اور صارف نے میم پوسٹ کیا جس میں مارنس کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ پہلے پچز بنانا سیکھ لو، میرا نام بعد میں سیکھ لینا۔